Babari Masjid (بابری مسجد)

babri masjid.jpg

بابری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے نام سے منسوب ہے، بھارتی ریاست اتر پردیش کی بڑی مساجد میں سے ایک تھی۔ بری مسجد مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر ( 1483ء – 1531ء) کے حکم سے دربار بابری سے منسلک ایک نامور شخص میر باقی کے ذریعہ سن 1527ء میں اتر پردیش کے مقام ایودھیا میں تعمیر کی گئی۔ یہ مسجد اسلامی مغل فن تعمیر کے اعتبار سے ایک شاہکار تھی۔ بابری مسجد کے اوپر تین گنبد تعمیر کیے گئے جن میں درمیانی گنبد بڑا اور اس کے ساتھ دو چھوٹےگنبد تھے۔ گنبد کے علاوہ مسجد کو پتھروں سے تعمیر کیا گیا تھا جس میں صحن بھی شامل تھا۔صحن میں ایک کنواں بھی کھودا گیا۔ گنبد چھوٹی اینٹوں سے بنا کر اس پر چونا کا پلستر کیا گیا تھا۔ مسجد کو ٹھنڈا رکھنے کی غرض سے اس کی چھت کو بلند بنایا گیا روشنی اور ہوا کے لئے جالی دار کھڑکیاں نصب تھیں۔ اندرونی تعمیر میں ایک انتہائی خاص بات یہ تھی کہ محراب میں کھڑے شخص کی سرگوشی کو مسجد کے کسی بھی اندرونی حصے میں آسانی سے سنا جا سکتا تھا۔ الغرض یہ اسلامی فن تعمیر کا شاہکار تھا۔ بابری مسجد کو 1992ء میں انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں شہید/مسمار کر دیا گیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے ایل کے اڈوانی کی قیادت میں سخت گیر تنظیموں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور شیو سینا کے ساتھ رام مندر کی تعمیر کے لیے ایک تحریک چلائی تھی۔تحریک کے دوران 6 دسمبر 1992ءکو ہزاروں ہندو کارسیوکوں نے بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کےا علیٰ رہنماؤں اور نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں مسلح جوانوں کی موجودگی میں تاریخی مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔جس کے بعد دہلی اور ممبئی سمیت ہندستان میں تقریباً دو ہزار مسلمانوں کو ہندو مسلم فسادات میں مار دیا گیا۔ بابری مسجد ہندووں کے نظریہ کے مطابق رام کی جنم بھومی پر یا رام مندر پر تعمیر کی گئی۔ جب کہ مسلمان اس نظریہ کو مسترد کرتے ہیں ۔
1859 میں انگریز حکمرانوں نے عبادت کی جگہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ اندر والا حصہ مسلمانوں کے لئے جبکہ باہر کا حصہ ہندوؤں کے لئے مختص کر دیا گیا تھا۔ 1949ء میں مسجد کے اندر سے مورتی ملنے کے بعد ہونے والے فسادات کی وجہ سے بھارتی حکومت نے مسجد کے دروازے بند کرا دیئے۔ مگر 1986 میں ضلعی جج نے مسجد کے دروازے کھلوا کر ہندوؤں کو اپنی عبادت کرنے کا حکم دے دیا۔
شاطر انگریزوں نے سب سے پہلے ”جنم استھان“ اور ”سیتا کی رسوئی“ کا افسانہ ترتیب دیا اور ایک بدھسٹ نجومی کو پہلے سے سکھا پڑھا کر ان دونوں مقامات کی جگہ معلوم کی، اس نے طے شدہ سازش کے مطابق زائچہ کھینچ کر بتادیا کہ ”جنم استھان“ اور ”سیتا کی رسوئی“ بابری مسجد سے متصل احاطہ کے اندر ہے، پھر اپنے زیر اثر ہندوؤں کو اکسایا کہ ان دونوں ”پوتر استھانوں“ کو حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔۔
جس وقت یہ افسانہ ایجاد کیاگیا اس سے برسہا برس پہلے سے قلب شہر میں جنم استھان کا مندر موجود تھا اور آج بھی موجود ہے، یعنی مندر الگ جگہ ہے اور مسجد الگ ، اور بہت فاصلہ تھا دونوں میں ۔۔ مگر انگریزوں نے مندر تو چھوڑ دیا مگر ہندوں کے ذریعے مسلمانوں سے انکی مسجد چھین کر تباہ کر دی گئی ۔۔

203767_99116790-1
ہنومان گڑھی کے مہنت ”ابھے رام داس“ نے اپنے کچھ چیلوں کے ساتھ مسجد میں گھس کر عین محراب کے اندر ایک مورتی رکھ دی جس کے خلاف اس وقت ڈیوٹی پر مقرر کانسٹبل ”ماتوپرشاد“ نے صبح کو تھانہ میں حسب ذیل رپورٹ درج کرائی۔
”ابھے رام داس، سدرشن داس اور پچاس ساٹھ نامعلوم لوگوں نے مسجد کے اندر مورتی استھاپت (نصب) کرکے مسجد کو ناپاک کردیا ہے۔ جس سے نقص امن کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔“
اس رپورٹ کو بگاڑنے کی بھی کوشش کی گئی سٹی مجسٹریٹ نے یہ غیرمنصفانہ عمل کرتے ہوئے بات گھما دی اور ایسی رپورٹ بنائی جو کہ ہندوں کی حق میں جائے ۔۔ اور ثبوت مانگے لگا کہ ایسا ان ہندوں نے ہی کیا ہے مسجد میں بت رکھنے کی کارروائی گہری سازش کے تحت عمل میں لائی گئی تھی، ورنہ ایک قدیم جمعہ وجماعت سے آباد مسجد کے بارے میں ثبوت طلب کرنا کیا معنی رکھتا ہے۔ سیدھی بات یہ تھی کہ ماتوپرشاد کانسٹبل کی رپورٹ کے مطابق مجرمین کو قرار واقعی سزا دی جاتی اور مسجد سے مورتی نکال کر اس مسئلہ کو ختم کردیا جاتا، مگر حیرت ہے کہ حضرت شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رحمة الله عليه، مولانا ابوالکلام آزاد رحمة الله عليه اور مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی رحمة الله عليه نے آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو کو اس سنگین معاملہ پر توجہ دلائی اور انھوں نے یوپی کے وزیراعلیٰ گووند بلبھ پنت کو لکھا کہ اس مسئلہ کو فی الفور حل کریں، پھر بھی اس سلسلے میں کوئی مثبت کارروائی نہیں کی گئی،
اس حادثہ کے بعد گوپال سنگھ نامی ایک شخص نے ظہور احمد، حاجی محمد فائق، حاجی پھیکو، احمد حسن عرف اچھن،محمد سمیع، ڈی، ایم سٹی مجسٹریٹ اور سرکار اترپردیش کو پارٹی بناکر یہ دعویٰ دائر کردیا کہ مسجد جنم استھان ہے، ہم یہاں پوجا پاٹ کرتے ہیں مگر مسلمان اور ضلع حکام اس میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، لہٰذا اس رکاوٹ کو ختم کرکے ہندؤں کو اس میں پوجا پاٹ کی باضابطہ اجازت دی جائے، اس مقدمہ کے دائر ہونے کے تیسرے دن عدالت نے ایک حکم امتناعی کے ذریعہ ہندومسلمان دونوں کا داخلہ مسجد میں ممنوع قرار دے دیا پھر عدالت نے پجاری کو مسجد کے اندر جاکر پوجا اور بھوگ کرنے کی اجازت دیدی، مگر مسلمان اپنی عبادت گاہ میں خدائے وحدہ لاشریک لہ کا نام لینے سے محروم رہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب ظلم و ناانصافی کو طاقت و حکومت کی پشت پناہی حاصل ہوجاتی ہے تو آئین و قانون اور عدالت سب اس کے آگے سربسجود ہوجاتے ہیں۔

مسلمانوں نے بھی کیس عدالت میں داخل کروایا کہ بابری مسجد مسلمانوں کی مسجد ہے جس میں وہ ۱۵۲۸ء سے برابر عبادت کرتے رہے ہیں لہٰذا یہ مسجد انھیں واپس دی جائے اور نماز وغیرہ میں کسی قسم کی مداخلت نہ کی جائے تقریباً ۳۵/ سال کے طویل عرصہ تک یہ مقدمات عدالت میں معطل پڑے رہے، …. ان سے متعلق کوئی موٴثر کارروائی نہیں کی گئی، اس دوران پولیس اور رسیور کی نگرانی کے باوجود مسجد کے اندر اور باہر خلاف قانون بہت سی تبدیلیاں کردی گئیں، مثلاً مسجد کے صدر دروازہ پر جلی حرفوں میں ”اللہ“ کندہ تھا جسے کھرچ دیاگیا، دروازہ پر جنم استھان مندر کا بورڈ لگادیا گیا، احاطہ کی شمالی چہار دیواری اور مسجد کی درمیانی جگہ میں سفید و سیاہ سنگ مرمر کا فرش بنایا گیا جسے پری کرما کا نام دیاگیا، صحن مسجد میں اتر جانب ایک ہینڈ پائپ نصب کرلیاگیا، مسجد سے باہر پورب سمت ایک سفالہ پوش مندر اور مندر کے پجاری کے لئے ایک کمرہ تعمیر کرلیاگیا دکھن جانب نام نہاد جنم استھان کے چبوترہ پر بھی ایک مندر بنالیاگیا اور مسجد کے درمیانی گنبد پر ایک بھگوا جھنڈا لگادیا گیا یہ ساری تبدیلیاں ۱۹۶۷ء اور ۱۹۸۶ء کے درمیانی عرصہ میں کی گئیں مگر رسیور، انتظامیہ اور عدالت کی پیشانی پر شکن تک نہ آئی۔ عدالت بے ہی قانون و انصاف کی دھجیاں اڑان دیں ۔۔

1441460_603627383035691_1399254983_n.jpg
مسجد کی شہادت سے قبل نرسمہا راؤ سارے ملک کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے رہے کہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا سپریم کورٹ میں بھی مسجد کی برقراری اور نقصان نہ پہنچانے کا حلف نامہ نرسمہا راؤ نے اپنے دوست کلیان سنگھ سے داخل کروایا اور جس وقت مسجد شہید کی جارہی تھی نرسمہا راؤ سوتے رہے کارسیوکوں کو من مانی کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل تھی پولیس اورنیم فوجی دستوں کو مداخلت سے روک دیا گیا اور نہ صرف مسجد شہید کردی گئی بلکہ اس کی جگہ عارضی مندر کی تعمیر تک کی کوششیں کی جا رہی ہیں ۔۔

ﺑﺎﺑﺮﯼ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺍﺱ ﻭﻗﺖﮐﮯ ﻭﺯﯾﺮﺍﻋﻠﯽٰ ﮐﻠﯿﺎﻥ ﺳﻨﮕﮫ ﺍﻭﺭ ﺷﯿﻮ ﺳﯿﻨﺎ ﮐﮯﺳﺮﺑﺮﺍﮦ ﺑﺎﻝ ﭨﮭﺎﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﻞ ﮐﮯ ﺍﯾﮉﻭﺍﻧﯽﺳﻤﯿﺖ 49 ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻣﻘﺪﻣﺎﺕ ﺩﺭﺝ ﮐﯿﮯﮔﺌﮯ ﺟﻮ 2 ﺩﮨﺎﺋﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﺮﺻﮧ ﮔﺰﺭ ﺟﺎﻧﮯﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩ ﻗﺎﻧﻮﻧﯽ ﺩﺍﺋﻮ ﭘﯿﭻ ﺍﻭﺭ ﻋﺪﺍﻟﺘﻮﮞ ﮐﯽﭘﯿﭽﯿﺪﮔﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺠﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﺩﻭﺭﺍﻥ10 ﻣﻠﺰﻣﺎﻥ ﺍﻭﺭ 50 ﮔﻮﺍﮦ ﻣﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦﻣﻘﺪﻣﮯ ﮐﺎ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﺁﺝ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁ ﺳﮑﺎ ﮨﮯ۔

بابری مسجد کی شہادت کو 24 سال گزر گئے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے خلاف اس وقت کے وزیر اعلیٰ کلیان سنگھ، شیو سینا کے سربراہ بال ٹھاکرے اور ایل کے ایڈوانی سمیت سینکڑوں ملزموں کے خلاف مقدمات درج کیے گئے جن کا آج تک فیصلہ نہیں ہو سکا۔ آج 24 سال گزرنے کے باوجود مسلمان انصاف کیلئے بھارتی عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹا رہے ہیں۔ بابری مسجد اس کے اصل مقام پر دوبارہ تعمیر ہوگی یا نہیں‘ یہ سوال یقیناًذہن میں ابھرتا ہے۔ مایوسی کفر ہے‘ اللہ کی ذات سے یقین ہے۔

جہاں تک تاریخی حقائق کا تعلق ہے‘ فاروق ارگلی کی مرتبہ کتاب ’’بابری مسجد حقائق کے آئینے میں‘‘ کے مطابق بابری مسجد کی تعمیر سے متعلق کہا جاتا ہے کہ سکندر لودھی کے بابرک نامی ایک سپہ سالار لنے بنگال کی فتح کے بعد واپسی کے دوران فیض آباد کے ایک بلند ٹیلے پر ایک عالی شان مسجد بنوائی تھی جو بابرک مسجد کہلائی اور کثرت استعمال سے اس کا نام بابری مسجد ہوگیا۔ تاہم مستند حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہ شہنشاہ بابر ہندوستان پر حملہ کرنے سے پہلے فقیروں کے بھیس میں کابل سے یہاں آئے تھے اور فیض آباد میں ایک بلند ٹیلے پر ان کی ملاقات اس دور کے مقتدر بزرگ شاہ جلال الدینؒ اور حضرت موسی عاشقانؒ سے ہوئی۔ یہ بزرگان دین نے بابر کی التجا پر اس کی امداد باطنی کیلئے دعا کی اور حکم کیا کہ اگر اس کے تمام مرادیں پوری ہوجائیں تو اس ٹیلے پر ایک مسجد تعمیر کروانا۔ 1528ء میں جب بابر نے ہندوستان فتح کیا تو اس نے اودھ میں اپنے گورنر میرباقی کے ذریعہ اس ویران ٹیلے پر ایک مسجد تعمیر کروائی جو بابری مسجد کے نام سے موسوم رہی جس کے منبر پر فارسی اشعار مسجد کی شہادت تک کندہ تھے۔

بہ فرمودۂ شاہ بابر کہ عدلش
بنا بست با کاخِ گردوں ملاقی
بناکرد ایں محبط قدسیاں را
امیر سعادت نشاں میر باقی
بود خیر باقی چو سال بنایش
عیاش شد کہ محکم بود خیر باقی

بابری مسجد کی تعمیر سے پہلے وہاں کوئی مندر نہیں تھا یہ بات بھی تاریخی کتب اور مستند حوالوں سے ثابت ہے۔ کچھ فاصلے پر چند بیراگی ایک کورٹ پر رہا کرتے تھے جسے رام کورٹ کہتے ۔ اکبر نے اپنے زمانے میں کچھ فاصلے پر جو بیراگی یا رام کورٹ پر ہندوؤں کو چبوترہ بناکر پوجا پاٹ کی اجازت دی تھی۔
مگر واضح رہے کچھ فاصلے پر ۔۔

مجھے ہندوؤں سے زیادہ مسلمانوں پر غصہ اور دکھ ہے کہ مسلمان کئی سو سالوں سے صرف اور صرف بیان بازیاں ہی کرتے آرہے ہیں ۔۔ جس کی وجہ سے وہ تاریخ میں کمزور ہوتے جارہے ہیں ۔۔ اس وقت سے لے کر اب تک مسلمان بیان بازی میں مصروف رہے ۔۔ اس وقت مسلم قیادت کو میڈیا کے ذریعہ بدنام کرکے مسلمانوں کو متحد ہونے سے روکا گیا۔ وقت گذرتا گیا۔ بابری مسجد کی شہادت پر احتجاجی آوازیں کمزور ہوتی گئیں۔ 6؍دسمبر کو یوم سیاہ اور مسلم اداروں کا بند ایک روایت بن گیا۔ جلسے ہوتے ہیں‘ گورنرس، کلکٹرس کو 22برس سے یادداشتیں پیش کی جاتی رہی ہیں‘ یہ سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا۔بابری مسجد کو ہم نہیں بچا سکے۔اس کی بازیابی و دوبارہ تعمیر کے لئے ہم یقیناًجدوجہد کرتے رہیں گے۔ اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کوغیروں کے ساتھ ساتھ اپنوں میں موجود مفاد پرستوں سے بچانے کی ضرورت ہے۔ مسلکی جھگڑوں نے ہمیں بہت رسوا کیا۔ ہماری غفلتوں، نادانیوں اور مفاد پرستی کی وجہ سے ہماری مساجد کے جھگڑے پولیس اسٹیشنوں تک پہنچ جاتے ہیں۔

بس یہی گذارش ہے کہ اللہ کے گھروں کو آباد کرو، انہیں فتنہ پرور عناصر سے پاک رکھیں۔ اور بابری مسجد کی بازیابی کو اگر ذمہ داری ایک فریضہ کے طور پر ادا نہ کی گئی تو پھر اَن گنت مساجد بابری مسجد کی طرح تاریخی گم گشتہ کا ایک ورق بن کر رہ جائے گی ۔۔

This slideshow requires JavaScript.

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on December 7, 2016, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: