جنرل (ر) راحیل شریف کے خلاف سازش

15134566_1231622253590383_2200663988895552795_n

راحیل شریف افواج پاکستان کے 15ویں سربراہ تھے- 29 نومبر 2016ء پاک فوج کی کمان جنرل قمر جاوید باجوہ کو سونپ کر ریٹائرڈ ہوئے۔ راحیل شریف نے جس وقت پاکستانی آرمی کی کمانڈ سنبھالی تو ملک میں امن و امان کی صورتحال انتہائی ابتر تھی۔انہوں نے دہشت گردوں کے خلاف سخت موقف اخیتار کیا اور سانحہ پشاور کے بعد پاکستان آرمی نے تمام تر ملک دشمن قوتوں کے خلاف بلا تفریق کاروائیاں کی۔اس سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری ہونے لگی اور راحیل شریف ملک میں ایک مقبول آرمی چیف کی حثیت سے ابھرے ۔ راحیل شریف نے ایک آرمی چیف کی حیثیت سے29 نومبر 2016ء تک خدمات انجام دیں ۔اور پاک فوج کی کمان جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے کی ۔۔

ایک منظم سازش راحیل شریف کے خلاف کچھ لوگ چلا رہے ہیں ۔۔ تاکہ انکے بے داغ اور کامیاب دور سپاہ سالاری پر الزامات لگائے جاسکیں اور انھیں بدنام کرتے ہوئے فوجی قائدے قانون میں حکومتی کرپٹ سیاست دانوں کے مطابق بنائے جاسکیں ۔۔ فوجی بجٹ کے بارے میں سیکیورٹی اداروں کے بارے میں انکے اہلکاروں کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکیں ۔۔ قانون کے مطابق کوئی بھی سابق سپاہ سالار دو سال تک میڈیا سے بات نہیں کرسکتا اور جسکا دشمن عناصر بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہیں ۔۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے تاریخ میں پہلی دفعہ کسی سابق فوجی کے بارے میں کوئی وضاحت دی ہے ۔۔ کیونکہ کہ انکا کردار ہی بے مثال اور بے داغ ہے ۔۔ اور دوسرا یہ راحیل شریف سے نہیں پاک افواج کے خلاف سازش ہے تاکہ سیکیورٹی کی تمام معلومات دشمن عناصر کے کٹ پتلی سیاست دانوں تک پہنچ سکیں ، فوج کی تمام معلومات سیاست دانوں کے ذریعے ہوسکیں جوکہ ایک بہت بڑا سیکیورٹی رسک ہے ۔۔ اور پھر یہ بھی کہ اس سے پہلے گیارہ پچھلے فوجی سربراہوں کو بھی دی گئی تھی اور اس کے علاوہ شاید کچھ لوگ نہ جانتے ہوں کے راحیل شریف یا کسی فوجی سربراہ کے لیے کوئی مخصوص زمین نہیں ہے بلکہ چار ستار جنرل بننے کے بعد یہ زمین سب کو ملتی ہے زراعت والی زمین ہے جو کے بی آر بی نہر کے کنارے یعنی باڈر کے پاس ہے اور بی آر بی کی تاریخ سب کو پتا ہی ہے کہ وہ دفاعی لحاظ سے کتنی اہمیت کی حامل ہے ۔۔ تاریخ دیکھنے سے اور قانون کے مطابق پتا چلتا ہے کہ ملکی حالات خراب ہوئے ہیں تو وہاں اس علاقے میں افواج اپنے مورچے بناتی ہیں مشقیں کرتی ہیں ۔۔ وہ صرف کاشت کے قابل رقبے ہیں اس علاقے کہ نہ وہاں رہائش گاہ بن سکتی ہے اور نہ ہی کوئی کاروبار کیا جاسکتا ہے سوائے کاشت کے ۔ اور راحیل شریف کو تو نہر کی دوسری طرف بنجر زمین دی گئی ۔۔ وہاں نہ کاشت ہوسکتی ہے اور نہ ہی کوئی کاروبار ۔ ۔ بات سمجھنے والی ہے کہ سیاست دان جو کہ اسلام آباد میں بڑے بڑے پلازے ، بڑے بڑے رقبہ ، پلاٹ وہ بھی کمرشل علاقہ میں مفت میں ساری زندگی کے لیے اپنے نام کرپشن وغیرہ سے کرواتے ہیں ۔۔ انھیں کسی فوجی کو باڈر کے پاس کھیتی باڑی (کاشت) کے لیے اگر کچھ زمین دے دی جاتی ہے تو اس سے انھیں کیا مسئلہ ہے ۔۔ کبھی فوج نے رائے ونڈ ، بنی گالہ ، بلاول ہاؤس ، نائین زیرو وغیرہ اور سیاست دانوں کی زمینوں کے بارے میں کوئی بات کی ؟؟ یا کبھی حکومت کے کسی سیاسی مسئلہ میں ٹانگ آڑائی ۔۔۔ تو پھر حکومت اور اسکے سیاست دان فوج پر اپنے سیاسی داؤ (چالیں) چل کر کیا کرنا چاہتے ہیں ۔۔ پھر وہاں کی زمین کی قیمت کمرشل علاقے کے حصاب سے بتائی جارہی ہے حالانکہ وہ صرف اور صرف زندگی بھر بنجر ہی رہے گی وہاں وہ رہائش گاہ یا کوئی کمرشل تعمیر نہیں ہوسکتی ۔ اسکے علاوہ وہاں جو جگہ ہے وہاں نہ بجلی ہے نہ ہی گیس ، دور دور تک کوئی گھر یا کوئی عمارت نہیں ہے ۔۔ اور یہ فوج سابق سربراہاں کو اس لیے دیتی ہے کہ ملک کے بیرونی خطرات کے وقت ان سے واپس لے کر وہاں اپنے دفاع کے لیے مورچے وغیرہ بنائے جاسکیں ۔۔ یہ قابل کاشت ہی نہیں ہے ۔۔ اور یہ بہت سستی زمین ہے کہ وہاں کوئی لینا نہیں پسند کرتا ۔۔۔ یہ دشمن کی سوچی سمجھی سازش ہے انہتر سال سے ایک معمول کی فوجی کاروائی کو اتنا بڑا مسئلہ بنا کر میڈیا میں بہت بڑی بلا بناکر پیش کرنے کا مقصد محض پاک فوج کا مورال کمزور کرنا اور انکے خلاف سازش کرنا ہے ۔۔

وہ بھی ایسے شخص کے بارے میں جس نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا ۔۔ اور سب سے زیادہ کرپشن کے خلاف بھی انھوں نے بہت کاروائی کی ۔۔ دہشت گردی کے تمام پہلوں جس میں کرپشن بھی ہے اسکے خاتمے کےلیے بھی سب سے پہلے راحیل شریف نے پاک فوج کا محاسبہ کیا ، یعنی اپنے گھر کو پہلے کرپشن سے پاک و صاف کیا ۔۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ محض ایک سازش ہے انکو بدنام کرنے کی ۔۔ اور اسکے پیچھے صرف کرپٹ پاکستانیوں کا ہی نہیں بلکہ بیرون ملک دشمن عناصر جن کو ضرب عضب اور دیگر آپریشن سے نقصان ہوا وہ بھی اس سازش کا حصہ ہیں ۔۔

راحیل شریف زمین ارضی جس بی آر بی نہر کے علاقے میں ملی ہے اس بی آر بی نہر کی ایک تاریخ ہے جہاں راجہ عزیز بھٹی شہید نے دشمن کو ناکوچنے چبوائے تھے ۔۔ اس نہر کو آجکل راجہ عزیز بھٹی شہید نہر بھی کہا جاتا ہے اور وہ راجہ عزیز بھٹی شہید سابق سپاہ سالار راحیل شریف کے ماموں ہیں ۔۔ یعنی اگر وہ پورا علاقہ بھی نہر کے دونوں اطراف اور قریب کے گاؤں بھی انھیں دے دیئے جائیں تو بھی انکے ماموں کا پاکستانی قوم بدلہ نہیں چکا سکتی جو انھوں نے اپنے خون سے دشمن کے سینہ پر تاریخ لکھی ۔۔
اگر وہ تمام علاقہ بھی راحیل شریف کو اعزاز میں انکی اعلی خدمات کے دے بھی دیا جائے تو بھی کوئی بری بات نہیں ہے ۔۔ بھارت میں فوجی اعلیٰ افیسرز کی تنخواہیں بھی امریکی آرمی کہ برابر ہیں جبکہ راحیل شریف کو تھوڑی سی بنجر زمین اگر دے دی گئی تو اس پر اتنا واویلا کیوں ؟

ڈان لیکس کیس کا اگر آج فیصلہ ہوگیا ہوتا تو اسطرح کی سازش نہ ہوتی ۔۔ اور سابق سپاہ سالار کے خلاف بھی وہ ہی عناصر سازشیں کرتے نظر آرہے ہیں جو ڈان لیکس کیس اور پانامہ کیس میں پھنس کر ہوش و حواس کھو بیٹھے ہیں ۔۔ راحیل شریف اپنی کچھ زمین شہید فوجیوں کے لواحقین کو عطیہ کرچکے ہیں ۔ تو کیسے ہوسکتا ہے کہ اگر وہ کمرشل یا تعمیراتی کام میں آسکتی تو اسے بھی پاکستان کی ترقی کے لیےعطیہ نہ کرتے ۔۔ اور اب جو انکے پاس زمین ہے وہ بنجر ہے اگر وہ اسکو کاشت کے قابل بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں تو بھی غریب کسانوں کا فائدہ ہے کتنے ہی غریب کسان اس زمین پر کاشت کاری کرے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ بھر سکیں گے ۔۔ مگر وہ باڈر کے پاس ہے اور بنجر ہے یہ کام خاص مہم جوئی والا ہے ۔۔ راحیل شریف صاحب کو اراضی الاٹ کیا جانا کوئی انوکھی بات نہیں اور یہ الاٹمنٹ قوانین کے مطابق اور خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ اس زرعی اراضی کو ٹرانسفر نہیں کیا جاسکتا ۔ ہر آرمی چیف کو ریٹائرمنٹ پر اتنی ہی زرعی اراضی دی جاتی ہے ۔ اراضی کی الاٹمنٹ کا عمل آرمی چیف کے عہدے کی معیاد کے دوران ہی شروع ہوجاتا ہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں اس کا قبضہ فراہم کیا جاتا ہے ۔

جنرل راحیل ہی نہیں بلکہ ہر جج اور جنرل کو قانون کے مطابق اراضی اس سے پہلے بھی الاٹ ہوتی رہی ہے مگر کبھی یوں بڑھا چڑھا کر معاملہ میڈیا میں پیش نہ کیا گیا۔ فرد ملکیتی اور لیٹر نمبر کی تفصیلات سمیت جگہ کی قیمت کا اپنے اپ تعین کر کے میڈیا میں اسے جس انداز سے پیش کیا گیا اس سے ایک بات کا پتہ ضرور چلتا ہے کہ جنرل راحیل شریف سے وہ پرانے بدلے اب بھی لیے جا رہے ہیں جو پہلے ڈان لیکس کے زریعے لینے کی کوشش کی گئی ۔۔ میڈیا میں اس خبر پر شور ایسے مچایا جا رہا ہے جیسے قیامت ٹوٹ پڑی ہو ۔ فوج اور عدلیہ میں اراضی کا اجراء اس پالیسی کا حصہ ہے جو پاکستان سمیت دنیا کے ہر ملک میں کسی نہ کسی انداز میں موجود ہے۔ دنیا کا ہر ملک اپنی انتظامی مشینری کو مراعات دیتا ہے۔ فوج اور عدلیہ میں ججز اور جنرلز کےلیے دورانِ ملازمت کوئی بھی کاروبار کرنے پر پابندی ہوتی ہے۔ ان کےلیے سبھی کچھ صرف ان کی تنخواہ ہوتی ہے۔ دورانِ ملازمت کوئی کاروبار نہ کرنے کے نعم البدل کے طور پر ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد ان کو اراضی الاٹ کی جاتی ہے۔ ایک جنرل یا جج کو بزنس کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا اور زمین مہیا کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد وہ اپنی معاش میں آزاد ہوں۔سوچنے کی بات مگر یہ ہے کہ ایک روٹین کے معاملے کو اس طرح بڑھا چڑھا کر کیوں پیش کیا گیا؟

پاکستان میں کوئی باشعور شخص ایسا نہیں ہے جو یہ نا جانتا ہو کہ کون لوگ ہیں جو راحیل شریف کی بڑھتی مقبولیت سے خوفزدہ تھے اور ہیں۔ بات صرف اتنی تھی کہ فوج کی طرف سے جنرل راحیل شریف کو اراضی مہیا کی گئی لیکن اپ مشاہدہ کیجیے کہ اس کو رنگ کیا دیا گیا۔ پہلے سوشل میڈیا اور ایک گھٹیا درجے کے شام کے اخبار کے زریعے یہ افواہ پھیلائی گئی کہ شہباز شریف نے جنرل راحیل شریف کو اربوں روپے کی اراضی تحفے میں دی۔ یہ جھوٹ ایک دن کے اندر ہی بے نقاب ہو گیا۔ اس افواہ کا مقصد ظاہر ہے یہی تھا کہ راحیل شریف کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جائے۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ جب اصل خبر نشر ہو تو لوگ اس خبر کو پہلے والی جھوٹی خبر کے ساتھ جوڑیں۔ سامنے کی بات جسے ہر بندا سمجھ سکتا ہے یہ ہے کہ زمین دسمبر دو ہزار چودہ میں الاٹ ہوئی اور خبر ابھی چند دن قبل بات کو بڑھا چڑھا کر مرچ مسالہ لگاکر پوری منظم تیاری یا سازش کے تحت جھوٹی اور غلط افواہ پھیلا کر جنرل راحیل شریف کو متنازعہ کرنے کی کوشش کی گئی۔

اس طرح کی حرکتوں سے فائدہ کون لوگ اٹھانا چاہتے ہیں یہ بھی سامنے کی بات ہے۔ راحیل شریف کی صورت میں عوام کو اپنا مسیحا نظر آتا ہے اور یہ بات عوام پہ مسلط عناصر کےلیے ناقابلِ برداشت ہے کہ عوام چند مخصوص چہروں سے اکتا کر راحیل شریف کو بطورِ لیڈر قبول کر لے۔ اس لیے راحیل شریف کا وہ معیار گرانے کی کوشش کی گئی جو عوام کے دل میں مضبوط ہو چکا ہے۔راحیل شریف نے قوم کو شعور اور بیداری و سمجھداری سکھادی ہے اس بات کا بھی بدلہ ہے کہ کچھ سیاست دانوں کی جھوٹٰی سیاست بے نقاب و ختم ہوتی دیکھائی دیتی جارہی ہے ۔۔ اس لیے وہ ایسے اوچھے ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں ۔۔ آخری اور سب سے اہم بات جس کے بغیر یہ کالم نا مکمل رہے گا یہ ہے کہ اس خبر کو اس نمایاں انداز میں چھاپنے کا مقصد یہ تاثر پھیلانا ہے کہ راحیل شریف نے ساز باز کر لی تھی۔ کیا وقت اس بات پہ گواہ نہیں ہے کہ راحیل کے جانے پر سب سے زیادہ خوشی کس کو ہوئی؟ کیا قوم نہیں جانتی کہ راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ پر شکر کا کلمہ کن لوگوں نے پڑھا تھا؟ وہ زمین جو راحیل شریف کو الاٹ کی گئی وہ تو فوج کی عملداری میں تھی اور مہیا جی ایچ کیو نے قانون کے مطابق کی۔ تو پھر کیوں راحیل شریف کو زبردستی کسی سے نتھی کرنے اور ان کی وفاداریوں کو چیلینج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ پاکستانی قوم اپنے لیڈر ، اپنے رہنما ، اپنے محسن کے احسانات نہیں بھولی اور ناہی بھولے گی ہمیشہ دلوں میں عظیم سابق سپاہ سالار کی محبت دلوں میں زندہ رکھے گی ۔۔ اور انکے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنادے گی ۔۔

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on January 29, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: