پانچ فروری یوم یکجہتی کشمیر

16406815_389270171465197_9162643232554436120_n.jpg

تحریر: راجہ منیب

5 فروری کو ہر برس یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پانچ فروری کا دن کشمیریوں کی جدوجہد آزادی میں بڑی اہمیت کا حامل ہے ، کشمیر دراصل تقسیم ہند کا ایسا حل طلب مسئلہ ہے، جو بھارتی حکومت کی ہٹ دھرمی و ظلم و ناانصافی کے باعث تاحال حل نہیں کیا جا سکا اس دوران کشمیری مسلمانوں نے آزادی کشمیر اور اپنے حق خود ارادیت کے حصول کے لیے لاتعداد قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے، جو مسئلے کے حل ہونے و کشمیر کے آزاد ہونے تک جاری رہے گی۔ کشمیری عوام کی تحریک آزادی اسی روز سے شروع ہو گئی تھی جب انگریزوں نے گلاب سنگھ کے ساتھ ”معاہدہ امرتسر“ کے تحت16 مارچ 1846ء کو کشمیر کا 75لاکھ روپے نانک شاہی کے عوض سودا کیا۔ پانچ فروری کے یوم یکجہتی کی اہمیت کیا ہے یہ جاننے کے لئے تحریک آزادی کشمیر کے پس منظر کو جاننا ضروری ہے ۔

سنہ 1946ء میں قائد اعظم نے مسلم کانفرنس کی دعوت پر سرینگر کا دورہ کیا جہاں قائد کی دور اندیش نگاہوں نے سیاسی‘ دفاعی‘ اقتصادی اور جغرافیائی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے کشمیر کو پاکستان کی”شہ رگ“ قرار دیا۔ مسلم کانفرنس نے بھی کشمیری مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے 19 جولائی1947ء کو سردار ابراہیم خان کے گھر سری نگر میں باقاعدہ طورپر ”قرار داد الحاق پاکستان “منظور کی۔ لیکن جب کشمیریوں کے فیصلے کو نظر انداز کیا گیا تو مولانا فضل الہیٰ وزیر آباد کی قیادت میں 23 اگست 1947 کو نیلابٹ کے مقام سے مسلح جدوجہد کا باقاعدہ آغاز کیا۔ 15 ماہ کے مسلسل جہاد کے بعد موجودہ آزاد کشمیر آزاد ہوا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو اقوام متحدہ پہنچ گئے اور بین الاقوامی برادری سے وعدہ کیا کہ وہ ریاست میں رائے شماری کے ذریعے ریاست کے مستقبل کا فیصلہ مقامی عوام کی خواہشات کے مطابق کریں گے۔

اس دن کو منانے کا آغاز 1990ءکو ہوا جب جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کی اپیل پر اس وقت کے اپوزیشن لیڈر اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد نوازشریف نے اخبارات میں اشتہارات کے ذریعے اپیل کی کہ جموں وکشمیر کے عوام کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کی جائے۔ ان کی کال پر پورے پاکستان میں 5 فروری 1990ء کو کشمیریوں کے ساتھ زبردست یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا۔ملک گیر ہڑتال ہوئی اور ہندوستان سے کشمیریوں کو آزادی دینے کا مطالبہ کیاگیا۔ اس دن جگہ جگہ جہاد کشمیر کی کامیابی کے لئے دعائیں مانگیں گئیں۔ بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی نے 5 فروری کو عام تعطیل کا اعلان کر کے کشمیریوں کے ساتھ نہ صرف یکجہتی کا مظاہرہ کیا بلکہ وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد تشریف لے گئیں جہاں انہوں نے اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس کے علاوہ جلسہ عام سے خطاب کیا،کشمیریوں کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور مہاجرین کشمیر کی آباد کاری کا وعدہ کیا۔ تب سے اس دن کو ہر برس سرکاری طور پر منایا جاتا ہے۔پورے ملک میں سرکاری تعطیل ہوتی ہے۔

کشمیر ایسا مسئلہ ہے جو نہ صرف کشمیریوں کے لیے زندگی موت کا مسئلہ ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی یہ شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اکیس جنوری 1990ء میں جب مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارت کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف سرینگر اور دیگر شہروں میں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آئے تو بھارت کی درندہ صفت فوج نے نہتے کشمیریوں کو بربریت کا نشانہ بنا کر درجنوں شہریوں کو شہید کر دیا
کشمیر کی تاریخ میں ایک ایسا موقع تھاجب اتنی بڑی تعداد میں کشمیریوں نے منظم ہوکر اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ اور فوجی تسلط کے خلاف اعلان کر دیا

یہ درست ہے کہ یوم یک جہتی منانے سے کشمیریوں کی آواز عالمی برادری تک پہنچتی ہے اور اس سے مسئلہ کشمیر کے بین الاقوامی سطح پر اجاگر ہونے میں مدد ملتی ہے لیکن کیا ہم پاکستانیوں اور حکمرانوں کی طرف سے اتنا ہی کردینے سے کشمیر کاز کو کوئی تقویت پہنچ سکتی اور آزادی کی منزل قریب آسکتی ہے؟۔آخر ہم کب تک صرف یوم یک جہتی ہی مناتے رہیں گے؟ کیا اب ہمیں کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے بعد مزید ایک قدم آگے نہیں بڑھانا چاہئے؟ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیتے ہوئے اس کو بھارت کے پنجہ استبداد سے طاقت کے ذریعے چھڑانے کی کوشش کی تھی

 

کشمیر کی آزادی کے حوالے سے قائد اعظم کی کمٹمنٹ تھی اس وقت ابھی پاک فوج پوری طرح منظم نہیں ہوئی تھی اور اسلحہ کی کمی بھی درپیش تھی ۔افسوس کہ کشمیر کے حوالے سے قائد کے بعد آنے والے کسی حکمران نے بانی پاکستان جیسے عزم و ارادے کا مظاہرہ نہیں کیا حالانکہ اب تو پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین فوج اور وہ ایٹمی کا حامل بھی ہے۔جب مجاہدین فتح و نصرت کے پھریرے لہراتے ہوئے سری نگر تک پہنچا چاہتے تھے کہ بھارت مقبوضہ وادی کو ہاتھ سے نکلتا دیکھ کر بھاگا بھاگا یو این چلا گیا جس نے مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کو حق ِ استصواب کی صورت میں تجویز کیا۔ اسے بھارت نے بھی تسلیم کیا لیکن آج 64سال ہونے کو ہیں بھارت نہ صرف کشمیریوں کو یہ حق دینے سے انکاری ہے بلکہ اس نے پچاس کی دہائی میں ہی آئین میں ترمیم کرتے ہوئے کشمیر کواپنے صوبے کی حیثیت دے دی۔ وہ کشمیر پر مذاکرات بھی کرتا ہے ، اس کو منافقت کے کس درجے میں رکھا جائے؟مذاکرات میں جو پاکستانی حکومتیں حصہ لیتی ہیں ،ان کی عقل و دانش پر ماتم کیا جائے یا اسے ان کی ڈرامہ کا شاخسانہ قرار دیا جائے کہ بھارت تو کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے پھر بھی یہ اس کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ جاتے ہیں ۔کیا دونوں طرف سے منافقت نہیں ہورہی؟ہماری طرف سے کچھ زیادہ ہی ہورہی ہے۔قائد اعظم نے جس دشمن کے ساتھ کشمیر کا فیصلہ جنگ کے ذریعے کرنے کا عزم کیا ، ہمارے حکمران مسئلہ کشمیر کی موجودگی اور مزید براں اس کی سیاچن پر جارحیت کے باوجود اس کے ساتھ تجارت کررہے ہیں

عالمی شہرت یافتہ مصنفہ ارون دھتی رائے، ہندوستان ٹائمز کے ایڈیٹر ویر سنگھوی، ٹائمز آف انڈیا کے کنسلٹنٹ ایڈیٹر سوامی ناتھن، کالم نگار جگ سوریا جیسی شخصیات اپنے مضامین میں بھارتی حکومت سے کشمیریوں کو آزادی دینے کی بات کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں حکمرانوں کی سطح پر آزادی کشمیر کے لئے کوئی کوشش اور عزم نظر نہیں آتا ،محض بیان بازی کی جاتی ہے،جس سے مسئلہ کشمیر قیامت تک حل نہیں ہوسکتا۔ کشمیر کاز کو اجاگر کرنے کے لئے پارلیمنٹ کی ایک کشمیر کمیٹی بھی ہے جو آج مولانافضل الرحمٰن کے بھاری بھر کم بوجھ تلے سسک رہی ہے،مولانا کے بزرگوں نے تو فرمایا تھا ’شکر ہے کہ وہ قیام پاکستان کے گنا میں شامل نہیں تھے مولانا کی جماعت نے اپنے بزرگوں کے ایسے اقوال اور افعا ل سے کبھی لاتعلقی ظاہر نہیں کی ۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ کشمیر کاز کے لئے کتنے کمٹڈ ہیں۔
لاکھوں کشمیری بھارتی سفاک سپاہ کی بربریت کا نشانہ بن کے موت کی آغوش میں جاکر سو گئے ، باقی کو بھی ایسے ہی جانکاہ حالات کا سامنا ہے ، وہ امید بھری نظروں سے پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ مایوس ہوئے تو ان کی الحاق پاکستان کی سوچ خود مختار کشمیر کی سوچ میں ڈھل سکتی ہے ، جس سے بانی پاکستان کی روح تڑپ اٹھے گی۔ بھارت کو یہ تو باور کروانے کی کوشش کریں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر کوئی سودے بازی کرنے پر تیار نہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کی بھارت کی طرف سے حقیقی کوشش تک اس کے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھا جائے ۔۔ اب تو پاک فوج بھی پوری قوت اور طاقت سے بھارت کا منہ توڑ سکتی ہے پاکستانی افواج پر بھروسہ کریں اور انھیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کا کہیں مذاکرات سے ہوئے تو ٹھیک ورنہ چھین لیں گے ہمارے بہادر فوجی جوان ، بھارت کو بھی پتا چل جائے گا کہ اس نے کس ایشیائی شیر سے پنگا لیا ہے ۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ سیاست دان خود تو کچھ کرتے نہیں ہیں اور پاک فوج کے بھی ہاتھ باندھ رکھے ہیں ۔۔ اس پانچ فروری کو ہمیں کشمیر کا مسئلہ مکمل طور پر فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ ان سیاست دانوں سے لے کرنا ہوگا تب ہی اس کا حل ممکن ہے ۔۔ ورنہ قیامت تک سیاست دان اپنی کرسی بچانے اور تجارت و کاروبار کے چکر میں کشمیریوں پر ظلم و ستم ہونے دیں گے اور بیان بازیوں سے ہم عام عوام کو بیوقوف بناتے رہیں گے ۔۔

ہر سال کی طرح ملک بھر میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لئے صبح 10 بجے ایک منٹ کے لئے خاموشی اختیار کی جائے گی اور وہ خاموشی ہر سال کی طرح بے مقصد و بےکار جائے گی کیونکہ ہم لوگ خاموشی کے بعد سنجیدہ تو ہوتے ہی نہیں ہیں ۔۔ ایک منٹ کی خاموشی کے بعد ہم کشمیر کے مسئلہ کو بھول کر پورا سال گزار دیتے ہیں ۔۔ مجھے یقین ہے ستر فیصد پاکستانی اس چھٹی کو سو کر ، شام کو گھوم پھر کر سیروتفریح کر کے مناتے ہیں کشمیر کے لیے کچھ نہیں سوچتے اور نہ ہی کرتے ہیں ۔۔ ورنہ ایک دن اگر ہم صیحح طرح سے منالیں ۔۔ تو بھارت کو نانی یاد آجائے ۔۔ اگر ہم اس دن سب لوگ گھروں سے نکل کر نیشنل انٹرنیشنل میڈیا کو بلا کر بھرپور احتجاج ریکارڈ کروائیں اور اپنی حکومت سے بھی کشمیریوں کے حق میں مزید تیزی سے فیصلہ کرنے اور بھارت سے دوٹوک بات کرنے کا فیصلہ منظور کروالیں ورنہ فوج کو مکمل اختیارات دے کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اجازت لے دیں کہ فوج مذاکرات کرے یا جنگ بس کشمیر آزاد کروا لے تو دنیا دیکھے گی کہ کیسے کشمیر چند دن میں بھارت آزاد کرے گا ۔۔ بلکہ پاک فوج کے خوف سے اپنے ہتھیار بھی کشمیر میں ہی چھوڑ کر بھاگے گا۔16299052_1309242325828375_8607701694338397846_n.jpg۔

2 دہائیوں سے زائد عرصہ سے منایا جا رہا ہے اور پانچ فروری کو پاکستان میں تمام کاروبارزندگی بند ہو جاتا ہے ۔ پوری پاکستانی قوم کو کشمیریوں کی پشت پر لا کھڑا کیا جاتا ہے کہ اہل کشمیر بھارت کے فوجی تسلط کے خلاف اپنی جدوجہد میں تنہا نہیں ہیں ۔ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جسے دنیا کی بڑی عدالت اقوام متحدہ نے متنازعہ تسلیم کر رکھا ہے۔ کشمیر سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اوراپنے موقف حق خود ارادیت کے حصول کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں

پانچ فروری 1990ء کو جس یکجہتی کا اظہار کیاگیا تھا اس وقت حکمرانوں اور قوم کے اندر برابر کا جوش و خروش تھا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں وہ جذبہ موجود نہ رہا ۔ حکمرانوں کی پالیسیوں میں وقتاً فوقتاً کمزوریاں سامنے آتی رہی ہیں ۔ پاکستان میں بھی سیاسی سطح پر رونما ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے لیے کوششیں ہوئیں اور آخر کار اس کا اعلان بھی ہوا جو حکومت آزاد کشمیر سے کرایاگیا۔ اس طرح پالیسیوں کے اندر آنے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں سیاسی اور سفارتی جس کا بار بار اعلان ہوتا رہا ۔ سفارتی محاذ بھی خاموش ہو گیا البتہ سفارتی محاذ پر کشمیریوں نے اپنے طور پر مسئلہ کشمیر پر اپنی جدوجہد جاری رکھی اور دنیا کو توجہ دلائی جاتی رہی کہ جب تک مسئلہ کشمیر پر امن طور پر حل نہیں ہو جاتا خطے کے امن کو شدید خطرہ ہے ۔اس سال بھی پانچ فروری کا دن پاکستان میں سرکاری سطح پر منانے کا اعلان ہوا مگر کشمیری یہ محسوس کر رہے ہیں کہ یہ دن محض ایک دن کی چھٹی اور رسمی طور پر منایا جاتا ہے حکومتی سطح پر عوام کے دباؤ کی وجہ سے منایا جاتا ہے ورنہ حکومتوں کی کشمیر پر کوئی واضح پالیسی نہیں ہے ۔ بھارت کے ساتھ تجارت کی جا رہی ہے ۔۔ سفارتی محاذ پرجہاں ایک سو ممبران پارلیمنٹ کی برطانیہ میں کشمیر کمیٹی تھی اس میں بھی اب چند رہ گئے ہیں ۔ یہی صورت حال باقی یورپ میں بھی ہے ۔ پانچ فروری کا دن برطانیہ اور یورپ کے سفارت خانوں میں بھی منایا جاتا ہے مگر اس کے بعد پھر سفارت خانوں کی کوئی کارکردگی نظر نہیں آتی ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی پاکستان سے بڑی امیدیں وابستہ ہین ۔ کشمیر پاکستان کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ بھارت نے ایک منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں عدم استحکام پیدا کر رہا ہے تاکہ اہل پاکستان کی توجہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے ہٹا سکے ۔۔

کشمیر میں آزادی کی نئی تحریک میں حافظ سعید اور انکے ساتھیوں کا اہم کرداررہا ہے ۔۔ کشمیر کے بارے میں پاکستانی اور بھارتی حکومتوں کے درمیان خاموش معاہدے ہوئے جنکے نتیجے میں کشمیر میں مجاہدین کی کاروائیوں کو کم کرنے کے لیے پاکستان سے جانے والے مجاہدین کو روکاجانے لگا ۔۔ حال ہی میں چند دن پہلے حافظ سعید کو پھر سے نظر بند کر دیا گیا بغیر کسی وجہ کے اور وہ بھی خاص فروری میں کہ پانچ فروری کو کہیں حافظ سعید صاحب کی کشمیر کی کوششیں دنیا کی توجہ نہ حاصل کر لیں ۔۔ اس وقت اصل میں کشمیریوں کے حق میں آواز اٹھانے والے حافظ سعید کا کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد میں اہم کردار ہے ۔۔ مگر سیاست دان اپنی سیاست چمکانے کے چکر میں ہیں ۔۔

بدھ کو وزارت داخلہ کی جانب سے بیان میں آیا کہ ہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے یہ اقدامات جماعت الدعوۃ کے حوالے سے دسمبر 2008 کو پیش کی جانے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کی روشنی میں کیے گئے ہیں۔

انڈیا حافظ سعید کی سیاسی سرگرمیوں کو پاکستان کو بدنام کرنے کے آلے کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے۔ عالمی برادری کو اس کا نوٹس لینا چاہیے اور سمجھنا چاہیے کہ پاکستان ایک جمہوری معاشرہ ہے جہاں عدلیہ آزاد، خودمختار اور شفاف فیصلے کرتی ہے۔ اگر بھارت اپنے الزامات کے بارے میں واقعی سنجیدہ ہے تو اسے چاہیے کہ وہ حافظ سعید کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش کرے جنھیں پاکستان یا دنیا میں کہیں بھی قانون کی عدالت میں پیش کیا جا سکے ۔ مگر بیرونی طاقتوں سے پاکستان پر پریشر ڈلوانے کی کوشش نہ کرے اور پاکستانی اپنے کرایے کے چند سیاست دانوں کے ساتھ مل کر بھارت پاکستان کے خلاف سازشیں چھوڑدے ۔۔ محض بہتان بازی اور بغیر کسی ثبوت کے الزامات سے خطے میں قیام امن کی کوششوں میں مدد نہیں مل سکتی ۔۔ حافظ سعید نے نظری بندی کا نوٹیفکیشن موصول ہونے کے بعد اصرار کیا کہ انھیں میڈیا سے گفتگو کی اجازت دی جائے۔ جس میں انھوں نے کہا کہ انھیں بیرونی ممالک کے دباؤ کی وجہ سے نظر بند کیا جا رہا ہے۔’میری نظربندی کے آرڈر انڈیا اور واشنگٹن سے ہوتے ہوئے پاکستان آئے ہیں اور پاکستان کی اپنی کچھ مجبوریاں ہیں۔‘

16386981_410648325949731_4965771334919496723_n.jpg
پاکستان تاحال انڈیا سے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکوں کے تمام ملزمان کو رہا کرنے کے حوالے سے جواز اور وضاحت کا منتظر ہے، جس میں 68 پاکستانی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ مگر بھارت ہے کہ اپنی ہی سازشوں میں مصروف ہے ۔۔ جبکہ پاکستانی فوج کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے امیر حافظ محمد سعید کی نظربندی کو ریاست کی جانب سے قومی مفاد میں کیا گیا فیصلہ قرار دیا گیا تھا۔ پاکستان نے حافظ سعید کو پہلے بھی اسی طرح نظر بند کیا تھا ۔ لیکن جب جماعت الدعوۃ نے اس فیصلے کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تو عدالت نے ناکافی شواہد کی بنا پر اُن کی نظر بندی ختم کر دی تھی۔

جبکہ بھارت کے داخلی امور کے وزیرکرن ریجیجو کا بیان بھی آیا تھا کہ بھارت نے پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈالا ہوا ہے۔ ہم دنیا کو بتاتے رہے ہیں کہ پاکستان نے صرف حافظ سعید کو ہی نہیں بلکہ دوسرے دہشت گردوں کو بھی پناہ دے رکھی ہے۔ پاکستان پر ہر طرف سے دباؤ ڈالنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔۔ بھارت اپنی شرارت میں مصرف ہے ۔۔ کبھی کشمیر کے مسئلہ کو دبانے کی کوشش کرتا ہے تو کبھی پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگاتا ہے جیسا کہ ابھی چند دن پہلے قدرتی برف کے طوفان سے برف میں دب کر مرنے والے بھارتی فوجیوں کا ذمے دار بھی پاکستان کو ٹھراتا ہے ۔۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکے اور پاکستان پر الزامات لگانا چھوڑ کر سنجیدگی سے مسئلہ کشمیر کے حل پر توجہ دے بھارت کشمیر کی آواز کو دبانے کے لیے آئے دن پاکستان کے خلاف کوئی نہ کوئی سازش رچتا رہتا ہے تاکہ پاکستانی عوام اور میڈیا اصل مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹائے رکھیں اور بھارت کشمیر میں ظلم و ستم کرتا رہے ۔۔ ابھی حالیہ رپورٹ میں کشمیر میں تعنات چار سو سے زیادہ فوجی پاگل ہوچکے ہیں اور کئی تو کشمیریوں پر درندہ بن کر ٹوٹے ہوئے ہیں ۔۔ وہاں پر کیمیکل ہتھیاروں اور بیلٹ گن سے معصوم کشمیریوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔۔ کئی کشمیرمیں تعنات بھارتی فوجی خودکشی بھی کر چکے ہیں ۔۔ پچھلے چند ماہ میں مقبوضہ کشمیر میں تعینات انڈین آرمی اور بی ایس ایف 29بٹالین کے 300 سے زائد جوان ذہنی طورپرمفلوج ہوکر بھارت کے مختلف پاگل خانوں میں زیرعلاج ہیں جبکہ100 سے زائد جوان خودکشی کرچکے ہیں جبکہ 12 سے زائد فوجیوں نے اپنے افسران کو تنگ آکر شوٹ کرنے کے بعد خودکشی کرنے کے واقعات کے علاوہ بھارتی آرمی میں خواتین فوجیوں کو اعلیٰ افسران کی جانب سے ہراساں کرنے کے بھی کیس سامنے ہیں ۔۔ جنکاالزام مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک میں ملوث جماعتوں پرڈال دیاجاتا ہے ۔۔

اگر ہمارے دشمن عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم کشمیر کی حمایت سے پیچھے ہٹ جائیں گے تو ایسا نہیں ہوگا ۔ بین الاقوامی برادری کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان جمہوری معاشرے کا عکاس ہے ۔ جو پاکستان کے حق میں بہتر ہوگا وہ کرے گا مگر کوئی دوسرا اگر پرامن مسئلہ کشمیر حل نہیں کروا سکتا تو بیچ میں اپنی ٹانگ مت اڑائے ۔۔حکومت اگر سنجیدگی سے مسئلہ کشمیر حل نہیں کرسکتی تو پاک فوج کے پورے اختیارات دے کر انکے حوالے کردیا جائے یہ مسئلہ کیونکہ کچھ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔۔ جب انھیں پاک فوج ًمزکرات یا مکا لات سے سمجھائے گی تو امید ہے بھارت کو سمجھ آ جائے گی اور آئے روز لائن کنڑول کی پر بھارت فائرنگ کرتا ہے ۔۔ بھارت کی حرکتوں سے ایسا لگتا ہے کہ وہ کبھی پاکستان کے خلاف سازشیں کرتا رہتا ہے ۔۔

ان حالات میں جہاں عوام اہل کشمیر کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کریں پاکستان کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو بھی اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی ۔ کشمیری عوام پاکستان سے جس طرح امداد اور تعاون چاہتے ہیں حکومت پاکستان اس پر پورا اترنا چاہیے ۔ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی آبادی کو کم کرنے کے لیے جس طرح انتہا پسند ہندوؤں کو آباد کرنے کے لیے سازشیں کر رہا ہے اس پر حکومت پاکستان کو خصوصی طور پر توجہ دینی چاہیے ۔ ورنہ خدشہ ہے بھارت کہیں اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہ ہوجائے اور آئندہ چند سالوں میں رائے شماری کرانے کے لیے تیار ہو جائے ۔ یہ صورت حال پاکستان اور کشمیریوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔ خدا نخواستہ یہ وقت آنے سے پہلے پاکستان کو کشمیر پر ٹھوس پالیسی اپنانے کے لیے توجہ مرکوز کرنا ہوگی ۔ تاکہ لاکھوں کشمیریوں کی قربانیوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے۔

16406950_367513940308344_4695487099113123072_n

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on February 3, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. 1 Comment.

  1. Excellent blog post !

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: