پاکستان ، روس ، چائنہ ایٹمی معاہدہ

china-pakistan-russia

گزشتہ کچھ عرصے سے بھارت اپنے جوہری نظام کو طاقتور بنانے کے لیے بہت سے معاہدے اور کوششیں کر رہا ہے ۔۔ بھارت ، امریکہ اور جاپان نے آپس میں ایٹمی معاہدہ کر لیا تو اس لیے پاکستان ، چائنہ ، اور روس بھی ایٹمی معاہدہ کر رہیں تاکہ خطے میں طاقت کا تواز قائم رہے ۔۔

پاکستان نے بھارت کے اُس مطالبے کو مسترد کر دیا، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان چین کے ساتھ نیوکلیئر معاہدے کی وضاحت کرے، پاکستان نے پاک چین سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی تعاون کے بارے میں بھارت اور امریکی تحفظات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کے مابین یہ تعاون بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے جس پر کسی کو تحفظات نہیں ہونے چاہئیں، دوسری طرف چین نے بھی امریکہ اور بھارت کے اعتراضات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ اِن ملکوں کے پاس پاکستان کے ساتھ سول جوہری معاہدے میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی جواز موجود نہیں، کیونکہ پاک چین معاہدہ عالمی توانائی ایجنسی کے قوانین کے مطابق ہے، چین نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ اور بھارت کے تحفظات کے باوجود پاکستان کے صوبہ پنجاب میں 650 میگاواٹ نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کریگا،

امریکہ خود بھارت سے اِس نوعیت کا ایٹمی معاہدہ کر چکا ہے، اِس لئے وہ چین پر دباﺅ نہیں ڈال سکتا، ایک بھارتی اخبار کے مطابق چین کی آرمڈ کنٹرول اینڈ ڈس آرمامنٹ ایسوسی ایشن کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل زی وی کوانگ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ چین پاکستان کو سول نیوکلیئر پاور پلانٹ کے سلسلہ میں تعاون فراہم کریگا تاکہ خطے میں طاقت کا عدم توازن نہ ہو ۔۔

حقیقت یہ ہے کہ عوامی جمہوریہ چین پاکستان کا بہترین ہمسایہ ہی نہیں، ایسا قابل اعتماد دوست ہے جو آزمائش کے ہر مرحلے میں دوستی کے معیار پر پورا اترا ہے، اُس نے پاکستان کیلئے جو کہا، وہ کر کے بھی دکھایا، اِسی وجہ سے پاک چین دوستی کے ہمالیہ سے بلند اور شہد سے میٹھا ہونے کی جو مثالیں دی جاتی ہیں، وہ غلط نہیں، چین نے ہر فیلڈ میں ہمیشہ پاکستان کے ساتھ بے لوث تعاون کیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے اپنی مصلحتوں اور مجبوریوں کے تحت چین کے بے لوث تعاون کے باوجود ہمیشہ امریکہ کی کاسہ لیسی کی، حالانکہ امریکہ نے دوستی کا معیار مقرر کرتے وقت دفاعی تعاون، مشترکہ جنگی مشقیں، ایٹمی ٹیکنالوجی کا تبادلے اور تجارتی تعاون میں ہمیشہ پاکستان پر بھارت کو ترجیح دی، جو شروع دن سے پاکستان کی سلامتی کے درپے اور مشرقی کی علیحدگی سے لے کر بلوچستان اور آزاد قبائلی علاقوں میں خانہ جنگی تک پاکستان کی آزادی و خودمختاری کیخلاف مسلسل سازشوں میں مصروف ہے۔

بھارت خطے میں تھانیداری کے جنون میں مبتلا ہے، اُس کے توسیع پسندانہ عزائم آج کھل کر دنیا کے سامنے آچکے ہیں، اِس تناظر میں اگر پاکستان اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے کوئی قدم اٹھاتا ہے تو بھارت شور مچاتا ہے کہ پاکستان کو روکا جائے، اسی وجہ سے اب بھارت کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی ہے کہ پاک چین اور روس میں سول ایٹمی معاہدہ کیوں ہو ۔۔ جبکہ خود بھارت امریکہ، برطانیہ، فرانس اور اسرائیل سمیت متعدد ممالک کیساتھ دفاعی اور ایٹمی تعاون کے اب تک 130 معاہدے کر چکا ہے،
س وقت اسکی دفاعی صلاحیت اور جنگی سازوسامان میں پاکستان کے مقابلے میں چار گنا اضافہ ہو چکا ہے، جس کی بنیاد پر وہ ہمیں محض دھمکیاں ہی نہیں دیتا، بلکہ ہماری سالمیت کیخلاف مسلسل سازشوں میں بھی مصروف ہے، جبکہ دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر ہماری سرزمین کے اندر حملہ آور ہونے کے حوالے سے اُس کے عزائم کا اظہار بھی بارہا ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود آج تک امریکہ نے بھارت کے جنگی جنون، تخریبی سرگرمیوں اور توسیع پسندانہ عزائم کا نہ تو کوئی نوٹس لیا اور نہ ہی کبھی تشویش کا اظہار کیا، دوسری طرف پاکستان چین دفاعی تعاون کے معاہدوں پر امریکہ اور بھارت کے پیٹ میں بیک وقت مروڑ اٹھ رہے ہیں ۔۔

پاک روس دفاعی معاہدہ بھارت میں مودی سرکار کی سفارتی ناکامی سے تعبیر کیا جارہا ہے – سیاست میں دوست یا دشمن نہیں بلکہ مفادات مستقل ہوتے ہیں – پاکستان حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے دونوں ملکوں میں تعلقات کو روس کے نکتہ نظر سے دوستانہ اور مفید بنانے کی کوشش کرے ۔۔ اور روس اور پاکستان مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں اسی سلسلے میں پاکستان نے روس کو دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے اور حالات پر امن رکھنے کے لیے کچھ عرصہ پہلے انکے فوجی دستہ کو تربیت بھی دی تھی تاکہ خطے میں امن و امان قائم ہو ۔ اور روس سی پی سی اور گوادر پورٹ میں سرمایہ کاری اور تجارت کرنا چاہتا ہے ۔۔ جو کہ دونوں ممالک کے لیے اچھی اور خوش آئن بات ہے ۔۔

روس شروع سے ہی پاکستان کے ساتھ امن اور دوستی چاہتا ہے مگر ہمارے کچھ امریکی اور بھارتی غلام سیاست دان اس سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکے امید ہے اب وہ ہوش کے ناخون لیں گے اور روس اور چائنہ کے ساتھ مل کر خطے کو پرامن اور تجارت کا مرکز بنائیں گے ۔۔ روس ہمارا قریبی ہمسایہ ہے اور دوستی کا خواہش مند بھی ہے پاکستانی سیاست دانوں کی ماضی کی غلطیاں بھلا کر ساتھ چلانا چاہتا ہے اور انشاءاللہ پاک ، چین ، روس دوستی دنیا میں امن و سلامتی کی علمبردار ہوگی ۔۔

پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ آج کے روس کو سمجھنے کی کوشش کرے – پاکستانی حکام کو اپنی ان غلطیوں کا بھی جائزہ لینا چاہیے ۔۔ تاکہ خطے میں امن و امان قائم ہو اور اقتصادی صورتحال بہتر ہو ۔۔ الیہ تبدیلی کسی منصوبہ بندی، احتیاط یا مربوط خارجہ پالیسی کا نتیجہ نہیں بلکہ حسب سابق و موجودہ حالات کے نتیجہ میں وقوع پذیر ہوئی ہے -اب دونوں ممالک کو مل کر چلنا چاہیے اورپاک روس چین ایٹمی ہتھیاروں کے معاہدے اور اقتصادی راہداری کے منصوبے بھارت اور امریکہ کی نیندیں اڑا رہے ہیں ۔۔

پاکستان اور روس اور چین کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات کے لیے ہماری اسٹیشلمنٹ کو اپنے خوف سے باہر نکل کر ایسے اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے جس کے نتیجہ میں عوام ایک دوسرے کے قریب آسکیں۔۔۔!! تینوں ملکوں میں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے عوامی وفود کا تبادلہ اور پاکستان میں سرکاری سطح پر یونیورسٹیوں میں روسی اور چینی زبان باقی مضامین کے ساتھ ایک مضمون شامل کرنے سے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔۔۔

سعودی عرب بھی چائنہ سے سکیورٹی معاہدہ کرنے جا رہا ہے جو کہ خطے میں امن کے لیے ایک نیا پیغام ہے ۔۔ بھارتی جنتہ پارٹی (بی جے پی) کی حکومت کا دور شروع ہوتے ہی پاکستان کی سا لمیت کمزور کرنے کی جو جارحانہ پالیسیاں اختیار کی گئیں اس سے بھارتی عزائم کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ پاکستان کو ہر صورت نقصان پہنچانے پر تلا بیٹھا ہے۔ اس تناظر میں مودی سرکار کو پاکستان کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی پر مبنی کوئی منصوبہ بھی ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ اسے سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مگن نظر آتا ہے‘۔

اس کیساتھ ساتھ مودی سرکار نے پاکستان کو دہشت گردی کے ذریعہ بھی کمزور کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے چنانچہ گزشتہ دو اڑھائی سال کے دوران پاکستان میں جتنی بھی دہشت گردی کی وارداتیں ہوئیں‘ اُن میں سے زیادہ تر میں بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا ہاتھ ہی کارفرما نظر آیا ہے‘ سی پیک کا دشمن نہ صرف پاکستان کا دشمن ہے بلکہ خطے کے دوسرے ممالک کا بھی برابر دشمن ہے جو خطے میں امن اور اقتصادی صورتحال بہتر بنانے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔۔

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on November 18, 2016, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: