آئی ڈی پیز اپنے گھروں میں واپسی

15665397_1212213292160068_6910480144753484886_n

آئی ڈی پیز اپنے گھروں میں واپسی اور ترقی پر خوش ہیں ۔۔ کہ آئی ڈی پیز اب اپنے گھروں میں امن سے رہ سکیں گے۔ افواج پاکستان کی قربانیوں کی بدولت ملک میں امن قائم ہو رہا ہے۔ دہشت گردوں سے خالی کرائے گئے علاقوں میں ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے ۔۔ رابطہ سڑکوں اور شہری مراکز ، سکولوں، دکانوں، مساجد اور پارکوں کی تعمیرو ترقی ہو رہی ہے اور قائم بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے منصوبوں سے آئی ڈی پیز خوش ہیں ۔۔

دہشت گردی کی جنگ میں قوم کے علاوہ ہماری سکیورٹی فورسز نے بھی بلاشبہ بے بہا قربانیاں دی ہیں، جنہیں رائیگاں نہیں جانے دینا چاہئے۔ حکومت کو ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ اب خالی خولی نعروں اور زبانی جمع خرچ سے قوم کو مزید مایوس نہ کیا جائے‘ آج ضرورت ہے کہ حکومت بھی آئی ڈی پیز کے لیے کچھ کرے ان کی بحالی میں فوج کے ساتھ مل کر مزید بہتر اندار میں ممکن بنائے ۔۔ قبائلی علاقوں میں نقل مکانی کرنے والے افراد کی واپسی اور بحالی کے لئے دسمبر 2016کو حتمی قرار دیا جاریا ہے لیکن یہ تب ہی ممکن ہے کہ حکومت اس میں بھرپور کردار ادا کرے ۔۔

آئی ڈی پیز کی واپسی پر فوج کی طرف سے بہتر انتظامات پر خوشی کو مزید چار چاند لگ جاتے اگر حکومت بھی کچھ آئی ڈی پیز کی بحالی میں اپنا کردار بھرپور طریقے سے ادا کرے ۔۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے ترقی کی رپورٹ کے مطابق قبائلی علاقوں میں شورش کے باعث ایک لاکھ پانچ ہزارسات سو چوالیس گھر تباہ ہوئے ہیں جن میں تقریبا ستر ہزار مکمل اورتقریبا چالیس ہزارجزوی طورپرہے ان میں سب زیادہ گھروں کی تباہی جنوبی و شمالی وزیرستان میں ریکارڈ کی گئی جن کی تعداد پچاس ہزار سے زائد ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق گھروں کی بحالی کی مد میں بتیس ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی حکومت نے اب تک گھروں کی بحالی کی مد میں صرف پانچ ارب جاری کئے ہیں جبکہ ساٹھ فیصد اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں

وفاقی حکومت نے عارضی طورپرنقل مکانی کرنے والے کی واپسی کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندی کے باعث تباہ ہونے والے انفراسٹرکچرکی بحالی و تعمیر نو کے لئے بھی تیس ارب روپے کا تخمینہ لگایا گیا تھا اور اس حوالے سے رقم کی فراہمی کے طریقہ کار کے مطابق یہ رقم 2014 سے2017 تک تین مرحلے میں مکمل جاری ہونی تھے اور2014 سے2016تک دو مرحلے گزرنے والے ہیں جس میں چودہ ارب روپے جاری ہونے چاہیے تھے لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ اب تک صرف پانچ ارب روپے جاری ہوئے ہیں۔

قبائلی علاقوں کے عوام نے ملک کی بقا اورپرامن پاکستان کے لئے قربانیاں دیں اوراپنی روایات سے ہٹ کرگھر بارچھوڑکرنقل مکانی کے مشکل ترین دن دیکھے اوراب جب ان کی واپسی ہورہی ہے تو ان کا بہترحالات اور عزت و احترام کے ساتھ اپنے علاقہ بھیجنا اوران کا خیال رکھنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ افواج کا کام صرف علاقہ کلیئر کرنا تھا ۔۔۔ مگر افواج ِ پاکستان علاقہ کلیئر کرنے کے بعد وہاں تعمیر نو میں بھی اپنا پورا کردار ادا کر رہے ہیں ۔۔ اور واپس آنے والے لوگ بھی نئے انفرسٹرکچر کو دیکھ کر خوش ہیں اور اطمنان کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ حکومت ابھی تک صرف بیان بازیاں کر رہی ہے جب آہستہ آہستہ فوج نے تمام کام اکیلے ہی مکمل کر لیا تو پھر سی پیک منصوبے کی طرح یہاں بھی حکومت اپنی سیاست چمکانے اور اپنا نام لکھوانے آجائے گی ۔۔ جیسے ایک درزی کپڑے سلائی کرنے کے لیے صرف دو روپے کی سوئی اور پانچ روپے کا دھاگہ استعمال کرتا ہے اور سلائی کے بارہ سو لے لیتا ہے ویسا ہی حکومت کا بھی حال ہے دو ارب لگا کر بتیس ارب کا منصوبہ اپنے نام کرنے والی بات ہے ۔۔ چلو درزی پھر بھی خود محنت کرتا ہے اور یہاں کوئی اور مخلص ہمدرد یعنی فوج محنت اور پیسہ لگا رہی ہے بعد میں صرف اپنا نام تختی پر لکھوانے حکومت آجائے گی حکومت کو چاہیے کہ ابھی بھی حالات پر توجہ دے اور بحالی میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ جلد از جلد آئی ڈی پیز کی تعمیر و ترقی مکمل ہو سکے ۔۔

فاٹا اور دیگر قبائلی علاقوں میں عوام نے کریسمس اور دیگر تہواروں کو اپنے اپنے عائد کے مطابق آزادی سے منایا اور بہت خوشی کا اظہار کیا ۔۔ اور سکیورٹی صورتحال پر اطمنان کا اظہار کیا ۔۔ جو کہ خوش ائن بات ہے کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے ۔۔

افغانستان سے ملحقہ سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے ایف سی کا ایک اسپیشل ونگ بنایا جائے ۔۔ ترقیاتی عمل کو تیز کیا جائے عام انتخابات کروا کر نمائندوں کی مرضی کے مطابق پختونخواہ یا وفاق میں قبائلی علاقوں کو شامل کیا جائے تاکہ بہتر انداز میں ترقی ممکن ہو اور ایک باقائدہ نظام کے تحت ان علاقوں کو سہولیات میسر ہوتی رہیں ۔۔ فاٹا کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں لایا جائے اور 1973 کے آئین کو مکمل طور پر لاگو کیا جائے ۔ فاٹا کو کسی صوبے میں ضم کرکے وہاں حکومتی اخیتار قائم کرکے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے راستہ ہموار کیا جائے ۔

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on December 28, 2016, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: