Panama Case

18034062_447959062217800_1822820330680703130_n.jpg

پانامہ لیکس کیس

پانامہ لیکس کے بعد ایک ہلچل کی سی کیفیت تھی کیونکہ اس میں کہیں سرمایہ داروں کے خفیہ کاروبار اور جائداد کا انکشاف ہوا تھا. جن لوگوں کے نام اس لیکس میں سامنے آئے تھے انھے شدید اخلاقی ، سیاسی اور قانونی دباو کا سامنا کرنا پڑا. خاص کر ایسے لوگ جو پبلک آفس ہولڈر تھے ان کا خفیہ جائدادیں بنانے کا عمل انتہائی غیر اخلاقی تھا اور اس کے پس پردہ کرپشن کے سائے بھی موجود تھے.

بہت سارے ملکوں میں اخلاقی دباو کی وجہ سے عوامی نمائیندے اپنے عہدوں سے مستعفی ہوئے ، کہیں ملکوں میں سیاسی احتجاج نے شدت اختیار کی اور ہر جگہ انسداد بدعنوانی کے ادارے حرکت میں آئے اور تحقیقات کا آغاز ہوا.
پاکستان میں پانامہ کے اثرات اور اس کے متعلق ہونے والی سرگرمیاں اپنی مثال آپ رہیں. یہاں ایک عمومی تفہیم پہلے سے رائج ہے کہ بڑے عہدوں پر فائز سارے ہی لوگ بدعنوان ہیں. ان لوگوں نے ناجائز ذرائع سے دولت جمع کی ہے اور ان کی اخلاقی حالت درگوں ہے. پاکستان کے سینکڑوں شہریوں کے نام پانامہ پیپرز میں سامنے آئے اور یہ عوامی توقعات کے عین مطابق تھے.

اس بات میں کوئی حیرانگی نہیں ہے کہ جن لوگوں کے نام پانامہ پیپرز میں آئے انھوں نے بغیر کسی ندامت کے اس کو قانونی طور پر بنائی گئی جائداد قرار دیا. البتہ اس بات پر پوری قوم انگشت بدنداں ہے کہ انسداد بدعنوانی کے اداروں نے بھی ان انکشافات کو قابل اعتناء نہیں سمجھا اور کسی قسم کی کارروائی کا آغاز نہیں کیا جبکہ نیب آرڈیننس میں واضح طور پر درج ہے کہ پبلک آفس ہولڈر کے متعلقہ افراد کے نام ایسی جائدادیں جو اس کی جائز آمدنی سے زیادہ ہوں بدعنوانی تصور ہوں گی. پاکستان کے سینکڑوں شہریوں کی آف شور کمپنیوں کا انکشاف ہوا مگر نیب اور ایف بی آر نے ایک بھی نوٹس جاری نہیں کیا.

چونکہ وزیراعظم پاکستان کے بچوں کے نام ان پیپرز میں موجود تھے اس لیے اپوزیشن نے ان کے استعفی کا مطالبہ کیا. وزیراعظم نے ایک عدالتی کمیشن بنانے پر رضامندی ظاہر کی مگر اس کی ٹرمز آف ریفرنس ایسی بنائی گئی کہ عملی طور پر کمیشن کے لیے تحقیقات ناممکن ہو جائیں. سپریم کورٹ نے یہ ٹرمز آف ریفرنس مسترد کر دیں ، اپوزیشن اور حکومت میں بھی ان پر اتفاق نہیں ہو سکا. یوں سیاسی احتجاج کا دروازہ کھلا، اپوزیشن بھی اختلافات کا شکار رہی، پیپلز پارٹی سیاسی دباو بڑھانے اور پارلیمنٹ کے ذریعے احتساب کے حق میں تھی جبکہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نے احتجاج کے موثر نتائج نہ نکلنے پر سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا.

یہاں یہ بات یاد رکھنا اہم ہے کہ انسداد بدعنوانی کے اداروں کی ناکامی، بے عملی اور صاحب اقتدار لوگوں کے خلاف کسی کارروائی کے انکار نے سپریم کورٹ کو مجبور کیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 184 کے تحت اس معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے، سماعت کے لیے منظور کی گئی پٹیشنز وزیراعظم کو نا اہل قرار دینے کا مطالبہ کر رہی تھیں.

سپریم کورٹ کا پہلا بینچ وقت کے چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد ٹوٹ گیا، معاملہ دوبارہ سے نئے بینچ میں زیر سماعت آیا. بینچ کے پاس آپشن موجود تھا کہ وہ خود ٹرمز آف ریفرنس بنا کر کمیشن تشکیل دے یا خود ہی کیس کا فیصلہ کر دے. تحریک انصاف نے کمیشن کی تشکیل کے آپشن کو پہلے منظور اور پھر مسترد کر دیا.
ایک طرف کیس عدالت میں زیر سماعت تھا تو دوسری طرف عدالت کے باہر عدالتیں لگتی رہیں، اس کے علاوہ ٹیلی ویژن چینلز پر موجود نابغوں نے رونق لگائے رکھی. دونوں اطراف اپنی اپنی جیت کے دعوے کرتے رہے اور عوام عدالت کے فیصلے کا انتظار کرتی رہی.

جسٹس کھوسہ نے قرار دیا کہ وزیراعظم اپنا دفاع کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں، قطری شہزادے کا خط قانون شہادت کے مطابق ناقابل قبول ہے اور وزیر اعظم کی تقریروں میں بہت تضاد ہے اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے اس لیے انھے نا اہل قرار دیا جاتا ہے.
حدیبیہ پیپر ملز کیس دوبارہ کھولنے کے لیے اپیل دائر کی جائے.

جسٹس کھوسہ نے فیصلے کا آغاز بالزاک کے اس مشہور قول سے کیا کہ دولت کے ہر ذخیرے کے پیچھے ایک جرم چھپا ہوتا ہے. جسٹس کھوسہ نے نیب چیرمین پر شدید تنقید کی ، لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنسسز کو خارج کرنے کے خلاف اپیل نہ کرنے پر سرزنش کی اور قرار دیا کہ نیب حکمرانوں کی کرپشن کو تحفظ فراہم کر رہا ہے. پانامہ لیکس کے بعد نیب اور ایف بی آر کے کسی کارروائی نہ کرنے کو اداروں اور حکمرانوں کا گٹھ جوڑ قرار دیا. جسٹس کھوسہ نے وزیراعظم کی طرف سے لندن فلیٹس کی ملکیت سے انکار کو مسترد کر دیا اور یہ پراپرٹی خریدنے کے ذرائع اور منی ٹریل ثابت کرنے میں ناکامی پر انھے نا اہل قرار دیا. ان کے مطابق چونکہ انسداد بدعنوانی کے ادارے حکمرانوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور کسی قسم کی کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور وزیراعظم نے اپنی تقریروں میں کہا تھا کہ ہمارے پاس سب دستاویزات موجود ہیں اور ہم کچھ نہیں چھپائیں گے مگر عدالت میں انھوں نے ثبوت پیش کرنے کے بجائے ملکیت سے ہی انکار کر دیا اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے.

جسٹس کھوسہ نے لکھا کہ اگر حکمران بدعنوانی کے مرتکب ہوں ، کوئی بھی ادارہ ان پر ہاتھ ڈالنے کے لیے تیار نہ ہو تو عوامی مفاد میں سپریم کورٹ اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے فیصلہ کر سکتی ہے. انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کی تقاریر میں تضاد اور لندن فلیٹس کی ملکیت سے انکار ان کو بددیانت ثابت کرتا ہے . کلثوم نواز، مریم نواز اور حسین نواز کے مختلف انٹرویوز میں تضاد ہے اور یہ فلیٹس 1993 سے ان کے خاندان کے پاس ہیں جب ان کے بیٹے اسٹوڈنٹ تھے تو پھر ان کو خریدنے کا پیسہ کہاں سے آیا ؟ انصاف کرنے سے ادارے کمزور نہیں مضبوط ہوں گے اور قانون کی حکمرانی قائم ہو گی.

اکثریتی فیصلے میں جے آئی ٹی تشکیل دینے کے لیے کہا گیا ہے جو دو مہینے میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی جس پر احتساب عدالت میں ریفرنس دائر ہو سکتا ہے یا نا اہلی کے بارے میں فیصلہ ہو سکتا ہے.
جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ حکومت کا انتخاب پاکستان کے عوام کا حق ہے. صادق اور امین قانونی اصطلاحات ہیں نہ کہ اخلاقی معیارات ، جب تک کوئی عدالت مخالف فیصلہ نہ دے دے ہر شہری قانونی طور پر صادق اور امین ہے. اگر ادارے بہتر کام نہیں کر رہے تو ان میں بہتری لائی جائے اگر ہم نے ٹرائل کے بغیر فیصلہ دے دیا تو یہ قانون کو سر کے بل کھڑا کرنے والی بات ہو جائے گی، کوئی بھی تحقیقاتی افسر اس خیال سے کہ عدالت شاید انصاف نہ کر سکے خود ہی مجرم کو گولی مار دے گا اور پورا معاشرہ افراتفری کا شکار ہو جائے گا. اکثریتی ججز نے کہا کہ درست قانونی طریقہ اختیار کر کے ملزموں کے خلاف تحقیقات کی جائیں ، کورٹ آف لاء میں شہادتیں پیش کی جائے اور پھر ضروری ہو تو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا جائے. انھوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم کے خلاف فیصلہ کرنے کے لیے مروجہ قانونی ڈھانچے سے باہر جانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے. اس کیس میں تفتیشی ٹیم سپریم کورٹ کی نگرانی میں قائم کرے گی اور چئیرمین نیب کو کسی دخل اندازی کی اجازت نہیں ہو گی. قطری خط کو مسترد کر دیا گیا اور تفصیلی تحقیقات کا حکم دیا گیا.

سوال یہ ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے فیصلے کے بجائے تحیقات کا حکم ہی دینا تھا تو رٹ پٹیشنز کو سماعت کے لیے منظور ہی کیوں کیا گیا تھا جو وزیراعظم کی نا اہلی کا مطالبہ کر رہی تھیں ؟
جن اداروں پر سپریم کورٹ نے خود عدم اعتماد کا اظہار کیا وہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کر پائیں گے ؟
اس فیصلے سے وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مضبوط ہوا ہے اور عدالت کے ذریعے وزیراعظم کو نکالنے کے بجائے سیاسی میدان میں مقابلے کا راستہ دیکھایا گیا ہے.
جسٹس کھوسہ اور جسٹس گلزار کا فیصلہ کوئی اختلافی نوٹ نہیں ہے بلکہ الگ سے فیصلہ ہے اگرچہ وہ آرڈر کا حصہ نہیں ہے مگر اس کی اپنی قانونی حثیت برقرار ہے.

پانامہ کیس ایک شخص نہیں بلکہ پورے پاکستان کا مسئلہ ہے ۔ پاکستان میں تقریباً ایک برس قبل پاناما لیکس میں وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کے نام سامنے آئے اور اس وقت سے یہ معاملہ ملک کے سیاسی منظر نامے میں چھایا ہوا ہے ۔۔ پانامہ لیکس کا انکشاف گزشتہ سال اپریل میں ہوا ۔ پاکستان میں کمیشن اور جے آئی ٹی بناکر کسی بھی مسئلے کو بند گلی کی جانب دھکیلنے کا بہترین طریقہ سمجھا جاتا ہے اور حالیہ ڈان لیکس کی جے آئی ٹی کے نتائج اب تک سامنے نہیں آسکے جبکہ یہ جے آئی ٹی انتہائی مختصر مدت کیلئے بنائی گئی تھی لیکن بعد میں جے آئی ٹی میں اتفاق رائے اور دیگر معاملات کا بہانہ بناکر رپورٹ اب تک منظر عام پر نہیں آسکی اور نہ ہی مجرم اپنے انجام کو پہنچ سکے ہیں۔ ۔ بہرحال پانامہ لیکس کے فیصلے کی تاریخ مقرر کئے جانے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی سے یہ ثابت ہورہا تھا کہ یقینی طور پر فیصلہ وزیراعظم میاں نواز شریف کے حق میں ہی آئےگا کیونکہ یہ تاثر عام ہے کہ نوازشریف عدلیہ کی گڈبک میں ہیں۔ عدلیہ نے جے آئی ٹی میں ایم آئی‘ آئی ایس آئی‘ سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان‘ اسٹیٹ بینک‘ نیب اور ایف آئی اے کے افسران کو شامل کیا ہے جو دو ماہ میں وزیراعظم اور انکے صاحبزادوں سے روبرو تحقیقات کرکے ہر 15 دن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرینگے اور جے آئی ٹی کی رپورٹ میں اگر وزیراعظم اور انکے صاحبزادوں کو قصوروار قرار دیا گیا تو وزیراعظم کو نااہل قرار دیا جائیگا حالانکہ ماضی میں کبھی کمیشن اور جے آئی ٹی سے نتیجہ نہیں ملا اور ہر ایشو کو دبانے کا بہترین طریقہ سمجھا جاتا ہے اس لئے پانامہ کیس کے فیصلے میں جے آئی ٹی کی تشکیل سے یہی تصور کیا جارہا ہے کہ معاملے کو دبادیا گیا ہے۔
جے آئی ٹی میں فوج کی خفیہ ایجنسیوں کے علاوہ سول اداروں کے ممبران کی اکثریت ہے جو براہ راست وزیراعظم کے ماتحت اداروں میں کام کرتے ہیں اور پاکستان میں اب تک کرپشن کو فروغ بھی اسی لئے ملا ہے کہ طاقتور اپنے اختیارات اور اثرورسوخ کی بنیاد پر اپنی کرپشن پر ہر طریقہ سے پردہ ڈالنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اگر کرپشن میں پکڑ ا بھی جائے تو پلی بارگین کرکے ”باعزت“ بری ہو جاتا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے تشکیل دی جانیوالی جے آئی ٹی کیا حکومت وقت کے دباﺅ کا سامنا کرپائے گی؟ عام تاثر تو نفی میں ہی ہے اور اگر کوئی اس جے آئی ٹی سے پرامید ہوگا بھی تو شاید جے آئی ٹی کی تحقیقات بھی سپریم کورٹ کے ججز کے اختلافی نوٹ کی طرح سے آئے کہ اکثریت ممبران وزیراعظم اور ان کی فیملی کے حق میں جبکہ اقلیت ان کیخلاف رپورٹ پیش کرے تو پھر اس جے آئی ٹی کی رپورٹ کو پانامہ کیس کے درخواست گزار تسلیم کرینگے؟
پانامہ کیس پر موجودہ فیصلے کے بعد تحریک انصاف کی قیادت کو اب یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس کیس میں وزیراعظم کی نااہلی ممکن نہیں رہی اور عدلیہ کی جانب سے جے آئی ٹی بنائے جانے کے بعد وزیراعظم کیخلاف فیصلہ شاید مزید مشکل تر ہو گیا ہے کیونکہ پاکستان میں اب تک کسی کمیشن اور جے آئی ٹی سے نتائج نہیں مل سکے اور اب اس معاملے پر قوم کا وقت برباد نہیں کیا جانا چاہئے۔ عدلیہ نے پانامہ کیس پر بے شک جو فیصلہ دیا ہے وہ درست ہے اور یہ تمام معاملہ ماضی کی کرپشن پر تھا لیکن عدلیہ کو کم از کم پارلیمنٹ اور سینیٹ کو یہ ڈائریکشن ضرور دینی چاہئے تھی کہ قانون ساز ادارے فوری طور پر یہ قانون سازی کریں کہ پاکستان میں آئندہ کرپشن‘ لوٹ مار اور ملاوٹ کرنے پر سزائے موت دی جائے گی۔ عدلیہ کو کم از کم مستقبل میں کرپشن‘ ملاوٹ اور لوٹ مار کے سدباب کی داغ بیل ڈالنی چاہئے تھی۔
اگر ہمارے سیاست دان ریاست کے ساتھ واقعی مخلص ہوتے تو عدلیہ کی ڈائریکشن کی کیوں ضرورت پیش آتی کہ وہ کرپشن پر سزائے موت کی سزا کی ڈائریکشن دے۔ حکومت و اپوزیشن کی تمام جماعتیں اس معاملے پر قانون سازی سے پہلو تہی کرتی ہیں جو قومی جرم ہے۔
بہرحال پانامہ لیکس پر یہی فیصلہ ہی متوقع تھا اور ویسے بھی ملک جس طرح کے حالات سے دوچار ہے۔ ان حالات میں افراتفری ملکی مفاد میں نہیں۔ اب عدلیہ نے جے آئی ٹی تشکیل دیکر وزیراعظم کو ”ملزم“ تو بنادیا ہے اسی لئے اسے نہ تو کلین چٹ کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی تحریک انصاف‘ شیخ رشید یا جماعت اسلامی کی فتح قرار دیا جاسکتا ہے۔ اگر فیصلے میں اعلانیہ طور پر کسی کی فتح و شکست واضح ہوجاتی تو ملک انارکی کی طرف جاسکتا تھا کیونکہ یہ رپورٹس آرہی تھیں کہ اگر وزیراعظم کو نااہل قرار دیا گیا تو حزب اقتدار کی جماعت کے کارکن جلاﺅ گھیراﺅ اور ہنگامہ آرائی کرینگے جبکہ وزیراعظم کو کلین چٹ ملنے پر اپوزیشن کی جماعتوں کی جانب سے پرتشدد مظاہروں کے خدشات موجود تھے۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب سی پیک پر تیزی سے کام ہورہا ہے اور گرمی کی شدت میں اضافے کےساتھ ہی لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ حکومت کی جانب سے بجلی منصوبوں پر تیزی سے پیشرفت کا عندیہ دیا جارہا ہے اسی لئے موجودہ حالات میں ملک کو کسی بھی صورت عدم استحکام کی جانب نہیں جانا چاہئے اور تمام اہم ترین منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد جاری رہنا چاہئے۔ میں ذاتی طور پر تو پانامہ کیس کے ایسے نتائج نہیں دیکھ رہا جس سے وزیراعظم کی نااہلی ہوسکے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ نیب اور ایف آئی کے ارکان بھی جے آئی ٹی میں شامل ہیں جن کی ہی لاپرواہی کی وجہ سے ہی تو یہ سب کام ہوا وزیراعظم سے پہلے تو وہ ادارے نااہل ہوئے تب ہی تو کرپشن ممکن ہوئی ۔۔ دو یا تین اداروں کو چھوڑ کر باقی دوسرے جئے آئی ٹی میں شامل ادارے نااہل اور حکومت کے اپنے ہی تو ہیں ۔۔ جن کی بدولت پانی سر سے گزرا ۔۔ یعنی اب اگے عدالت کے بعد دوبارہ کیس انھی چند اداروں کو چھوڑ کر واپس دوبارہ نااہل اداروں کے پاس چلا گیا ہے اور جو اہل ادارے ہیں انکی تعداد کم ہے اور جو نااہل (شریک جرم اگر شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے) وہ تعداد میں زیادہ ہیں ۔ پانامہ لیکس کا فیصلہ تاریخ مرتب کریگا یہ سب محض ایک قصہ کہانی ہے ۔

پانامہ لیکس کا فیصلہ دراصل اس بات کا تعین کردے گا کہ مملکت خداداد پاکستان میں کرپشن کس حد تک ہے اور اس کا سدباب کیونکر ممکن ہے۔یاد رکھا جائے کہ مہذب معاشروں میں عدالتوں کے فیصلوںکو تسلیم کیا جاتا ہے ۔ مگر پاکستان میں شاید ایسا ممکن نہیں ہے ۔۔ جس دن پانامہ کیس کا حق اور سچ پر فیصلہ ہوا وہ دن ملکی تاریخ کا سنہرا دن ثابت ہوگا ۔ پاکستان میں پانامہ لیکس کا معاملہ قانونی سے کہیں زیادہ سیاسی رنگ اختیار کرگیا۔ دراصل ملک کے باشعور شہریوں کی غالب اکثریت اس پر یقین رکھتی ہے کہ وطن عزیز میں سیاست بڑی حد تک کاروبار ہے ۔ایسی درجنوں مثالیں موجود ہیں کہ سیاست میں آنے سے پہلے بعض خاندان کی مالی حثیثت کیا تھی اور پھر مسند اقتدار پر فائز ہونے کے بعد کس انداز میں دن دگنی اور رات چگنی ترقی کی گی۔ مقام افسوس یہ ہے کہ ایسی ایک بھی مثال موجود نہیں جب کسی طاقتور شخص نے ایسی سزا بھگتی جو دوسروں کے لیے باعث عبرت کہلائی۔ اس کے برعکس اکثر وبیشتر بااثر فرد قانون کے شنکجے سے باآسانی نکل گیا ، طاقتور افراد اپنے مخصوص مفادات کے حصول کے لیے عدلیہ کو ہدف بناتے چلے آرہے ۔

جسٹس شیخ عظمت نے قرار دیا کہ چیئرمین نیب نے بے شرمی سے حدیبیہ پیپرز ملز میں اپیل نہ کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ 20کروڑ آبادی میں صرف ایک شخص جو بدعنوانی کو قانونی شکل دے سکتا ہے وہ چیئرمین نیب ہے۔ وزیراعظم اور ان کے خاندان کے بیرون ممالک اثاثہ جات بارے سوالات تاحال جواب طلب ہیں۔

وہی ہُوا ناں جو ہم نے اپنے ایک دوست سے کہا تھا کہ فیصلے میں تاخیر پر آپ بار بار پوچھتے ہیں کہ فیصلہ کیوں نہیں آرہا ، فیصلہ کیوں نہیں آرہا اور کہیں ایسا نہ ہو کہ فیصلہ آئے تو آپ پوچھتے پھریں کہ یہ کیا فیصلہ آیا۔ معزز جج صاحبان میں سے دو سنیئر جج صاحبان نے فیصلے میں لکھا ہے کہ وزیراعظم کے بیانات میں تضادات سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں رہے ، حالانکہ ان میں سے ایک جج تو خود یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر سیاست دانوں کو آئین کے آرٹیکل 62اور 63پر پرکھا جائے تو سوائے مولانا سراج الحق کے کوئی اس معیار پر پورا نہ اترے گا،جبکہ اس سے اگلے دن انہوں نے اپنے اس بیان پر معذرت بھی کی تھی ۔ حیرت یہ ہے کہ اس کے باوجود اعلیٰ عدالت کے جج صاحبان نے صادق اور امین نہ ہونے کو اپنے فیصلے کی بنیاد بنایا ہے،جبکہ وہ جانتے ہیں کہ اس معیار پر تو مولانا سراج الحق بھی پورا نہیں اتر سکتے ۔ ہمارے آئین میں اگر کچھ متنازع ہے تو وہ 62اور 63کی شقیں ہیں، لیکن اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان انہی متنازعہ شقوں پر فیصلے دے رہے ہیں ، اس کا کیا مطلب ہے؟

اور حکومت کے آگ بگولہ ترجمان بار بار اعلان کر رہے تھے کہ ہار اور جیت کا دارومدار ایک نکتے پر ہے۔ اگر وزیراعظم نااہل قرار پا گئے تو ہم ہار گئے، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو پھر اور جو بھی ہو، اسے ہم جیت سمجھیں گے۔شیخ رشید ببانگِ دہل اسے ’’نون‘‘ اور ’’قانون‘‘ کا مقابلہ قرار دے رہے تھے، ڈنکے کی چوٹ کہہ رہے تھے کہ عدالت سے نون کا تابوت نکلے گا، یا قانون کا۔۔۔مطلب یہ کہ اگر ’’نون‘‘ کا تابوت نہ نکلا تو سمجھ لیجئے کہ قانون نے بھری عدالت میں آخری ہچکی لے لی۔سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کو نااہل قرار دینے سے انکار کر دیا، اس پر مسلم لیگی رہنما اور کارکن جوش سے بھر گئے۔ عابد شیر علی تو احاطۂ عدالت ہی میں سجدہ ریز ہو گئے۔انہوں نے اسے ’’فتحِ مبین‘‘ قرار دے کر جشن منایا، مٹھائیاں کھائیں اور کھلائیں، لیکن کرنا خدا کا یہ ہوا کہ عمران خان، اور اُن کے رفقا نے بھی اسے اپنی شکست ماننے سے انکار کر دیا۔ یہ جو جج حضرات کی طرف سے کہا جا رہا تھا کہ فیصلہ تاریخی ہو گا، اور اسے بیس سال تک (یا اس سے بھی زیادہ) یاد رکھا جائے گا اس لحاظ سے واقعی تاریخی قرار پایا تھا کہ فریقین بغلیں بجا رہے تھے، کوئی بھی بغلیں جھانکنے کے لئے تیار نہیں تھا۔

جیسے کہ توقع تھی پاناما کیس کے فیصلے سے سیاسی بحران اور بے چینی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ فیصلے سے پہلے عمومی طور پر یہی کہا جارہا تھا کہ سپریم کورٹ اس سارے معاملے کا جائزہ لینے کے لئے کوئی کمیشن بناسکتی ہے،چونکہ کمیشن کی اصطلاح پاکستان میں خاصی متنازعہ ہو چکی ہے، اس لئے کمیشن کی بجائے جے آئی ٹی بنانے کا حکم جاری کیا گیا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ تو اب تبدیل ہونہیں سکتا، اس لئے اس فیصلے میں جو حکم دیا گیاہے، اس پر عملدرآمد کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ دو ججوں نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا، باقی تین ججوں نے بھی وہی نکات اُٹھائے، لیکن آخر میں نااہلی کا فیصلہ دینے کی بجائے معاملے کو جے آئی ٹی کی رپورٹ سے مشروط کردیا۔

اس فیصلے کے بعد مٹھائیاں بانٹنے اور مٹھائیاں کھانے کی جو بھونڈی ترکیب استعمال کی گئی، وہ ہماری سیاست کے کھوکھلے پن کو ظاہر کرتی ہے۔ صرف عوام کو یہ تاثر دینے کے لئے کہ ہم جیت گئے ہیں، ایسی حکمت عملی اختیار کرنے والوں نے ماحول کو خوامخواہ سیاسی حوالے سے گرمادیا۔

مٹھائی تو باعزت بری ہونے پر بانٹی جاتی ہے، یہاں تو بریت کی بجائے وزیر اعظم نواز شریف کو قانون کے سامنے مزید کھڑا کردیا گیا کہ جے آئی ٹی سے مکمل تعاون کریں گے اور اس کے سامنے اپنی بے گناہی کے ثبوت دیں گے ۔ مگر سوال پھر یہ ہے کہ ایم آئی ، اور آئی ایس آئی کی اکیلی صاف و شفاف گواہی اور فیصلہ کیا حکومت اور سیاست دان مانیں گے ؟ کیا باقی دوسرے ارکان بھی ایم آئی اور آئی ایس آئی کی طرح صاف و شفاف فیصلہ دے سکیں گے اور اگر ان دو فریقین کے علاوہ جے آئی ٹی میں شامل باقی تمام ارکان حکومت سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں تو ؟ میرے خیال سے تو ان خاص اداروں کو اس جیسے گھٹیا کیس سے دور رکھنا چاہیے تھا اور اب اگر انہیں شامل کر ہی لیا تو ان کے فیصلے کا خیر مخدم کرنا ہوگا کیونکہ یہ ادارے سچ اور حب الوطنی کی وجہ سے ہی پہچانے جاتے ہیں ۔۔

یسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی منتخب یا سرکاری عہدیدار نے الزامات ثابت ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفی دیا ہو۔ یہ اخلاقی و تاویلاتی میوزیکل چیئر پچھلے 70 برس سے جاری ہے۔ ایسا بہت کم ہوا ہے کہ کسی منتخب یا سرکاری عہدیدار نے الزامات ثابت ہونے سے پہلے اپنے ضمیر کی آواز پر استعفیٰ دیا ہو تا آنکہ پشت پر قانونی و سیاسی لات نہ پڑے ۔ ضمیر کی گورننس کا عادی ہونے کی عادت پڑتے پڑتے ہی پڑے گی۔ تب تک اپنے سوا سب کا احتساب جاری رہے گا ۔ وزیر اعظم اور ان کے بیٹے ایک سال کی طویل مدت میں بھی اپنے دفاع میں کامیاب نہیں ہوسکے

18033392_811346842353768_6597443285711088699_n

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on April 23, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: