بھارت کبھی پاکستان کو تنہا نہیں کر سکتا

14716104_1758705671046415_964978264257075776_n.jpg

بھارت پاکستان کو تنہا کرنے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے بہت عرصے سے کبھی اڑی حملہ کا جھوٹا ڈرامہ کبھی کیا کبھی کیا ۔۔ اور پاکستان کو اقوام ِ عالم سے تنہا کرنے کی کوششیں کر رہا ہے مگر جیسے ہمیشہ ناکام ہوا اس دفعہ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے ۔۔ اقوام عالم کے سامنے کشمیر میں بھارت کا ظالم و ستم و دہشت گردی ہے ۔۔ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا ہے ۔۔ ضرب عضب ، کراچی آپریشن ، پنجاب آپریشن وغیرہ دنیا کے سامنے ہیں اور دنیا پاکستان میں دہشت گردی کو ختم کرنے کی کوششوں کو سراہ رہی ہے مگربھارت ہے کہ پاکستان کو تنہا کرنے کی کوششیں کررہا ہے ۔۔ مگر دنیا کو نظر آرہا ہے کہ بلوچستان ، کشمیر میں بھارت دہشت گردی کو سپورٹ کر رہا ہے ۔۔ کل بوشن یادو وغیرہ بھارت کی مداخلت و دہشت گردی کا واضح ثبوت پاکستان اقوام عالم کے سامنے پیش کر چکا ہے ۔۔

بھارت کی مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کی کوشش ، زہر اگلنا مودی کی مجبوری مگرپاکستان کو کبھی بھی تنہا نہیں کیاجاسکتا یہ بھارت اور پاکستان دشمنوں کی بھول ہے کہ وہ پاکستان کو تنہا کردیں گے ۔۔

بھارت کے سیاستدانوں، ماہرین اور صحافیوں کی جانب سے اشتعال انگیز بیان بازی ایک طرح کا ڈھونگ یا ڈرامہ تھا تاکہ رودھو کر دنیا کی توجہ حاصل کرسکیں اور ظلم و ستم کو چھپا کر مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر ہمدردیاں حاصل کی جاسکیں مگر بھارت اس میں بھی بری طرح ناکام ہوچکا ہے ۔

14729373_301327816926957_6804707640259032311_n۔

مغربی میڈیارپورٹس کے مطابق دہلی کی سیاست نے خطرناک طرزِ عمل اختیار کر لیا ہے اور اس میں بھارتی میڈیا نے اپنا بھرپور حصہ ڈالا ہوا ہے ۔۔ کشمیری شہریوں کے خلاف فوج کی بربریت کو اپنا مرکزی موضوع بنانے کے بجائے ہر کوئی پاکستان سے جنگ کے خد وخال پر تبصرہ کرنے میں مصروف ہے۔شاید مودی حکومت کا جارحانہ رویہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ اپنے ملک کے عوام کو دکھانے کے لیے ہے۔بھارت جانتا ہے کہ وہ پاکستان کو عالمی معاملات میں مکمل طور پر تنہا نہیں کر سکتا کیونکہ پاکستان جغرافیائی طور پر ایک نہایت اہم جگہ پر واقع ہے لہٰذا ایسے ملک کو دنیا ترک نہیں کرے گی۔چین اور روس پاکستان کی کھلی حمایت کر چکے ہیں جبکہ بھارت کے اپنے ساتھی ایران نے پاک چین اقتصادی راہداری کا حصہ بننے کی خواہش ظاہر کی ہے۔پاکستان کو دیوار سے لگانے کے بھارتی مؤقف پر امریکا کی جانب سے بھی سرد ردِ عمل ظاہر کیا گیا ہے۔پاکستان کو تنہا کرنے کے اس سارے تماشے کی وجہ یہ ہے کہ مودی حکومت قوم پرست جذبات کی مدد سے اقتدار میں آئی تھی۔ اب وہ وٹررو کو مطمن کر کے دوبارہ اگلے انتخابات کے لیے جگہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

14690977_1838898159679731_4020854520059128259_n.jpg۔

پاکستان مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے۔ ١٠٠ دن سے زیادہ گذرگئے ہیں کشمیر میں کرفیو کو جس میں کئی کشمیری نوجوان شہید اور زخمی ہوئے ہیں مگر بھارت ہے کہ کشمیر میں اپنی دہشت گردی سے باز نہیں آ رہا۔۔ سینکڑوں کشمیری بینائی سے محروم ہوگئے ۔۔ مقبوضہ کشمیر میں قتل عام ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ یہ ریاستی دہشت گردی اور جنگی جرائم کی بدترین مثال ہے۔ مقبوضہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہوگا۔ پاکستان اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیر میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے ۔۔ بھارتی مظالم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبانے کی کڑی ہے۔ حالیہ بھارتی مظالم کے باعث کشمیری مائیں 100 سے زیادہ بیٹے، بیٹیاں دفنا چکی ہیں۔ سینکڑوں کشمیریوں کو بینائی سے محروم کردیا گیا، کرفیو کی وجہ سے لاکھوں کشمیری بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ کشمیری مذہب، تقریر اور تحریر کی آزادی سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل آزاد اور منصفانہ رائے شماری ہے۔ مگر بھارت اس طرف کیوں نہیں آتا ۔۔ ہمیشہ اس بات سے راہ فرار اختیار کرتا ہے ۔۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے لے کر اقوام متحدہ میں اس کے نمائندوں کے پاس اب مذاکرات سے مسلسل انکار کےلئے ایک ہی دلیل ہے کہ پاکستان سے اس وقت تک بات چیت نہیں ہو سکتی جب تک وہ ہاتھ میں بندوق پکڑے ہوئے ہے۔ یعنی بھارتی دعوے کے مطابق کشمیریوں کی جائز تحریک آزادی کی حمایت جاری رکھے گا جسے بھارت دہشت گردی کی حمایت قرار دیتا ہے ۔ اوڑی حملہ کے بعد بھارتی نمائندوں نے پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دینا شروع کیا ہے لیکن دنیا اس کے ان بے بنیاد الزامات کو ماننے یا ان کی بنیاد پر پاکستان کو تنہا کرنے پر آمادہ نہیں ہے۔ اگرچہ بھارتی میڈیا، پاکستان کے بعض مبصرین کی طرح تواتر سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ پاکستان اس وقت پوری دنیا میں تنہا ہو گیا ہے اور ہر ملک نے اس کے موقف کو مسترد کر دیا ہے۔

14681856_173729496413907_5611109297938506752_n.jpg
امریکہ کسی بھی قیمت پر پاکستان سے قطع تعلق کرنے یا اسے مکمل طور سے تنہا کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ افغانستان میں حالات کو کنٹرول کرنے کےلئے اب بھی پاکستان کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ عام لوگوں کو سنانے کے لئے مخالفانہ بیانات دینے کے باوجود امریکہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ طالبان کی جس قوت کو اتحادی افواج پندرہ برس کے دوران کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہیں، انہیں پاکستان تن تنہا کس طرح امریکی شرائط ماننے پر مجبور کر سکتا ہے۔ اور امریکہ پاکستان کو تنہا کر کے اگر بھارت کا ساتھ دیتا ہے تو چایئنہ ایک بڑی قوت کو امریکہ کے سے ٹکرانے کی صلاحیت رکھتی ہے اسکا ڈر بھی ہے کہ کہیں چاہنہ اور پاکستان مل کر دونوں کا ہی شکار نا کر لیں ۔ بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ کو اپنی جان کے بھی لالے پڑے ہوئے ہیں اس لیے امریکہ امن چاہتا ہے کہیں بھارت امریکہ کو ہی نا لے ڈوبے اور پاکستان جغرافیائی لحاظ سے بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے ۔۔ اس وجہ سے ایران نے بھی سی پی ای سی میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی ہے ۔۔۔ اور روس بھی پاکستان کے ساتھ مل کر چلنا چاہتا ہے ۔۔ اور دوستی بڑھانا چاہتا ہے جیسا بھی ہے روس امریکہ اور بھارت کو ناکوں چنے چبوانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔۔ عام لوگوں کو سنانے کے لئے مخالفانہ بیانات دینے کے باوجود امریکہ یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ طالبان کی جس قوت کو اتحادی افواج پندرہ برس کے دوران کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہیں، انہیں پاکستان تن تنہا کس طرح امریکی شرائط ماننے پر مجبور کر سکتا ہے۔

امریکہ بخوبی جانتا ہے کہ پاکستانی فوج نے تن تنہا اور مسلسل الزام تراشی کے ماحول میں بھی گزشتہ دو برس کے دوران دہشت گردی کے خلاف قابل ذکر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اگر پاکستانی فوج آپریشن ضرب عضب کے ذریعے موثر فوجی اقدامات نہ کرتی تو داعش جیسا گروہ جو امریکہ کی سنگین غلطیوں کی وجہ سے دولت اسلامیہ کے نام سے شام اورعراق کے علاقوں میں اپنی حکومت قائم کر چکا ہے ۔۔۔۔۔۔ افغانستان کے علاوہ پاکستان ، بھارت اور بنگلہ دیش میں بھی مضبوط گروہ استوار کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔

14732161_1166996506719625_3209910533635302870_n.jpg

بھارت، امریکہ کی مرضی کے بغیر پاکستان پر حملہ کرنے کی غلطی نہیں کرے گا۔ اگر اس نے یہ حماقت کی تو امریکہ کے ساتھ مل کر دنیا کی نمایاں اور بڑی طاقت بننے کا خواب چکنا چور ہو جائے گا ۔۔ ویسے تو یہ خواب کبھی حقیقت نہیں بن سکتا ۔۔ بھارت جتنا پاکستان کے خلاف زہر اگلے گا اتنا ہی بھارت خود پھنسے گا ۔۔
گزشتہ چند دنوں سے ہرطرف پاک بھارت جنگ کی چہ میگوئیاں جاری ہیں۔ حتیٰ کہ بچے بھی سکول سے آنے کے بعد یہی پوچھتے ہیں کہ ایٹم بم کیا ہوتا ہے اور اس سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ ایٹمی حملہ جنگ میں ہمیشہ آخری آپشن ہوتا ہے لیکن بھارت کے سر پر جنگ کا جو بھوت سوار ہے اس نے خطے کو غیر ضروری طور پر بے وجہ خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اس کی وجہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا بھارتی وزیراعظم ہے جو طاقت کے نشے میں سب کچھ تباہ و برباد کردینے پر تُلا ہوا ہے۔سوشل میڈیا پر پاک بھارت جنگ عملی طور پر شروع ہو چکی ہے۔ اسی طرح ایٹمی حملوں کی صورت میں پیشگی تدابیر بھی شیئر کی جا رہی ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ آپ ایٹمی حملے اور اس کے اثرات سے صرف اس صورت میں ہی بچ سکتے ہیں اگر آپ کے پاس ایک مضبوط اور محفوظ پناہ گاہ موجود ہو اور یہ پناہ گاہ زمین سے کم از کم دس فٹ نیچے تہہ خانے کی صورت میں ہونی چاہیے۔ آپ کے پاس تین چار ہفتوں کا راشن پانی اور ادویات وغیرہ کا ذخیرہ اگر ہو گا تو آپ اس جنگ سے محفوظ رہ سکیں گے۔

14656370_1259264410812143_907646636865088967_n.jpg
سوال یہ ہے کہ کیا اس سے بچائو عملی طور پر بھی ممکن ہے؟جس ملک میں اسی فیصد لوگوں کے پاس زمین سے دس فٹ اوپر اپنا گھر موجود نہیں‘ وہ دس فٹ نیچے کنکریٹ والے تہہ خانے کہاں سے بنائیں گے۔ ویسے بھی ایسے حملے بتا کر نہیں کئے جاتے اور نہ ہی اس وقت تہہ خانوں میں جانے کا وقت ہوتا ہے‘ تو پھر ایسی چیزیں شیئر کر کے بلاوجہ خوف کیوں پھیلایا جا رہا ہے۔ بھارت میں ایک محدود اور مخصوص طبقہ ہمیشہ سے ہی انتہاپسند سوچ کا مالک رہا ہے۔ اس کے اپنے عزائم اور اپنے منصوبے ہیں جنہیں پورا کرنے کے لئے ایسی گیدڑ بھبکیوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔

بھارتی فوج کا یہ جنگی جنون گیدڑ سنگھی کے سوا کچھ نہیں کیونکہ اس کے زیادہ تر ہتھیار پرانے ہوچکے ہیں یا ان کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جارہی اور اس کی فضائیہ کا دفاعی نظام بہت ہی بری حالت میں ہے ۔بھارت کے پاس دو ہزار طیاروں پر مشتمل فضائی بیڑا ہے لیکن 2014ء میں دفاعی جریدے آئی ایچ ایس کی ایک رپورٹ کے مطابق ان میں سے صرف 60فیصد طیارے ہی اڑان کے قابل ہیں ۔اس صورت حال میں بھارت کبھی بھی پاکستان پر حملہ کرنے کی غلطی نہیں کر سکتا اور اگر کرے گا تو بہت پچھتائے گا۔

جہاں تک اڑی سیکٹر حملے کی بات ہے تو یہ ثابت ہو چکا کہ یہ حملہ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے لئے خود بھارت نے کرایا۔ خود بھارتی اخبارات میں چھپا ہے کہ سترہ میں سے تیرہ چودہ فوجی آگ میں جھلس کر ہلاک ہوئے جبکہ حملہ آوروں کی شناخت بھی ظاہر نہیں کی گئی۔

سرل المیڈا کو مہرہ بناکرسازش ہو یا بلوچستان میں بھارت کی مداخلت اور جاسوسیاں ، کشمیر کا مسئلہ ہو یا سرحدوں پر حملہ اور فائرنگ یا عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی سازش وغیرہ ہمیں مل کر ملک و قوم کی خاطر سوچنا ہے ،، یہ وقت دشمن کو یہ پیغام دینے کا ہے کہ پوری قوم اس وقت سیسہ پلائی دیوار کی طرح متحد ہے اور وطن کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں سے نمٹنا خوب جانتی ہے۔

14705898_1712346635752247_111502150583957573_n.jpg14657332_1165958453490097_1050182610162714716_n.jpg

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on October 18, 2016, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: