کراچی آپریشن اور نئے تعمیراتی منصوبے

ss

کراچی آپریشن مکمل طور پر غیر سیاسی اور بلاامتیاز ہے اور ہر طرح کی مصلحت اور دباؤ سے آزاد ہے۔ کراچی آپریشن کے اہداف رفتار کی قید سے آزاد ہیں اور اس کی تکمیل کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں ہے ۔ عوام کو خوف سے آزاد ماحول میسر کرنا، قانون کی بالا دستی اور امن وامان کی فضا بہتر رکھنا رینجرز کے اہداف میں شامل ہے. رینجرز شہر میں قیام امن میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے اور کراچی کے امن کی بحالی کا جب بھی تذکرہ ہو گا تو رینجرز کا نام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، اس آپریشن کی سب سے بڑی کامیابی امید کی بحالی ہے ۔ راچی میں سیکیورٹی اداروں نے ڈھائی سال قبل ستمبر 2013 میں مشترکہ ٹارگٹڈ آپریشن شروع کیا تھا، جس کی وجہ سے لیاری گینگ وار کے خاتمے کے ساتھ ساتھ شہر میں دیگر جرائم کی شرح میں بھی کمی آئی ہے ۔ مارچ 2015 میں رینجرز نے سندھ کی دوسری بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے مرکز نائن زیرو پر چھاپہ مارا تھا جس میں متعدد افراد کو مبینہ طور پر سزا یافتہ ہونے پر گرفتار کیا گیا، ان میں کراچی کے مقتول صحافی ولی خان بابر کا قاتل فیصل موٹا بھی شامل تھا ۔ اسی طرح آصف علی زرداری کے قریبی دوست ڈاکٹر عاصم حسین کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ اُن پر دہشت گردوں کی مالی معاونت، جرائم پیشہ افراد کے اپنے ہسپتال میں علاج کے ساتھ ساتھ کرپشن کے کیسز ہیں ۔۔ پھر لیاری گینگ وار کے اہم کردار عزیر جان بلوچ کی گرفتاری ہوئی ۔۔ کراچی آپریشن کو شہر قائد کے باسیوں سمیت پورے پاکستان کی حمایت حاصل ہے اس لئے اس آپریشن کے دوران حائل ہونے والی تمام رکاوٹیں دور کرکے اسے جاری رکھا جائے ۔۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ کراچی آپریشن امن کی بحالی اور جرائم کے خاتمے تک جاری رہے گا اس بارے میں پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی ۔ تاجر ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں ان ک تحفظات دور کئے جائیں گے ۔ کراچی آپریشن جرائم اور دہشتگردی کے خاتمے تک جاری رہے گا ۔ امن ہماری اولین ترجیح ہے امن کی بحالی کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے انشاءاللہ ۔۔

پاک فوج کی کمان تبدیل ہونے کے بعد بعض حلقوں کی طرف سے یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گی کہ اب کراچی آپریشن پھر رک جائے گا اور سیاسی پارٹیاں پھر سے دشمن عناصر کو کھلا چھوڑنے کا کہیں گی ۔۔ رینجرز نے کراچی میں دہشتگردی اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوروں کے خلاف جس انداز سے ٹارگٹڈ کارروائیاں کی ہیں اس کے خاطر خواہ اثرات مرتب ہوئے ہیں ٹارگٹ کلرز کو بھی بڑی تعداد میں گرفتار کیا ہے جنہوں نے اپنے جرائم اور وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ رینجرز کی کامیاب کارروائیوں کے بے حد مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں ۔ کراچی ایک بار پھر اپنی بھرپور سیاسی سماجی اور معاشی سرگرمیوں کے ساتھ متحرک ہوا ہے تاہم یہ لازم ہے کہ آپریشن کی کامیابیوں کو مستحکم کرنے کیلئے تمام سیاسی جماعتیں بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور ہر قسم کے جرائم کے خاتمہ کے سلسلے میں سیکورٹی اداروں سے تعاون کریں

کراچی میں سیاسی خلا موجود ہے جس کو پر کرنا ہے، کیونکہ ایم کیو ایم تین یا چار حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے، ایک ایم کیو ایم لندن ہے، ایک ایم کیو ایم پاکستان، اور ایک پاک سرزمین پارٹی ہے۔ عشرت العباد کس طرف ہیں پتہ نہیں، لیکن وہ بھی ایک گروپ ہے ایم کیو ایم وہ جماعت ہے جس کے پاس کراچی کے عوام کا 30 سال سے مینڈیٹ تھا مگر وہ پیپلز پارٹی دونوں کراچی میں امن و امان کی صورتحال قائم کرنے کے بجائے خراب کرنے میں کردار ادا کرتے آئے ہیں ۔۔ مگر اب پاک فوج اور رینجرز کے کراچی آپریشن سے کراچی پھر سے پرامن روشنیوں کا شہر بنتا جارہا ہے ۔۔ کراچی میں کئی نئے تمعیراتی و ترقیاتی منصوبے بھی شروع ہیں اور کراچی کی بندرگاہ کو بھی بہتر بنایا جارہا ہے ۔ ماضی میں یہ کہہ کر وقت ضائع کیا گیا کہ یہ سرگرمیاں چھوٹی ہیں یا ان کے خلاف ایکشن لیں گے تو بڑا رد عمل ہو گا، بہت بڑا طوفان برپا کر سکتے ہیں، اسی طرح یہ کہہ کہہ کر ہم نے انھیں اتنا پنپنے دیا۔ ہم نے ایک چیز سیکھی ہے کہ چاہے ان عناصر کا تعلق کسی بھی گروپ سے ہو اس کے خلاف ایکشن ہونا چاہیے ۔۔ کراچی نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کا معاشی مرکز بنے اس کے لیے معاشی اور مالی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنے پڑیں گے۔ گذشتہ 20 سال کا عرصہ ایسا تھا کہ کراچی کو دس منٹ کے نوٹس پر بند کر دیا جاتا تھا، یہ پرامن شٹ ڈاؤن نہیں ہوتا تھا بلکہ اس کے ساتھ جلاؤ گھیراؤ بھی ہوتا تھا، رکشے بسیں اور کھوکھے بھی جلائے جاتے تھے ۔ کراچی جو صنعتی مرکز تھا وہ صنعتیں یہاں سے پنجاب اور خیرپختونخوا منتقل ہونا شروع ہو گئیں، جو نئی سرمایہ کاری تھی وہ بند ہوگئی۔ آپریشن کے بعد اس وقت معاشی اور مالی سرگرمی شروع کرنے کا ایک زبردست وقت ہے ۔ قوموں کو آگے بڑھنا چاہیے نہ کہ انفرادی یا خاندانی بنیادوں پر ۔ کہ ایم کیو ایم یا پیپلز پارٹی کے علاوہ کراچی یا سندھ چل نہیں سکتا ۔۔ مطلب یہ ہے کہ جو بھی کوئی کرپٹ ہو اسکو دوبارہ ووٹ ہی مت دو ۔۔ ایک دفعہ منتخب ہوکر کوئی اگر کام نہیں کرتا تو اس کو تبدیل کرنا آسان ہے ، مگر بار بار ملک لوٹنے والوں کے ہاتھوں بار بار لٹنے کے لیے خود کو تیار کرنا اور لوٹنے دینا بڑی ہمت کا کام ہے شاید اسی لیے سندھ اور کراچی والوں نے وڈیروں کے ہاتھوں ملک و قوم کو لوٹںے دیا ۔۔ کراچی سرمایہ کاری اورصنعتی ترقی کیلیے آئیڈیل شہرہے،اس کی اصل شناخت بحال کرنے کیلئے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ شہر میں قیام امن میں یقینا سول سوسائٹی کے ساتھ ساتھ ایپکس کمیٹی کا کردار بھی کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ شہر کی تاجر برادری بھی اس خواہش کا برملا اظہار کرتی رہی کہ روشنیوں کے شہر میں امن وسلامتی کے لیے ہر ممکن اقدمات کیے جائیں ۔ اب وہ پر امید ہیں ۔۔ کہ کراچی میں روزگار زندگی دوبارہ سے بہتر ہورہا ہے ۔۔ اب کراچی کی صورت حال ماضی کے برعکس کی گنا بہتر ہے جس کا کریڈٹ سب ہی ملکی سیکورٹی فورسز کو جاتا ہے ۔ من وامان حاصل کرنے اور مستحکم کرنے کے لیے کیا رینجرز کا موجود ہونا ضروری ہے ۔کراچی کو نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کا معاشی مرکز بنانا ہوگا جس کے لیے معاشی اور مالی سرگرمیوں کے مواقع پیدا کرنے پڑیں گے ۔ امید ہے کہ اہل کراچی کی اکثریت اب دعووں اور وعدوں سے بہکنے کو تیار نہیں۔ اہل کراچی نے کئی دہائیوں تک مسائل دیکھے ۔۔ حکومت کو کراچی میں خون کی ہولی کھیلنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کرنا چاہے۔ الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کافی نہیں بلکہ ان افراد کو قانون کو کٹہرے میں لانا ہوگا جو کسی نہ کسی شکل میں شہر قائد میں خون کی ہولی کھیلنے میں معاون کا کردار نبھاتے رہے۔ بلاشبہ حقیقت یہی ہے کہ سندھ کی سیاسی قیادت سے کہیں بڑھ کر ملکی عسکری قیادت نے شہر میں امن وامان کی بحالی میں کردار ادا کیا۔ سال کےپہلےپاکستان اوراب کےپاکستان بہت فرق ہے۔کراچی آپریشن کامیابی سےجاری ہے ۔ اور انشاءاللہ کراچی آپریشن پرمکمل پرامن حالات تک جاری رہنا چاہیے ۔۔ کراچی اور سندھ کی ساکھ کے ساتھ پاکستان کا امیج جڑا ہے ۔

کچھ لوگ شاید یہ نہیں جانتے ہیں کہ کراچی میں نئے روڈ ، اورنج لائن اور ریلوے کے نئے جال سی پیک منصوبے کا حصہ ہیں جن کا کام شروع ہوچکا ہے ۔۔ جس سے نہ صرف بلوچستان ، بلکہ کراچی ، پختونخواہ ، پنجاب یعنی تمام صوبوں کو فائدے حاصل ہونگے ۔۔ پاکستان سماجی ، اقتصادی ترقی کی راہ میں نئی کامیابیاں حاصل کرے گا ۔ مگر اس کے لیے سیاست میں بھی نئی تبدیلیوں کی ضرورت ہے کہ سیاست دان اب ملکی مفادات کی خاطر تھوڑا پہلے سے زیادہ کام کریں اور مل کر چلیں ۔۔ ایک دوسرے کے منصوبوں میں رکاوٹ دالنے کے بجائے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کریں ، اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر خدمت کریں ملک و قوم کی تو پاکستان زیادہ تیزی سے ترقی کر سکتا ہے ۔۔

گیم یوں چینج ہوتی ہے کہ کراچی اور سی پیک منصوبہ یعنی کراچی اور گوادر کی بندرگاہیں مل کر پاکستان میں نئی ترقی کی راہ کھول دیں گی ۔۔ کراچی میں نئے روڈ ، ٹرین ، جدید منصوبے بن رہے ہیں ۔۔ سرمایہ کاری کے نتیجے میں یہاں کی پسماندگی کو تیزی سے دور کیا جا سکے۔ایک بار جب یہاں ترقی کا عمل شروع ہو جائے گا تو نہ صرف احساسِ محرومی کے نتیجے میں جنم لینے والا امن و امان کا مسئلہ کسی حد تک قابو میں آجائے گا بلکہ کراچی کے علاقوں میں بند پڑی فیکٹریاں ، کارخانے دوبارہ سے کام کرنے لگ جائیں گے اور انکا مال دوبارہ سے کراچی اور گوادر بندرگاہوں کے زریعے دنیا بھر میں بھیجا جاسکے گا ۔۔ دنیا میں کوئی بھی بڑا اقتصادی منصوبہ سماج سیوا کے لیے نہیں بنایا جاتا ۔ مگر پہلی دفعہ پاکستان ایک بڑا اقتصادی منصوبہ چائنہ کے ساتھ مل کر بنا رہا ہے ۔۔ جو کہ دنیا کی توجہ حاصل کرے گا اور دنیا بھر سے تجارتی سلسلے شروع ہونگے ۔۔ گیم یوں چینج ہوتی ہے۔پتہ تھوڑی چلتا ہے۔سیانے وہی ہوتے ہیں جو بارش کا پانی برتن میں جمع کر لیتے ہیں اگلی بارش کا انتظار کیے بغیر ۔۔ یعنی سی پیک سے بھرپور فائدہ اٹھا لینا چاہیے ۔۔ راستوں ، ٹرینوں وغیرہ سے پاکستان میں جال بچھانے کے بعد سی پیک سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اگر ہمارے حکمران چاہیں تو ۔۔

کراچی سے حیدرآباد ایم نائن موٹر وے کے ایک سیکشن بن چکا ہے اور وٹر وے ایم نائن کے پہلے سیکشن کے 75 کلومیٹر شاہر کی تعمیر مکمل کرلی گئی ہے، جب کہ 136 کلومیٹر کا منصوبہ 31 مارچ 2018 ءمیں مکمل ہوگا ۔

آج کراچی کی روشنیاں لوٹ رہی ہیں۔ زرداری حکومت کو آپریشن ایک آنکھ نہیں بھایا تھا ۔ مگر الحمد و للہ اب حالات پرامن ہیں ۔۔ ایم کیوایم اور پیپلز پارٹی وغیرہ میں چھپے ہوئے دہشت گرد پکڑے جانے سے کافی حد تک کراچی کا امن و امان بہتر ہورہا ہے ۔۔ کراچی آپریشن سے پہلے کراچی مقتل بنا ہوا تھا مگر اب حالات سب کے سامنے ہیں ۔۔ کراچی کے شہریوں کے تعاون سے شہر میں امن بحال ہوا ہے ، باہمی تعاون سے ہی کراچی آپریشن جاری ہے ۔ دیر پا امن کے قیام تک کراچی آپریشن جاری رہنا چاہیے ۔۔ طالب علم اور کراچی کے شہری قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون کریں، تاکہ شہر قائد امن کا گہوراہ بنے ، کیونکہ کراچی آدھا پاکستان ہے اور وطن عزیز کا معاشی حب ہے، کراچی میں قیام امن سے پاکستان کی ترقی مشروط ہے ۔

کراچی دنیا کے گنجان ترین شہروں میں سے ایک ہے، جس کی موجودہ آبادی (محتاط اندازے کے مطابق) تقریباً دو کروڑ 51 لاکھ ہے، جو کہ ٹوکیو، نئی دہلی، ممبئی، نیویارک، میکسیکو سٹی، منیلا اور جکارتہ سے زیادہ ہے، کراچی کی یہ آبادی 2030ء تک 3 کروڑ 34 لاکھ تک پہنچنے کا امکان ہے، لہٰذا ایک جانب سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں تو دوسری جانب اس شہر کے باسیوں کی سفری مشکلات کو دور کرنے کیلئے بھی وقت کا تقاضا ہے کہ اب سرکلر ریلوے جیسے منصوبوں کا آغاز کرکے کراچی کی روشنیوں کو بحال کیا جائے ۔ کراچی سے 55 کلو میٹر کے فاصلے پر سی پیک این 5 یا ایم 9 کے مشرق میں واقع ہے ۔ کراچی سی پیک منصوبے بھی بھرپور فائدہ حاصل کر سکتا ہے اس کے علاوہ کراچی تا حیدرآباد (136 کلومیٹر) ایم نائن موٹر وے منصوبہ بھی سی پیک کا اہم حصہ ہے، یہ منصوبہ پاکستان موٹر وے نیٹ ورک کا حصہ ہے جس کے تحت یہ اہم شاہراہ کراچی، حیدرآباد، سکھر اور ملتان سے ہوتی ہوئی لاہور تک جائے گی۔ سی پیک منصوبوں کے علاوہ سندھ کی صوبائی حکومت چین کی متعدد کمپنیوں کے ساتھ مفاہمت کی کئی یادداشتوں پر بھی دستخط کرچکی ہے، جس کے تحت چینی کمپنیاں سندھ میں مزید 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی، اس سرمایہ کاری کا ایک اہم شعبہ پانی کا ایک بہت بڑا منصوبہ ہوگا جوکہ کراچی کی آئندہ 50 سال کی پانی کی ضرورت پوری کردے گا، اس واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ سے 390 ملین گیلن پانی روزانہ کراچی کو فراہم کیا جاسکے گا، اس کے علاوہ دیگر منصوبوں میں ونڈ پاور، کوڑے سے بجلی بنانے کے منصوبے، بایو ماس کے ذریعے بجلی کے پیداوار، ہائیڈرو پاور، پرانے بجلی گھروں کی از سر نو تعمیر، بجلی کے گرڈ اسٹیشنز کی تعمیر اور اسمارٹ سٹی منصوبہ شامل ہیں ۔ اگر کراچی میں نئے شروع ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کو سنجیدگی، خلوص اور شفافیت سے آگے بڑھایا جائے تو سندھ کے عوام کی تقدیر بدل سکتی ہے اور اس صوبے کے دل کراچی کی روشنیاں ایک بار پھر لوٹائی جاسکتی ہیں۔۔

12019782_912245055528106_2573925569434030495_n11987017_1497986557188257_1832427685769959563_n11988318_910049762414302_9061064551166014295_n

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on February 6, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: