23 March (23 مارچ)

17191092_504386756616578_332844461821176159_n

23 مارچ کا دن پاکستان کی تاریخ میں بہت اہمیت کا حا مل ہے ۔مسلم لیگ، پاکستان اور بر صغیر کی تاریخ کا ایک سنہری دن ہے کتابِ ماضی کی ورق گردانی کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس روز برصغیر کے کونے کونے سے ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں نے اپنے قائد محمد علی جناح کی قیادت میں مسلم لیگ کے ستائیسو یں سالانہ اجلاس کے موقع پر مسلمانوں کی آزادی اور ایک الگ وطن کے قیام کے لیے قرداد منظور کی جسے قراردادِلاہوریا قراردادِپاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے جو ۱۹۴۱ میں نہ صرف مسلم لیگ کے آئین کا حصہ بنی بلکہ اسی کی بنیاد پر سات سال بعد ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔مگر افسوس کہ پاکستان میں قومی تہوار تاریخی پس منظر میں منانے کی بجائے کھیل کود کر گزار دیے جاتے ہیں اور تاریخی ورثہ نسلِ نو کو منتقل کرنے میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا جاتا ہے۔دنیا کے خطے میں پاکستان وہ واحد مُلک ہے جو ایک نظرئیے کی بنیاد پر قائم ہوا۔نظریہِ اسلام،اسلام کی علمبرداری،نظامِ اسلام کے نفاذ،مسلمانوں کی سر بلندی اور امن و سکنیت کے حصول کے لیے معرضِ وجود میں آنے والے پاکستان کے لیے قربا نیوں کی ایک لازوال داستان رقم کی گئی۔پا کستان کو حاصل کرنے کے لیے ان گنت قربانیاں دی گئیں۔ چشم فلک نے نہ جانے کتنے ہی لاشے خاک و خون میں تڑپتے دیکھے۔بیشمار لوگو ں کو اپنی جائداتیں چھوڑنی پڑیں۔دوکانوں،مکانات اور محلات سے محروم ہونا پڑا۔کتنی ما ؤں کی ہری بھری گود اناً فاناًاجڑ گئی۔کسی کو داغِ یتیمی ملاتوکسی سے اس کے بڈھاپے کا سہارا چھین لیا گیا ۔کسی کو خاوند کی جدائی کے غم میں مبتلا ہونا پڑا تو کوئی اپنی جیون ساتھی سے محروم ہو گیا۔کسی بہن کو اپنے کڑیل جوان بھائی کی قربانی دینی پڑی تو کسی بھائی کو اپنے سامنے بہن کا مقدس آنچل اترنے کے اذیت ناک غم سے دو چار ہونا پڑا۔ایک منزل تھی جس کو پانے کے لیے آگ کے دریا کو عبور کرنا پڑا۔وو کون سا غم ،وہ کون سا دکھ ،وہ کون سی تکلیف ،وہ کو ن سی اذیت تھی جس کا سا منا نہ کرنا پڑاپھر جا کر کہیں یہ منزل ملی جس کے بارے میں قائد اعظم محمد علی جناح نے فر مایا کہ ’’لفظ قوم کی ہر تعریف کی روح سے مسلمان ایک علیحدہ قوم ہیں اور اس لحاظ سے ا ن کا اپنا علیحدہ وطن ،اپنا علاقہ اور اپنی مملکت ہونی چاہیے ۔جہاں وہ اپنی روحانی ،ثقافتی،معاشی،معاشرتی اور سیاسی زندگی کو اس طریق پر زیادہ سے زیادہ ترقی دیں جو ہمارے نزدیک بہترین ہو اور ہمارے نصب العین سے ہم آہنگ ہو‘‘ مگر سوال یہ ہے کہ جس نظرئیے کی خاطر پاکستان بنایا گیا ، جس نصب العین کو سامنے رکھ کر پاکستان حاصل کیا گیا، جس دستورِ حیات پر عمل کرنے کے لیے پاکستان کا قیام عمل میں آیا، کیا آج کا پاکستان وہی پاکستان ہے جس کا خواب ہمارے آباو اجداد نے دیکھا تھاَ ؟؟؟کیا پاکستان میں قانون کی حکمرانی قائم ہے ؟؟؟ کیا پاکستان قائد کے فرمان کے مطابق ایک فلاحی مملکت کا نقشہ پیش کر رہا ہے ؟؟؟ کیا پاکستان میں جمہوریت اپنی روح کے مطابق نافذالعمل ہے ؟؟؟ نہیں ہر گز نہیں۔۔ آْ ج جس طرف نظراٹھتی ہے آگ وخون کی بارش دکھائی دیتی ہے ۔ ہرسمت ظلم و جبرکا دھواں اٹھتا نظر آتا ہے ۔پاکستان کا غریب طبقہ مقہورو مجبور بن چکا ہے ۔’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘‘ کا مظاہرہ نظر آ رہا ہے ۔ملکی وسائل پر صرف چند خاندان مسلط ہیں۔ پاکستانی معیشت خاص ہاتھوں کے کنٹرول میں ہے ۔عوام خوف و دہشت کی فضاء میں زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔وقت کا تقاضہ ہے کہ آ ج کے دن کو ’’ یوم احتساب‘‘ کے طور پر منائیں اورسوچیں کہ ہم نے کیا کھویا کیا پایاَ کیونکہ آج کا دن ہمیں اپنے بزرگوں اور عظیم راہنماؤں کی قربانیوں اور ان کے مقاصدکی یاد دلاتا ہے ۔کہ ہمارے ان رہنماؤں نے آزادی اور جمہوریت کا جو خواب دیکھا تھا و ہ شرمند ہِ تعبیر تو ہوا تا ہم ہمارے سامنے آزادی، اخوت،مساوات کا عظیم تصور تشنہء عملہ ہے

آج بھی ہم عدمِ مساوات،بے روزگاری،پسماندگی اور نا خواندگی وغیرہ کے عفریت سے دو چار ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ ہم اس دور کے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوے ملک و قوم کی ترقی و کامرانی کے لیے درست راستوں کاتعین کریں ۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہم گزشتہ ستر سالوں سے 23 مارچ کے دن یوم تجدید عہد منارہے ہیں مگر ہم نے قیام پاکستان کے عظیم مقصد کو فراموش کردیا۔ ۔ 23 مارچ یوم تجدید عہد کاتقاضہ ہے کہ ہم اپنے ذہن کے گوشہء میں سوئے ہوئے افکار کو بیدار کرتے ہوئے ، قیام پاکستان کے لئے چلائی گئی تحاریک کو اپنی بصیرت سے دیکھتے ہوئے، قیام پاکستان کے لئے دی گئی قربانیوں کی یاد کو تازہ کرتے ہوئے غور کریں کہ قیام پاکستان کا مقصد کیا تھا ۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے کس ریاست کا خواب دیکھا تھا؟۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کس لئے ایک علیحدہ ریاست کی جدو جہد کی تھی؟۔ پھر یہ حقیقت آسانی کے ساتھ سمجھی جا سکتی ہے کہ مختلف صوبوں، علاقوں، قوموں اور مختلف فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو جس قوت نے ایک متحدہ قوم بنا دیا وہ قوت اسلامی نظرئیہ تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ قیام پاکستان کے بعد ہم اپنی کوتاہ اندیشیوں اور لیڈروں کی خود غرضیوں اور سازشوں کے باعث مشرقی اور مغربی پاکستان کو متحد نہ رکھ سکے لیکن ایک ہزار میل سے بھی زیادہ فاصلے پر موجود مغربی پاکستان اور بنگال کا 27 رمضان المبارک 14اگست 1947ء کو ایک متحدہ پاکستان کے طور پر معرض وجود میں آنا کیا کلمہ طیبہ کی برکت اور طاقت نہیں تھی؟۔ اور کلمہ طیبہ ہی ہمارا نظرئیہ پاکستان ہے۔ نظرئیہ پاکستان کے دو الفاظ کو اگر ایک لفظ میں ادا کرنا ہو تو وہ اسلام ہے۔گاندھی اور نہرو کی مطالبہ پاکستان کے خلاف دلیل یہ تھی کہ تبدیلی مذہب سے قوم تبدیل نہیں ہوتی نیشنلسٹ علماء بھی یہی نقطہ نظر رکھتے تھے کہ قوم وطن سے بنتی ہے مذہب سے نہیں لیکن علامہ اقبال اور قائد اعظم محمد علی جناح دونوں کا پرزور موقف یہ تھا کہ مسلمان اپنے الگ مذہب کی بنیاد پر ایک جداگانہ قوم ہیں۔ گویا جتنی چاہے بحث اور تجزیہ کر لیں تحریک پاکستان کی بنیاد اسلام ہے۔ اسلام ہی نے ہمیں قیام پاکستان کے مخالفین کے مقابلہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنا دیا تھا۔ قائد اعظم کے مشہور سلوگن ایمان، اتحاد اور تنظیم پر ہی غور کر لیں کہ ایمان کی طاقت نے ہمیں متحد کیا۔ ہم ایک قوم بنے اور ہم اپنے لئے ایک الگ علاقہ، مملکت اور وطن حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ۔

قائد اعظم نے اسلام کو پاکستان کا جذبہ محرکہ اور وجہ جواز بھی قرار دیا تھا۔ حیرت کی بات ہے کہ ایک ایسا ملک جس کا حقیقت کی دنیا میں تو کیا خواب میں بھی وجود نہ تھا۔ صرف اسلام نے دنیا کے نقشے کو تبدیل کر کے اس نئے ملک کی بنیاد رکھ دی اور ساتھ ہی دنیا میں ایک نئی مثال قائم ہو گئی کیوں کہ صرف مذہب کے نام پر ہندوستان تقسیم ہوا تھا۔ سیکولر ازم کا ڈھول بجانے والے اگر اس دور کے ہندو اخبارات میں ہندو سیاست دانوں کے بیانات پڑھ لیں تو انہیں علم ہو جائے گا کہ ہندو طبقہ پاکستان کی مخالفت ہی اس وجہ سے کر رہا تھا کہ وہ پاکستان کے مطالبہ کو اسلام ازم کی ایک کڑی سمجھتے تھے ۔

آج 23 مارچ کا دن ایک بار پھر ہمارے سامنے ہے۔ ایک موقع اور ہمیں مل رہا ہے۔ اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے ہم عہد کریں کہ ہم پاکستان کو اپنے کردار کی سچائی، پوری لگن، خلوص، دیانتداری، آپس کی محبت اور اخوت و بھائی چارے سے ایک اسلامی ، فلاحی ،خوشحال ، امن پسند اور غیروں کی غلامی سے آزاد ریاست اور مملکت بنائیں ۔ 23مارچ کے تاریخی دن نے مسلمانوں کی قسمت بدل دی تھی۔ اس دن کا سورج ان کے لئے حیات نو کی نوید لے کر ابھرا تھا اور انہیں زندہ اور عزت دار قوموں کی صف میں کھڑے ہونے کے قابل بنایا تھا۔ اس دن کے پس پردہ انسانی عظمت و ہمت کی لازوال داستان اپنی تمام تر تابناکیوں کے ساتھ کون و مکاں کے افق پر تاحال تاباں و درخشاں ہے اور تاریخ انسانی کا عظیم اور سنہری باب ہے۔ جس میں ہمارے آبائو اجداد کے پختہ ارادوں اور جدوجہد کی تکمیل اور قربانیوں کی تفصیل رقم ہے۔ لہذا نسل نو کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ آزادی کا حصول کتنی جانی اور مالی قربانیوں کے بعد ممکن ہوا۔ اس کے لئے کتنی خون کی ندیاں بہائی گئیں۔ کتنی عزتوں کو پامال کیا گیا۔ کتنے لاکھ پروانوں کے خون سے پاکستان کی شمع روشن ہوئی۔ جس کے اجالے میں آج ہم سب اپنی منزل اور نئے آفاق کی جانب گامزن ہیں۔

اللہ رب العزت کے خاص فضل و کرم سے ایک آزاد خود مختار، اسلامی فلاحی ریاست، پاکستان کامعرض وجود میں آنا بلاشبہ عوام پاکستان کے لیے قدرت کا ایک بہت بڑا انعام ہے یہ ہم سب کا پاکستان ۔۔ جس نظریہ کی برکت سے ہم نے پاکستان حاصل کیا تھا اسی نظرئیے یعنی قرآن کریم کی اصولی ہدایات پر عمل کر کے اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پیروی کرتے ہوئے ہم پاکستان کو ایک پرامن اور بہترین ملک بنائیں گے۔ آج سلام دشمن اور پاکستان دشمن عناصر تو پاکستان کے خلاف متحد نظر آتے ہیں مگر ہم اہل پاکستان مختلف فرقوں ، قوموں ، اور گروہوں میں بٹے ہیں ، آج ہمارے درمیان باہمی اتفاق و یکجہتی کا فقدان ہے ۔پاکستان کی بہادر افواج اہل پاکستان کو امن و امان کی فراہمی کی خاطر برسر پیکا ر ہے ، عوام پاکستان کے سکون کی خاطر آئے روز افواج پاکستان کے بہادر سپاہی جام شہادت نوش کررہے ہیں ، ان حالات میں ہم اہل پاکستان کی بھی زمہ داری ہے کہ با ہمی تنازعات اور فرقہ بندیاں، صوبائی و علاقاوی تعصب کو بھلا کر، آپریشن رد الفساد کو کامیاب بنا کرپاکستان میں امن و امان کے مستقل قیام کے لئے اپنا مثبت کردار ادا کریں ۔۔

 

ausafheader2B2

 

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on March 21, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: