کراچی آپریشن میں مزید تیز

12019782_912245055528106_2573925569434030495_n

جنرل راحیل شریف نے جب 3 سال قبل مسلح افواج کی کمان سنبھالی تو اس وقت ملک بھر میں دہشت گردوں کا راج تھا۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے سوات میں کامیاب آپریشن کیا تھا لیکن فاٹا‘ بلوچستان اور کراچی میں حالات بدترین صورتحال سے دوچار تھے اور عوام کی جان و مال محفوظ نہیں تھے۔ فاٹا‘ بلوچستان اور کراچی میں غیر ملکی قوتیں برسرپیکار تھیں اور ان کا ہدف امن و امان کی صورتحال پیدا کرکے پاکستان کو ہر لحاظ سے کمزور کرنا تھا۔ جنرل راحیل شریف نے کمان سنبھالتے ہی ایسے انقلابی اقدامات کئے جس سے آج پاکستان میں 2013کی نسبت دہشتگردی میں 91.84% کمی آئی ۔ جنرل راحیل شریف کے بطور آرمی چیف عہدہ سنبھالنے سے قبل دشمنوں نے پاکستان کو ترنوالہ سمجھ رکھا تھا اور انکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پاکستان میں ایسے عظیم جرنیل بھی موجود ہیں ۔ جنرل راحیل شریف نے اس کا دائرہ ملک بھر میں پھیلا کر پورے ملک کو جرائم پیشہ‘ دہشت گرد اور کرپٹ عناصر سے پاک کرنے کے مشن کا آغاز کیا جو کہ کمان تبدیل ہونے کے بعد بھی نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی انھی کی طرح بھرپور انداز میں پاکستان کی خدمت کر رہے ہیں ۔۔

کراچی میں زندگی لوٹ آئی ہے، شہر کی معاشی سرگرمیاں معیشت میں اپناحصہ ڈال رہی ہیں، سب سے بڑے شہر کے امن کو خراب کرنے کی سازشیں ناکام بنادی گئیں مگر آپریشن میں مذید تیزی کی ضرورت ہے ۔۔ تا کہ کراچی کو پھر سے معاشی حب اور روشنیوں کا شہر بھرپور طریقے سے بنایا جاسکے ۔۔

وقت تیزی سے آگے بڑھتا جارہا ہے ۔۔ و ر اسکا ساتھ دینے کی ضرورت ہے اگر ہم وقت کے ساتھ چلیں گے تو کامیاب ہوں گے ۔۔

سمجھو کہ اب کرپشن اور دہشت گردی کا تماشا تمام شد ۔۔ حال ہی میں ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ایلانگو پچامیتھو اور معاشی تجزیہ نگار بلانکو آرمس نے کراچی میں تعمیراتی شعبے کی حیرت انگیز ترقی پیش کرتے ہوئے پاکستان کو ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ایمرجنگ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کیلئے ایک اہم ملک قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں انہوں نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی بہتر کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج گزشتہ ایک سال میں 33فیصد اضافے سے 43000 انڈیکس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس کے باعث PSE کا شمار نہ صرف دنیا کی 10 بہترین اسٹاک مارکیٹوں میں کیا جانے لگا ہے بلکہ اس نے چین اور بھارت کی اسٹاک مارکیٹوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پاکستان کی حالیہ معاشی ترقی دیکھتے ہوئے موڈیز اور اسٹینڈرڈز اینڈ پورز نے بھی پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کو مستحکم قرار دیا ہے جبکہ گلوبل انوویشن انڈیکس کے مطابق پاکستان ترقی کرنے والے ممالک کی فہرست میں8 درجے بہتری سے 71 ویں نمبر پر آچکا ہے۔ یہ نامور عالمی اداروں کے وہ اعترافات ہیں جس میں پاکستان کا شاندار مستقبل پنہاں ہے لیکن ہمیں مزید معاشی ترقی کیلئے ملک دشمن طاقتوں کی سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک خاص کر اقتصادی حب کراچی کے حالات مزید بہتر بنانے ہیں جس کے لیے کراچی آپریشن میں تیزی لانی ہوگی ۔۔ کراچی سب سے بڑا پاکستان کا شہر ہے اور دنیا میں سب سے زیادہ گنجان آباد شہروں میں سے ایک ہے۔۔ کراچی محنت کشوں کا شہر ہے۔ 1950ء اور اس کے بعد کی دو دہائیوں میں ہونے والی تیز ترین معاشی و صنعتی ترقی کا محور کراچی تھا ۔۔ اس پہلے سے بھی بہتر بنانا ہے مگر یہ تب ہی ممکن ہے جب مکمل امن و امان کی صورتحال ہو ۔۔ اس کے لیے کراچی آپریشن میں تیزی لانے کی اشد ضرورت ہے ۔۔

کراچی پاکستان کے لئے آمدنی کا 68٪ پیدا برصغیر اور اقتصادی مرکز، پاکستان کے فنانس جنریٹر، کثیر ثقافتی اقدار لے کر پاکستان کا دل ہے. دہشتگر عناصر کو پتا ہے کہ کراچی پاکستان کی کل آمدنی کا 68٪ حاصل کر رہا ہے . کراچی سے دشمنی پاکستان اور اس کی معیشت سے دشمنی ہے. اور غیرملکی دشمن اور انکے ایجنٹس پاکستان کی معیشت کو ہی تو تباہ کرنا چاہتے ہیں ۔۔ جس کا ثبوت کل بوشن یادو ہے جو بلوچستان اور کراچی کے حالات میں خرابی کا ایک حصہ تھا ۔۔ مگر ہماری حکومت کو کراچی آپریشن میں تیزی لا کر کل بوشن یادو کے بندر دوستوں کو گرفتار کرنا ہوگا ۔۔ تب ہی کراچی تیزی سے ترقی کر سکتا ہے ۔۔

جب سے رینجرز و دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آپریشن شروع کیا ہے حالات بہتر سے بہترین کی جانب گامزن ہیں۔ اب خوف کی مکمل فضا ختم کرنے کے لیے کراچی آپریشن تیز سے تیز ہونا چاہیے ۔۔ گر آپ کراچی میں رہنے والے ایک عام آدمی سے پوچھیں تو وہ یہ ہی کہے گا کہ کراچی میں بہتری آئی ہے لیکن دوسری طرف سیاسی طور پر مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ آپریشن اور دیگر سیاسی جماعتوں کے زیر اثر پلنے والے دہشت گرد سیاسی جماعتوں کو آگے کر رہے ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی انکی سپورڑ کی کوششاں ہیں ۔۔ انھیں چاہے کہ وہ ملک کی خاطر سوچیں اور رینجرز کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں ہے بلکہ صرف اور صرف دہشت گردوں کے خلاف ہے ۔۔ لہذا میری ایک عام پاکستانی کی ان سے درخواست ہے کہ رینجرز کو اپنا کام کرنے دیں جب سے رینجرز اپنا کام کر رہی ہے ۔۔ دہشت گردی میں ، بھتہ خوری کی واردات ، لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا کے اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کی واردات میں کمی آئی ہے ۔۔ لہذا میری ان سے درخواست ہے کہ رینجرز کا ساتھ دیں ہمارے ملک بہتر اور کراچی کو دوبارہ روشنیوں کا شہر بنانے میں ۔ بے شمار قربانیوں کے بعد حاصل ہونے والاملک آج چند ہاتھوں کاکھلونا بنا ہوا ہے کراچی آپریشن میں تیزی لا کر ہی بڑی بڑی گندی مچھلیوں کو پکڑ کر ہی کراچی کو صاف اور پرامن کیا جا سکتا ہے ۔۔ ۔

چین آج دنیا کی سپر پاور بنتا جارہا ہے اور ہم یہاں پر گرمی کا موسم ہو تو بجلی کو تر ستے ہیں ، موسم سرما ہو تو شہری گیس کو تر ستے ہیں۔ جبکہ انتہائی غریب آدمی سے ماچش تک خریدنے پر بھی ٹیکس وصول کیا جارہا ہے۔ اور کراچی میں تو دوکان پر جانے تک سے ڈرتا ہے ۔۔ کہ کہیں کسی دشت گرد کی گولی کا شکار نہ بن جائے اس سے اگر بچ جائے تو مہنگائی کا جن اس کو آ کر دبوچنے کو تیار ہے ۔۔ کافی حد تک کراچی آپریشن سے کراچی میں امن ہوا ہے مگر اس میں تیزی لا کر اسے جلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچانا ہوگا تب ہی بھرپور فوائد حاصل ہونگے اس آپریشن کے ۔۔ اگر آپریشن کی راہ میں ہر آئے روز روڑے اٹکائیں گے کچھ عناصر تو پھر بھرپور امن و امان قائم کیسے ہوگا ۔۔ کراچی آپریشن مکمل نہیں ہوگا تو عوام تجارت کیسے کرسکے گی بازار کیسے کھل سکیں گے دہشت گردی کے ڈر سے ؟؟ اس لیئے کراچی آپریشنز کو تیز سے تیز تر کرنا ہوگا ۔۔

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے انتہائی اہم موڑ پر کھڑ ا ہے۔ ہمارے مشرق و مغرب اور قرب و جوار میں آنے والی تبدیلیاں ہم سے بروقت اور مضبوط فیصلوں کا تقاضا کر رہی ہیں یعنی جو ہمیں ترقی و کامیابی سے ہمکنار کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے وجود کی بقا کے بھی ضامن ہوں۔ حکومت کو چاہیے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اب ایکشن لے ہی ہے اور کراچی آپریشن میں تیزی لا کر کراچی کو روشنیوں کا شہر بنائے ۔۔ اور پورے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرے ۔۔۔ ناسور دہشت گردی اوردیگر جرائم کو فوجی آپریشن اور انقلابی جراحی مل کر ہی کاٹ کر پھینک سکتے ہیں ۔۔

خون خرابے والی دہشت گردی کا خاتمہ اقتصادی دہشت گردی کے خاتمہ کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔اقتصادی دہشت گردی کی بیخ کنی قوم کیلئے ایک نئی صبح کی نوید ہوگی۔ ان فائیو اسٹار دہشت گردوں کو اقتصادی دہشت گردی پر پکڑنے کے لئے یوں تو ایک سے ایک بڑھ کر قانون موجود ہے۔ مسئلہ عملدرآمد کا ہے
۔۔ نیشنل ایکشن پر عمل کر کے ہر طرح کی دہشت گردی کا خاتمہ ضروری ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب کراچی آپریشن میں تیزی لائی جائے ۔۔

دہشت گردوں کی شکست کا آغاز ہو چکا ہے۔ مذہبی ہوں معاشی ہر طرح کے دہشت گردوں کے لئے زمین تنگ کرنی ہوگی ۔۔ رینجرز کو پوری قوت کے ساتھ کام کرنے دیا جائے ۔ صرف یہی ایک راستہ ہے کہ جو کراچی کو بدامنی و دہشت گردی کے اس منجدھار سے نکال سکتا ہے، کراچی آپریشن جتنا تیزی سے ہوگا اتنا ہی تیزی سے امن بحال ہوگا ۔۔ کراچی میں قیام ِامن کے لیے رینجرز کی خدمات ناقابل فراموش ہیں انھیں بس تیزی سے آپریشن کرنے دیا جائے ۔۔

15242030_375579509456613_3137151741080552515_n.jpg

 

 

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on December 5, 2016, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: