مدارس میں اصلاحات

11896117_932970133415916_8775096669040026324_n

شدت پسندی کے خلاف جنگ میں تعلیم ایک اہم ’میدانِ جنگ‘ ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ پاکستانی حکومت نے یہ سبق ابھی تک نہیں پڑھا ہے۔ پاکستان میں تعلیمی شعبے پر کئی دہائیوں سے توجہ نہیں دی گئی اور نو برس سے کم عمر کی ایک تہائی تعداد سکولوں میں نہیں جاتی۔ اس خلاء کو پاکستان میں مدارس پُر کرتے ہیں۔ مگر اس کو مدارس بھی بھرپور انداز میں پورا نہیں کر پا رہے کیوں کہ ان میں کافی اصلاحات کی ضرورت ہے ۔۔ مدرسہ اصلاحات پاکستان میں کئی سالوں سے زیر بحث ہیں ۔ مگر اب انھیں بحث سے نکال کر پایہ تکمیل تاکہ پہنچانا ہے تاکہ مدارس دین و دنیا دونوں کا تعلیمی مرکز بن کر علم کی شمع سے اجالا کریں ۔۔

مدرسہ میں دینی تعلیم کے ساتھ عصری جدید علوم و فنون کو وسعت دینی چاہیے ۔۔ دارالعلوم میں باقاعدہ اکیڈمک بلاک تعمیر ہونا چاہیے ۔۔ کمپیوٹر اور دوسرے اہم مضامین بھی پڑھائے جانے چاہیں تاکہ طالب علم مدرسہ سے فارغ ہوکر دین اور دنیا دونوں میں کامیاب ہوسکے ۔ وسیع مُسلم آبادی رکھنے والے بہت سے ممالک جن میں ملائشیا، انڈونیشیا، بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں، اپنے مذہبی مدرسوں میں سائنسی علوم متعارف کرانے کے لئے اصلاحات لانے کی کوشش کرتے رہے ہیں جس میں کِسی کو زیادہ کامیابی مِلی ہے اور کِسی کو کم۔ جنگ زدہ مُلک افغانستان سے قُربت کی وجہ سے یہ بات بہت اہمیت رکھتی ہے کہ پاکستان میں مدارس کی اصلاحات کو اِسی خاص تناظر میں دیکھا جائے۔ تمام مدرسوں کی حکومت سے رجسٹریشن ہونی چاہیے ،،

آپریشن ضرب عضب کے آغاز پر ایپکس کمیٹی نے جو فیصلے کیے تھے اُن میں ایک فیصلہ مدرسوں کی نگرانی اور ان کی اصلاحات کا ہے۔ سندھ حکومت کی ذمے داری تھی کہ مدرسوں کا سروے کیا جائے۔ زمینی سروے کے علاوہ جیو فینسنگ جب مدرسوں کے نتائج سامنے آئے کہ بہت سے مدرسے رجسٹرڈ نہیں ہیں۔ غیر رجسٹرڈ مدرسوں کا معاملہ حل کرنا بھی ضروری ہے، برصغیر میں مدارس نے مذہبی تعلیم کے ساتھ علم پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔۔ تاریخ دانوں کا یہ کہنا ہے کہ عربوں نے مدارس کی تعلیم کے ذریعے عروج حاصل کیا۔ عربوں کے دور میں مدارس میں اسلامی مضامین کے علاوہ منطق ، فلسفہ اور بنیادی سائنس کے مضامیں بھی شامل تھے ۔۔

مدرسوں کے بڑھتے ہوئے کردار کی بناء پر ان میں اصلا حات وقت کی ضرورت بن گئی ہے ۔ مدرسوں میں بھی کم سے کم دس جماعتوں تک سکول لازمی ہونا چاہیے ،، نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کی ایک کڑی مدرسوں میں اصلاحات کا بھی ہے ۔۔ حکومت کو چاہیے کہ مدرسوں میں موثر تعلیم و تربیت کا بندوبست کرے ۔ تاکہ ملک سے انتہا پسندی اوردہشت گردی کا خاتمہ کیا جاسکے ، بدقسمتی سے تحریکِ طالبان جیسی دہشت گرد تنظیموں نےجہاں مدارس کو دہشت گردی سے جوڑ کر انھیں دنیا بھر میں بدنام کیا ۔جہاں مدارس کو دہشت گردی سے الگ کرنے کی ضرورت ہے وہیں مدارس کے نصاب میں اصلاحات ہونی چاہیں تاکہ مدارس کے طلباء کو جدید علوم سے آراستہ کر کے ان کےلیے ملازمتوں کے دروازے کھولے جاسکیں ،،

مدارس کا دہشت گردی اور انتہا پسندی میں اُلجھ جانا حال ہی کی بات ہے تاہم مدارس کے نصاب میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہمیشہ ہی سے محسوس کی گئی ہے ۔۔ مُلا نظام الدین نے یہ نصاب جہاں مسلمان علماء پیدا کرنے کے لیے تشکیل دیا تھا وہیں اس امر کو بھی مدِنظررکھا تھا کہ اس نصاب سے فارغ التحصیل طلباءدرباری خدمات اور حکومتی عہدوں کے لیے بھی تیار کیے جا سکیں۔ تین سو سال پُرانہ درسِ نظامی کسی بھی طور پر جدید دور کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر سکتا۔یہی سبب ہے کہ مدارس محض علماء پیدا کر رہے ہیں اور کوئی ڈاکٹر ،انجینئر یا حکومتی عہدِ ےدار مدرسے سے نہیں پیدا ہوتا ۔اس لیے دور ِ حاضرکے تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ہمیں مدارس کے نصاب میں ضروری اصلاحات ضرور لانی چاہیں اور اس ضمن میں کسی پَس وپیش سے کام نہیں لینا چاہیے کیونکہ یہ اقدام خود مدارس کے مفاد میں ہیں ۔ ہاں تھوڑی دشواری ضرور ہوگی شروع شروع میں کیوں کیوں کہ مدرسوں میں جو اس وقت درس نظامی اور دیگر علوم پڑھا رہے ہیں شاید وہ اس کو ناسمجھ سکیں مگر اس میں ملک و قوم اور طالب علموں کا ہی فائدہ ہے اگر جدید تعلیمی نظام بھی مدرسوں میں پڑھایا جائے کیا خوبصورت اور دلکش السلامی بھرپور معاشرہ جنم لے گا ۔۔ جس میں ڈاکٹر یا جدید علوم کے ماہر قرآن و حدیث کے بھی ماہر ہوں گے ۔۔ یا حافظ یا دینی علوم کے عالم ساتھ ساتھ دنیاوی علوم کے بھی ماہر ہوں گے ۔۔ قرآن و حدیث میں سب کچھ موجود ہے ہر چیز کا علم ہے تو پھر مدرسوں میں کیوں نہیں پڑھایا جاتا یا جاسکتا ؟؟

ملک میں مدارِس کے پانچ وفاق قانونی تحفظ کے ساتھ اپنے ماتحت مدرسوں کا انتظام چلا رہے ہیں۔ ان وفاق المدارس کی قیادت نے کبھی بھی تحریکِ طالبان کے دعوؤں کی تصدیق نہیں کی بلکہ وہ مدارس میں جدّت لانے کے لئے حکومت کی کوششوں کے حامی رہے ہیں۔ یہ حقا ئق دہشت گردوں کے بھی بے بنیاد پروپیگنڈے کو رد کرتے ہیں مگر ہمیں اس بات کو علمی اور عملی طور پر ثابت کرنا ہوگا ۔۔ اور یہ تب ہی ممکن ہے کہ مدرسوں کو بھی ساتھ لے کر چلاجائے ۔۔ انھیں بھی جدید تعلم و تربیت فراہم کرنے کا موقع دیا جائے ۔۔ ان میں اصلاحات کرکے انھیں بھی جدید دنیاوی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم و تربیت فراہم کرنے والے ادارے بنائیں جائیں ۔۔ جب ایک حافظ قرآن ، قرآن و حدیث کا علم رکھنے والا پولیس ، افواج ، حکومت ، اور دیگر اداروں میں جائے گا اور ملک کو قوم کی خدمت کرے گا تو آدھے سے زیادہ ملکی مسائل خود ختم ہوجائیں گے اور ایک جدید معاشرے کی تعمیر ہوگی ۔۔ شاید ہم پرانے وقتوں کی طرح کسی بادشاہ کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ آئے گا تو ایک نیا شہر بسائے گا جس میں ہر وعلوم کے ماہر دینی یا دنیاوی سب کو جمع کرے گا اور انھیں آنے والی نئی نسلوں کو سکھائے گا ۔۔ اب جو کرنا ہے ہم مل کر ایک قوم بن کر کرنا ہے ۔۔
یہ ذمہ داری ہمیں سمجھنی چاہیے کہ ہم اپنی اولادوں ، چھوٹے بہن بھائیوں کو کیا تعلیم دے رہے ہیں ایسے ادارے میں کیوں نہیں بھیجتے جہاں سے دین و دنیا دونوں کی تعلیم و تربیت حاصل ہو ۔۔ دونوں علوم سکھائے جائیں ۔۔ کیا کبھی آپ نے سکول والوں سے پوچھا کہ یہاں پر بچوں کو دینی تعلیم کے لیے کیا انتظامات ہیں یا کیا کبھی آپ نے مدرسہ والوں سے پوچھا کہ یہاں پر دینی علوم کے ساتھ ساتھ کون سے دنیاوی علوم سکھائے اور پڑھائے جاتے ہیں ؟؟

حقیقت میں دہشت گردوں کی مدارس اور علماء سے تو دشمنی ہے وہ انھیں بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر ہمیں سوچنا چاہیے اور دہشت گردی کی سوچ کو ختم کرنے کے لیے مل کر ملک و قوم اور دنیا و آخرت دونوں کا سوچنا چاہیے ۔۔ ہمیں مدرسوں اورعلماء کے تحفظ اور مدرسوں میں اصلاحات لانے کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مکمل ساتھ دینا چاہے۔حکومت کو بھی چاہیے ۔۔ کہ وہ مدرسوں میں اصلاحات کرے اور مناسب تعلیم و تربیت کا بندوبست کرے کہ مدرسوں سے فارغ ہونے والے طلباء ناصرف دینی علوم کے ماہر ہوں بلکہ دنیاوی علوم پر بھی بھرپور دسترس رکھتے ہیں ۔۔ تاکہ ہمارے آنے والے حکمران بھی دین و دنیا دونوں کا علم رکھتے ہوں ۔۔

مدارس کے مندرجہ ذیل تعلیمی شعبوں کے متعلقہ مضامین پر توجہ دینے کی ضرورت ہے:
علوم قرآنیہ:
اس موضوع پر مدارس کے طلبا کو تمام آیات جہاد اور خاص طور پر ان 24 آیات جہاد اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے دوران لڑی گئی دفاعی جنگوں کی مدلل اور تشفی بخش وضاحت دیا جانا ضروری ہے۔ طالب علموں کو مطمئن کیا جانا چاہیے اور جنگ سے متعلق قرآن مجید کے ان احکامات کے بارے میں مستشرقین، اسلام مخالف اسکالرس اور مغربی مصنفوں کے ذریعہ اٹھائے گئے ان شکوک و شبہات کے عقلی دلائل اور جوابات بھی دیے جانے چاہیے جو ان کی نظروں میں قابل اعتراض ہیں۔

اس کے علاوہ، فقہ سے متعلق مسائل کا بھی قرآن کے ساتھ ہم آہنگ ہونا لازمی ہے اور موجودہ ضروریات اور وقت کی تبدیلیوں کے مطابق ان کی تعلیم دی جانی چاہئے۔ قرآنی علوم پر جدید مطالعہ کے ایک تعارف سے عالمگیر قرآنی پیغامات کی مختلف اور ہم آہنگ جہتوں کو سمجھنے میں مدارس کے طالب علموں کو مدد ملے گی۔

کتب حدیث :
کتب احادیث و سیر پر مستشرقین کی تحریروں کا ایک معروضی، وسیع الذہن اور تنقیدی مطالعہ بھی مدارس میں شامل کیا جانا چاہیےتاکہ کتب احادیث کے مندرجات پر ان کے سوالات کے واضح جوابات طالب علموں کو فراہم کرائے جا سکیں۔ مختلف اور متضاد احادیث کے درمیان تطبیق پیدا کرنے اور ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے کے اصول و ضوابط کی بھی تعلیم طلباء مدارس کو دی جانی چاہیے تاکہ کسی خاص نص حدیث کو قبول کرنے اور مسترد کرنے کے تعلق سے ان کے پاس ایک واضح نقطۂ نظر ہو۔

فقہ اسلامی :
مدارس کے طلباء کو اس پس منظر کا ایک جامع مطالعہ بھی فراہم کیا جانا چاہئے جس کی وجہ سے مختلف مکاتب فکر کا وجود ہوا۔ فقہ اسلامی کا فلسفہ صرف اسی وقت سمجھا جا سکتا ہے جب چاروں فقہی مذاہب (حنفی، مالکی، حنبلی اور شافعی) کا تفصیلی اور تنقیدی مطالعہ کیا جائے

جدید علم الکلام :
علوم نقلیہ کے ساتھ عقل کا استعمال مدارس کے نصاب میں کی نمایاں خصوصیت ہونی چاہئے۔ ہمیں جدید عقلی بنیادوں پر مذہبی عقائد کی تشریح اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ 21 ویں صدی میں ہمیں کلام الٰہی کی تشریح میں جدید سائنس اورجدید علم الکلام پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ دراصل مدارس کے نصاب میں ایک عقلی تحریک کی ضرورت ہے۔ قدیم فلسفے میں پائی جانے والی مناظرانہ بحثوں کو برطرف کرتے ہوئے مدارس کے طلبا کو جدید فلسفہ پر توجہ دینا اشد ضروری ہے

تقابل ادیان :
مدارس کے طلباء کا عیسائیت، یہودیت، بدھ مت، ہندو مت جیسے تمام عالمی مذاہب اور جدید مذہبی معاملات اور حالات سے واقف ہونا ضروری ہے۔ انہیں مختلف مذاہب اور ساتھ ہی ساتھ مذہب کی متنوع تشریحات کا مطالعہ کرنے کے جدید طریقہائے کار سے بھی آگاہ کیا جانا چاہئے۔ دنیا کے بڑے مذاہب اور ان کی مقدس کتابوں کے تقابلی جائزہ سے ان کی فکر میں گہرائی و گیرائی پیدا ہوگی اور ان کا ذہن وسیع ہوگا

اسلامک فائنانس :
اسلامی بینکاری نظام کی وسیع پیمانے پر مقبولیت کے پیش نظر مدارس کے طلبا کو اسلامی فائنانس کے بھی نظریات و تصورات کی تعلیم دی جانی چاہئے۔ انہیں اسلامی مالیاتی اداروں کے نظام سے واقفیت حاصل ہونی چاہئے۔ مدارس میں اس موضوع کی اہمیت اس وقت بڑھے گی جب حکومتیں اپنے بینکوں میں اسلامی بینکاری کا نظام شروع کرنے کی اجازت دیں گی۔ اگر مدارس کے طالب علموں کو اسلامی سرمایہ کاری کے اصولوں اور موجودہ مالیاتی مارکیٹ میں ان پر عمل درآمد کی تعلیم دی جائے گی تو وہ مارکیٹ میں دستیاب ملازمتوں کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ اور اس طرح وہ اپنی محدود سوچ کی خول سے باہر آ پائیں گے۔

مدارس کے موجودہ نصاب میں ان بڑی تبدیلیوں کے علاوہ ان میں جدید علوم اور تمام جائز تعلیمی سرگرمیوں کی گنجائش ہونی چاہئے۔ کم از کم مدارس کے طالب علموں کو تاریخ، جغرافیہ، سماجیات، معاشیات، طبیعیات، سیاسیات اور حکومتی انتظامیات جیسے بنیادی سیکولر مضامین کی تعلیم بھی دی جانی چاہیے تاکہ ان کے ذہن و فکر میں کشادگی پیدا ہو۔ بہت اچھا ہو گا اگر مدارس کے طالب علموں کو ان کی شخصیت سازی کے لیے جدید اخلاقی تعلیمات فراہم کی جائیں اور انہیں سافٹ اسکلز سمجھایا جائے

یہ مدارس دینی تعلیم مسلک کی بنیاد پر دیتے ہیں جس سے دینی افراد او رجماعتوں کے درمیان نہ صرف خلیج پیدا ہو چکی ہے بلکہ روز بر وز بڑھ رہی ہے ۔ اس نے نہ صرف مسلم عوام اور اُمت کو منقسم کر رکھا ہے بلکہ آپس میں بھی سرپھٹول سے آگے بڑھ کر نوبت قتل وغارت گری تک پہنچ چکی ہے ۔ مدرسوں کے علاوہ مسجدوں پر بھی اہل مسلک کا قبضہ ہے او رمسجدیں اللہ کے گھر بننے کی بجائے مسلکوں کے گڑھ بن چکی ہیں۔

دینی مدارس نے عصری علوم سے عدمِ اعتماد کی پالیسی کو مضبوطی سے پکڑ رکھا ہے۔ اس وجہ سے عصر حاضر میں اسلام اورمسلمانوں کو جو چیلنج درپیش ہیں، وہ نہ اُنہیں سمجھ سکتے ہیں او رنہ اس کا مسکت جو اب دے سکتے ہیں۔ اس لیے بھی جدید عصری تقاضوں کو بھی پورا کرنے کے لیے اصلاحات لازمی ہیں ۔۔

جدید تعلیم جوپاکستان میں مروّج ہے، اُس میں دینی تعلیم و تربیت کا حصہ برائے نام ہے۔ علما نے اِس خلا کو پر کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش آ ج تک نہیں کی، حالانکہ یہ ایک انتہائی بنیادی بات ہے اوراس کے لیے مربوط اور منظم کوششیں کی جانی چاہئیں تھیں۔

دینی مدارس کے انتظامی پہلوؤں پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے۔ ہر مسلک کا اپنا وفاق ہے جو اپنے مسلک کے نقطہ نظر سے کتابیں پڑھاتا ہے ۔ طلبہ کے داخلہ کے وقت عمر اورصلاحیت کی کوئی پابندی نہیں کی جاتی۔ اساتذہ کی اہلیت او رتنخواہوں کا کوئی معیار مقرر نہیں۔اساتذہ کی فنی تربیت کا بھی کوئی اہتمام نہیں ،نیز اِن مدارس سے فارغ ہونے والوں کے لیے سوائے اپنے مسلک کی مساجد ومدارس میں تعیناتی کے، کوئی ذریعہ رزق نہیں او رجتنے طلبہ فارغ ہوتے ہیں،ظاہر ہے اتنی مساجد اور مدارس موجود نہیں اگر انھیں وقت کے جدید اور بغیر مسلکی تفریق کے پڑھایا اور سنا جاتا تو وہ اگر کہیں نا کہیں کوئی نا کوئی دوسرا دنیاوی اور حلال رزق کے حصول کے لیے کوشش کر سکتے ہیں ناکہ کسی دوسرے کو ہٹا کر اسکی مسجد پر قبضہ کرنے کی سوچ رکھتے ہوں۔۔ اس لیے اصلاحات سے پرامن معاشرے کی تشکیل کی کوشش ضرور کرنی چاہیے ۔۔

یہ بہت اہم قومی مسئلہ ہے اور ہم مزید تاخیر کے متحمل نہیں ہو سکتے کیونکہ قوم کی فلاح وبہبود کے لیے بھی مدارس کے نصاب میں جدت لانا ایک ناگزیر امر ہے ۔ ملک بھر میں ہزاروں مدرسے موجود ہیں اور ان کے اندراج اور نگرانی کا کوئی یکساں نظام موجود نہیں۔ اس کے علاوہ مدرسوں کے نصاب اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا عمل خاصا محنت طلب کام ہے جس کے لیے اب تک کوئی واضح حکمت عملی وضع نہیں کی گئی۔ حکومت اس پر کوئی جارحانہ اقدام اس لیے نہیں کر رہی کیونکہ کچھ لوگ خفا ہو سکتے ہیں۔ اس پر جب تک پوری توجہ، اہداف مقرر کر کے بلاخوف کام نہیں ہو گا اس پر کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہیں نکلے گا ۔۔ اگر ملک و قوم کا بھلا کرنا ہے تو مدرسوں کو بھی جدید علوم کا مرکز بنانا ہوگا ۔۔ وقت کے جدید تقاضوں کو پورا کرنا ہوگا ۔۔

حکومت کو چاہیے کہ علماء اکرام سے مشاورت کرکے مدارس میں اہم اصلاحات کرے تاکہ مدارس میں جدید وقت کے تقاضوں کو بھی پورا کیا جاسکے اور مدارس سے فارغ ہونے والے طلباء کو مناسب روزگار کے مواقع میں فراہم ہوسکیں ۔۔

10366178_909100299175915_7060001731308510005_n12278805_929824350432008_7032552825868386242_n

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on June 11, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: