لاہور دھماکہ | آرمی چیف کا دورہ | پنجاب آپریشن

16729324_158395644666568_4140442658352957641_n.jpg

گزشتہ دنوں لاہور میں ہونیوالے حملے سے پاکستان کی سالمیت کو عالمی سطح پر جس قدر نقصان ہوا اُسے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ایسی جگہ جہاں 24گھنٹے گاڑیوں کی آوازیں ، احتجاج کرتے لوگوں کی آوازیں، یا اسمبلی کے اندر سے کبھی کبھار احتجاج کی آوازیں آیا کرتی تھیں۔ وہاں ایک لمحے کے لیے زور دار آواز کے بعد کانوں نے کچھ سننا بھی گوارہ نہ کیا۔ ہر شخص سکتے میں آگیا‘ آتا بھی کیوں نہ پاکستان کے دل پر کسی دشمن نے کاری ضرب لگائی تھی۔ پرندوں کی چہکار سے جوفضا گونجا کرتی تھی ۔دشمن کے وارسے پرندے بھی سہم گئے۔ ایک لمحے کے لیے سب کچھ بدل گیا۔ ان بھانت بھانت کی بولیوں میں جس انجانی آواز نے جگہ لے لی تھی۔ خدا ایسی آواز کو ہمیشہ کے لیے ختم کردے کیوں کہ ان آوازوں میں گُم ان 13شہیدوں کی تڑپ بھی تھی۔ ان آوازوں میں ہلکی پھلکی آہ و بکاء پھیلی ہوگی۔ ان آوازوں میں وطن کے لیے جذبات کی خوشبو تھی۔ ان آوازوں میں گم ہوتی کلمہ حق کی گونج تھی۔ ان آوازوں میں گم قوم کے عظیم دوست ، محسن اور قوم کے ہیروڈی آئی جی ٹریفک لاہور کیپٹن (ر) سید احمد مبین اور ایس ایس پی آپریشنز زاہد گوندل کی آوازیں تھی۔

سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور میں ہونے والے دھماکہ کے بعد لاہور کا دورہ کیا ۔۔ انھوں نےواضح کیا کہ لاہور دھماکے جیسے واقعات دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے قومی عز م کو کمزور کرسکتے ہیں نہ ہی یہ دہشت گردی کے خلاف جاری ہماری کوششوں کو متاثر کرسکتے ہیں ،ملک سے ہرقسم کی دہشت گردی کا صفایا کیا جائے گا،لاہور میں ہونے وا لا پی ایس ایل کا فائنل مقررہ شیڈول پر انعقاد کیلئے فوج متعلقین کی مکمل مدد کرے گی ۔ ملک بھر میں ہر طرح کے دہشت گردوں، ان کے ماسٹروں ، مالی تعاون کرنے والے ،منصوبہ سازوں اور سہولت کاروں سمیت ملک سے باہر دہشت گردوں کا پیچھا کیا جائے گا اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا ۔ گزشتہ کئی سالوں سے ہماری کامیابیوں کو ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آرمی چیف نے لاہور دھماکے میں ملوث ملزمان کا کھوج لگانے میں انٹیلی جنس ایجنسیوں کی کوششوں کی تعریف کی جس کے نتیجے میں چندافغانیوں سمیت اہم گرفتاریاں ہوئی ہیں ۔ انہوں نے مکمل نیٹ ورک کو بے نقاب کرانے کیلئے کوششوں کو تیز کرنے کی ہدایت کی ۔ لاہور میں پی ایس ایل کا فائنل کو سبوتاژ کرنے سے متعلق سازش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فوج اس میچ کو شیڈول پر منعقد کرانے کیلئے تمام متعلقین کو مکمل سپورٹ کرے گی ۔ بعد میں آرمی چیف نے شہید ڈی آئی جی مبین کی رہائش گاہ کا دورہ کیا اور وہاں فاتحہ خوانی کی ۔ شہید کی والدہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے بہادر بیٹے اور قوم کے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اس غیر انسانی ظالمانہ ذہنیت کو شکست دینا ہے اور بحیثیت قوم ہم اس میں کامیاب ہوں گے ۔ انہوں نے دھماکے میں شہید ہونے والے دیگر خاندانوں کے ساتھ ہی اظہار تعزیت اور افسوس کیا ۔ آرمی چیف نے سروسز ہسپتال کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی عیادت کی ۔

پاک فوج نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن تیز کرنے جنوبی پنجاب سے کومبنگ آپریشن شروع کرنے اور نام بدل کر کام کرنے والی تنظیموں کے خلاف آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے ۔۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق منگل کے روز آرمی چیف کی زیر صدارت کور ہیڈکوارٹر میں ہونے والے اہم اجلاس میں کور کمانڈ لاہور لیفٹننٹ جنرل صادق علی نے سانحہ لاہور پر تفصیلی بریفنگ دی، اجلاس میں ڈی جی رینجرز پنجاب، کور کمانڈر لاہور اور حساس اداروں کے سربراہوں نے شرکت کی، اجلاس میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن تیز کرنے اور کومبنگ آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا، کومبنگ آپریشن کا آغاز جنوبی پنجاب سے کیا جائے گا، نام بدل کر کام کرنے والی تنظیموں کے خلاف بھی آپریشن کیا جائے گا، آپریشن میں آرمی حساس اداروں کی مکمل معاونت کرے گی ۔ مگر کیا حکومت اس نیک اور پرامن مقصد میں فوج کا ساتھ دے گی ؟ حکومت کو خالی خولی دعوں سے ہٹ کر فوج کا ساتھ دینا چاہیے اور انھیں پنجاب میں آپریشن کرکے یہاں موجود دہشت گردوں اور انکے مددگاروں کو پکڑنے میں مدد کرنی چاہیے ۔۔ پی ایس ایل کا فائنل لاہور میں ہی ہو گا،فوج بھی ڈٹ گئی ہے کہ دہشت گردوں کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے مگر کیا حکومت فوج کا ساتھ دے گی یہ سوال ابھی تک ذہنوں میں موجود ہے ۔12923322_1009867462427696_3170067943967947928_n

بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر جاری مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتا ہے اور پاکستان کے حالات خراب کر کے پاکستان کو کشمیر کے مسئلہ سے ہٹا کر سیکیورٹی کے مسئلوں پر الجھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔ پانچ فروری کو جس طرح عوام اور فوج نے کشمیریوں کے حق کے لیے آواز اٹھائی بھارت شاید اس سے بوکھلاہٹ کا شکار ہوا ہے جس کی بنا پر بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی جیسے منصوبے پلان کیئے تا کہ دنیا میں پاکستان کی پرامن کوششوں اور دہشت گردی کے خلاف کردار اور کامیابیوں پر سوال اٹھانے کا موقع ملے مگر انشاءاللہ پاکستان اپنے دفاع کو مضبوط سے مضبوط بنا رہا ہے اور دہشت گردی کے خلاف پوری قوم پاک افواج کے ساتھ بھرپور تعاؤن کر رہی ہیں اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک آپریشن جاری رکھیں گے ۔ اور کشمیروں کی حمایت سے کسی بھی صورت میں پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔لاہور میں حالیہ خود کش حملہ میں قیمتی جانوں کا ناقابل تلافی نقصان ہوا،اس میں بھارت کے ملوث ہونے سے انکار نہیں کیا جا سکتا کیونکہ بھارت نے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنے پر تلا ہے۔ لیکن خود دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ پاکستان کو سمجھ سوچ کر اور مستقل مزاجی سے قدم اٹھانا ہو گا۔ اصولی باتوں سے ہی بھارت جیسے مکار دشمن کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔

نام نہاد گڈ گورننس کے زیر سایہ ایک بات کروں اگر بری نہ لگے تو کہ نیشنل ایکشن پلان پر تو عمل ہونے کی کوئی توقع نہیں ہے مگر کیا اپنے ووٹرز کا بھی احساس نہیں حکمرانوں کو ایوانوں میں بیٹھ کر بس مکھیاں مارنے کے لیے انھیں منتخب نہیں کیا جاتا ۔۔ یہاں پاکستان میں قانون نام کی کوئی چیز تو موجود ہی نہیں ۔۔ ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے ۔۔ آپ زیادہ دور نہیں برادر ملک دبئی سے ہی کچھ سیکھ لیں ۔۔ قطر کے شہزادے پاکستان کے قانون کو چکما دینے کے لیے خط لکھ سکتے ہیں مگر زرا پاکستان کے شہزادے شہزادیوں کو چھوڑو بادشاہ سلامت خود بھی وہاں کے قانوں کو نصیحت کرنے کی کوشش تو کریں اور پھر وہاں جا کر دیکھائیں ۔۔ قوم نے پہلے بھی بارہا ایسی آزمائشوں کا پامردی سے سامنا کیا ہے۔ اس نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجود ترقی کا سفر جاری رکھا ہے۔ اس کی معیشت اور دفاع روز بروز مضبوط سے مضبوط تر ہورہے ہیں اور یہ دہشت گردی‘ غربت‘ جہالت‘ پسماندگی اور بیروزگاری جیسے مہیب مسائل پر بتدریج قابو پارہی ہے۔ مگر حکومت کو مزید سنجیدہ ہونے کی ضرورت ہے ۔۔ قانون صرف بے قصوروں کو قصور وار ٹھرانے کے لیے رہ گیا ہے وہ کیا کہتے ہیں “اپنے پاس سے مدعا(کیس) “ ڈالنے کے لیے بس ۔ جبکہ اصل مجرموں کو سیاسی پناہیں حاصل ہیں ۔۔ دبئی سے ہی کچھ سیکھو ۔ یا یورپ والوں سے ہی سیکھ لو ۔۔ ان ممالک میں مجرم بچ نہیں سکتا اور بے قصور کو کوئی کچھ کہہ نہیں سکتا بے شک غریب سے غریب ہی کیوں نہ ہو ۔15698292_348120512237024_6874205985651588667_n۔

لاہور پاکستان کا دل ہے اور چیئرنگ کراس لاہور کا دل، اس دل میں لاہورپولیس کے دلوں کو چھید کر رکھ دیا گیا، خدا ان پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، ان پولیس افسروں کا، کام مذاکرات کاری نہ تھا۔ یہ کام خادم اعلی کا تھا، وزیر صحت کا تھا، سیکرٹری صحت کا تھا،چیف سیکرٹری کا تھا اور سب سے بڑھ کر اسمبلی کے سپیکر کا تھا جس کا دروازہ اس خونچکاں چوک کی طرف کھلتا ہے مگر ان میں سے کسی نے اپنی ذمے داری محسوس نہ کی اور ایک سیاسی کام پولیس افسروں کے سپرد کر دیا جو دہشت گردوں کا نشانہ بن گئے، اللہ نے انہیں شہادت کے مرتبے سے سرفراز کیا کہ وہ اپنی ڈیوٹی سے بالا تر ڈیوٹی ادا کر رہے تھے۔

پنجاب میں ہر سو راوی چین لکھتا ہے اس لیے فوج کو کبھی پنجاب آپریشن کی اجازت نہ ملی ا ور نیشنل ایکشن پلان کو پنجاب کی سرحدوں کے اندر ہوا نہیں لگنے دی گئی ۔ لاہور میں واقع ایف آئی اے کے ہیڈ آفس پر دو مرتبہ یلغار ہوئی، لاہور ہی میں مناواں پولیس سینٹر پر دو مرتبہ یلغار ہوئی، اور اسی لاہور کے چیئرنگ کراس پر آئی ایس آئی کے دفتر پر یلغار ہوئی، لاہور کی اسی مال روڈ پر نیول کالج کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی، لاہور ہی میں داتا دربار کو خون کا غسل دیا گیا، لاہور کے اقبال ٹاون میں دو مرتبہ خون کی ہولی کھیلی گئی اور لاہور ہی کے گلشن اقبال میں پھول جیسے بچوں کے جسم قیمہ بنے۔ اسی لاہور کی دینی درسگاہ میں سرفراز نعیمی کو شہید کیا گیا۔ اور اسی لاہور کے آر اے بازار میں فوجی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، قلعہ گجر سنگھ اور واہگہ بارڈر کو خون سے نہلایا گیا، پرانی انارکلی میں دو مرتبہ بم پھٹے، لاہور میں سب کچھ ہوتا رہا، اس کے باوجود لاہور میں راوی ہر سو چین لکھتا رہا۔ میں نے فرقہ وارانہ سانحوں کا تذکرہ چھوڑ دیا ہے۔چہلم امام حسینؓ اور یوم شہادت علیؓ پر لاہور میں خون کی ندیاں بہہ گئیں۔ مگر پنجاب خاص کر لاہور میں ہر سو چین لکھتا رہا شاید یہ رائے ونڈ کا کمال ہے یا رانا صاحب کی خاص مہربانی ۔۔ صل میں لاہور کی ترجیحات کچھ اور ہیں۔ لاہورئیے زندہ دل ہیں۔ بسنت باز ہیں، کبوتر باز ہیں، وہ کھلونوں سے دل بہلانے کے عادی ہیں، پہلے انہیں میٹرو بس کا کھلوناملا، اب اورنج ٹرین کا سہاناخواب پورا ہونے کے قریب ہے، پھر نہ جانے کونسا جھنجھنا دکھا دیا جائے ۔ مگر مجال ہے کہ قانون نام کی کوئی شے ہو ۔۔

فوج کو پنجاب آپریشن کی اجازت دیے دیں ۔۔ نیشنل ایکشن پلان کے جن حصوں کو نظرانداز کیا گیا ہے، ان میں ان کالعدم دہشت گرد تنظیموں کا ذکر ہے جو پاکستان کی حدود میں دہشت گردی کرتی ہیں۔ تو ان تنظیموں کا گلا گھونٹا جائے، ان کے نخرے برداشت نہ کئے جائیں۔دہشت گردی سے نجات پانا ایک سائنس ہے، پاک فوج نے ا س سائنس میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے، ساری دنیا اس کی صلاحیتوں کا لوہا مانتی ہے، پنجاب کو بھی اس فوج کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے، یہ اپنی فوج ہے، بھارت کی نہیں، نیٹو کی نہیں اور اس فوج میں اپنے ہی بھائی بند ہیں جنہیں اپنی ماﺅں، بہنوں، بیٹیوں کی جان اپنی جان سے عزیز تر ہے۔
پنجاب کو بچانے کے لئے اس نسخہ کیمیا کو آزمائے بغیر چارہ نہیں ۔ میں سوچتا ہوں کہ آخر مظاہرے ہمارے ہاں کیوں ہوتے ہیں ۔ اور دوسرا یہ کہ پاک فوج اپنی ہی فوج ہے اسکے ہاتھ سیاست دانوں نے کیوں باندھے ہوئے ہیں ۔۔ ملک و قوم کے لیے بہتر ہو انھیں کرنے کی بھرپور اجازت ہونی چاہیے ۔۔ کیونکہ ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں ۔۔ ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنی ہے اور آخری دہشت گرد تک کا خاتمہ کرنا ہے اور اس کے لیے فوج کو مکمل اختیارات دینے ہونے گے ۔۔ اور باقی بھی قانون نافظ کرنے والے اداروں اور پولیس کو مضبوط کرنا ہوگا ۔۔ خاص کر پولیس چوکیوں ۔۔ تھانوں میں ہر ایرے کی مانٹرنگ کے لیے سسٹم ہونا چاہیے ہر چوک میں کیمرے ہونے چاہیں ۔۔ ہر بڑی شاہراہ پر ایک یا دو کلومیٹرپر کیمرے ہونے چاہیں ۔۔ اور پولیس تھانے یا چوکی میں مانٹرنگ سسٹم ہونا چاہیے اور پھر ہر تھانے کے اندر بھی مانٹرنگ سسٹم ہونا چاہیے جس کو پولیس کے اوپر اہم اعلیٰ اداروں کے پاس ہونی چاہیے ۔۔ پھر اسپیشل فورس اور پھر فوج یا دفاعی اداروں کے پاس اس طرح ایک سلسلہ چلنا چاہیے تب ہی پاکستان کا قانون شاید بہتر ہو سکے ۔۔ کیونکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اور ان پر بیٹھے سیاسی اعلیٰ قانون دانوں کی نااہلی ہے جو ملک میں امن نہیں ہونے دے رہی ۔۔ زندہ دلان لاہور کو نجانے کس کی نظر لگ گئی ۔۔ کہنے کے بجائے عوام اب حکمرانوں سے پوچھنا چاہتی ہے کہ زندہ دلان لاہور ، پشاور ، کوئٹہ ، وغیرہ پاکستانیوں کی حفاظت کس کا کام ہے ۔۔ جہاں پر راوی چین لکھتا ہے وہاں کس کی نااہلی کی وجہ سے یہ دھماکہ و سانحات ہوئے ؟؟ اور فوج کو انکے خلاف آپریشن کرنے کی ابھی تک اجازت کیوں نہیں دی گئی ۔۔

قومیت کے جذبے سے سرشار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہورمیں پی ایس ایل کا فائنل شیڈول کے مطابق یقینی بنانے کی ہدایت کی تو ہم پاکستانیوں کا ماند ہوتا ہوا جذبہ ایک بار اُبھر آیا کہ شاید پاکستان میں پاکستان پر ’خودکش ‘ حملے کرنے والوں کے علاوہ کوئی پاکستان کی عزت کی بات کرتا ہے۔ فائنل لاہور میں ہونا یا نہ ہونا دور کی بات ہے مگر ہمیں تھوڑا حوصلہ ضرور ہوا کہ چلو کوئی تو عوامی دلچسپی میں حصہ لیتا ہے اور پاکستان کے عالمی سطح پر تشخص کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ فوج کا بھرپور ساتھ دے اور تعاؤن کرے اور پنجاب میں آپریشن کی اجازت دے یہ ہم عام عوام حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں اور فوج سے بھی درخواست کرتے ہیں کہ عوام کی خاطر حکومت سے پنجاب آپریشن کا اجازت نامہ اگر نہیں بھی ملتا تو اپنے فوجی اور دفاعی اختیارات استعمال کر کے پاکستان کو دہشت گردی سے بچائیں ۔۔ حکومت کو پنجاب آپریشن سے متعلق خط لکھ کر عوام کو دیکھائیں ۔۔ تاکہ ہمیں بھی پتہ چل کے حکومت ہم سے کتنا مخلص ہے اور سچ میں وہ دہشت گردی کے خلاف کچھ کرنا چاہتی ہے یہ محض خالی بیان بازیوں اور نئے انتخابات کی تیاریوں پر ہی زور دے رہی ہے ۔۔

16806637_375890356137369_245124101231988966_n16649292_774812852673834_4798365598574236495_n

 

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on February 16, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: