پارا چنار (ParaChinar)

19598552_576511492737437_6812888940422299340_n.jpg

اگر زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارا ملک اور معاشرہ دارالفساد کا منظر پیش کررہا ہے، جہاں قتل وغارت گری، ڈکیتیاں، رہزنیاں، کرپشن، اغوا برائے تاوان، کارلفٹنگ، رشوت، ناانصافی، طبقاتی امتیاز، غربت، قبضہ مافیا، انسانی اسمگلنگ، منشیات کا دھندا، مذہبی منافرت، تنگ نظری، شدت پسندی اور انتہاپسندی کے عفریت اور بلائیں قوم پر مسلط ہیں۔ لہٰذا گذشتہ چند ماہ کے دوران سہون شریف، ڈی آئی خان، تنگی چارسدہ، شبقدر، پشاور، لاہور اور اب ایک بار پھر کرم ایجنسی کے صدرا مقام پارہ چنار میں دہشت گردی نے قیامت برپا کردی۔

میں کبھی پارہ چنار نہیں گیا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ وہ پختونوں کا علاقہ ہے میرے نزدیک پختونوں کی دوستی اور دشمنی پتھر کی لکیر ہوتی ہے پختونوں نے جب بھی کسی سے دوستی یا دشمنی کی ڈنکے کی چوٹ پر کی ۔ پہلے تومیں بتانا ضروری سمجھتا ہوں کے میں ایک سچا پاکستانی ہوں اورجرنلزم کا طالب علم ہوں۔۔۔۔دوسری بات میں صرف مسلمان ہوں اور میرا کسی مسلک کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ،، تیسری بات میں اپنی فوج کااحترام کرتا ہوں لہذا مجھے کسی کا ایجنٹ یا کارندہ نا سمجھا جائے ۔ اب میں اپنی جان کی امان پاوں تو میں اپنی تحریر کی طرف آتا ہوں ۔ رمضان المبارک میں پارہ چنارہ میں خون کی ہولی کھلی گئی صاف سی بات ہے ہولی مسلمان نہیں کھیل سکتے خوصاََ کسی کے خون سے جب لوگ عید کی شاپنگ کر رہے تھے کافی رش تھا وہاں ۔ پارہ چنار کے بارے میں تھوڑا سا بتاتا چلوں کہ پارہ چنار سے ۲۰ کلومیٹر دور افغانستان باڈر ہے جہاں پر داعش نے طالبان کو بھاگا کر قبضہ جما رکھا ہے پارہ چنار کے عقب میں زیران پہاڑی علاقہ ہے اسرائیل ، امریکہ ، افغانستان ، انڈیا داعش کو غزہ نے بنایا ہوا

پارہ چنار کرم ایجنسی میں واقع ہے اور یہ پاکستان کا حصہ ہے سرسبز پہاڑوں میں جنت کی وادی کہا جائے تو غلط نا ہو گا غریب محنت کش اور پاکستان کی محبت میں سرشار لوگ یہاں بستے ہیں لیکن کچھ بین اقوامی پاکستان دشمن ایجنڈے اور کچھ اپنے اندر کے غداروں نے اس علاقے کو غزہ بنا دیا ہے 2000سے لیکر 2017تک ہزاروں پاکستانی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جنکا ریکارڈ موجود ہے ، 27رمضان المبارک کو پارہ چنار کے مین بازار میں جب لوگ عید کی شاپنگ میں مصروف تھے پہلے ایک خود کش نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑایا دس سے پندرہ لوگ شہید ہوئے اور جیسے ہی چار پانچ سو لوگ اکٹھے ہوئے گاڑی میں موجود خود کش نے بارود سے بھری گاڑی کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں 110شہید 3سو زخمی جبکہ 70ابھی بھی لاپتہ ہیں اس وادی میں کوئی گھر ایسا نہیں جس کا کوئی رشتے داراس دہشت گردی سے متاثر نا ہوا ہو کشمیر میں انڈیا اور غزہ میں اسرائیل کی دہشتگردی پر چیخنے والواس وقت وادی پارہ چنار میں موبائل سروس انٹرنیٹ سروس بند ہے خوارک اور دوائی کا قحط پڑھ چکا ہے وہ لوگ اپنی درد کی کہانی کس کو سناہیں کوئی ہے صلاالدین ایوبی کوئی ہے محمدبن قاسم ان مظلوم مسلمان پاکستانیوں کی آواز سننے والا ؟؟

پارا چنار کے واقعے نے چند سوال میرے ذہن میں دوبارہ اٹھائے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پر کس حد تک عمل درآمد ہوا، اور اگر نہیں ہوا ہے تو اس کی وجوہات کیا ہیں؟ بہرحال ماننا پڑے گا کہ نیشنل ایکشن پلان کو تاحال صحیح معنوں میں عمل کے قالب میں نہیں ڈھالا گیا، جس کا نتیجہ ہم موجودہ دہشت گردی کی نئی لہر کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے ملک میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکم رانوں کی زبان سے یہی الفاظ نکلتے ہیں کہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، دہشت گردوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا، لیکن دہشت گردی کے اس مسئلے کے دیرپا حل پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا جاتا کہ ’’یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے۔‘‘ دوسرا پارا چنار والا واقعہ بھی پانامہ کیس سے توجہ ہٹانے کے لیے تو خود ہی نہیں کروایا گیا جیسا کہ بھارتی فیلموں میں دیکھایا جاتا تھا کہ حکومت دنگے فساد خود یا دوستوں کی مدد سے بھی کرواتی ہے اپنی کرسیوں کو بچانے کے لیے ۔۔ وہ بھی عین اس وقت جب ملک کا سربراہ جس پر الزام آنے کا ڈر ہو وہ بیرون ملک چلا جائے جیسا باہر کہ نواز شریفھ صاحب بھی پاکستان سے باہر تھے اور واپس آکر ایسے خاموش ہوئے جیسے انھیں کچھ معلوم ہی نہ ہو کہ ہوا کیا ہے ۔۔

جب تک دہشت گردی کے پس پشت نظریہ اور سوچ کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اور ذہنوں کو بدلا نہیں جاتا تب تک اس پر مکمل قابو پانا ممکن نہیں، کیوں کہ یہ ایک مائنڈسیٹ ہے اور جب تک اس مائنڈ سیٹ کو مکمل طور پر مات نہیں دی جاتی اس وقت تک اس عفریت سے نجات پانا مشکل ہے اور مائنڈسیٹ کو بنانے کے لیے جہاں بھی بیج بوئے جاتے ہیں اس کے خلاف سخت ایکشن لینا ہوگا۔

آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ کے ذریعے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی محسوس کی گئی اور ملک کے جن جن علاقوں میں ضرب عضب کے نام سے طویل اور بھرپور آپریشن کیا گیا اس کے نتیجے میں دور افتادہ اور دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو پالیا گیا اور ان علاقوں کو تخریب کاروں سے پاک کر دیا گیا، لیکن ہمیں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کرنا چاہیے کہ ان عناصر کی باقیات کی طرف سے اب بھی موقع ملنے پر کوئی نہ کوئی حملہ اور دھماکا کر دیا جاتا ہے ۔ جس میں بیرونی عناصر کے ہاتھوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ملک کی تقدیر بدلنے والا عظیم منصوبہ پاک چائنا اکنامک کوریڈور بھی دشمنوں کی آنکھوں میں بری طرح کھٹک رہا ہے۔

جہاں تک آپریشن ’’ردالفساد‘‘ کا تعلق ہے تو اس سے عوام پُرامید ہیں کہ ردالفساد سے ملک میں فساد کی جتنی اور جس قسم کی بھی جڑیں ہیں ان تمام کا خاتمہ کیا جائے گا۔
مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ سیکیوریٹی اداروں کے ساتھ ساتھ ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتیں، لکھاری و دانش ور، علماء کرام، سیکیوریٹی ایجنسیاں، صوبائی حکومتیں اور خصوصاً ہمارا میڈیا ایک ہی صف میں کھڑا ہو، کیوں کہ کہ آج ہم ایک خطرناک سماج میں رہتے ہیں اور یہ وہ سماج ہے کہ جس میں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ سیاست داں ہوں یا عام آدمی، یہاں تک کہ اب ہمارے معصوم بچے، میڈیا، فوج اور پولیس بھی محفوظ نہیں۔ ان میں سے کوئی بھی کسی بھی وقت ان جانے اور کبھی قابو نہ آنے والے دشمنوں کی زد میں آسکتا ہے۔ حد یہ ہے کہ ان لوگوں سے عبادت گاہیں، مزارات، تعلیمی ادارے، عدالتیں اور جنازے بھی محفوظ نہیں، ملک کے درجنوں شہروں اور سیکڑوں قصبوں میں کوئی مسجد ایسی نہیں جہاں مسلح پہرے داروں کی موجودگی کے بغیر نماز ادا کی جاتی ہو، مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہیں اس سے زیادہ غیرمحفوظ ہیں، ہمارے اسکول، کالج اور یونی ورسٹیاں بھی پولیس چوکیوں کا منظر پیش کررہی ہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ دہشت گردی کے جس عفریت کا آج ہم سامنا کررہے ہیں وہ غربت، معاشی ناہمواری، مذہبی شدت پسندی اور فرقہ پرستی سے پیدا ہوئی ہے ۔

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مذہبی عزائم میں معقولیت کی حد سے آگے نکل جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے عقائد دنیا میں سب سے زیادہ معقول اور سچے ہیں اور انہیں اپنے نظریات کو زورزبردستی سے نافذ کرنے کا حق ہے، لہٰذا پوری دنیا پر ان عقائد کی بالادستی قائم کرنا لازم ہے یہاں سے وہ ایک قدم آگے جاتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ چوں کہ وہ حق پر ہیں لہٰذا دوسروں کو ان کی پیروی کرنا ہوگی اور وہ اگر ایسا کرنے سے انکار کرتے ہیں تو پھر ان کو ’’بے راہ روی‘‘ کی سزا بھگتنی ہوگی۔ ان کو طاقت کے استعمال کے ذریعے سیدھی راہ پر لایا جائے گا گویا بنیادپرست اور شدت پسند عناصر اپنے عقائد واقدار کو جارحانہ انداز میں دوسروں پر ٹھونسنا اپنا فرض عین سمجھتے ہیں، بنیاد پرستی کی ضد اعتدال پسندی یا میانہ روی ہے، خوش قسمتی سے اعتدال پسندی کو دنیا کے تمام مذاہب کی تائید حاصل رہی ہے۔ ہمارے دین اسلام میں بین المذہبی معاملات میں بنیادی اور راہ نما اصول قران حکیم کے الفاظ میں یہ ہیںکہ ’’دین میں کوئی جبر نہیں۔‘‘ آج کی بدلتی ہوئی صورت حال کے تناظر میں اس سے اچھا اصول اور کیا ہوسکتا ہے۔

یہ ایک تاریخی موقع ہے اور اگر خدا نخواستہ ہماری قومی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف یہ موقع بھی ضائع کردیا اور عملاً اس کے خلاف موثر کردار ادا نہیں کیا تو اس کے نتائج ہم سب کے لیے انتہائی خطرناک ہوں گے۔
آج کی صورت حال کا تقاضا یہ ہے کہ ملک میں پھیلی ہوئی دہشت گردی، انتہاپسندی، فرقہ واریت اور مذہبی شدت پسندی کی جو سماجی، سیاسی، مذہبی اور ثقافتی وجوہات ہیں، ہمیں ان وجوہات کو جانا اور سمجھا جائے کہ ’’یہ نصف صدی کا قصہ ہے دوچار برس کی بات نہیں‘‘ کیوں کہ دہشت گردی کا پودا اب تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے جسے پانچ اہم ذرائع سے توانائی مل رہی ہے، جغرافیائی یا جسمانی، معاشی، سیاسی اور افرادی قوت کی وافر مقدار میں دست یابی نے پاکستان کو دہشت گردوں کے پھلنے پھولنے کا عالمی صدر مقام بنادیا گیا تھا جس پر آپریشن ضرب عضب پھر اسکے بعد آپریشن ردالفساد سے قابو پانے کی کوشش جاری ہے ۔۔

پارا چنارسے کوئٹہ اور کراچی تک دہشت گردی کے واقعات نے ایک بار پھر سارے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ واقعات کی سنگینی کے پیش نظر پاک فوج کی قیادت کا اعلیٰ سطح کا سکیورٹی اجلاس طلب کیا گیا۔ اس موقع پر بریفنگ دی گئی کہ دہشتگردی کے حالیہ واقعات افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس اور بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی ملی بھگت کا شاخسانہ ہیں۔ خیر اس میں تو کوئی راز کی بات نہیں۔ اس اجلاس کی سب سے اہم بات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے مطابق نائن الیون کے بعد سب سے زیادہ دہشت گردی کا سامنا پاکستان نے کیا اور اس مصیبت کے خاتمے کیلئے اپنی بساط سے بڑھ کر کردار ادا کیا مگر ہماری قربانیوں کا اعتراف کرنے کے بجائے ہم ہی سے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کیا گیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ دیگر سٹیک ہولڈرز خصوصاً افغانستان دہشت گردی کے خلاف مزید اقدامات کرے۔ آرمی چیف کی باتیں سو فیصد درست ہیں۔ انہوں نے اپنے خطاب میں نام لیے بغیر امریکہ کا بھی ذکر کیا۔ یقیناًپاکستان کو دہشت گردی کے خلاف کئی آپریشن کرنے کے باوجود تاحال اس عفریت سے پوری طرح چھٹکارا نہیں مل سکا مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ افغانستان سے ایسی ’’نیکی‘‘ کی امید رکھنا خود کودھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ہماری سرحدی صورت حال اس قدر پیچیدہ ہو چکی ہے کہ اب بھارت ہی نہیں چین کے سوا تمام پڑوسی ممالک ’’دانت پیستے‘‘ نظر آرہے ہیں۔ ان سطور میں پہلے بھی عرض کیا جا چکا ہے کہ ہر بدخواہ کو اپنی اپنی تکلیف ضرور ہے مگر سب کا مشترکہ ہدف ’’سی پیک‘‘ ہے۔ آجکل ملک کے اندر جو تماشا چل رہا ہے اس کا بنیادی مقصد بھی افراتفری پیدا کر کے پاکستان کو ترقی ہی نہیں بلکہ سالمیت کی پٹڑی سے بھی اتارنا ہے۔

پورے منظر نامے کو پیش نظر رکھ کر سازش بھانپتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارا چنارمیں دہشتگردی کے واقعہ کے بعد گمراہ کن مہم چلائے جانے کا بروقت نوٹس لیا ہے۔ سوشل میڈیا پر چلائی جانے والی اس مہم کے ذریعے وارداتوں کو دانستہ طورپر فرقہ وارانہ منافرت کا رنگ دیا جارہا ہے، مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء سے ملاقات کے دوران آرمی چیف نے کہا کہ دشمن ہمیں دہشتگردی کے ذریعے تقسیم کرنے کی سازش کررہا ہے، اگرچہ اس کو منہ کی کھانا پڑی ہے پھر بھی ہم سب کو اس گمراہ کن مہم سے آگاہ رہنا چاہیے۔آرمی چیف نے ایک سنگین سازش کو بے نقاب کر کے بہت صائب کام کیا ہے مگر یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ ملک میں ایک نہیں کئی سازشیں چل رہی ہیں۔ اب تو یہ راز نہیں رہ گیا کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی منظم منصوبہ بندی کن عناصر نے کی اور ان کے آلہ کار کون ہیں؟ سرحدوں کے پار جاری سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور جوابی حکمت عملی تیار کرنے کے بجائے اقتدار کے تمام سٹیک ہولڈر آپس میں گتھم گتھا ہو کر ریاست کو تماشہ بنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

تہوار کے مطابق لکھنا تو عید مبارک کے حوالے سے تھا،لیکن ہمارے بدترین خدشات ہی کے مطابق دہشت گردوں نے اپنا وار کیا اور پارہ چنار کو خون میں نہلا دیا، پورا مُلک سوگوار ہو گیا ۔ ابھی ایک چند روز قبل ہی تو بھارتی جاسوس کلبھوشن کے اقبالی بیان کی دوسری ویڈیو وائرل ہوئی اور یہ وارداتیں شروع ہو گئیں، بلا لحاظ فوری خیال اسی طرف جاتا ہے کہ بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا تفصیلی ذکر آیا تو اگلے ہی روز یہ سب ہو گیا، کیا یہ ثابت کرنے کے لئے ہے؟ کہ ’’ہم ہیں‘‘۔

دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں یہ پہلی بار نہیں کہ عام شہریوں کے ساتھ ساتھ محافظ اداروں کے لوگوں نے بھی جامِ شہادت نوش کیا ہے۔ پولیس فوج، رینجرز اور فرنٹیئر فورس جیسی سیکیورٹی فورسز نے بھی بے بہا قربانیاں دی ہیں اور اب تک ہزاروں افراد دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں، ہماری مسلح افواج نے سوات آپریشن کے بعد آپریشن ضربِ عضب اور اب آپریشن ردّالفساد سے دہشت گردوں سے سب علاقے واگزار کرا کے ان کو مار بھگایا ہے اور بلاشبہ یہ بذاتِ خود ایک بڑا کارنامہ ہے،لیکن مُلک کے اندر ہونے والی وارداتوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے ’’سلیپر سیل‘‘ تو دور کی بات سراغ بھی بہت کم ملا ہے۔ یوں بھی ہمارے اپنے شہروں اور دیہات میں سادہ لو ح انسانوں کی کمی نہیں، جو ان دہشت گردوں کے پروپیگنڈے سے متاثر ہیں اور ان کو صحیح راہ پر سمجھتے ہیں،انہی میں سے سہولت کار ہوتے ہیں اور یہ مجرم ایسے ہی لوگوں کے پاس پناہ بھی لیتے ہیں، اِس سلسلے میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہے اور گرفتاریاں بھی ہوتی ہیں

پارہ چنار میں بار بار سنگین ترین قسم کی دہشت گردی کے پے در پے واقعات پر دل مسوس کر رہ جاتا ہے مگر دہشت گردوں کی دہشت گردی کی پیاس سینکڑوں جانیں لے کر اور اتنے ہی کو زخمی و معذور، بچوں کو یتیم’ خواتین کو بیوہ’ بہنوں بیٹیوں اور مائوں کو ماتم کناں سانحات سے دو چار کرنے کے بعد بھی نہیں بجھتی۔ اس وقت جبکہ ملک بھر میں آپریشن رد الفساد کے تحت فسادیوں کو پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالنے کی مہم جاری ہے ساتھ ہی دہشت گردوں کے ساتھیوں کو تختہ دار پر چڑھایا جا رہا ہے۔

سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ پارا چنار کا دورہ کیا اور انھوں نے کہا تھا اس موقعہ پر کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات کو فرقہ وارانہ اور لسانی رنگ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فوج سوشل میڈیا پر جاری مذموم مہم کو بغور دیکھ رہی ہے۔ قوم کو بھی اس سازش کو سمجھنا ہو گا۔ موجودہ حادثات کو دانستہ طور پر فرقہ وارانہ منافرت کا رنگ دیا جا رہا ہے۔

ہمارے وزیر داخلہ جو چھوٹے چھوٹے واقعات پر لمبی لمبی پریس کا نفرنسیں کرنے کی شہرت رکھتے ہیں دہشت گردی کے اس واقعہ پر مکمل خاموش رہے ،جس سے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو اس واقعے کو مزید سنگین تر بنانے کے لیے من پسند بے بنیاد پروپیگنڈاکرکے دہشت گردی کے متاثرین کو گمراہ کرنے کا موقع ملا تھا ۔

پارا چنار دہشتگردی میں 67 افراد شہید اور 300 کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ وزیراعظم کو سانحہ احمد پور شرقیہ کے متاثرین کی دلجوئی کے فوری بعد بلاتاخیر پارا چنار جا کر متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرنا چاہئے تھی لیکن ابھی تک ان کا پارا چنار جانے کا کوئی شیڈول سامنے نہیں آیا۔ جبکہ اس کے برعکس پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ نے اس واقعے کے فوری بعد پارا چنار جانے کی کوشش کی لیکن موسم آڑے آگیا اور ان کا ہیلی کاپٹر وہاں نہیں اترسکا، پاک فوج دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہے۔ وہ پاک فوج کو جہاں موقع ملتا ہے نشانا بناتے ہیں۔ قوم میں فوج کو متنازع بنانا بھی دہشت گردی ہے ۔۔

سانحہ پارا چنار کا مقصد عالمی ایجنڈے کو پروان چڑھاتے ہوئے پاکستان کو ایک ناکام ریاست ثابت کرنا اور برادرہمسایہ ملک ایران سے تعلقات متاثر کرنا بھی ہوسکتا ہے، جبکہ ہمیں افغانستان میں داعش کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ اب جبکہ آپریشن ِ ضرب عضب اور ردالفساد کی کامیابی نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے تو انہوں نے آسان ہداف کی تلاش شروع کردی ہے جس میں افغان سرحد پر واقع پارا چنار شہر کو نشانہ بنانا شامل ہے، دشمن قوتیں اچھی طرح جانتی ہیں کہ پاکستانی قوم نے ماضی میں درپیش تمام چیلنجز کا مقابلہ متحد ہوکر کیا ہے اوریہی وجہ ہے کہ اب فرقہ واریت کا زہر پاکستانی معاشرے میں پھیلانے کیلئے سرتوڑ کوشش کی جارہی ہے، ان تمام خفیہ عناصر کا پتا لگانا نہایت ضروری ہے جنہوں نے آناََ فاناََ سوشل میڈیا نفرت آمیز پروپیگنڈہ شروع کردیا،ایسا بہت زیادہ قابلِ اعتراض اورناقابلِ اشاعت مواد واٹس ایپ ، فیس بک وغیرہ پر میری نظر سے بھی گزرا ہے جو سانحہ پارا چنار کے حملہ آوروں اوراسکی آڑ میں نفرت انگیز مواد کی تیاری اورنشر واشاعت کرنے والوں کے مابین قریبی تعلق ظاہر کرتا ہے۔بطور پاکستانی شہری ہم سب کیلئے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ سانحہ پارا چنار کی آڑ میں سوشل میڈیا پر مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا، ایک دوسرے کے خلاف نازیبا زبان کا استعمال اور مختلف فرقوں کے مابین دشمنیوں میں اضافہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مکاتبِ فکر متفقہ طور پر دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے ایسے حملوں کو کسی مخصوص کمیونٹی پر نہیں بلکہ پاکستانیت پر حملہ قرار دیں، صرف بیان بازی سے کام نہیں چلے گا بلکہ تمام مذہبی طبقات کو عملی طور پر اپنے طرز عمل سے ثابت کرنا چاہئے کہ دہشت گردوں کا تو واقعی کوئی مذہب نہیں ہوتا لیکن دہشت گردی کے نتیجے میں جان کی قربانی دینے والے کا مذہب ضرور ہوتا ہے اور دنیا کا ہر مذہب ایک دوسرے کا احترام سکھاتا ہے بالخصوص اس دنیا سے چلے جانے والوں کو اچھے الفاظ سے یاد کرنے کی تلقین تو ہر مذہب کی تعلیمات کا حصہ ہیں،میں سمجھتا ہوں کہ ملک بھر میں بین المذاہب ہم آہنگی، برداشت اور صبروتحمل کے کلچرکو فروغ دینے کیلئے دارالحکومت اسلام آباد سے نکل کر ہمیں ملک کے کونے کونے میںایسی تقریبات کے انعقاد کی ضرورت ہے جس میں تمام مکاتب فکر کے حقیقی نمائندوں کی شرکت یقینی بنائی جائے۔میں اہلیانِ وطن سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ وہ خدارا دشمن کی سازش کو سمجھیں، پاکستانی معاشرےکو غیرمستحکم اورشدت پسندی کی طرف مائل کرنے میں یقینی طور پر بیرونی عوامل ملوث ہیں جنکا پسندیدہ ہتھیار مخصوص مذہبی اقلیت کونشانہ بناکر دیگر برادریوں کے خلاف نفرت کی دیوار کھڑی کرنا ہے،پاکستان کے دشمنوں کی سازش ناکام بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اہلیانِ پاراچنار کے ساتھ غیرمشروط اظہاریکجہتی کیا جائے، آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے دورہ پارا چنار کے دوران مقامی باشندوں کی غلط فہمیاں کافی حد تک دور کردی ہیں، دہشت گردوں کے عزائم کو خاک میںملانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پاکستان کے تمام شہری قومی یکجہتی کو مستحکم کرتے ہوئے فرقہ واریت پھیلانے کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیں۔

پارہ چنار سے 20کلومیٹر افغانستان کا علاقہ ہے تورا بورا جہاں پر داعش نے طالبان کو بھاگا کر قبضہ کر لیا ہے پارہ چنار کے عقب میں زیڈان پہاڑی پر اگر آپ کھڑے ہوں تو تورا بورا آپ کو نظر آجائے گا ،، اسرائیل ، امریکہ ، افغانستان ، انڈیا داعش کی مدد کر رہا ہے تاکے 2018 تک پاکستان میں داعش کے ذریعے دہشت گردی کروائی جائے اور سی پیک منصوبے کو روکا جا سکے پارہ چنار کو غزہ بنانا بین الاقوامی منصوبہ ہے اس وادی میں شعیہ برادری زیادہ آباد ہے تاریخ گواہ ہے شعیہ ہمیشہ امریکہ کے خلاف لڑ رہے ہیں ایران میں صرف شاہ ایران امریکہ حامی تھا جسکو اس کمیونٹی نے خیمنی کی قیادت میں مار بھاگیا لیکن افسوس ہماری حکومت اور ادارے اس ایجنڈے کو سمجھ نہیں رہے یا سمجھنا نہیں چاہتے ۔ کہ ہمارا دشمن ہماری اپنی صفوں کے اتحاد کو ختم کر کے اس کو شام و غرہ بنانا چاہتا ہے۔۔

اب پاکستان کے دشمنوں نے جو اندرونی بھی ہیں اور بیرونی بھی، خدا نہ کرئے پاکستان کو شام اور عراق بنانے کا سوچا ہےجس کے لیے پہلی مرتبہ پارا چنار کے دھرنے کو استمال کیا گیا ہے۔ پارا چنار کے پہلے دو دن کے دھرنے میں میڈیا اور سوشل میڈیا دہشتگردی پر بات کرتے رہے، لیکن پھر اچانک میڈیا اور خاصکر سوشل میڈیا پر فرقہ وارانہ جنگ شروع ہوگئی ، اب دہشتگردی کورونے کے بجائے سعودی عرب اور ایران کے حامی ایک دوسرئے کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ بہت سے نام نہاد دانشور ایک دوسرئے کے مسلک کو برا ثابت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ پاکستان فوج کو کہنا پڑا کہ ’دشمن کی خفیہ ایجینسیاں اور ملک دشمن عناصر حالیہ واقعات کو جان بوجھ کر فرقہ وارانہ اور نسلی رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں‘۔ افسوس ایسا اب تک ہورہا ہے، اس ملک میں رہنے والے ہر فرد کو بغیرنسلی یا مذہبی امتیاز برابر کے حقوق حاصل ہیں۔

وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے وزیر داخلہ نے پارا چنار نہ جاکروہاں کے عوام کوشایدیہ پیغام دیا ہے کہ ’ہم میں سےانسانیت مرچکی ہے‘، لیکن میری پاکستان کے عوام سے ہاتھ جوڑ کر عرض ہے کہ اس ملک کے اصل مالک آپ ہیں لہذا خدارا متعصب مذہبی اورفرقہ وارانہ تحریروں کا اثر نہ لیں اور آپس میں اتحاد قائم رکھیں۔ میری اپنے دانشوروں سے بھی درخواست ہے کہ اپنی تحریروں سے پاکستان مخالف عناصرکی مذمت کریں اور عوام کے لیے وہ تحریریں لکھیں جس سے عوام میں یکجھتی پیدا ہو۔

19510117_2003958166502648_4117155935539404901_n (1)19511583_466292857053794_7518105386514230226_n (1)19555026_715278945330578_2079826157943422263_n19642248_2003944436504021_7091966876723093147_n19511211_1827540764242069_1719181787893296704_n

 

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on July 1, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: