ریمنڈ ڈیوس (Raymond Davis)

19665126_458960191163718_1472515298372394988_n.jpg

 

ریمنڈ ڈیوس ۔ جذبات نگاری کے لیے ایک نیا موضوع ہاتھ آگیایا یوں کہیے کہ ایک پرانا موضوع پھر زندہ ہو گیا ۔ آدم اور ابلیس سے لیکر کھربوں انسانوں کی زنجیر سے ریمنڈ ڈیوس تک، اس دنیا کے گورکھ دھندے کے چکر دماغ چکرا دیتے ہیں.۔ “دی کانٹریکٹر ” لگتا ہے کہ امریکی منظوری کے بعد چھپی ہے. اسے سات مہینے تاخیر سے شائع کرنے کی ایک وجہ ہیلری کلنٹن کا الیکشن میں حصہ بھی لینا تھا.کیونک اسکا بطور وزیر خارجہ اس وقت خیال تھا کہ اگر ریمنڈ ڈیوس سفارتی رکن نہیں تو اسے مرنے دینا چاہیے. ویسے اسکے پاس سچ مچ ڈپلومیٹک پاسپورٹ تھا ۔۔ وہ وقت جب ریمنڈ ڈیوس کی اہلیہ ربیکا اسے چاہتے ہوئے بھی پرائیوٹ کانٹریکٹر بننے سے نہ روک سکی.ریمنڈ ڈیوس کا تعلق امریکا کی ریاست کولوراڈو سے تھا‘ یہ جاسوسی‘ ٹارگٹ کلنگ اور سیکیورٹی افیئرز کا ایکسپرٹ تھا‘ یہ ’’کانٹریکٹر‘‘ کی حیثیت سے سی آئی اے کے ساتھ کام کرتا تھا‘ سی آئی اے مختلف ممالک میں اپنے مختلف مشنز کیلیے عارضی بھرتیاں کرتی ہے‘ امریکا کی مختلف پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسیاں اور جاسوس کمپنیاں سی آئی اے کو عارضی ملازمین فراہم کرتی ہیں‘ یہ ملازمین پرائیویٹ کمپنیوں کے پے رول پر ہوتے ہیں‘ سی آئی اے کمپنیوں کو کام دیتی ہے اور یہ کمپنیاں ریمنڈ ڈیوس جیسے ملازمین کو مشن سونپ دیتی ہیں‘ یہ لوگ کانٹریکٹرز کہلاتے ہیں‘ امریکا کو دو مئی 2011ء کے آپریشن سے قبل اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی کی بھنک پڑ چکی تھی چنانچہ سی آئی اے نے ہزاروں کی تعداد میں کانٹریکٹر بھرتی کیے‘ امریکا میں موجود پاکستانی سفیر حسین حقانی سے ویزے لگوائے اور یہ کانٹریکٹرز پاکستان کے مختلف شہروں میں پھیلا دیئے‘ 2010-11ء میں صرف اسلام آباد میں ہزار سے زائد کانٹریکٹرز تھے۔
یہ لوگ پرائیویٹ گھروں میں رہتے تھے‘ امریکی سفارتخانے کے کاغذات استعمال کرتے تھے اور بلٹ پروف گاڑیوں میں سفر کرتے تھے ‘ان کانٹریکٹرزکو گولی تک مارنے کی اجازت تھی‘ ریمنڈ ڈیوس کسی خفیہ مشن کی تکمیل کیلیے لاہور پہنچا‘ یہ لاہور کے امریکی قونصل خانے میں رہتا تھا‘ قونصل خانے کی گاڑیاں استعمال کرتا تھا اور سارا دن شہرکے مختلف حصوں میں پھرتا رہتا تھا‘ یہ 27 جنوری 2011ء کی صبح پرائیویٹ کار پر قونصل خانے سے نکلا‘ لاہور کے دو نوجوانوں محمد فہیم اور فیضان حیدر نے اس کا پیچھا کیا‘ یہ پریشان ہوا اور اس نے مزنگ کے قرطبہ چوک پر دونوں نوجوانوں کو گولی مار دی‘ یہ گولی مارنے کے بعد گاڑی سے اترا اور اس نے موبائل سے ان دونوں مقتولین کی تصویریں بنائیں‘ ریمنڈ ڈیوس کو ریسکیو کرنے کیلیے قونصل خانے سے خصوصی ٹیم نکلی‘ یہ ٹیم سفید رنگ کی ٹویوٹا لینڈ کروزر میں سوار تھی‘ انھوں نے ون وے کی خلاف ورزی کی‘ نوجوان عبادالرحمن ان کی گاڑی کی زد میں آیا‘ گاڑی نے اس کی موٹر سائیکل کو ٹکر ماری اور یہ نوجوان گاڑی تلے روندا گیا‘ لوگ اکٹھے ہوئے‘ پولیس آئی اور ریمنڈ ڈیوس گرفتار ہو گیا‘ میڈیا کو علم ہوا تو بات پورے ملک میں پھیل گئی‘ یہ وہ کہانی ہے جس سے پوری قوم واقف تھی ۔ہماری پاکستانی قوم مجموعی طور پر نادان، سادہ لوح، محسن کش اور احسان فراموش ہے۔ ہم اپنے محسنوں کوبھلا دینے اور رسوا کرنے میں بڑے ماہر ہیں۔
مشرف کے بعد جب زرداری کی حکومت آئی تو اس وقت صورتحال یہ تھی کہ زرداری صدر تھا، افتخار چوہدری چیف جسٹس تھا، نواز شریف پنجاب میں حاکم ۔ پاکستان دہشت گردی اور تباہی کی آخری حدوں پر تھا۔ ایسی تاریک راتوں میں اگر کسی مجاہد نے پاکستان کے دفاع کیلئے فیصلہ کن جنگ لڑی تو وہ جنرل پاشا تھے۔
انہوں نے ہی آئی ایس آئی کو استعمال کرتے ہوئے میدان جنگ میں اتنی جگہ بنا لی کہ پاک فوج کو جوابی حملہ کرنے کا موقع ملا۔
آئی ایس آئی کی مشکل یہ ہے کہ وہ اپنے کارنامے بیان نہیں کرسکتی اور میڈیا اور سیاست غداروں اور جاہلوں کے ہاتھ میں ہے۔

پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ہمیں اتنا محب وطن، اتنا دلیر اور اتنا قابل آئی ایس آئی کا سربراہ نہیں ملا کہ جتنا جنرل پاشا تھے۔ اس ایک فرد نے ہاری ہوئی جنگ کو فتح میں تبدیل کیا، مگر آج نہ وہ اپنا دفاع کرسکتے ہیں، نہ کوئی راز کھول سکتے ہیں۔
ریمنڈ ڈیوس کے حوالے سے یہ بات سمجھ لیں کہ اسکی رہائی کا فیصلہ صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان کا تھا۔جنرل پاشا کو صرف اس فیصلے پر عملدرآمد کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ان پر الزام لگانا ایسے ہی ہے کہ جیسے جیل سپرنٹنڈنٹ پریہ الزام لگایا جائے کہ اس نے اس قیدی کو رہا کردیا کہ جس کی رہائی کا حکم سپریم کورٹ اور صدر پاکستان کی جانب سے آئے۔
جب رہائی کا فیصلہ ہوچکا ہے اور صرف رسمی کارروائی ہے تو پھر اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ جنرل پاشا نے عدالت میں بیٹھ کر ٹیکسٹ میسج کیے، یا ڈیوس کو جیل سے نکال امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کو جتنا نقصان جنرل پاشا کے دور میں ہوا یہ ایک ریکارڈ ہے ،جنرل پاشا کے دور میں ہی ریمنڈ ڈیوس کی حقیقت بھی آشکارا ہوئی جو سی آئی اے کے کارکردگی پر ایک بدنما داغ ثابت ہوئی جس کے بعد سی آئی اے کے ایک ایک فرد کی حقیقت کھول گئی جس سے سی آئی اے کو پاکستان میں اپنے آپریشن جاری رکھنا ممکن نہیں رہے

اب سی آئی اے جنرل احمد شجاع پاشا سے انتقام لینے کے لئے جنرل پاشا کو ریمنڈ ڈیوس کا ہمدرد ظاہر کروا کے پاکستانی عوام کے نظروں میں گرانا چاہتا ہے

میرے ہم وطنوں یہ ریمنڈ ڈیوس کی کتاب گیم ہے سی آئی اے کا پاکستانی عوام کی نظروں میں گرانے کے لئے ائی ایس ائی جیسے محب وطن ادارے کے چیف کو اور اس عظیم ادارے کے متعلق بدظن کرنے کے لئے کھیلا گیا

یہی وہ عظیم ادارہ ہے پاکستان کا جس کی وجہ سے امریکا بھارت اور اسرائیل کی نیندیں حرام ہیں

اب اس ادارے سے عوام کو بدظن کرنے کے لئے ریمنڈ ڈیوس سے کتاب لکھوا کر گھناونا کھیل کھیلنے کی کوشیش کی ہے،اب اس کھیل کو ہارنا اور جیتنا ہم پاکستانی عوام کا کام ہے

اب سی آئی اے جنرل احمد شجاع پاشا سے انتقام لینے کے لئے جنرل پاشا کو ریمنڈ ڈیوس کا ہمدرد ظاہر کروا کے پاکستانی عوام کے نظروں میں گرانا چاہتا ہے
بے معنی اور فضول باتوں پر اتنے محب وطن اور پاکستان کے مجاہد افسر کو بے عزت کرنا کسی خاص بے غیرت کا ہی کام ہوسکتا ہے۔

افواج پاکستان اور دفاع پاکستان کی آخری لکیر آئی ایس آئی جس پر ہر پاکستانی کو ہمیشہ فخر رہے گا کے متعلق ریمنڈ ڈیوس جیسے بھاڑے کے ٹٹو کی کسی بھی بات پر یقین کرنا کسی بھی پاکستانی کیلئے ناممکن ہے۔ ہر سچا پاکستانی اسی استقامت کے ساتھ اپنی افواج اور آئی ایس آئی کے ساتھ کھڑا ہے جس استقامت کے ساتھ یہ ادارے دفاع پاکستان کیلئے کھڑے ہیں۔ فوج کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کرنے والے دو طرح کے لوگ ملیں گے، ایک وہ جو تصویر کا صرف ایک رخ دیکھتے ہیں اور منفی پروپیگنڈہ کرنے لگتے ہیں جبکہ دوسری طرح کے لوگ وہ ہیں جنہیں ان کے آقائوں کی طرف سے ٹاسک دیا گیا ہوتا ہے۔ پاکستانی عوام کو چاہئے کہ وہ افواج پاکستان بالخصوص آئی ایس آئی کیخلاف ہر طرح کے منفی پروپیگنڈہ کو نظر انداز کرکے دشمنان پاکستان کی حسرتوں پر پانی پھیر دیں۔
۔

ایک بات اور قابل غور ہیے یہاں پر کہ یہ کتاب اس وقت منظر عام پر آئی ہے جب پانامہ کیس فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو رہا ہے ۔اور سازش کے تحت ریمنڈڈیوس کی کتاب کوپاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہوئےپانامہ کیس سے پاکستان کی عوام کی توجہ ہٹائی جا سکے۔ریمنڈ ڈیوس کی شائع ہونے والی کتاب انٹرنیٹ پہ آن لائن پڑی ہوئی ہے ۔سوال یہ ہے کی یہ کتاب پاکستانی صحافیوں اور تجزیہ نگاروں کو کیوں دی گئی؟؟کون ہے اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں اور اسطرح کے بہت سے سوالات پاکستانیوں کے ذہنوں میں ہیں ۔ پبلشنگ سے پہلے اسکی سافٹ کاپی مفت کیوں فراہم کی گئی ؟ ریمنڈ ڈیوس کا کتاب لکھنے کا اصل مقصد کیا تھا اور ریمنڈ ڈیوس کی اس کتاب کی اشاعت پر کون سے خفیہ عناصر مدد کر رہے ہیں اور پبلشنگ کے اخراجات کیوں اٹھا رہے ہیں ؟ اور تو اور یہ کوئی الہامی کتاب بھی نہیں ہے پھر اس کو لوگ حق کی آواز کہہ کر متعارف کروا رہے ہیں ۔۔ اسکی وہ مثال ہے کہ کھسروں کے گھر بیٹا پیدا ہوا انھوں نے چوم چوم کر مار دیا ۔۔

 

پانامہ لیکس ہو یا ڈان لیکس ہو یا ویکی لیکس ہو یا ریمنڈ ڈیوس لیکس ہو ہر جگہ میاں صاحب کا نام سنہرے حروف میں شامل ہونا انکے محب وطن ہونے کا ثبوت ہے ۔ اگر کل کو کلبھوشن یادو نے کہہ دیا کہ جنرل قمر باجوہ ، جنرل نوید پاکستان سے مخلص نہیں اور جنرل راحیل سب سے بڑے غدار ہیں تو آپ اپنے آپ سے پوچھیں کیا ایسا ہوسکتا ہے ؟؟

ریمنڈ ڈیوس کوئی فرشتہ نہیں ایک قاتل ہے وہ صرف ایسی کتاب لکھ کر پاکستانی اداروں کو پاکستانی عوام کی نظروں میں گرانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ دنیا میں شائد پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جہاں پر کسی بھی ملزم پر اس کا جرم ثابت کرنےlaw کا کوئی رواج ہی نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ریمنڈ ڈیوس رہا ہو کر بھاگ سکا اور اب شریف فیملی اس پر اپنے احسانات کے بدلے پانامہ کیس سے کو دبانے کی کوشش کروانا چاہتے ہیں ۔۔ قانون توڑنے کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک سب سے بڑی صورت تو بدمعاشی ہی ہے۔ جس کو جو کرنا ہے کرلے۔قانون توڑنے کی ایک اور صورت یہ ہے کہ اگر عدلیہ کہیں سے آڑے آ بھی جائے تو اس کے فیصلوں پر عملدرامد تو حکومت کو ہی کرنا ہے۔ عدالتی فیصلوں کے نفاذ کا اختیار حکومت کے پاس ہوتا ہے، عدلیہ کے پاس نہیں۔ اول تو عدلیہ حکومت کے خلاف فیصلہ کرنے میں پہلے سے ہی محتاط رہتی ہے اور حکومت کو تنبیہ پر تنبیہ کرتی رہتی ہے کہ عدلیہ کی بات مان لی جائے ورنہ عدالت حکومت کے خلاف فیصلہ کرنے پر مجبور ہوگی۔ مگر حکومت یا دوسرے الفاظ میں برسراقتدار بااثر افراد اس تنبیہہ کو سن کر محض مسکرا کر پھر سے اپنے کام میں مصروف ہوجاتے ہیں اور عدلیہ پھر سے ایک تنبیہ جاری کردیتی ہے۔ریمنڈ ڈیوس کی کتاب نے ایک بار پھر ہمارے زخم کرید دئیے اورحکومتی اشرافیہ سے سوال کیا ہے کہ ہماری کوئی غیرت بھی ہے یا نہیں ؟ ۔ قوموں کی زندگی میں غیرت بڑ ے کام کی چیز ہوتی ہے۔ جو قوموں کے وقار اور آنے والے دور میں کسی بھی قوم کو فخر سے سر اُٹھا کر جینے کا افتخار بخشتی ہے۔ منافقت اور مصلحت میں فرق ہوتا ہے اور قومی وقار کی دھجیاں بکھیر کر اُسے اگر مصلحت کا نام دے دیا جائے تو پھر اُس قوم کے نفوس پذیری کے حامل افراد غیرت سے نا آشنا ہوتے چلے جاتے ہیں۔
قوموں کی زندگی میں غیرت بڑ ے کام کی چیز ہوتی ہے۔ جو قوموں کے وقار اور آنے والے دور میں کسی بھی قوم کو فخر سے سر اُٹھا کر جینے کا افتخار بخشتی ہے۔ منافقت اور مصلحت میں فرق ہوتا ہے ۔ غریب ہونا اور بات ہے اور بے غیر ت ہونا دوسری بات ہے۔ ضروری نہیں کہ غریب ہو تو وہ بے غیرت بھی ہو۔ پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے والے امریکی جاسوس نے اپنی خود نوشت کتاب میں اپنی رہائی کے متعلق لکھا ہے جس سے یہ بات ظاہر ہے کہ کس طرح ہماری قومی حمیت کو پامال کیا گیا۔

۔امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس نے اپنی متنازع رہائی کے حوالے سے کتاب میں تمام سیاست دانوں کو بری الذمہ قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ یہ جنرل پاشا اور ان کے ماتحت افسران تھے جو اسے جیل سے چھڑوانے کیلئے تمام فیصلے کر رہے تھے۔
ریمنڈ ڈیوس نے حکومت اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی اور رانا ثناء اللہ کو بری الذمہ قرار دیا ہے لیکن اس ’’افواہ‘‘ کا ذکر بھی کیا ہے کہ زرداری اور نواز شریف کو اُس کی رہائی کے معاہدے کا علم تھا، لیکن ان کے کردار کے حوالے سے اُس نے کچھ نہیں لکھا۔ یعنی محض افواج پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ۔۔ مگر ہم یہ جانتے ہیں کہ آڈر تو حکومتی ارکان کے ہی ہوتے ہیں ایک جیلر کی طرح اداروں کو عدالت یا حکومت کا حکم ماننا پڑتا ہے ۔

نواز شریف پچھلے چار سال سے پاکستان کے اہم ترین اداروں کے ساتھ مسلسل حالت جنگ میں ہیں جن میں پاک فوج اور سپریم کوٹ سر فہرست ہیں اور عوام کے خون پسینے سے کروڑوں روپے کی مراعات لینے والے وفاقی وزراء کا سارا دن ان اداروں کو گالیاں دیتے گزرتا ہے۔ جو کسی بھی وقت ملک کو کسی خطرناک صورتحال سے دوچار کر سکتی ہے۔ ان کے علاوہ نواز شریف کی نادرا اور نیب سے بھی جھڑپ ہوچکی ہے۔ نواز شریف نے کبھی بھی افواج پاکستان کے خلاف سازش کرنے سے پہلے ذرا سا بھی پاکستان اور اسکے دفاع کا نہیں سوچا ۔۔ ہر وقت پاک فوج کے خلاف سازشوں میں مصروف نواز گروپ آف کرپشن انڈسٹریز ہیں ۔۔

یہ کتاب آپ بیتی نہیں بلکہ پیچیدہ سازشیں ہیں اگر ریمنڈ ڈیوسکی یہ کتاب واقعی آپ بیتی ہوتی تو ایک سال قبل شائع ہو چکی ہوتی مگر
اس کتاب کی اشاعت کی کہانی بھی دلچسپی سے خالی نہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق امریکی خفیہ ادارے نے اس کے بعض حصوں پر اعتراض کیا تھا جس کی وجہ سے یہ کتاب تقریباً ایک سال کی تاخیر کے بعد اب کہیں جا کر شائع ہوئی ہے۔کتاب میں مکمل رہنمائی و ہدائیت کاری کے آزمودہ نسخے امکریکی خفیہ ادار ے CIA کی انتھک محنت ، اور پاکستانی دشمنی کے منہ بولتے ثبوت ہیں جس کو سمجھنے کے لئے ایک اشارہ ہی کافی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس نے کتاب ( پاکستان کے خلاف چالیں اور سازشیں ) ایک سال پہلے ہی مکمل کر لی تھی مگر امریکی خفیہ ادرے نے کتاب کو سنسنی خیز بنانے ، امریکیوں کو اپنی عوام کا مخلص ثابت کرنے کے علاوہ پاکستان کو کمزور کرنے پاکستان فوج کا پیار اور محبت عوام کی نظروں سے گھرانے کے لئے یہ ایک چال چلی ہے جس کو کامیاب بنانے کے لئے اس کی کہانی اور کردار وں پر پر کتاب لکھنے کے باوجود ایک سال کی غوروغوض کے بعد کتاب منظر عام پر لائی گئی ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب اسی کتاب پر انڈین اور ہالی وڈ فلمیں بنائی جائے گی تا کہ آنے والی پاکستانی نسلوں میں پاک فوج کے خلاف زہر بھرا جائے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ ریمنڈڈیوس دہشت گرد اور ایک جاسوس ہے ۔ جاسوس اور دہشت گرد سچا نہیں جھوٹا ہوتا ہے۔

 

پاکستان میں‌پیش آنے واے واقعات سے متعلق ریمنڈڈیوس کی کتاب نے سیاسی ہلچل مچادی لوگ فیس بک پر اس کے حوالے سے عجیب عجیب طرح کے کمنٹس پاس کرنے لگ گئے تو کئی لوگ اپنی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں لگ گئے سوشل میڈیابپر مفکر لوگوں کو بس کوئی ایسی چیز مل جائے جس سے ٹائم پاس ہوجائے اور دوکان چل پڑھے پانامہ کا مسئلہ عروج پر ہے۔ ایسے وقت میں اگر میڈیا کہہ گا کہ آرمی نے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرایا تھا تو فوج کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔ تو ہمارا میڈیا وہ کر رہا ہے ، جو اسے کرنے کا کہا جارہا ہے ۔ لیکن اس کے پس پردہ کیا چیز ہے کہ ایک ایجنٹ نے ایسے وقت پر کتاب لکھ دی جب پاکستان کی طرف سے (نو مور ) کا جواب آچکا ہے اب ملک کی خارجہ پالیسی تبدیل ہوگئی اب پاکستانی حکومت امریکیوں اور دوسرے ہمارے دوستوں کی جنگ سے دستبردار ہوگئی اور اپنی پوری توجہ ملکی ترقی پر ہے ہم نے اس جنگ سے بہت نقصان آٹھالیا ہے جو جنگ ہماری نہ تھی چند ہمارے دوست ممالک کو پاکستان اور چین کی دوستی و سی پیک منصوبہ ہضم نہیں ہو ا ہے وہ چاہتے ہیں کہ ہم ہمیشہ ان کی چندوں اور فنڈوں پر گزارہ کرے ۔

 

امریکن سی آئی اے کا ہمیشہ سے ہی وطیرہ رہا کہ دوسرے مما لک میں سیاسی و مذہبی یا نسلی تعصب کے بیج بوئے جائے دنیا میں جنگ برپا کرنے سے سب سے زیادہ فائدہ ہمیشہ امریکی انتظامیہ کو​ ہی ہوا ہے کیونکہ دنیا میں اسلحہ سپلائی کرنے میں سب سے ذیادہ کمپنی امریکی ہی کے ہیں جو پوری دنیا میں اسلحہ سپلائی کرتے ہیں ,ٹرمپ کمپنی کی حالیہ دورہ سعودی عرب بھی اس کی ایک اہم مثال ہے ,اب آتے ہیں کتاب کی طرف اس کتاب میں بہت ساری جھوٹی باتیں لکھی ہوئی اور اس کے علاوہ ریمنڈ ایک سزایافتہ شخص بھی ہے لیکن ہماری میڈیا کوئی بھی چیز بس اپنی مشہوری کے لیے چلانی ہے ان کو ملکی مفاد کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ میڈیا آزاد ہے ایک چور کو بھی ہیرو بنانے میں, موصوف کی کتاب میں بہت سی باتیں سمجھ سے بلا تر اور جھوٹ ہیں ۔۔

19247589_458449794548091_2443138664137218333_n19601039_2005837429648055_3384891191289789008_n19601117_1868450170141892_4036029420637578868_n19601577_566247540431629_235724494195389708_n19665547_240732323108803_5286400565533246000_n19642616_458931357833268_8923497558236232969_n

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on July 3, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: