مقبوضہ کشمیر میں کٹ پتلی سرکار اور بھارت کا ظلم و ستم

15338879_1250222191730389_2599506125733279745_n.jpg
مقبوضہ کشمیرمیں موبائل سروس اور انٹرنیٹ پر پابندی آزادی اظہار رائے پر قدغن لگانا ہے ۔ مقبوضہ حکومت نے کشمیر کو ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل کر دیا ہے ، جہاں نہ صرف بنیادی سہولتیں بندکی گئی ہیں وہاں ظلم و ستم کے بھی پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔۔ موبائل اور انٹرنیٹ پر پابندی لگا کر ریاست کو باقی دنیا سے الگ تھلگ کرنے کی کوشش ہے تاکہ کشمیر کی صورت حال کو چھپایا جائے ۔ جب سے دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی برسراقتدار آئی ہے کشمیر کے حوالے سے پالیسی اور زیادہ سخت ہو گئی ہے اور یہاں عملاً آر ایس ایس کے ایجنڈے پر عمل ہونا شروع ہو گیا ہے۔ کٹھ پتلی حکومت نے موبائل سروس اور انٹرنیٹ بند کر کے لوگوں کو محصور کر کے رکھ دیا۔ادھر تحریک آزادی سے لرزاں اور ذبح کی گئی ہندوئوں کی ’’ماتا گائے‘‘ کی تصاویر انٹر نیٹ پر دیکھنے کا حوصلہ نہ ہونے کے باعث کٹھ پتلی انتظامیہ نے انٹر نیٹ پابندی میں توسیع کردی جس پر کشمیری عوام میں کٹھ پتلی انتظامیہ اور ڈیجیٹل بھارت کے لیکچر دیتے پھرنے والے نریندرا مودی سرکار کیخلاف شدید اشتعال پایاجاتاہے۔موبائل او ربروڈ بینڈ انٹرنیٹ کی سروس کی مسلسل معطلی کے باعث مقبوضہ جموں کشمیر گلوبل ویلج سے کٹ کررہ گیا۔ آزادی رائے سب کا حق ہے اس سے محروم کرنا انسانی حقوق کے منافی ہے ۔۔ کشمیر میں امن نہیں۔ ریاست میں تباہی، بربادی اور قتل وغارت گری کا ذمہ دار بھارت اور اس کی حکومتیں ہیں ۔۔ جو کہ کشمیریوں کے مطالبات نہیں مان رہے ۔۔

عید ہو یا کوئی اسلامی یا ریاستی تہوار ان موقعوں پر خاص بھارتی ظلم و ستم بڑھ جاتا ہے اور اب تو دوسو دنوں سے کرفیو نافذ ہے کشمیر میں ۔۔ جس کی وجہ سے صورتحال بہت ہی خراب ہے ۔۔ مقبوضہ کشمیر میں مارشل لانافذ ہونے سے بھی زیادہ بدتر صورتحال ہے ریاستی آئین و قانون معطل اور انسانی حقوق کی پامالی عروج پر ہے ۔۔ قابض فوج نے کشمیری مسلمانوں کو جمعے کی نماز ادا کرنے سے بھی روک دیا۔ کئی ہفتوں سے مسلمان جمعے کی نماز تک نہیں ادا کرسکے ۔۔

مختلف علاقوں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے جاتے ہیں دنیا ، اقوام عالم نے شاید آنکھیں بند کرلی ہیں میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کی آخر بھارت کے پاس ایسی کون سی گڈرسنگی ہے جس سے اس نے اقوام متحدہ کو کنڑول کر کے خاموش کردیا ہے ۔۔ وہ ادارہ جو انسانی حقوق کا علمبردار اور امن کا پیغام تھا وہ ہی انسانیت پر ظلم و ستم ، انسانی حقوق کی پامالی ، انسانیت کے قتل پر خاموش ہے ۔۔ بھارت فوج کے چھروں سے کئی کشمیری آنکھوں سے محروم اور کئی کشمیری شہید ہو رہے ہیں مگر اقوام متحدہ شاید بھارت کے ظلم و ستم کے ساتھ متحد ہے ۔۔ جو ظلم یا جرم روکنے کی طاقت رکھنے کے باوجود کوشش نہیں کرتا اور دوسروں پر ظلم ہوتا جرم ہوتا دیکھتا رہتا ہے ۔۔ وہ ظلم یا جرم میں برابر شریک ہے ۔۔ اب دنیا کو اقوام متحدہ کو بھی کشمیر کے ظلم میں برابر شریک اور مجرم سمجھنا چاہیے ۔۔ اور اگر وہ امن و امان قائم نہیں کر سکتے تو لاکھوں ڈالرز پر پلنے والے ان اقوام متحدہ کے ورکرز کو گھر بھیج دینا چاہیے کیوں اتنا پیسا دنیا ان ظالموں پر ضائع کر رہی ہے جو ظلم کو روکنے کے بجائے ایک خاموش تماشائی کا سا کردار ادا کر رہے ہیں ۔۔

مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کی جنونیت عروج پر پہنچی ہوئی ہے ۔۔ نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے مقبوضہ کشمیر پر قابض بھارتی فوج نے ایمبولنسز تک کو نہیں بخشا کٹھ پتلی حکومت نے پوری وادی میں غیرمعینہ مدت کے لئے کرفیو نافذ کیا ہوا ہے ۔۔ مظاہروں کو محدود رکھنے کے لئے قابض حکام نے انٹرنیٹ کی سہولیت بھی معطل کر دی ہے۔ قابض فوج نے احتجاج کرنے والے نہتے کشمیریوں پر گولیاں برسا رہی ہے مگر دنیا اور اقوام متحدہ کی بلکل خاموشی حیران کن ہے ۔

اس کے علاوہ بھارتی فورسز مظاہرین کو کوریج دینے والے فوٹو گرافر پر بھی لاٹھیاں برساتے ہیں ۔۔ کیمرہ توڑ دیتے ہیں ۔۔ تاکہ پیغام یا خبر دنیا تک نہ پہنچے ۔۔ کشمیریوں کی قربانیاں ضائع نہیں کی جائیں گی اور ان کا مشن ہرحالت میں تکمیل تک پہنچے گا اور انھیں انکا آزادی کا حق حاصل ہوگا ۔۔ کشمیر کی کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اپنی سیٹ بچانے کی کوشش کر رہی ہیں اور کشمیر کے بے گناہ معصوم لوگوں کی جان و مال سے بھارت کے کھیل یعنی خون کی ہولی کا حصہ بنی ہوئی ہیں ۔

15356747_334861616906910_6360528018835532225_n.jpg۔

چار ماہ کے بعد موبائل نیٹ دس دسمبر کو چلا وہ بھی کچھ وقت کے لیے ۔۔ وادی میں تو نیٹ ورک پاکستان سے محبت کی وجہ سے بند ہوا ۔ چار ماہ کے بعد سہی رابطہ تو بحال ہوا، مگر دکھ اس بات کا کشمیر یوں نے پاکستان کی محبت میں لازوال قربانیاں دیں اور ہم اپنے حصے کا دیا بھی نہیں جلا پائے۔

اقوام متحدہ کے پاس دنیا کا سب سے قدیم ترین مسئلہ تاحال حل طلب، سب سے زیادہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہندوستان کر رہا ہے مگر سلامتی کونسل لب سیئے ہوئے۔گمنام قبریں، آدھی بیوائیں ، خطرناک ٹارچر سیل اور عقوبت خانے جتنی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے کی جارہی ہیں، شاید اتنے بدترین واقعات قبل از تاریخ بھی رونما نہیں ہوئے ہوں گے۔ پیلٹ گن ( جسے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شارٹ گن قرار دیا تھا) سے سینکڑوں افراد کی بینائی ختم کردی گئی۔

اعداد و شمار کے مطابق 8جولائی سے لے کر تادم تحریر 136کشمیریوں کو شہید جبکہ15000سے زائد کو زخمی کیا گیا۔ان میں سے 7330کو پیلٹ گن کے ذریعے زخمی کیا گیا ہے۔ 22نوجوانوں کو پیلٹ گن سے زخمی کر کے بینائی سے محروم کر دیا گیا 307نوجوانوں کو معمولی نوعیت کی آنکھو ں کی بینائی کا شکار کیا گیا، 6500 مکانات تباہ کیے گئے، 37 سکولوں کی عمارتیں تباہ کی گئیں۔ 9700 لوگوں کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا ، 608 لوگوں کو کالے قانون کے تحت گرفتار کیا گیا۔ اس سے بڑی انسانی حقوق کی اور کیا خلاف ورزی ہو گی۔ ا قوام متحدہ نے سارے ظلم و ستم کی داستانیں سن اور دیکھ رکھی ہیں مگر وہ پھر بھی خاموش ہے اور10دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منایا مگر پھر بھی کوئی فائدہ نہیں کیونکہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہ روک سکے ۔۔

بیٹیوں کی پروش کے لئے مہم چلانے والی مودی سرکار کی آرمی نے درجنوں خواتین کی آبرو ریزی کی۔ ”ظلم رہے اورامن بھی ہو “ کے مصداق کشمیر میں گولی ، لاٹھی اور کرفیو کے ذریعے جذبہ آزادی کو دبانے کی بھارتی سرکار کی تمام کوششیں کشمیر ی عوام نے ناکام کردیں۔ایک لمحے کو سوچئے ، ڈیڑھ سو دنوں تک زندگی کی تمام تر رعنائیاں ختم کردی جائیں، گھروں میں قید کر کے رکھ دیا جائے،کیا اس گلوبل ویلج میں ایسا ممکن ہے؟مظالم کے پہاڑ توڑ کر مقبوضہ کشمیر کے عوام کے جذبہ آزادی کو سرد نہ کیا جا سکا تو بھارتی وزیراعظم نے کشمیر کے لئے اربوں روپے کا ترقیاتی پیکج جاری کیا، جسے غیور کشمیریوں نے مسترد کر دیا۔

انسانی حقوق کے عالمی دن پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے راگ الاپتے درجنوں بین الاقوامی اداروں کے رویے پر شرمندگی کا احساس ہو رہا ہے۔ آزادی اظہار رائے کے نام پر مادر پدر آزاد معاشرہ توتشکیل دیا جا سکتا ہے مگر اپنے حقوق کی آواز بلند کرنے اجازت نہیں دی جاتی۔ اب تک مقبوضہ کشمیر میں چھے کے قریب اخبارات کو بند کیا گیا، جبکہ چودہ صحافیوں کو شہر بدر کیا گیا ہے۔ میڈیا کے کیمروں اور صحافیوں کو کرفیو زدہ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ یو این او کے مبصرین کو وادی میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انٹرنیٹ کی بندش کے باعث وادی میں ہونے والے مسائل کو اجاگر نہیں کیا جا سکتا، صرف فائلیں بھری جا رہی ہیں عملی اقدامات نہیں کئے جا رہے۔ آج جب لمحوں میں خبر دنیا کے ایک کونے سے دوسرے تک پہنچ جاتی ہے کیوں آخر کیوں انسانی حقوق کے علمبرداروں کی نگاہوں سے کشمیریوں کے زخم اوجھل ہیں۔

اقوام متحدہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کی بحالی کا ڈھنڈورا پیٹاتا ہے مگر کشمیر کی خون آلود جھیلیں ، جلتے چنار ، بلکتے بچے، چیختی عورتیں، گمنام قبریں، سنسان بازار، لاشوں سے بھری گلیاں اور ویران بازا ر میرا اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کا منہ چڑاتی رہیں گی ۔۔ بھارت اور اقوام متحدہ دونوں کشمیر میں ہونے والے مظالم میں برابر شریک ہیں ۔۔ موبائل ، انٹرنیٹ اور صحافت پر تو پابندی نہیں ہونی چاہیے ۔۔

 

15439872_1250222155063726_6231585639534667917_n.jpg

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on December 13, 2016, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: