سپاہ سالار قمرجاوید باجوہ اور پاک افغان صورتحال

05baluch_ca1-popup
پاکستان اور افغانستان جنوبی ایشیاء کے دو اہم پڑوسی ممالک ہیں۔دونوں ممالک تاریخی، جغرافی، لسانی، نسلیتی اور مذہبی وابستگی رکھتے ہیں۔دونوں ممالک کے تعلقات 1947 سے شروع ہوئے جب پاکستان ایک آزاد ملک بنا۔ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام سارے خطے خاص طور پرافغانستان کے ہمسایوں کے لیے گہری تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان ان میں سرفہرست ہے کہ اس کی افغانستان کے ساتھ طویل سرحد مشترک ہے۔ اور سرحد بھی ایسی جس کی نگرانی کا کوئی مستقل بندوبست نہیں۔اس صورت حال کے تدارک کے لیے پاکستان نے پاک افغان سرحدی انتظام پر توجہ دی ہے لیکن سرحدی انتظام کے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں افغانستان کی طرف سے ان کی مزاحمت کی جاری ہے۔ چین کو بھی افغانستان میں بدامنی پر تشویش ہے اور روس کو بھی تشویش ہے کہ افغانستان سے مسلح گروہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے راستے روس میں داخل ہو سکیں گے۔ افغانستان کے ہمسایوں میں افغانستان میں عدم استحکام کی صورت حال پر تشویش لازمی امر ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوتے ۔ پاکستان کے سپاہ سالار قمر جاوید باجوہ نے خطے میں امن کے لیے افغانستان کو ساتھ چلانے کا عزم کیا ہے ۔۔ پاکستان، چین اور روس کی مشترکہ کوشش کے آغاز کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان میں خطے میں دہشت گردی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔۔ اور اس کا اثر پاکستان پر بھی ہو رہا ہے افغان کے راستے بھارتی اور دیگر دہشت گرد پاکستان اور پاکستان میں شروع ترقیاتی سی پیک جیسے منصوبوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں ۔۔

افغانستان کو پاکستان کا ساتھ دینا چاہیے ۔۔ افغانستان میں دیر پا امن قائم کرنا پاکستان کی خواہش ہے ۔۔ تجارتی سہولتوں کو طریقے سے بڑھانا ہے تاکہ تجارت بھی ممکن ہو مگر سیکورٹی کلئیرنس ہونے کے بعد باڈراور گیٹ کا مقصد تجارت بند کرنا نہیں ہے بلکہ فلٹر کرنا ہے چیک کرنا ہے تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان پرامن تجارت ہوسکے ۔۔ اور دہشت گردوں کا بھی خاتمہ کیا جاسکے ۔۔ غیرقانونی تجارت کو ختم کرکے قانونی تجارت کو فروغ دینا ہے ۔۔ قانونی راستے سے افغان اور پاکستان آنے جانے کا آسان اور بہتر طریقہ بنانا ہوگا ۔۔ تاکہ فلٹر ہونے کر تجارت بھی ہو اور امن بھی ۔۔

سال 2016ءپاکستان کی دفاعی و عسکری لحاظ سے بھرپور کامیابیوں کا سال رہا
2017ء میں پاکستان مزید کامیابیاں حاصل کرے گا انشاءاللہ ۔۔
2016ء میں آپریشن ضرب عضب مکمل ہوا ، پاک افغان سرحدی علاقے سے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ ہوا اور بارڈر مینجمنٹ کو موثرانداز میں بہتر کیا گیا ۔ کراچی آپریشن سمیت ملک بھر میں کومبنگ آپریشنز نے سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنایا ۔ بلوچستان سے ”را‘ کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری نے پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی کے نیٹ ورک کو دنیا بھر کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ پاک فوج نے ایل او سی اور ورکنگ بانڈری پر بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا

ہندوستان پاک-افغان تعلقات کو خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے بہت ہی دیرینہ تعلقات ہیں اور بھارت چاہے کچھ بھی کر لے ہم اس کوشش کو کسی صورت بھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ باوجود پاکستان چاہتا ہے کہ وہ ہر مسئلے میں افغانستان کی ہر ممکن مدد کرے۔ پاکستان خلوصِ نیت سے کام کرکے تعلقات کو بہتر کرنا چاہتا ہے۔ ہمیں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو سمجھنے اور اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے ۔۔ دہشت گردی افغانستان اور خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، ہمیں دہشت گردوں اور ان کے آقاؤں سے نمٹنا ہوگا ۔۔
۔
پاکستان میں اب دہشت گردوں کا کوئی نیٹ ورک نہیں اور افغانستان کسی اور کے کہنے پر پاکستان سے تعلقات خراب نہ کرے۔ افغانستان کا دشمن ہمارا دشمن ہے اور پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے مشروط ہے لہذا افغانستان کو چاہیے کہ اب دشمن کے گھر جا کر نہ بیٹھے ۔۔ دنیا میں دہشت گردی کا گراف بڑھ رہاہے لیکن پاکستان میں کم ہوگیا ہے اور اب پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی نیٹ ورک موجود نہیں، ضرب عضب کے باعث زیادہ تر دہشت گرد مارے گئےاور باقی بھاگ گئے تاہم دہشت گردی کی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی جب کہ گزشتہ 3 سالوں میں راحیل شریف کی سربراہی میں پاک فوج نے دہشت گردوں کو کافی حد تک ختم کردیا ہے باقی نئے سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ بھی جنرل (ر) راحیل شریف کی طرح ہی ملک و قوم کی خدمت کرنے کا عزم رکھتے ہیں اور خطے میں امن کی کوششیں کر رہے ہیں ۔۔ افغانستان کو چاہیے کہ پاکستان پر بھروسہ کرکے پاکستان کے ساتھ چلے اور بھارت کی سازشوں کو ناکام بنادے ۔۔ افغانستان بھی سی پیک منصوبے سے بھرپور تجارتی مقاصد حاصل کرسکتا ہے اگر وہ خطے میں امن کی کوششیں کرے ۔۔

دونوں اطراف میں لوگ امن چاہتے ہیں، پاک افغان بارڈر چوبیس سو کلومیٹرطویل ہے اس کی چوکیداری سب پر فرض ہے، افغانستان سے دہشت گرد عام لوگوں کے ساتھ آکر ہم پرحملےکرتے ہیں، ہمیں نہ صرف انہیں کنٹرول اور مانیٹر کرنا ہے بلکہ بارڈر مینجمنٹ کو بھی ٹھیک سے چلانا ہے، گزشتہ 6 مہینوں میں کافی بہتری آئی ہے اور اس کا سہرا پاک فوج کو جاتا ہے، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے قیام امن میں کلیدی کردار ادا کیا اور ان کے اچھے کاموں کوہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

اشرف غنی اور ہندوستان کے وزیراعظم مودی کو کم از کم یہ تو معلوم ہونا چاہئے کہ اگر پاکستان دہشتگردی کو روکنے میں سنجیدہ کارروائیاں نہ کر رہا ہوتا تو کیا چین CPEC کے منصوبوں اور ون لائن روڈ بیلٹ کے منصوبوں پر اربوں ڈالرزخرچ کر رہا ہوتا۔ پاکستان پر الزام کہ وہ دہشتگردوں اور طالبان باغیوں کی مدد کرتا ہے بالکل بے سروپا اور لغو ہے ایسے ہی بے سروپا الزامات لگانا افغانستان کی کٹھ پتلی حکومتوں کا وتیرہ ہے۔ ملا فضل اللہ اور دوسرے دہشتگردوں کے مرکز افغانستان میں ہیں اور وہاں سے وہ خودکش حملوں کے ذریعے پاکستان کے نہتے اور معصوم شہریوں کو ہلاک کرتے ہیں۔
16 دسمبر کے سانحہ پشاور میں افغانستان کی سرزمین سے آئے ہوئے دہشتگردوں نے آرمی پبلک سکول کے 150 سے زائد معصوم اور نوخیز پھولوں کو مسل کر رکھ دیا جس کی تکلیف دہ یادیں آج بھی پاکستانی عوام اور ان ننھے شہداء کے لواحقین کو خون کے آنسو رلا دیتے ہیں ۔۔ مگر آرمی کے متعدد آپریشنز سے آج کسی حد تک دہشتگردی کا عفریت دم توڑ چکا ہے۔

وزیر خزانہ کیمطابق پاکستانی معیشت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 103 ارب ڈالرز سے زائد کا نقصان ہوا ۔ سرحد پر لوگوں کی نقل حمل پر نظر رکھنے، منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے کئے جانے والے انتظامات اور سہولیات، انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا حصہ ہیں ۔ ان سے گھبرانانہیں چاہیے بلکہ خوشی سے قبول کرناچاہیے تاکہ خطے میں امن ہوسکے ۔ سرحدی انتظامات کو مضبوط بنائے بغیر، سرحد کے دونوں جانب امن و استحکام ممکن نہیں۔

المی طاقتوں کی مداخلت کے بعد گزشتہ کچھ ماہ سے پاک افغان تعلقات میں بتدریج بہتری دیکھنے میں آئی ہے جس کی ایک مثال طورخم سرحد کو دوبارہ کھولے جانے اور دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے حالیہ مشترکہ آپریشنز بھی ہیں، جن میں دونوں ممالک کے اہم خفیہ ادارے معاونت کریں گے ۔۔

بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، بھارت پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کو تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ بھارت نہیں چاہتا کہ خطے میں اور افغانستان میں امن ہو ۔۔ بھارت افغانستان میں مدد کے نام پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کر رہا ہے ۔۔

سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے قیام امن کے لیے پاک افغان بارڈر کے دوسری جانب دہشت گردوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہوگی ۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں میں گٹھ جوڑ ہر صورت ختم کرنے ہونگے ۔۔ آرمی چیف نے پاک افغان بارڈر پر دہشت گردوں کی غیرقانونی نقل وحرکت کو روکنے اور چوکیوں کی تعمیر کا کام تیز کرنے کی ہدایت دی تھی ۔۔ طورخم بارڈر پر گیٹ کی تنصیب کے موقع پر اگرچہ پاک فوج کے جوانوں اور افسر کی شہادت ہوئی لیکن بارڈر مینجمنٹ کو دہشت گردی پر قابو پانے کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے پاک فوج نے نہ صرف گیٹ کی تنصیب مکمل کی بلکہ پاک افغان سرحد کے دیگر حصوں پر بھی گیٹوں کو نصب کرنے کا اعلان کیا ۔ پاکستان اور افغانستان کا ایک پیج پر ہونا ضروری ہے ۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطوں کی کڑی کو برقرار رکھنا چاہیے تاکہ دونوں ممالک کی حکومتوں اور عوام کو مزید قریب لایا جا سکے۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین باقاعدہ رابطوں کے ذریعے ہی غلط فہمیوں کا خاتمہ اور تعلقات کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے، جب تک خطے میں بد امنی کی فضاء قائم رہے گی تب تک خطہ ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا ۔ افغانستان کے ساتھ مل کر نئی نئی سرحدی پالیسی بنانی چاہیے ۔۔ تاکہ دونوں پڑوسی ممالک میں دو طرفہ تجارت کو بہتر بنایا جاسکے۔

pak-afghan-transit-trade-agreement-770x470

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on January 6, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: