ملٹری کورٹس اور کرپشن

15726744_10157743232065467_5668233947921943300_n.jpg
فوجی عدالتوں نے پاکستان میں دہشت گردی کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔۔ ملٹری کورٹس پر کسی کوکوئی شک و شعبہ نہیں ہے ۔۔ وہ بھرپور ایمان داری اور ملکی سلامتی کے حق میں ہی فیصلے کرتی ہیں ۔۔ ملٹری کورٹس کے علاوہ پاکستان کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے اگر دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنا ہے تو کیونکہ انصاف ہوگا ، مجرموں کو سزائیں ملیں گی تب ہی تو باقی لوگ پرامن زندگی گزار سکتے ہیں ۔۔ پاکستانی فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع چاہتے ہیں ۔۔ کیونکہ دہشت گردی کے خلاف ملک و قوم نے جو قربانیاں دی ہیں انھیں ضائع نہیں ہونے دے سکتے ۔

سول عدالتں ایک سٹیج ڈرامے کا کردار ادا کر رہی ہیں ۔۔ جس میں روز عدالت لگتی ہے ۔۔ جج ، وکیل سب حاضری لگاتے ہیں اورتنخواہ اور پھر اوپر اور نیچے کی کمائی یعنی رشوت لیتے ہیں پھر کیس لٹکاتے ہیں جب تک پیسہ ہے تو سب اچھا ہے ۔۔ اگر ملک سے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے تو سول عدالتوں کو بہتر بنانا ہوگا اور دہشت گردی کو ختم کرنے لیے فوجی عدالتوں میں توسیع ہونی چاہیے ۔۔

15698292_348120512237024_6874205985651588667_n

فوجی عدالتوں کے دو سال قیام میں 157 دہشت گردوں کو پھانسی ، پانچ کو عمر قید ، دو کو قید بامشقت سزائیں دی گئیں ۔ فوجی عدالتوں جرم قبول کرنے کے بعد مختلف چھوٹے بڑے گروپوں کے دہشت گردوں کو سزائے موت ملنا اور فوری انصاف میسر ہونا اس بات کی واضح نشانی ہے یہ فوجی عدالتوں میں انصاف ہورہا ہے اور اسی وجہ سے عوام کو بھی اب صرف فوجی عدالتوں پر ہی اعتبار ہے اور عوام چاہتی ہے کہ دہشت گردوں کے کیس صرف اور صرف فوجی عدالتوں میں ہی جائیں ۔۔ اور سول عدالتوں کو بھی مضبوط کیا جائے تاکہ کرپشن جیسے ناسور سے پنٹا جاسکے ۔۔ بلکہ کرپشن ختم کرنے کا بھی بہتریں حل یہی ہے کہ کرپشن کے کیسز کو بھی فوجی عدالتوں میں بھیجا جائے تو بہتر ہے کیونکہ سول عدالتیں تو ناکام ہوچکی ہیں انصاف اور احتساب کرنے میں ۔۔ کرپشن بھی دہشت گردی کی ہی ایک قسم یا حصہ ہے ۔۔ جب تک عام عدالتیں انصاف کرنے کے قابل نہیں ہوجاتی جج اور وکیل لوٹ مار کر کے خود کرپشن کرکے کرپشن کے کیس دبانا نہیں چھوڑ دیتے تب تک فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کرکے انھیں پاکستان کی خاطر کام کرنے دینا چاہیے ۔۔ سول کورٹ سے دہشت گردی کے تمام چھوٹے بڑے کیس کوفوجی عدالت یعنی ملٹری کورٹ میں لایا جانا چاہیے تاکہ انصاف میسر ہوسکے پاکستانی قوم کو جوکہ اپنے بھائیوں بیٹوں ماؤں بہنوں عزیز و اقارب کی لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک گئی ہے اب انصاف کی آخری امید کی کرن فوجی عدالتیں ہی ہیں ۔۔

سول عدالتیں تو بس سانحہ کوئٹہ ، سانحہ اے پی ایس ، سانحہ پولیس لائن کوئٹہ ، سانحہ باچاخان یونیورسٹی وغیرہ بہت سے واقع کے بعد بھی اگر اب دہشت گردی کے کیس فوجی عدالتوں میں نہیں بھیجے جاتے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ انصاف میسر ہو پاکستانی قوم کو اور دہشت گردی کے ناسور کو ملک سے ختم کیا جائے ۔۔ بے نظیر بھٹو کا کیس بھی ایک دہشت گردی کا واقعہ ہے بلاول بھٹو کو چاہیے کہ ماں کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لیے فوجی عدالت میں اس کیس کی اپیل کرے ۔۔ اور فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کو ممکن بنانے کے لیے تگ و دو کرے ۔

15741014_10202579596008784_4939923131802602951_n.jpg۔

اگر حکومت پاکستانی عوام کو انصاف مہیا کرنا چاہتی ہے تو تمام دہشت گردی کے کیسز فوجی عدالت میں بھیجے ۔ فوجی عدالتوں میں صرف سات دن کے اندر کیس فیصلہ ہوجاتا ہے ۔۔ جتنا جلدی کیس تیز رفتاری سے دیکھا جائے گا اتنا ہی امن آئے گا

اب صورت حال یہ ہے کہ Investigation، Prosecution اور نتیجتاً Justice تینوں مراحل پر زبردست کمزوریاں ہیں جن کی بدولت قاتل لاشوں کے انبار لگا چکے ہیں ۔۔ مگر ان کو تختہ دار پر لٹکانے والا کوئی نہیں۔ اس کا ایک حل تو مارشل لاء ہے مگر اس سے ملک 50 سال پیچھے چلا جائیگا اس لئے موجودہ صورتحال میں بہترین حل Sun Set کلاز کے ساتھ دو سال کیلئے فوجی عدالتوں کا قیام ہے۔

یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ ملٹری کورٹس اپنے سینئرز کے اشاروں پر چلتی ہیں۔ ان کورٹس میں سزا پانے والوں میں ایڈمرل منصور، جنرل عباسی، جنرل تجمل اور جنرل اکبر جیسے بہت سارے سینئر لوگ بھی تھے۔ یہ عدالتیں تین قسم کی ہوتی ہیں۔ 1 سمری ملٹری کورٹ جس میں چھوٹے مقدمات میں صرف ایک آفیسر مقدمہ سنتا ہے اور معمولی سزا دیتا ہے۔ 2 سپیشل کورٹ جس میں ملٹری جج پراسی کیوشن اور ڈیفنس کے علاوہ تین مزید رکن ہوتے ہیں۔ یہ عدالت زیادہ سے زیادہ ایک سال کی سزا دے سکتی ہے 3۔ جنرل کورٹ مارشل میں ملٹری جج پراسی کیوشن، ڈیفنس کے علاوہ 5 مزید عدالتی رکن ہوتے ہیں۔ یہ عدالت سزائے موت بھی دے سکتی ہے جبکہ مجرمان کو اپیل کا حق ہوتا ہے جس کا Jag برانچ اور چیف آف آرمی سٹاف فیصلہ کرتے ہیں۔

آج جس بدترین صورتحال میں ہم گھرے ہوئے ہیں، اسکے ذمہ دار نالائق، کمزور اور کرپٹ ترین ماضی کے حکمران ہیں۔ کسی نے دولت سمیٹنے کیلئے اور کسی نے اپنے اقتدار کو بچانے اور اس کو طول دینے کیلئے کرپشن کی۔ ایک دہشتگرد ایک وقت میں درجنوں بندے ہلاک کرتا ہے لیکن ایک کرپٹ اور لالچی حاکم مختصر مدت میں پورے معاشرے کو کنگال کر جاتا ہے اس لئے میرے خیال کرپشن بھی قتال کی ایک زیادہ گھنائونی دوسری شکل ہے۔

اگر معاشرے کے چند نام نہاد معتبروں کے خلاف یہ ثابت ہو جائے کہ قوم نے ریاست کو ان لوگوں کے ہاتھوں میں امانت کے طور پر دیا لیکن یہ صادق رہے نہ امین اور ریاستی تجوری کو چاٹ گئے پھر موجودہ عدالتی نظام میں اپنے مقدمات عشروں تک حل نہ ہونے دیئے۔ اپنی مرضی کے ججوں کے پینل بنوائے گواہوں کو مروا دیا تو پھر کیا ان لوگوں کے مقدمات کیلئے ملٹری کورٹس نہیں ہونی چاہئیں۔ ضرور ہونی چاہیں ۔ کرپشن بھی دہشت گردی ہی ہے لہذا کرپشن اور دہشت گری کے کیس اور ملزمان کو ملٹری کورٹس میں ہی بھیجانا چاہیے اور یہ سول عدالتوں کی کمزوری اور حکومت کی نااہلی ہے کہ وہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرپا رہی ہے لہذا ملٹری کورٹس کو توسیع ملنی چاہیے جب تکہ حکومت سول عدالتوں کو انصاف کے قابل بنانے کے لیے کچھ نہیں کرتی تب تک انصاف کا واحد راستہ ملٹری کورٹس یعنی فوجی عدالتیں ہی ہیں ۔۔

15727073_348146095567799_8047784418044930586_n.jpg

دہشتگرد قاتلوں کو اگر سیدھا لٹکایا جاتا ہے تو کرپشن کرنے والے کو الٹا لٹکایا جاناچاہیے ۔۔ سارے دہشتگرد مارنے کے بعد بھی اگر معاشرے میں بدترین وائٹ کالر کرپشن کا خاتمہ نہ ہوا تو کمزور حکمرانی کی بدلت Investigation،Prosecutionاور Justice کے معیار بہتر نہیں کئے جا سکتے اس لئے ملٹری کورٹس کو میگا کرپشن کیسز بھی سن کر فوری فیصلے کرنے چاہئیں ۔۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ چوں کہ فیصلہ کن موڑ پر پہنچ چکی ہے اور ملٹری کورٹس کا قیام اور اس میں توسیع بلکل جائز ہے فوجی عدالتوں کا قیام اور ان کی مدت میں توسیع وقت کی ضرورت بن چکا ہے ۔۔ بطور شہری اگر اس حوالے سے اس طالب علم سے سوال کیا جائے تو سیدھا سادا جواب ’’موجودہ صورتحال میں ملٹری کورٹس کا قیام ناگزیر‘‘ ہو گا۔ ہمارا تمام سسٹم کینسر اور تمام سرکاری ادارے دیمک زدہ ہو چکے ہیں۔ یہ سسٹم اس قدر ابتری کا شکار ہے جسے دنوں میں درست کرنا ممکن نہیں۔ مروجہ عدالتی سسٹم بھی بدترین صورتحال سے دوچار ہے۔ جج اور تفتیشی افسر دہشتگردوں کی دھمکیوں سے خوفزدہ ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ دہشتگردی کے سیکڑوں مقدمات سالہا سال سے التوا کا شکار ہیں ۔۔ فوجی عدالتوں میں انکا کچھ فیصلہ تو ہوگا اور اور فوراً سزا اور انصاف ہوگا ۔۔

اس لیے اگر ہمیں اپنے بچے‘ شہری‘ ادارے‘ ملک بچانا ہے تو سماج دشمن عناصر کو فی الفور کڑی سے کڑی سزا دے کر عبرت کا نشان بنانا ہو گا اور موجودہ عدالتی نظام کے ذریعے ایسا ممکن نہیں۔ یہ محض قیاس آرائی نہیں ایک کھلی حقیقت ہے ۔۔ فوجی عدالتوں میں فوری اور صیحح انصاف ہی ان عدالتوں کی خوبی ہے جو کہ کرپٹ اور دہشت گرد عناصر کی نظر میں ایک بہت بڑی خامی و خرابی ہے اب فیصلہ عوام اور حکومت نے کرنا ہے کہ دہشت گردوں اور کرپٹ لوگوں کا ساتھ دینا ہے یا انصاف کے تقاضے پورے کرنے والوں سے انصاف کروانا ہے ۔۔ فوجی عدالتیں فوج کی نہیں وقت اور حالات کی ضرورت ہیں ۔۔ یہ ہمیں سمجھنا ہوگا ۔۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں پاکستان نازک موڑ پر پہنچ چکا ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے اور اس فیصلہ کن جنگ میں انشا اللہ ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔ کیونکہ اس دہشت گردی کے خلاف ہم پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں ۔۔ ملٹری کورٹس کا قیام سول عدالتی نظام کی کمزروی کی وجہ سے کیا گیا ہےاور جب تک مکمل امن و امان کی صورتحال برقرار نہیں ہوجاتی تب تک ان فوجی عدالتوں یعنی ملٹری کورٹ کو کام کرتے رہنا چاہیے تب ہی ملک میں بہتری آئے گی ۔۔

15823140_348120555570353_2969273518537879931_n.jpg

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on January 2, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: