بھارت کی نئی شرارت

16195441_262838797469929_5168555305859734439_n.jpg

بھارت کو سی پیک منصوبے سے بہت ہی تکلیف ہے سی پیک منصوبہ اور گوادر بندرگاہ کی تعمیر پاکستان اور چائنہ کی بھارت کے خلاف سازش قرار دیتا ہے ۔۔ اور دھمکیاں دیتا پھرتا ہے کہ پاکستان اور چائنہ کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔۔ اسے اس بات سے بھی بہت پرابلم ہے کہ اس کو چائنہ اور پاکستان کی وجہ سے این ایس جی میں بھی شامل نہیں کیا گیا ۔۔

جب کہ پاکستان بھارت کو سازشیں چھوڑ کر سی پیک منصوبے میں شامل ہونے کا کہہ رہا ہے جس سے وہ پاکستان کے راستے دنیا سے تجارت کرسکتا ہے ۔۔ اور اس تجارتی بندرگاہ کا فائدہ اٹھاسکتا ہے مگر بھارت ہے کہ سازشوں پر سازشیں کر رہا ہے آئے دن اس کے ایجنٹ پکڑے جاتے ہیں ۔۔ خاص کر کلبوشن یادو کے پکڑے جانے سے دنیا کے سامنے بھارت کی سازشیں بھی بے نقاب ہوچکے ہیں ۔۔

اعداد وشمارسے ثابت ہوچکا کہ جنوبی ایشیاءغربت، بے روزگاری اور جہالت دنیا کے دیگر خطوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ خطے کی بڑھتی ہوئی آبادی دراصل بڑھتے ہوئے مسائل کا پتہ دے رہی جن پر قابو پانے کے لیے اطمینان بخشاقدامات تاحال نہیں اٹھائے جاسکے۔ایک طرف اس علاقے کے رہنے والوں کی اکثریت مشکلات کا شکار ہے تو دوسری جانب یہاں ایسی سیاسی قوتیں بھی فعال ہیں جو مصائب پر قابو پانے کی بجائے ان میںاضافہ کرنے پر بضد ہیں۔ بھارت کے پاس اتنے باتھ روم نہیں ہیں جتنے خاندان ہیں ۔۔ بھارتی فوجی آئے دن خودکشی کر رہے ہیں اور کئی بھارتی فوجی دو وقت کے کھانے کا روتے رہتے ہیں بھارت انکا کھانا بھی پورا نہیں کر سکتا ۔۔ اسکے علاوہ کشمیر میں بھی بھارت کئی عرصہ سے قبضہ جمائے ہوئے ہے ۔۔ کئی کشمیر میں تعنات بھارتی فوجی تو پاگل ہوچکے ہیں کشمیر میں ، مگر بھارت کے ظلم کی تنہا کر رہا ہے کشمیر میں ۔۔

بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلاتا ہے ۔ مگر یہ ماننے کو تیار نہیں کہ کئی دہائیوں سے ہندووں نے اکثریت کی بنا پر درجنوں اقیلتوں کو یر غمال بنا رکھا ہے وہ دراصل جمہوریت کی روح کے خلاف ہے ۔ کم وبیش ستر سال قبل تقسیم ہند کے نتیجے میں کراہ ارض پر دو ریاستیں نمودارہوئیں مگر انتہاپسند ہندووں نے حقیقت کو دل وجان سے قبول کرنے کی بجائے پاکستان کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اقدمات اٹھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ دونوں ملکوں میں چار باضابطہ جنگیں ہونا الگ مگر اب تشویشناک یہ ٹھرا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی شکل میں ایسی پارٹی بھارتی سیاست میں خود کو منوا چکی جو اسلام ، مسلمان اور پاکستان دشمنی پر ووٹ لیتی ہے۔ افسوس کئی دہائیوں سے جاری جمہوریت کے دعویدار یہ سمجھنے میں ناکام رہے ہیں کہ نفرت اور عدوات سے کسی صورت خیر برآمد نہیں ہوگا ۔

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی شکل میں ایک موقعہ پاکستان کی طرف سے بھارت کے لیے موجود ہے کہ وہ آگے بڑھ کر دشمنی کو تعاون میں بدل ڈالے مگر بھارت ہے کہ بیان بازیوں اور سازشوں میں مصروف رہتا ہے ۔۔ ابھی پاکستان اور چین بھی یہ ہی سوچ رہا ہے کہ بھارت اس پیشکش کو قبول کرتا ہے یا نہیں ۔۔ چین وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ انہیں تعجب ہوگا اگر بھارت پاکستانی جنرل کی جانب سے جذبہ خیر سگالی کے تحت دی جانے والی پیشکش کو قبول نہ کرے۔

دراصل سی پیک کو علاقائی ملکوں کے درمیان طویل المدتی ترقی اور تمام شعبوں میں خصوصی تعلقات کی بہتری میں معاون ہوگا۔ قبل ازیں ایران کو بھی سی پیک منصوبے میں شمولیت کی پیشکش کی جاچکی جس پر ایران نے حوصلہ افزاءجواب دیا ۔۔

سی پیک منصوبے میں بھارت کے شامل ہونے کو چین کھلے دل سے قبول کرسکتا ہے کیوں کہ اس سے جنوبی ایشیاءکے دو ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتر ہونے کے امکانات بڑھ جائینگے۔ جنوبی ایشیاءکے عوام جن مسائل کا شکار ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے سی پیک منصوبے سے بھارت، ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا سمیت کئی اور ممالک فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔سی پیک کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان 46 ارب ڈالرز کے 51 معاہدوں کی یادشتوں پر دستخط کیے گئے، جس کی مالیت اب بڑھ کر 51 ارب 50 کروڑ ڈالر ہوچکی ۔اس منصوبے کو بعض حلقے جنوبی ایشیاءمیں ’گیم چینجر‘کے طور پر دیکھ رہے ۔

16114274_1533352443359031_8625919538154412991_n۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر بھارت سی پیک منصوبہ میں شامل نہیں ہوتا تو یہ اس خطے کے لیے بالعموم اور بھارت میں رہنے والوں کے لیے بالخصوص گھاٹے کا سودا ہوگا ۔ایک خیال یہ ہے کہ بھارت سی پیک میں شمولیت سے زیادہ دیر تک دور نہیں رہ سکتا۔ نریندر مودی کو ایک طرف تو انتہاپسند ہندووں کی حمایت حاصل ہے تو دوسری جانب بھارتی سرمایہ کاروں کی قابل زکر تعداد بی جے پی پر شائنگ انڈیا کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے دباو بڑھا رہی۔ امکان ہے کہ اہم بھارتی ریاستوں میں انتخابات کے بعد مودی سرکار پاکستان اور چین کی پیشکش کا مثبت جواب دے ۔ سی پیک میں شمولیت محض پاکستان کی خواہش نہیں بلکہ اس میں چین کی پوری رضامندی شامل ہے۔

چین دنیا میں مضبوط ترین اقتصادی قوت بننے کے لیے کوشاں اور اپنی اس کوشش میں بڑی حد تک کامیاب ہے۔2030ءاس کے سامنے ایک بڑے اقتصادی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔وہ ’چین پاکستان اقتصادی راہداری‘ (CPEC) جیسے کئی منصوبوں پر عمل پیرا ہوکر پوری دنیا سے جڑ جانا چاہتا ہے ۔

اہل پاکستان کی اکثریت جسے صرف ایک سڑک یا بندرگاہ سمجھتے ہیں، وہ بنیادی طور پر پوری دنیا، بالخصوص جنوبی ایشیا کا اقتصادی نقشہ تبدیل کردینے کا ایک جامع منصوبہ ہے۔ اس کے ذریعے پاک و چین اور جنوبی ایشیا کے دیگر کئی ممالک، وسطی ایشیا، یورپ اور افریقہ سے براہِ راست منسلک ہوجائیں گے۔ اس پورے منصوبے میں 70 کم سے کم ممالک شریک یا منسلک ہوں گے ۔۔

یہ صرف چین پاکستان اقتصادی راہ داری ہی نہیں، اس وقت اس طرح کے کئی اور منصوبوں پر بیک وقت عمل ہورہا ہے۔ 1+ منصوبے کے تحت مچی اور کاشغر سے چلنے والی مال گاڑی CPEC سے ہوتے ہوئے BCIM یورپ سے 10 روز کے سفر کے بعد گزر رہی ہوگی ۔۔

جو بنگلہ دیش، چین، بھارت اور میانمار کو باہم مربوط کرے گی۔ کئی راہ داریوں میں سے صرف گوادر بندرگاہ سے کاشغر تک تعمیر ہونے والی2ہزار کلومیٹر کی سڑک ہی وہ اکلوتا منصوبہ ہے، جس میں صرف دو ممالک (چین پاکستان) شریک ہیں۔ اس منصوبے میں صرف سڑک ہی نہیں، ریلوے لائنوں بندرگاہوں اور سمندری راستوں کا ایک پورا جال ہے۔ توانائی کے بہت سارے منصوبے مکمل ہونا ہیں ۔۔
Road One Belt
یعنی ایک سڑک اور کئی راستوں کا جال اسے ایک علاقہ بنا دے گا ۔ اکستان کے لیے اس میں بہت سے اقتصادی مواقع اور امکانات ہیں، جب کہ بھارت اور امریکا اپنے خلاف سازش سمجھ رہے ہیں ۔۔ جس کی وجہ سے وہ اس منصوبے کو خاک میں ملانے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔۔ مگر خاک کے یہ بندے خاک قدرت سمجھیں ۔ کہ قدرت نے پاکستان بہت سی نعمتوں سے اسی لیے نوازا ہے کہ اس سے دنیا کی امامت کا کام لینا چاہتا ہے ۔

گوادر بندرگاہ پر کام شروع ہوتے ہی اسے سی پیک بلخصوص ناکام کرنے کی کوششیں شروع ہوگئیں ۔ ان تمام تر رکاوٹوں کے بعد آج یہ بندرگاہ کام شروع کرچکی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین کو سی پیک سے بہت فائدہ حاصل ہوگا مگر اس سے پاکستان بھی بھرپورفائدہ اٹھائے گا۔۔ اور سی پیک منصوبہ بھی پاکستان نے ہی بنایا اور اسے خود چین کے حوالے کیا دوستی کو بڑھانے کے لیے ۔۔ مگر اس سے بھارت ، بنگلہ دیش، ایران ، افغانستان اور دیگر ایشیائی ممالک بھی بھرپور فائدہ اٹھاسکتے ہیں ۔۔ اور بھارت بھی واغہ باڈر سے اپنی مال گاڑیاں گوادر بندگاہ پر تجارت کے لیے بھیج سکتا ہے مگر بھارت کو بیان بازیاں چھوڑ کر امن و سکوں سے رہنا ہوگا ۔۔ وہ اپنے ملک میں خوش اور ہم اپنے ملک میں ۔۔ بھارت کو مسئلہ کشمیر کے حل کے بارے میں بھی سوچنا ہوگا تاکہ خطے کے حالات پرامن ہوں ۔۔ اور افغانستان میں اپنے دہشت گردوں کے ٹرینگ کیمپ بند کرنے ہونگے ۔۔ پاکستان میں اپنے جاسوس بھیجنا بھی بند کرنا ہوگا تب ہی خطے میں امن ہوگا ۔۔ اورپورا خطہ ترقی کرے گا ۔۔ اور بھارت بھی اپنے بھوکے فوجیوں کے پیٹ بھرسکے گا یا اگر بھارت دہشت گردی اور ہٹ دھرمی چھوڑ دے تو اسے فضول میں اتنی نکارہ اور بیٹھ کر کھانے والی فوج کی بھی ٍضرورت نہیں پڑے گی اور وہ انھیں بھی کاروبار سے کما کر کھانے اور کھلانے کا کہہ سکتا ہے ۔ بھارت ویسے بھی ان پچھلے دو سالوں میں بہت بےعزت ہوچکا ہے دنیا میں ۔۔ اڑی حملہ ، پٹھان کورٹ حملہ اپنی فوج پر خود ہی کروا کر پھر سرجیکل سٹرائیکس کا جھوٹ بول کر مگر پھر بھی بھارت نہیں سمجھا اور اسکے نئے آرمی چیف اور بھارت نئی نئی بڑھکیں ماررہا ہے آئے روز نیا شوشا چھوڑ دیتا ہے بھارت ۔۔ بھارت کو چاہیے کہ پاکستان نے کل ہی بھارت کے ایک سپاہی کو بھارت واپس بھیجا ہے جو کہ آزاد کشمیر میں داخل ہوگیا تھا ۔۔ بھارت کو چاہیے کہ پاکستان کی طرح فراغ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ مل بیٹھ کر مذاکرات کرے اور امن کی کوئی راہ نکالے ۔۔ ہوائی فائر کرنے سے کچھ فائدہ نہیں ۔۔ بھارت اگر اقتصادی حوالے سے کچھ نہیں کرتا تو پہلے ہی اسکے لوگ بھوک سے مر رہے ہیں مزید بھارت کے اقتصادی حالات آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے مزید کمزور ہوجائیں گے ۔۔ ابھی تو پانی اور ہلدی سے کھانا کھاتے ہیں پھر شاید صرف پانی پر ہی گزاہ کریں ۔۔

بعض اوقات احساس محرومی، خود محرومی سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ حضرت یعقوب ؑ کےلئے سب بیٹے برابر تھے۔ آخر ایک نبی سے زیادہ انصاف بھلا کون کرسکتا تھا؟ لیکن احساس محرومی نے خود برادرانِ یوسف سمیت سب کو ہلاکت و اذیت کی راہ پر ڈال دیا ۔ یہ ہی بات بھارت کے مسلمانوں کو بھارت کو سمجھانی چاہیے ۔۔ بھارت کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ پیک کی وجہ سے کشمیر پر پاکستان کا موقف ہرگز تبدیل نہیں ہوگا۔ سی پیک طویل المدتی تعاون کا ایک نیا فریم ورک ہے جو چین اور پاکستان کے تعاون سے مختلف شعبوں میں ترقی کا ضامن ہے جبکہ اس سے علاقائی رابطہ سازی کے فروغ میں مدد ملے گی ۔

بھارت کے چند میڈیا گروپس سی پیک کے حوالے سے چائنہ ، روس اور دیگر ممالک کو نشانہ بناتے ہیں تاہم سی پیک میں چائنہ ، روس اور دیگر پاکستان کے دوست ممالک پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ چین اور بھارت کے مابین تنازعات اور اختلافات ہیں جنہیں موثر طریقے سے نمٹانے کیلئے پاکستان بھارت کے ساتھ رابطے میں رہے گا ۔۔۔

درحقیقت بھارت کے اس خطہ میں توسیع پسندانہ عزئم ہی پاکستان اور چین کی قربت کا باعث بنے ہیں ۔۔ بھارتی آرمی چیف ایس کے سنگھ نے بڑ ماری تھی کہ بھارت اپنی بے پناہ جنگی دفاعی صلاحیتوں کی بدولت اسلام آباد اور بیجنگ کو 96 گھنٹے میں بیک وقت ٹوپل کرسکتا ہے۔ ہماری سالمیت کیخلاف اسکی سازشوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں چنانچہ اس خطے میں بھارتی توسیع پسندانہ جارحانہ عزائم کی بنیاد پر پاکستان اور چین کے مابین فطری اتحاد اور بے لوث دوستی کا رشتہ استوار ہوا جو آج دنیا میں ضرب المثل بن چکا ہے۔

امریکہ اور بھارت نے اسکی اقتصادی ترقی کو روکنے کیلئے باہم گٹھ جوڑ کیا ہوا ہے ۔ اس بنیاد پر چین نے پاکستان کے ساتھ ہر فیلڈ میں تعاون بڑھایا اور پاکستان کی سلامتی کیخلاف کسی بیرونی جارحیت کی صورت میں اسکے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اسکے دفاع کا عہد کیا۔ آج پاکستان چین مشترکہ اقتصادی راہداری منصوبہ نے دونوں ممالک کو یکجان دو قالب بنا دیا ہے ۔۔

پوری دنیا کیلئے تجارتی مراسم اور اقتصادی ترقی کے راستے کھل رہے ہیں چنانچہ اس خطے کے علاوہ وسطی ایشیاءاور یورپی دنیا بھی آج خود کو سی پیک کے ساتھ منسلک کرنے کی خواہش مند ہے۔ اس سے یقیناً ہمارے خطے اور پوری دنیا پر غلبہ حاصل کرنے کے امریکہ اور بھارت کے عزائم پر اوس پڑی ہے ۔۔ بھارت کو بیان بازیاں ، ہوائیاں ، افواہیں ، جھوٹے بے بنیاد من گھڑت باتیں گھڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بس بھارت کو کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنا ہے اور امن مذاکرات کرنے چاہیں ۔۔

اگر بھارت کو اپنی بقاءاور اقتصادی ترقی مقصود ہے تو اسے تشکیل پاکستان کی طرح سی پیک کو بھی ایک حقیقت کے طور پر قبول کرنا ہوگا۔ یہ منصوبہ اب ہماری اقتصادی ترقی ہی نہیں‘ ملک کی بقاءو سلامتی کے تحفظ کا بھی ضامن بن چکا ہے کیونکہ اس سے منسلک ہونیوالی دنیا اب پاکستان کو کبھی کمزور یا خدانخواستہ ختم نہیں ہونے دیگی۔ بھارت کو اب اس حقیقت کا ادراک ہو جانا چاہیے۔ وہ اب پاکستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی برقرار رکھ کر علاقائی اور عالمی امن کیلئے ایٹمی جنگ والے خطرے کی گھنٹی بجائے گا تو سی پیک کے ساتھ اقتصادی ترقی کے حوالے سے اپنا مستقبل وابستہ کرنیوالے ممالک خود ہی اس سے نمٹ لیں گے۔

This slideshow requires JavaScript.

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on January 22, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: