دہشت سے وحشت کا علاج

15977604_1764234793896764_8804382437637982050_n.jpg

یہ پانچ اگست 2015 کا دن تھا جب سپریم کورٹ آف پاکستان کے سترہ رکنی بینچ نے ملک بھر میں فوجی عدالتوں کے قیام کے فیصلے کو کثرتِ رائے سے برقرار رکھا۔ سولہ دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پر حملے کا واقعہ تھا ہی اتنا ہولناک کہ حکومت کو غیر معمولی اقدامات کرنے پڑے ۔۔ یہ غیر معمولی حالت اور محدود وقت کے لیے ملڑی کورٹس کا قیام عمل میں لایا گیا ۔۔ یہ ملٹری کورٹس پاکستان کے کسی عام شہری کے لیے نہیں صرف دہشت گردوں ، ملک و قوم کے دشمنوں کے لیے ہیں ۔۔ جن کے قیام کے بعد آرمی آپریشنز میں پکڑے جانے والے دہشت گردوں کو ان عدالتوں میں پیش کر کے ان پر قانونی کاروائی ہوتی ۔۔ کچھ کو موت کی سزائیں سنائی گئی اور کچھ کو اپیل کا حق نہ ہونے پر موت کی سزا دی بھی گئی ۔۔ کچھ مجرموں کو عمر قید وغیرہ دیگر سزائیں دی گئیں ۔۔ جب کسی کو فوجی عدالت سزا سناتی ہے تو پھر آرمی چیف اُس کی توثیق کرتا ہے ۔۔ یعنی فل اینڈ فائنل حتمی فیصلہ آرمی چیف کا ہوتا ہے آرمی چیف کے حتمی فیصلہ یا سزا پر دستخط کے بعد اس کیس کی سماعت یا اپیل کہیں بھی نہیں ہوسکتی جو کہ بہت اچھا اور ملکی مفاد میں قانون ہے ۔۔ کیونکہ آرمی چیف بہت سوچ سمجھنے کے بعد ہی آخری فیصلہ کرتا ہے ۔۔ اور پھر سول عدالتوں کی طرح مک مکا والا کام بھی نہیں ہوتا فوجی عدالتوں میں جو کہ انکی کامیابی اور فخر کا باعث ہے ۔

15894534_115815225591277_7420545613776529932_n.jpg۔

دو سا ل کے دوران فوجی عدالتوں نے 274مقدمات میں 161مجرموں کو سزائے موت سنائی جبکہ 113مجرموں کو قید کی مختلف سزائیں سنائی گئیں لیکن اپیل کا حق ہونے کی وجہ سے صرف بارہ مجرموں کو پھانسی دی جا سکی جبکہ باقی مقدمات ابھی تک اپنے منطقی انجام کے منتظر ہیں ۔ دو برس کے لئے قائم ہونے والی فوجی عدالتیں اپنی مدت پوری ہونے ختم ہو چکی ہیں اور اس کے ساتھ ہی ملک میں ایک بار پھر یہ بحث بھی شروع ہو گئی ہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع ہونی چاہیے یا نہیں ۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گرد حملوں کے خطرے کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔وزیر مملکت مریم اورنگ زیب کے بیان کے بعد پنجاب کے وزیرداخلہ رانا ثنا اﷲ نے بھی سجدہ سہو اداکرتے ہوئے فوجی عدالتوں کی اہمیت تسلیم کر لی ہے اور حکومتی سطح پر بھی فوجی عدالتوں کی توسیع پر مشاورت کا سلسلہ چل رہا ہے ۔۔

مولانا فضل الرحمان کی تو دلیل ہی سبحا ن اﷲ کہ ایک ہی مکتب فکر کے لوگوں کو پھانسیاں دی گئیں ۔مکتبہ فکر ؟؟؟کیسا مکتبہ فکر ؟کیا دہشت گردوں کا بھی کوئی مذہب یا مسلک ہوتا ہے ؟دہشت گردوں کا صرف ایک ہی مکتب فکر ہے ۔وہ اپنی جہالت کو سماج کے ہرفرد پر تھوپنا چاہتے ہیں بصورت دیگر قتل وغارت کے سوا ان کا کوئی مکتب فکر ، مذہب یا مسلک نہیں ہے

15977953_396722390674801_3337701997785833929_n.jpg

۔ جب روزانہ کی بنیاد پر آپ کے شہروں میں بم دھماکے ہو رہے ہوں اور آپ کے بچے ،بوڑھے ،جوان اورخواتین کو قتل کیا جا رہا ہوتو یہ حالات معمول کے اقدامات سے ہٹ کر غیر معمولی اقدامات اور قانون سازی کا تقاضا کرتے ہیں ۔امریکہ اور برطانیہ کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ بہترین پولیس اور عدالتی نظام موجودہونے کے باجود نائن الیون اور سیون الیون کے بعد انہیں خصوصی قانون سازی اور اقدامات کا سہار ا لینا پڑا۔

گزاشتہ کچھ سالوں میں دہشت گردی عروج پر تھی مگر جب سے آرمی آپریشن کر رہی ہے اور فوجی عدالتیں قائم ہوئی تھیں دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی تھی یعنی نہ ہونے کے برابر ہوگئی ہے اور پاکستان امن و خوشحالی کی طرف جارہا تھا مگر اب جب سے فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہوئی تب سے دہشت گردی کے بادل منڈلانے لگے ہیں ۔۔ اور کراچی میں دہشت گردی کے خطرے کے لرٹ جارہیں تو اوپر سے رینجرز کے اختیارات بھی کچھ دن بعد سے ختم ہو رہے ہیں ۔۔ پاکستانی قوم کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے والوں کے خود ہی اختیارت محدود کرکے حکومت پاکستانی قوم سے کی بلکل بھی پرواہ نہیں کر رہی ہے اسے تو بس پانامہ کیس سے اور ڈان لیکس کیس سے جان چھڑوانی ہے بس ۔۔

فوجی آپریشن اور اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا ثمر سمیٹنے کے لئے حتمی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ بعد میں وقت نے بھی یہ ثابت کیا کہ فوجی آپریشنز کے دوران جو دہشت گرد مارے جاتے ہیں ان کا قصہ تو پاک ہو گیا لیکن جو دہشت گرد گرفتار ہوتے ہیں ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے معمول سے ہٹ کرسرعت کے ساتھ غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ادھوری کامیابی کو مکمل کیا جا سکے اور دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مروجہ عدالتی نظام وقت کے ساتھ ساتھ مطلوبہ تقاضوں کو نبھانے کیلئے اقدامات نہ کئے جانے کے باعث اس قدر فرسودہ ہو چکا ہے کہ اس میں ایک بے گناہ کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے سے پہلے پھانسی کے پھندے پر جھولنا پڑتا ہے ،بعد میں یہی عدالتیں فیصلے دیتی ہیں کہ پھانسی پر جھول جانے والا بے گناہ انسان اس نظام کی بھینٹ چڑھ گیا ۔ اس سے بھی زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود اس کے ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی تک نہیں ہو پاتی ۔ دوسری طرف اسی معاشرے میں بعض بارسوخ امرا اپنے اثر و رسوخ کی بدولت مروجہ عدالتی نظام کی کمزوریوں کو استعمال کر کے اپنی کرتوتوں کی سزا سے بھی بچ جاتے ہیں۔لیکن اس کے باوجود وقت اور جمہور کے اصولوں کا بھی یہ تقاضہ نہیں کہ فوجی عدالتوں کی توسیع کی مخالفت کی جائے ۔ کوئی ذی ہوش اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ فوجی عدالتوں کے قیام اور قتل وغارت میں ملوث افراد کو پھانسیاں دینے کے عمل کوا یک بار پھر جاری کرنے سے دہشت گردی کی لہر میں انتہائی نمایا ں کمی ہوئی ہے ۔کہاں وہ وقت تھا کہ دن نکلتے ہیں ٹی وی چینلز کے رپورٹر اس انتظار میں بیٹھے ہوتے تھے کہ نہ جانے کس دھماکے کی کوریج کے لئے کہاں جانا پڑے اور کہاں یہ وقت ہے کہ ہفتوں گزر جاتے ہیں لیکن دہشت گردی کی کوئی واردات نہیں ہوتی ۔سو ان حالات میں فوجی عدالتوں کی مدت میں اس وقت تک توسیع کے لئے قانون سازی کرنی چاہیے جب تک کہ دہشت گردی کا ناسور اس معاشرے سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوجاتا اور پاکستان مکمل طو ر پر ایک پر امن ملک نہیں بن جاتا۔

15965030_142997059530472_1130445966601664524_n.jpg

مروجہ عدالتی نظام کے ساتھ ساتھ پولیس کے نظام میں بھی ایسی کلیدی تبدیلیاں لائی جائیں اور تعلیمی نظام کو بھی یکساں بنیادوں پر اس طرح استوار کیا جائے کہ اس ملک اور معاشرے میں جرم و دہشت کی کہانی ایک بار پھر نہ دہرائی جاسکے تب تک فوجی عدالتوں اور رینجرز کے اختیارات میں توسیع ہونی چاہیے ۔۔

فوجی عدالتوں کا قیام آجکل کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری ہے ۔۔ پیپلزپارٹی کے رہنماء سینیٹراعتزازاحسن کا حال ہی میں کچھ دن پہلے فوجی عدالتوں کے بارے میں بیان آیا ہے ۔۔ کہ فوجی عدالتوں کے قیام کیلئے آئین میں ترمیم کی گئی تو مزید دروازے کھلیں گے اسلیے انھیں ڈر ہے کہ کہیں انکے زرداری صاحب اور انکے ساتھی بھی کہیں جیل میں نہ چلے جائیں ۔۔ زرداری اور انکے رینجرز نے جو کارندے وہ کارندے کہیں پھنس نہ جائیں اس وجہ سے وہ وکالت کے پیشے سے منسلک ہوتے ہوئے بھی اندھے بنے ہوئے ہیں یا شاید انھیں ڈر ہے کہ فوجی عدالتوں کی وجہ سے انکا کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے ۔۔
پاکستان کی دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ کو اختتام تک پہنچانے کا ارادہ کیا ہوا ہے ایسے میں راہ میں روکاوٹیں ڈالنے والی بات ہے کیونکہ فوجی آپریشن میں دہشت گرد مارے جارہے ہیں اور جو پکڑے جا رہے ہیں انھیں فوجی عدالتیں سزائیں سنا رہی ہیں ۔۔ جس کی وجہ سے دہشت گردی کے واقعات میں کمی ہوئی ہے ۔۔ فوجی عدالتوں کے خلاف وہ لوگ ہی بات کررہے ہیں جنھیں فوجی عدالتوں سے ڈر ہے یا وہ دہشت گردوں کی مدد کرنا چاہتے ہیں ۔۔ کچھ دن پہلے آئینی ترمیم کے تحت بننے والی فوجی عدالتوں نے اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد کام کرنا بند کر دیا تھا۔ اب انکو دوبارہ بحال کرنے پر بحث جارہی ہے فوجی عدالتوں کی کارکردگی پر بات ہو رہی ہے تو فوجی عدالتوں کی کارکردگی سب کے سامنے ہے دہشت گردی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے حکومت نے سات جنوری کو ختم ہونے والی فوجی عدالتوں کی بحالی کے لئے سیاسی اتفاق رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کیا مگر کافی سیاسی مگرمچھوں کو اختلاف بھی ہے اور ڈر بھی وہ صرف اس وجہ سے کہ کہیں فوجی عدالتیں پر ان پر گرفت نہ ڈالیں ۔۔ کیونکہ کہ کچھ سیاسی عناصر بھی چھپ چھپاکر دہشت گردوں کی مدد کر رہے ہیں اور انھیں اپنا بھائی اور دوست کہتے ہیں ۔۔ جو ملک و قوم کے دہشمن ہیں وہ انکے دوست ہیں مگر قوم کو ابھی تک یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آئی ہے ۔۔ میرے خیال میں کام ابھی مکمل تو نہیں ہوا کیونکہ ابھی 70-60 فیصد کامیابی ہوئی ہے ابھی پورے ملک میں امن و خوشحالی کے لئے اقدامات کرنے ہیں ۔۔ اور چھوٹے بڑے ہرطرح کے دہشت گرد کو کیفرکردار تک پہنچانا ہے جس کے لیے فوجی عدالتیں لازمی و ضروری ہیں ۔

15894288_115753375597462_4249141650224464119_n.jpg۔

اکیسویں ترمیم کے نتیجے میں آرمی ایکٹ 1952 میں ترمیم کی گئی تھی جس پر صدرِ پاکستان نے سات جنوری 2015 کو دستخط کیے تھے۔ اِن عدالتوں کی دو سال کی مدت چھ جنوری 2017 کو پوری ہوئی اب دوبارہ انھیں بحال کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ابھی دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے سی پیک اور دیگر منصوبے تب ہی کامیاب ہوسکتے ہیں جب ملک میں دہشت گردی کا کوئی خطرہ بھی نہ ہو دوبئی ، چین اور دیگر محفوظ ممالک کی طرح پاکستان بھی محفوظ ہو ۔۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب قانون کا ڈر ہو ۔۔ لوگوں کو ڈر ہو کہ قانون سے کوئی نہیں بچ سکتا ۔۔ میں نے دوبئی میں کچھ ماہ قیام کیا وہاں کے حالات وغیرہ جانے کہ کیوں وہاں امن و امان ہے وہاں کیونکہ کوئی چوری نہیں کرتا وہاں کوئی کیوں سگنل نہیں توڑتا ، وہاں کیوں کوئی برے کام سرانجام نہیں دیتا وغیرہ سب سوالوں کا جواب ایک ہی تھا بس قانون ۔۔ اور قانون کا خوف ۔۔ وہاں لوگ چھوٹے موٹے جرم کرنے سے بھی ڈرتے ہیں صرف اس لیے کہ وہاں قانون ہے عدالتیں مضبوط ہیں ۔۔ چاہے بادشاہ ہو عام آدمی قانون سب کے لیے ایک جیسا ہے ۔۔ پاکستان میں بھی جب تک سول عدالتی نظام بہتر نہیں ہوجاتا اور پاکستان سے آخری دہشت گرد تک کا صفایا نہیں ہوجاتا تب تک فوجی عدالتوں کا قیام لازم و ملزوم ہے ۔۔

اب تو یہ حال ہے کہ سول عدالتوں کو بھی صیحح کرنے کے لیے سول عدالتوں کے ججوں کو ملڑی کورٹس میں پیش کر کے ان پر بھی کیس دبانے ، لٹکانے ، مجرموں کو چھوڑنے کے مقدمے چلانے چاہیں تب ہی سول عدالتیں شاید بہتر ہوسکیں ایسا ممکن تو نہیں ہے کیونکہ ان کرپٹ سول ججوں نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے سو طرح کے قانون بنالیے ہوں گے ۔۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان حالات میں فوجی عدالتوں کے خلاف جو بھی بات کرتا اس کی تحقیق کی جاتی کہ وہ کیوں بھاگ رہا ہے قانون سے کہیں اس کا بھی تعلق کسی مجرم سے تو نہیں یا وہ مجرموں کی مدد و سرپرستی تو نہیں کر رہا مگر یہاں تو الٹی گنگا بہتی ہے انصاف فراہم کرنے والے واحد ادارے ملڑی کورٹ کی ہی مدت ختم کردی ۔۔ امریکہ میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ زیادہ تر وزیر اعظم و صدر فوج سے ریٹائر ہونے والے آفیسرز کو ہی لگایا گیا ہے ۔۔ امریکہ کہ پچھلے چالیس وزیراعظم اور صدر کے بارے میں تفصیل چیک کریں تو پتا چل جائے گا ۔۔ اسی طرح دیگر پرامن ممالک میں سیاسی سربراہ سابق فوجی افسران کو ہی لگایا جاتا ہے تاکہ وہ ملک میں امن و امان قائم رکھتے ہوئے ملکی امور سرانجام دیں اور ایک ہمارا ملک پاکستان ہے جس میں ہم چن کر کرپٹ سیاست دان منتخب کرتے ہیں ۔۔ جیسے زرداری گروپ آف ویکی لیکس اور نواز گروپ آف پانامہ و ڈان لیکس ہے ۔۔ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا مسلم لیگ(ن) کی حکومت فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ میرے خیال سے صرف اور صرف عوام کے دباؤ کی وجہ سے سوچ و وچار کر رہی ہے ۔۔

15977871_379790395704041_147348428888039658_n.jpg

سول حکومت میں فوجی عدالت کا قیام بذات خود بھی ایک شرمناک بات ہے کیوں کہ اس سے نظام کی ناکامی کی عکاسی ہوتی ہےکیوں کہ متواتر حکومتیں اہم عدالتی اصلاحات کے ذریعے انسداد دہشت گردی عدالتوں کو موثر نہیں بناسکیں، جس سے سول ادارے مضبوط نہیں ہوئےجو عسکری گروہوں سے نمٹ سکتے ۔ فوجی عدالتوں کے قیام کے دوران امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور خودکش حملوں میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ فوجی عدالتوں کے موجودگی کا ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ
دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کے دل میں خوف بٹھایا جائے کہ ان کے مقدمات کا فیصلہ ہفتوں اور مہینوں میں بغیر کسی التوا کے ہوجائے گا ۔۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سول عدالتیں بشمول اعلیٰ عدلیہ مقدمات کا فیصلہ کرنے میں خاصہ وقت لگاتی ہیں، کبھی کبھی اس میں پانچ سے دس سال بھی لگ جاتے ہیں، جس کافائدہ عسکریت پسند وں کو ہوتا ہے کیوں کہ ہماری جیلیں عسکریت پسندوں کے لیےمحفوظ پناہ گاہیں سمجھی جاتی ہیں ۔۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ فوجی عدالتوں کی مخالفت کرنے والوں میں مذہبی جماعتیں، روشن خیال اور سیکولر افراد سب ہی شامل ہیں، تاہم ان کی وجوہات مختلف ہیں۔جب کہ وہ لوگ جو فوجی عدالتوں کے حامی ہیں، اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا عدالتی نظام اس قابل نہیں ہے یا اس میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ایسے دہشت گردوں کو سزا دے سکے ، جس کا انہیں سامنا ہوتا ہے ۔ پاکستان کو دہشت گردی کے بڑے عفریت کا سامنا ہےلہٰذا اس اہم مسئلے دوبارہ فوجی عدالتوں کا قیام ہی ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب عوام اپنے حق کے لیے پاکستان کی خوشحالی کے لیے کرپٹ حکمرانوں سے بچنے اور دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے اٹھ کڑی ہو اور فوجی عدالتوں کو دوبارہ کام کرنے کے لیے برحال کروائیں ۔۔ اہم سیاسی جماعتیں حکومت کو فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر ‘گرین سگنل’ دینے میں تذبذب کا شکار ہیں۔ انھیں پاکستان کی خاطر سوچنا چاہیے ۔

15741014_10202579596008784_4939923131802602951_n۔

15895217_447519778971073_5041419887230902662_n15940390_454683634920224_2863727593913091281_n

15977233_754338898054563_3939741736336037127_n.jpg

15894562_362097040828720_8029836939729869102_n.jpg

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on January 15, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: