افغانستان کا پاکستان پر الزام

15253540_361270877555993_3463683055469969114_n.jpg

افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے پاکستان کے بارے میں دیا جانے والا بیان افسوسناک اور قابل مذمت ہے ۔ اشرف غنی نے بھارت کو خوش کرنے کیلئے بیان دیا جو ناقابل فہم ہے ۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان پر ایک بار پھر شدت پسند تنظیموں کی پشت پناہی کرنے کا الزام لگایا جو کہ سرا سر غلط اور بے بنیاد ہے دراصل غنی نے اپنے بھارتی یاروں مکاروں کو خوش کرنے کے لیے ایسا بیان دیا ۔۔ افغانستان کو چاہیے تھا ایسا بیان دینے سے پہلے ایک دفعہ سوچتا ضرور ۔۔ دنیا جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان نے بہت قربانیاں دی ہیں ۔۔ اور انکا اعتراف دنیا کے بہت سے ممالک کے سربراہاں کر چکے ہیں ۔۔
بھارت مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کے لیے پانچ سو ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے، بہتر ہوگا کہ وہ اس رقم کو پاکستان کے اندر انتہا پسندی پر قابو پانے کے لیے استعمال کرے۔ اور افغانستان کو اپنے حال پر چھوڑ دے ۔۔ اور ملک میں نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کروائے ۔۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغانستان میں امن ہوگا تو خطے میں امن ہوگا ۔۔ تین سال میں پاکستان نے پوری دنیا سے زیادہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوشش کی ہے۔ تناؤ کے باوجود بھارت کے دورے کے فیصلے کا مقصد یہ تھا کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات متاثر نہ ہوں۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف کام اپنی قومی سلامتی کے لیے کر رہا ہے ۔ پاکستان اپنی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا ۔ مگر افغانستان کو چاہیے کہ ہوش کے ناخون لے ۔۔ سرحد پر نگرانی کے امور کو بھی مزید بہتر کرنا ضروری ہے۔ افغانستان میں ایسے عناصر موجود ہیں جو وہاں بدامنی پھیلا رہے ہیں ۔ پاکستان نے باڈر پر گیٹ اسی لیے بنایا تھا تاکہ تلاشی اور ویزہ کے بعد ہی لوگ ادھر ادھر جاسکیں اور سکیورٹی صورتحال بہتر ہو ۔۔ شرف غنی یہ بیان ایک مخالف ملک کی سرزمین پر دے رہے تھے یقیناً وہ وہی کہہ رہے تھے جو وہ سننا چاہ رہا تھا۔ پاکستان اور افغانستان کو تقسیم کرنے کی بھارت کی کوششیں زیادہ عرصے تک نہیں چل سکتیں ۔۔ کیونکہ پاکستان افغانستان کا خیر خواہ اور دوست ملک ہے ۔۔ مگر یہ بات افغانستان کو سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے ۔۔ پاکستان کی وجہ سے چین بھی مختلف پراجیکٹس کے ذریعے افغانستان کی مدد کرنا چاہتا ہے ۔۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بگاڑنے کی بھارت کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔بھارت کی کوششوں سے افغانستان کا پاکستان سے رشتہ خراب نہیں ہو گا۔

15317976_361284190887995_3662113730801300881_n.jpg

دہشت گردی علاقائی مسئلہ ہے ہر ملک اپنی قومی حکمت عملی کے تحت اس کے انسداد کیلئے کوششیں کررہا ہے ۔۔ پاکستان نے بھی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں ۔۔ پاکستان نیشنل ایکشن پلان کے تحت پہلے انسدا دہشت گردی کے ایک مئوثر پروگرام پر عمل پیرا ہے جس کے بہت اچھے نتائج برآ مد ہوئے ہیں۔ مجموعی طور یہ مثبت اور متوازن اعلامیہ ہے۔

افغانستان میں امن کے لیے کسی ایک ملک پر الزام کی بجائے ایک مقصد اور متفقہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے، مثبت اقدامات پر توجہ دی جائے۔افغانستان بے بنیاد الزامات سے گریز کرے۔ افغانستان میں تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر کسی ایک ملک پر الزامات نہ لگائے جائیں۔ کسی ایک ملک کو دہشت گردی کا ذمہ دار نہ ٹھہرایا جائے۔ افغانستان پاکستان پر الزام تراشی سے گریز کرے کیونکہ الزام تراشی مسائل کا حل نہیں ہے۔ الزام تراشی کی بجائے مثبت اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔ تمام حل طلب مسائل کا پرامن حل ہی علاقائی تعاون کو بہتر بنائے گا ۔۔ افغانستان بھارت کی چالوں کو سمجھے اور اپنی زمین پاکستان کے خلاف بھارتی دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے ۔

افغانستان کو براستہ پاکستان تجارتی سہولت دینے کے لئے پاکستان خواہشمند ہے اگر افغانستان چاہے تو ۔۔

15356701_222865964822709_1961311282020276740_n

پاکستان نے گذشتہ تین دہائیوں میں لاکھوں افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی مہاجرین کی باعزت واپسی کے لئے اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کررہا ہے ۔۔ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت افغانستان کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کی گئی مگر شاید افغانستان یہ بھول گیا اور بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر دی ۔۔ افغانستان کو سمجھنا چاہیے کہ پر امن افغانستان سے ہی پاکستان کا امن اور ترقی وابستہ ہے ۔۔ دہشت گردی خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے ۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا گیا کہ دہشت گردی چاہے کسی بھی شکل میں ہو قابل قبول نہیں، اس کے خاتمے کے لئے تمام علاقائی اور عالمی طاقتوں کو ایک ہونا ہوگا۔ نوجوانوں کی انتہا پسند اور دہشت گرد نیٹ ورکس میں شمولیت کو روکنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ مشترکہ چیلنج سے نمٹنے‘ سکیورٹی استحکام کے فروغ کیلئے علاقائی تعاون اہم ذریعہ ہے۔۔ پاکستان نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ضرب عضب ، کراچی آپریشن ، فاٹا آپریشن ، بلوچستان میں سیکیورٹی اداروں کے انٹیلی جنس بیسڈ اور دیگر آپریشنز کیے اور جاری ہیں ۔۔ تاکہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہو اور پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں بہت قربانیاں دی ہیں ۔۔ جو کہ دنیا کہ سامنے ہیں ۔۔ ان آپریشنز اور حکمت ِ عملی سے حالات میں کافی بہتری آئی ہے ۔۔ افغانستان کو کسی دوسرے پر الزامات لگانے کے بجائے پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوشش کرنی ہوگی ۔۔ دہشت گردی کے خلاف افغانستان کی ناکامی افغانستان دہشت گردوں کی کامیابی ہی ہوگی ۔۔

15391018_10207397716116283_2935617721268218329_n

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on December 6, 2016, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: