آپریشن رَدُّالفَسَاد (Operation Radd-ul-Fasaad)

17103318_652690658256074_3374072237294384661_n.jpg

پاکستان آرمی نے 22 فروری 2017ء کو سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی کمانڈ میں آپریشن رَدُّالفَسَاد کا آغاز کیا جس میں پاکستان نیوی، پاک فضائیہ ، رینجرز ، پولیس اور دیگر خفیہ ادارے بھی پاک آرمی کے آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔ یوں کہ لیجئے کہ پاک فوج نے امن دشمنوں کے خلاف مزید زمین تنگ کرنے کی ٹھانی اور رَدُّالفَسَاد کے نام سے آپریشن شروع کیا ۔ آپریشن کا مقصد ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہے۔ آپریشن رَدُّالفَسَاد شروع کرنے کا مقصد اب تک کی کامیابیوں کو مستحکم بنانا اور دہشت گردوں کا بلاتفریق خاتمہ ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد اس کا حصہ ہے ۔ آپریشن رَدُّالفَسَاد جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ بارڈر مینجمنٹ پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے ۔ ملک بھر میں غیر قانونی اسلحہ و گولہ بارود کی روک تھام کا عمل بھی آپریشن کا حصہ تاکہ ہر طرح کی برائی کا ملک سے خاتمہ کیا جاسکے ۔

اس سے پہلے پاکستان آرمی کی جانب سے جون 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کا آغاز کیا ۔ جس میں فورسز کو بڑی کامیابیاں ملیں۔ پاک فوج کی جانب سے خیبر ایجنسی میں اکتوبر 2014 میں آپریشن خیبر-ون شروع کیا گیا جبکہ مارچ 2015 میں آپریشن خبیر-ٹو شروع کیا گیا جو علاقے سے دہشت گردوں سے پاک کرنے کے بعد ختم کر دیا گیا تھا ۔ جون 2009ء میں پاک فوج کی جانب سے وزیرستان میں کمانڈر بیت اللہ محسود کے گروپ کے خلاف کی جانے والی فوجی کارروائی کو آپریشن راہ نجات کا نام دیا گیا تھا ۔ آپریشن خیبر-فور 16جولائی2017ء کو شروع کیا گیاہے جوکہ آپریشن رَدُّالفَسَاد کا حصہ ہی ہے ۔ ملک بھر سے دہشت گردی کے خاتمے، ہمسایہ ملک افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے دہشت گردوں کی روک تھام اور پاک افغان بارڈر پر دہشت گرد تنظیم داعش کے اثر رسوخ کو روکنے کے لئے پاک فوج کی جانب سے وادی شوال اور راجگال سے آپریشن خیبر 4 کا آغاز کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیم داعش کی پاکستانی علاقوں میں کارروائیوں کو روکنا اور علاقے سے داعش کا اثر رسوخ ختم کرنا ہے ۔ راجگال فاٹا میں زمینی حوالے سے سب سے مشکل علاقہ ہے۔ راجگال پارہ چنار سے 56کلومیٹر ،پشاور سے دو راستوں کے ذریعے ایک سائیڈ سے 251کلومیٹر اور دوسری سائیڈ سے168کلومیڑ جبکہ پاک افغان کی مشہور گذر گاہ اور تجارتی راستے ۔طورخم۔سے صرف42کلومیٹر دوری پر ہے ،راجگال وادی ۔وادی میدان کی پانچ وادیوں میں سے ایک ہے باقی میں میدان ،واران،باڑہ اور مستورہ شامل ہیں ان ودایوں میں ناشپاتی ،خوبانی ،زیتون ،شہتوت سمیت دیگر پھلوں کے درخت کثرت سے ہیں ،راجگال کوہ سفید(جو خیبر ایجنسی اور کرم ایجنسی میں واقع ہے) جسے مقامی زبان میں ۔سپین غز۔یعنی سفید پہاڑی جو کہ سارا سال برف کی سفید چادر اوڑھے رکھنے کی وجہ سے کوہ سفید کہلاتا ہے سے متصل ہے ،کوہ سفید او رمیدان ویلی کے شمال مشرق میں راجگال نام کی یہ وادی جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے انتہائی دشوار گذار،پر پیچ اور خطرناک ہیں ،250مربع کلومیٹر رقبے پر محیط اس علاقے میں 12سے14ہزار فٹ کی بلند چوٹیاں موجود ہیں اس علاقے میں آٹھ گذر گاہیں ہیں غاریں،ندیاں ،نالے،گنے جنگلات ،گہری کھائیاں ، اورخطرناک چٹانیں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں ثابت ہوتی ہیں اسی وجہ سے تقریباً 500سو گھرانوں نے اس علاقہ سے نکلنے میں عافیت سمجھی ،یہ طورخم بارڈر اورقبائلی علاقوں کے سب سے بڑے شہر پارہ چنار کے درمیان افغانی بارڈر کے ساتھ ملحقہ علاقہ ہے ۔ راجگال میں آپریشن خیبر فور کے اعلان کے ساتھ ہی بزدل دشمن نے داوی نیلم کے سیکٹر اٹھمقام سے ۔کیل۔جانے والی برگیڈئیر 132۔اے کے کی جیپ پرفائرنگ کھول دی جس کے نتیجے میں ڈارئیور کے زخمی ہونے پر جیب بے قابو ہو کر دریا میں گر گئی جس میں حوالدار محمد اقبال ،نائیک محمد اکرم سپاہی الیاس اور عبدالغفور ڈوب کر شہید ہو گئے،اس سے اگلی ہی صبح پشاور کے پوش علاقے حیات آباد میں قائم ایف سی کے کیمپ قلعہ بالا حصار سے ہیڈ کوارٹر جا رہا تھا کہ موٹر سائیکل سوار دہشت گرد نے قافلے پر حملہ کر دیا ڈبل کیبن گاڑی کو حیات آباد میں ہی باغ ناران چوک میں خود کش بمبار نے نشانہ بنایااس دہشت گردی میں تربت سے تعلق رکھنے والے میجر جمال شیران سمیت 3اہلکار شہید ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز کی گاڑیاں بری طرح متاثر ہوئیں ،اسی روز افغان سرحد کے قریب چمن کے علاقہ میں دہشت گردوں ایف سی چیک پوسٹ کو تباہ کرنے کی کوشش کی ۔اسی ماہ چمن میں عید گاہ کے علاقے ۔بوغرا ۔میں ہی ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر قلعہ عبداللہ ساجد خان مہمند کی گاڑی کے قریب خود کش دھماکے کے نتیجے میں ڈی پی او سمیت دو افراد شہید جبکہ اہلکاروں سمیت11افراد زخمی ہوئے تھے،یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے جب فوج نے راجگال میں فوجی آپریشن کا اعلان کیا ۔پاک فوج کی قربانیوں کی داستان بہت لمبی ہے مگر پر عزم اور خدادا صلاحیتوں سے بھرپور فوج پاکستان کی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی ۔پاک فوج نے آپریشن خیبر4میں راجگال کے علاقہ میں پہلے روز ہی دن بھر جاری رہنے والی شیلنگ سے کالعدم لشکر اسلام اور داعش کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اس کاروائی سے8دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیاجبکہ تین عسکریتپسندوں کے زخمی ہونے بھی اطلاع ہے ،راجگال کے علاقوں پکدار،نارے نو،ستر کلے اور خیرابا میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کئی گئی کاروائی میں آرمی ہیلی کاپٹرز کے ساتھ ساتھ فضائیہ کے طیاروں نے بھی حصہ لیا۔ 2009میں فوجی آپریشن کے ذریعے پہلے باجوڑ،سوات اور پھر مہمند ایجنسی کو کلیر کیا گیا۔2014میں شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب سے اب تک سارا علاقہ کلیر کیا جا چکا مگر باڈر سسٹم کمزور ہونے کی وجہ سے کچھ مقامات سے افغانستان کے راستے دہشت گرد داخل ہو کر راجگال میں پنا لے کر پھر آگے کاروائیاں کرتے ہیں اب آپریشن خیبر 4 کے ذریعے سرحدی حدود میں موجود دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کو تباہ کیا جائے گا جبکہ آپریشن کے لئے ائیر فورس سے بھی مدد لی جا رہی ہے ۔ تاکہ راجگال جیسے موجودہ آپریشن کا مقصد خطرناک مقامات پر ان کی کمین گاہوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے۔ کیونکہ افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں داعش تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ پارا چنار حملے میں بھی داعش کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ داعش کا پاکستان میں باضابطہ کوئی وجود نہیں مگر باڈر پار بیٹھ کر پلان کر کے اپنے کاروندوں کو پاکستان بھیجنے کے شواہد کئی واقعات میں ملے ہیں اور پھر افغانستان میں افغان فورسز اور حکام کا کنٹرول کم ہو رہا ہے، افغانستان میں صورت حال کی بہتری کے لئے حکومت کو اپنا کنٹرول قائم کرنا ہو گا یہی وجہ ہے کہ پاکستان کو اپنا باڈر سسٹم مزید بہتر بنانا پڑرہا ہے ۔ باڈر سسٹم بہتر بنانا ملک کی سیکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے لازمی ہے ۔ دوسرے ممالک نے بھی اپنی ضرورت کے مطابق اپنا باڈر سسٹم وقت کے ساتھ ساتھ بہتر بنایا ہے ۔ جیسا کہ سعودی عرب اور عراق دونوں مسلم ملک ہیں اور سرحدیں بھی ملتی ہیں مگر سعودیہ نے اپنا باڈر سسٹم بہتر بنایا ہے ۔ اسی طرح امریکہ اور ماسکو وغیرہ کئی ممالک نے اپنا باڈر سسٹم بہتر بنایا ہے جیسا کہ اگر صرف سعودی عرب کی مثال عرض کروں تو سعودی عرب تو شمال مغرب میں اس کی سرحد اردن، شمال میں عراق اور شمال مشرق میں کویت، قطر اور بحرین اور مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب مشرق میں اومان، جنوب میں یمن سے ملی ہوئی ہے ۔ جیسا کہ انکی سرحدیں ساتھ ساتھ ہیں مگر پھر بھی ایک منظم اور مضبوط باڈر سسٹم ہے ویسا ہی پاکستان چاہتا ہے تاکہ کوئی بھی بغیر شناخت کے ادھر ادھر نہ ہوسکے ۔ جو بھی ہو ملکی سلامتی کی صورتحال سے بڑھ کر نہیں ہے ۔ خیر افغانستان اور پاکستان باڈر سسٹم کے بار میں پھر کبھی ذکر کروں گا ابھی واپس موضوع پر آتا ہوں کہ

آپریشن رد الفساد 22 فروری کو شروع ہوا جس کے تحت اب تک 46 بڑے آپریشن جبکہ خفیہ بنیادوں پر 9 ہزار آپریشن کئے جا چکے ہیں جبکہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر 1760 جوائنٹ چیک پوسٹس بھی بنائی گئی ہیں ۔۔ ردالفساد میں سندھ میں 522 دہشٹ گردوں نے سرنڈر کیا۔ پنجاب میں رد الفساد کے تحت کارروائیوں میں 22دہشت گرد مارے گئ ۔ آپریشن ردالفساد کی وجہ سے ملک میں 85 فیصد دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے ۔

دہشت گردی کے خلاف جنرل باجوہ کا یہ قدم ملک میں دہشت گردی کو ختم کرنے میں اہم قردارادا کرے گا اور اس فیصلے پر پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ساتھ کھڑی ہے۔ عوام شرپسندوں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کا خیرمقدم کرتی دعا کرتی ہے کہ ملک سے دہشت گردی جیسے ناسور کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو۔

جس فساد کو ختم کرنے کے لئے آپریشن ”ردالفساد“ شروع کیا گیا ہے یہ گزشتہ تیس برس سے اس خطے میں پھیل رہا تھا ۔ گزشتہ تیس برس میں پاکستان مسلسل اس بحران کی لپیٹ میں ہے جو افغانستان سے شروع ہوا تھا۔ جب ہم فساد کا لفظ استعمال کرتے ہیں تو عام طور پر فتنہ و فساد کی ترکیب استعما ل کرتے ہیں، اسلام میں فتنہ کو قتل سے بڑھ کر قبیح جرم قرار دیا گیاے۔ مگر یہاں تو فساد بھی جاری ہے ا ور قتل و غارت گری کا کھیل بھی عروج پر ہے، اسے کچلنے کے لئے فوج کی طاقت کو استعمال کئے بغیر چارہ نہیں ۔ دہشت گردی پر قابو پانے کے لئے دنیا کی مختلف قوموں کو برسوں لگ گئے ہیں۔ انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے، دنیا کے سارے مذاہب میں احترامِ نفس کا یہ اصول موجود ہے ۔ حادیثِ مبارکہ کا مطالعہ کرنے والے حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ اس قسم کے ارشادات وبیانات سے بھرا ہوا ہے، جس کے اندر ناحق خون بہانے کو گناہِ عظیم اور بدترین جرم بتایا گیا ہے، جیسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ”الکبائرُ الاشراکُ باللّٰہِ وقتلُ النَفْسِ وعقوقُ الوالدینِ والیَمِیْنُ الغَمُوسُ“ (مشکوٰة:۱۷، باب الکبائر وعلامات النفاق) ترجمہ: بڑے گناہوں میں سے اللہ کے ساتھ شرک کرنا، جان مارنا، والدین کی نا فرمانی کرنا اور جھوٹی قسمیں کھانا ہے۔
اسی طرح ﴿وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ﴾ (الفرقان:۶۸) ”یعنی انسانی جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے،اس کو ناحق قتل مت کرو؛ مگر اس وقت جب کہ حق اس کے قتل کا مطالبہ کرے“
غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ﴿وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ﴾ ہی نہیں فرمایا؛ بلکہ ﴿اِلاَّ بِالْحَقِّ﴾ بھی کہا گیا، ایسے ہی ﴿مَنْ قَتَلَ نَفْساً فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً﴾ ہی نہیں فرمایا؛ بلکہ اس کے ساتھ ﴿بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِیْ الْاَرْضِ﴾ بھی کہا گیا، یہ نہیں کہ کسی بھی جان کو کسی بھی حال میں قتل مت کرو، اگر ایسا کہا جاتا ، تو یہ عدل کے بالکل خلاف ہی نہیں؛ بلکہ حقیقی ظلم ہوتا، دنیا کو اصل ضرورت اس بات کی نہ تھی کہ انسان کو قانونی گرفت سے بالکل آزاد کردیاجائے کہ جتنا چاہے، جہاں چاہے، جب چاہے فساد برپا کرے، جس قدر چاہے ظلم وستم کے پہاڑ توڑے، جس کو چاہے اور جب چاہے بے آبرو کرکے اس کی عزت وآبرو کا جنازہ نکال دے اور ان تمام کے باوجود اس کی جان محترم ہی رہے؛ بلکہ اصل ضرورت یہ تھی کہ دنیامیں امن وامان کی خوش گوار فضا قائم کی جائے اور ایک ایسا منظم دستورالعمل تیار کیاجائے، جس کے تحت ہر فرد اپنی حدود میں آزاد رہے اور کوئی شخص اپنے حدود سے تجاوز نہ کرے، اس غرض کے لیے ﴿اِلاَّ بِالْحَقِّ﴾ کی محافظ قوت درکار تھی ورنہ امن کی جگہ بدامنی ہوتی۔ جب کوئی جماعت سرکشی پر اتر آتی ہے، تو وہ کوئی ایک فتنہ نہیں ہوتا، جو وہ برپا کرتی ہو؛ بلکہ ان میں طرح طرح کے شیطان صفت انسان بھی شامل ہوتے ہیں اور ہزاروں طرح کے فتنے ان کی بدولت وجود پذیر ہوتے ہیں، ان شیطانوں میں سے تو بعض طمع وحرص کے پجاری ہوتے ہیں جو غریب قوموں پرڈاکہ ڈالتے ہیں اور ان کے خون پسینہ سے کمائے ہوئے روپیوں پیسوں کو اپنی عیارانہ چالوں سے لوٹتے ہیں اور پھر اپنی تجوریاں بھرتے ہیں، عدل وانصاف کو مٹاکر جور وجفا کے علَم کو بلند کرتے ہیں، ان کے ناپاک اثر سے قوموں کے اخلاق تباہ وبرباد ہوجاتے ہیں، تو ایسی حالت میں جنگ جائز ہی نہیں؛ بلکہ فرض ہوجاتی ہے، اس وقت انسانیت کی سب سے بڑی خدمت یہی ہوتی ہے کہ ان ظالم بھیڑیوں کے خون سے صفحہٴ ہستی کے سینے کو سرخ کردیا جائے اور ان مفسدوں کے شر سے اللہ کے مظلوم وبے کس بندوں کو نجات دلائی جائے، جو شیطان کی امت بن کر اولادِ آدم پر اخلاقی، روحانی اور مادی تباہی کی مصیبتیں نازل کرتے ہیں، وہ لوگ انسان نہیں؛ بلکہ انسانوں کی شکل وصورت میں درندے اورانسانیت کے حقیقی دشمن ہوتے ہیں، جن کے ساتھ اصلی ہمدردی یہی ہے کہ ان کو صفحہٴ ہستی سے حرفِ غلط کی طرح مٹادیا جائے۔ داعش اور دہشت گرد زمیں پر فسادی ہیں بے گناہ انسانیت کا قتل کرتے ہیں لہذا انکے خلاف جہاد لازمی ہے تاکہ مسلمان بھائیوں کا مال و جان اور عورتوں کی عزتیں محفوظ رہیں ۔۔ پاک فوج مسلمانوں کی حفاظت کے لیے یہ آپریشن کر رہی ہے تاکہ فسادیوں کو ختم کرکے ملک میں امن قائم کیا جاسکے بے گناہ معصوم شہریوں کا خون کوئی فسادی نہ بہا سکے ۔۔ اور جو اس آپریشن پر طرح طرح کے سوالات اٹھاتے ہیں اس کا مطلب وہ ان آیات پر سوال اٹھاتے ہیں جن میں بے گناہوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے فسادیوں کو ختم کرنے کا حکم ہے ۔۔ جیسا کہ

جنگ کی اسی مصلحت کو ایک دوسری جگہ یوں بیان فرمایا ہے کہ: ﴿وَلَوْلاَ دَفَعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ ذُوْفَضْلٍ عَلَی الْعٰلَمِیْنَ﴾ (البقرہ:۲۵۱) ترجمہ: ”اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ دفع نہ کرتا، تو زمین فساد سے بھر جاتی؛ مگر دنیا والوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔“ (کہ وہ دفعِ فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے)
ایک اور جگہ ارشاد ہے کہ

یہی فساد وبدامنی ظلم وجبر کی جنگ ہے، جس کو دفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کو تلوار اٹھانے کا حکم دیا ہے؛ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتِلُوْنَ بِاَنَّہُمْ ظُلِمُوْا وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِہِمْ لَقَدِیْرُ o الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلاَّ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ﴾ (الحج:۳۹-۴۰) ”جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے، انھیں لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے؛ کیونکہ ان پر ظلم ہوا ہے اور اللہ ان کی مدد پر یقینا قدرت رکھتا ہے، یہ وہ لوگ ہیں، جو اپنے گھروں سے بے قصور نکالے گئے، ان کا قصور صرف یہ تھا کہ یہ اللہ کو اپنا پروردگار کہتے تھے“ اس کے اندر جن لوگوں کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا جارہا ہے، ان کا جرم یہ نہیں بیان کیا جارہا ہے کہ وہ ایک دوسرے مذہب کے پیروکار ہیں؛ بلکہ ان کا جرم واضح انداز میں یہ بیان کیاجارہا ہے کہ وہ ظلم کرتے ہیں، لوگوں کو بے قصور ان کے گھروں سے نکالتے ہیں، ایسے لوگوں کے خلاف صرف مدافعتی جنگ کا حکم نہیں دیاگیا؛ بلکہ دوسرے مظلوموں کی اعانت کا بھی حکم دیاگیا اور تاکید کی گئی کہ کمزور و بے بس لوگو کو ظالموں کے پنجوں سے چھڑاؤ۔ اسی طرح ایک جگہ ارشاد ہے کہ

اگر دشمن ملک پر چڑھ آئے تو اپنی قلت اور دشمن کی کثرت نہ دیکھو۔ قلیل فوجیں کثیر افواج پر غالب آتی ہیں۔ (سورہ انفال 49)

۔
سپاہ سالار کی سربراہی میں آپریشن ردالفساد پاکستان کی تاریخ کو سب سے بڑا آپریشن کا جسکا دائرہ پورے پاکستان تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ ضرب عضب سے بڑا آپریشن ہے اور پورے پاکستان سے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے یہ شروع کیا گیا جس میں بہت سی کامیابیاں حاصل ہوئی ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، ہماری افواج اور سیکیورٹی ایجنسیوں کے سیکڑوں جوانوں نے شہادت کا رتبہ پایا اس کے ساتھ عوام نے بھی اس کو برداشت کیا ہے، لاتعداد گودیں اجڑی ہیں اور کئی سروں کے تاج سلامت نہ رہے لیکن پاکستان کے پرعزم عوام نے اس کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا اس بھروسے پر کہ بالآخر ایک دن اس ناسور کا خاتمہ ہو کررہے گا۔ فسادیوں کا خاتمہ اس آپریشن کا طرہ امتیاز ہے اور دشمن کی ناپاک سازشوں کو ختم کرنے کے لیے اجتماعی کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ فسادیوں اور شرپسندوں کے خلاف جہاد ہم مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے اور ایک قوم بن کر اس مشکل وقت میں ان سے نبرد آزما ہونا ہماری امن و سلامتی کے لیے نہایت ضروری ہے۔ ایک محفوظ پاکستان ہی ترقی کر سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ہم اپنا آج قربان کر کے ایک مستحکم معاشرے اور ملک کی بنیاد رکھ سکتے ہیں ۔ ردالفساد آپریشن کے ذریعہ دہشت گردوں کی طرف سے پھیلائے گئے فساد کے خاتمے کے لئے پوری قوم کو کردارادا کرنا ہوگا محض فوج اور سیکیورٹی اداروں پر ذمہ داری ڈال کر حسب معمول معاملات زندگی کو چلانا ممکن نہیں ہوگا ۔ سپاہ سالار کے مطابق ہر پاکستانی ردالفساد کا سپاہی ہے ۔۔ ہم مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنا ہوگی ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف اس وقت ختم ہو گی جب پاکستان جیت جائے گا ۔۔ پاکستانی فوج کے پاس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واضح حکمت عملی ہے ۔۔ دہشت گردی کے خلاف تمام سیاسی جماعتیں پاک فوج سمیت پوری قوم ایک پیج پر ہے۔ دہشت گردی کے خطرات کمزور پڑنے سے کاروباری سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے نہ صرف ملکی سرمایہ کار بلکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے لیے راغب ہو رہا ہے ۔۔
جب قوم متحد اور پرعزم ہو تو بڑے سے بڑے دشمن کو بھی شکست دینا ممکن ہے۔ بس ہمیں اتحاد اور محبت کے ساتھ پاکستان کی تعمیر کرنی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جو قربانیاں دی ہیں انکی قدر کرنی ہے اور انکی لاج رکھنی ہے اور دشمن کو اپنی صفوں میں نہیں داخل ہونے دینا انشاءاللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان پرامن ممالک کی نمائیندگی کرے گا ۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں پوری پاکستانی قوم پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے جو ہمارے محفوظ کل کے لیے اپنا آج قربان کررہے ہیں، پاک فوج کی قربانیاں رنگ لارہی ہیں وہ دن دور نہیں جب ملک بھر سے امن کا سورج طلوع ہوگا۔ پوری قوم کو پاک فوج کی بہادر قیادت پر فخر ہے ۔ہماری اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ پاکستان سے جلد دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ہو،تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے ۔

17757676_1378124478940159_8442205756454242552_n17992045_1385195641566376_2611728662264950386_n20046426_1152425681567695_5404920777174013100_n20106522_1153152908161639_8361375275791678745_n20106840_1153896001420663_3432128585039218655_n20108485_468008096925594_410524922443112128_n20108674_1153896004753996_3827412268170827488_n (1)20139619_1890691461181168_1793135543742293861_n20229048_214796509044494_5882950176203894575_n20229296_1153895984753998_6118476907235767676_n20245346_1878684249118484_7875888321977427898_n