23 March (23 مارچ)

17155707_392896501103421_147239036894445023_n

یوم پاکستان پاکستان کی تاریخ کا بہت اہم دن ہے ۔ اس دن قرارداد پاکستان پیش کی گئی تھی۔ قرارداد پاکستان جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے جدا گانہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی تھی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔وہ مطالبہ جو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نام سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔اس دن “23 مارچ” پورے پاکستان میں عام چھٹی ہوتی ہے۔
اور 23 مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا آئین کو اپنایا گیا مملکت پاکستان پہلا اسلامی جمہوریہ اسلامی جمہوریہ پاکستان بنا۔

23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک موجودہ اقبال پارک میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اور اسی دن 1956 میں پاکستان کا پہلا آئین منظور ہوا۔ جس کے نتیجہ میں ملک دنیا کا پہلا اسلامی جمہوریہ بنا۔ 23 مارچ، 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس کے اختتام پر وہ تاریخی قرار داد منظور کی گئی تھی جس کی بنیاد پر مسلم لیگ نے برصغیر میں مسلمانوں کے علاحدہ وطن کے حصول کے لیے تحریک شروع کی اور سات برس کے بعد اپنا مطالبہ منظور کرانے میں کامیاب رہی۔ 23 مارچ، 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے تین روزہ سالانہ اجلاس سے 4 روز قبل لاہور میں علامہ مشرقی کی خاکسار جماعت نے پابندی توڑتے ہوئے ایک عسکری پریڈ کی تھی جس کو روکنے کے لیے پولیس نے گولیاں چلائیں۔ 35 کے قریب خاکسار جاں بحق ہوئے۔ اس واقعہ کی وجہ سے لاہور میں زبردست کشیدگی تھی اور صوبہ پنجاب میں مسلم لیگ کی اتحادی جماعت یونینسٹ پارٹی برسراقتدار تھی اور اس بات کا خطرہ تھا کہ خاکسار کے بیلچہ بردار کارکن مسلم لیگ کا یہ اجلاس نہ ہونے دیں یا اس موقع پر ہنگامہ برپا کریں۔
موقع کی اسی نزاکت کے پیش نظر قائد اعظم محمد علی جناح نے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے پہلی بار کہا کہ ہندوستان میں مسئلہ فرقہ ورارنہ نوعیت کا نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی ہے یعنی یہ دو قوموں کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں فرق اتنا بڑا اور واضح ہے کہ ایک مرکزی حکومت کے تحت ان کا اتحاد خطرات سے بھر پور ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت میں ایک ہی راہ ہے کہ ان کی علاحدہ مملکتیں ہوں۔
دوسرے دن انہی خطوط پر 23 مارچ کو اس زمانہ کے بنگال کے وزیر اعلی مولوی فضل الحق نے قرار داد لاہور پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ اس وقت تک کوئی آئینی منصوبہ نہ تو قابل عمل ہوگا اور نہ مسلمانوں کو قبول ہوگا جب تک ایک دوسرے سے ملے ہوئے جغرافیائی یونٹوں کی جدا گانہ علاقوں میں حد بندی نہ ہو۔ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ ان علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی عددی اکثریت ہے جیسے کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقے، انہیں یکجا کر کے ان میں آزاد مملکتیں قائم کی جائیں جن میں شامل یونٹوں کو خود مختاری اور حاکمیت اعلی حاصل ہو۔

مولانا ظفر علی خان اور قائد اعظم محمد علی جناح مولوی فضل الحق کی طرف سے پیش کردہ اس قرارداد کی تائید یوپی کے مسلم لیگی رہنما چودھری خلیق الزماں، پنجاب سے مولانا ظفر علی خان، سرحد سے سردار اورنگ زیب سندھ سے سر عبداللہ ہارون اور بلوچستان سے قاضی عیسی نے کی۔ قرارداد 23 مارچ کو اختتامی اجلاس میں منظور کی گئی۔ حضرت مجدد الف ثانی بر صغیر میں پہلے بزرگ ہیں جنہوں نے دو قومی نظریہ پیش کیا ۔ پھر شاہ ولی اللہ ، سر سید احمد خان علامہ اقبال اور دیگر علمائے کرام نے نظریہ پاکستان کی وضاحت کی ۔ بر صغیر میں مختلف مسلم ادارے اسی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوئے اور کئی تحریکیں اسی نظریے کے پرچار کے لیے معرض وجود میں آئیں ۔ اسلام اور ہندو دھرم دو مختلف معاشرتی نظام قائد اعظم نے قرار دار لاہور 23، مارچ 1940ء کے صدارتی خطبے میں اسلام اور ہندو مت کو محض مذاہب ہی نہيں بلکہ دو مختلف معاشرتی نظام قرار دیا ۔ ہندو اور مسلمان نہ آپس میں شادی کر سکتے ہيں نہ ایک دستر خوان پر کھانا کھا سکتے ہيں ۔ ان کی رزمیہ نظمیں ، ان کے ہیرو اور ان کے کارنامے مختلف ہيں ۔ دونوں کی تہذیبوں کا تجزیہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا : “میں واشگاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ وہ دو مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہيں اور ان تہذیبوں کی بنیاد ایسے تصورات اور حقائق پر رکھی گئی ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہيں ۔ مارچ، 1909ء میں ہندو رہنما منرو ا راج امرتسر نے علامہ اقبال کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے متحدہ قومیت کے موقع پر خطاب کرنے کی دعوت دی ۔ علامہ اقبال نے نہ صرف متحدہ قومیت کے تصور کو مسترد کر دیا بلکہ آپ نے مہمان خصوصی بننے سے بھی انکار کر دیا ۔ آپ نے فرمایا: “میں خود اس خیال کا حامی رہ چکا ہوں کہ امتیاز مذہب اس ملک سے اٹھ جانا چاہیے مگر اب میرا خیال ہے کہ قومی شخصیت کو محفوظ رکھنا ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کے لیے مفید ہے ۔ “

اگر تاریخ دیکھیں تو تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز 23 مارچ، 1940ء کے جلسے کو قرار دیا جا سکتا ہے ۔ آج کل کچھ لوگ پاکستان کے صوبوں کے ناموں میں اضافے پر بحث کررہے ہیں ۔۔ جوکہ بہت غلط ہے پاکستان کا نظریہ ایک پرچم کے سائے میں متحد رہنے ہے پاکستانیوں کا نظریہ ایک ، دین و قرآن ایک ، بہت سی باتیں ایک ہیں ۔۔ اور تجزیہ کار صوبائی تقسیم میں مزید اضافہ ملک کے لیے بہتر تصور نہیں کرتے ۔

17191092_504386756616578_332844461821176159_n.jpg

یوم پاکستان کو منانے کیلئے ہر سال 23 مارچ کو خصوصی تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں پاکستان مسلح افواج پریڈ بھی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستی اثاثوں اور مختلف اشیاء کا نمائش کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر سے لوگ فوجی پریڈ کو دیکھنے کے لیے اکھٹے ہوتے ہیں۔ اس دفعہ پریڈ میں سعودیہ کی اسپیشل افواج بھی حصہ لیں گی ۔۔ 2008ء کے بعد سیکیورٹی خدشات اور ملک کو درپیش مسائل کے باعث پریڈ کا اہتمام نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن 23 مارچ 2015ء کو ایک بار پھر اس تقریب کو منانے کا آغاز ہوا اور الحمداللہ اس سال بھی یوم پاکستان کو بھرپور جوش و خروش کے ساتھ منایا جارہا ہے اور پریڈ کا بھی بھرپور مظاہرہ ہوگا۔۔

قیام پاکستان کا مقصد‘ اسلام کی سربلندی قائم کرنے کیساتھ ساتھ پاکستان میں قیام پذیر دیگر مذاہب کو بھی انکی مذہبی آزادی کےساتھ زندگی بسر کرنے کی آزادی دینا تھا اور انتہاءپسندی کا مکمل خاتمہ کرکے خطے میں مستقل امن کا قیام ممکن بنانا تھا۔ پاکستان کا مطلب تو ”پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ“ ہے لیکن یہاں طاقتور طبقہ فرعون بن بیٹھا۔ یہ وہی پاکستان ہے جو اسلام کے نام پر قائم کیا گیا لیکن یہاں بچیوں کے حجاب پہننے یا نہ پہننے پر بحث ہورہی ہے اور اسلام کے شعائر کا مذاق اڑایا جارہا ہے۔ حکومت تو کجا اپوزیشن بھی اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے میں بازی لے جانے میں مصروف ہے اور میڈیا میں اسکی ایسی کوریج ہورہی ہے جیسے پاکستان نہیں بلکہ یورپ کے کسی ملک میں حجاب پہننے کی پابندی کی بات کی گئی ہو۔ ہم چاہے جتنے طاقتور ہوجائیں‘ اقتدار میں آجائیں‘ دولت مند ہوجائیں‘ مرنا بھی تو ہے۔ اﷲ کے ہاں کیا جواب دینگے کہ ہم نے اسلام کے نام پر قائم مملکت میں حجاب کی پابندی کو مذاق بنایا تھا؟

غیرملکیوں کو کھلی چھوٹ دینا‘ ملک کی آزادی کا سودا ہی ہے۔ جس کا خمیازہ ہماری قوم نے دہشتگردی کی اس قدر شدید لہر کی صورت میں بھگتا کہ کئی سال تک 23 مارچ کی پریڈ ہی منعقد نہ ہوسکی۔ پچھلے سال جنرل راحیل شریف نے دہشتگردی کو شکست دیکر ایک بار پھر 23 مارچ پریڈ کو بحال کیا اور اب انشاءاﷲ 23 مارچ پریڈ میں ترکی اور چین اور سعودی عرب کی مسلح افواج کے دستے بھی شرکت کرینگے۔ شکر پڑیاں پریڈ گراؤنڈ میں23مارچ کو یوم پاکستان پریڈ کی تیاریاں عروج پر ہی، اس مرتبہ پریڈ میں نہ صرف چین کی تینوں افواج کے دستے شامل ہوں گے بلکہ سعودی عرب کا فوجی دستہ اور ترکی کا بینڈ بھی شرکت کرے گا، جبکہ جنوبی افریقہ کے جنرل سولی زکریا شوق پریڈ کا مشاہدہ کریں گے۔

اسلام کے نام پر قائم مملکت کے اقتدار پر پہلے جاگیرداروں نے قبضہ جمایا اور اب اس قبضے میں صنعتکار و سرمایہ دار بھی حصہ دار ہیں اور یہاں پڑھا لکھا عام باصلاحیت نوجوان سیاست میں شرکت کا تصور تک نہیں کرسکتا کیونکہ انتخابی عمل پر دولت کا عنصر غالب ہے اور متوسط و غریب طبقے کا باصلاحیت شخص یہاں بلدیاتی الیکشن بھی نہیں لڑ سکتا‘ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں حصہ لینے کا خواب دیکھنا بھی جرم ہے۔ اگر کوئی عام باصلاحیت شخص سیاست میں حصہ لے تو طویل عرصے سے اقتدار پر قابض دولت مند مافیا تھانے اور پٹوار خانے کے ذریعے اس کا جینا محال کردیتی ہے اور بہت جلد اسے اپنی غلطی کا پوری طرح احساس ہوجاتا ہے۔ جب تک سیاست سے دولت کا عنصر ختم نہیں کیا جاتا اس وقت تک پاکستان کو باصلاحیت قیادت میسر نہیں آسکتی ۔ یہ ایک بھیانک مگر مسلم حقیقت ہے ۔

ملک کی موجودہ صورتحال میں تو قیام پاکستان کےلئے اپنی جانوں کے نذرانے دینے والوں کی روحیں بے تاب ہوں گی کہ ہمارے قربانیوں کے بدلے قائم ہونیوالے ملک کو کس کی نظر لگ گئی ہے جہاں اسلامی شعائر کا مذاق اڑاجارہا ہو‘ سوشل میڈیا پر دنیا کی مقدس ترین ہستیوں کی گستاخی کرنیوالوں کےخلاف کارروائی میں لیت و لعل سے کام لیا جارہا ہو‘ جہاں مریض اسپتالوں کے فرش پر دم توڑ رہے ہوں لیکن حکمرانوں کے گھوڑے مربے و بادام کھاتے ہوں اور عوام کوبنیادی صحت و تعلیم میسر نہ ہو لیکن حکمران اپنے طبی معائنے کےلئے سرکاری خرچ پر بیرون ملک جاتے ہوں کیونکہ انہوں نے اس معیار کا کوئی ایک اسپتال بھی یہاں نہیں بنایا جس میں وہ خود اپنا علاج کراسکیں۔

17352219_412239659125781_5869862707990957770_n.jpg

حکومت ہمیشہ دعویٰ کرتی ہے کہ ہم پاکستان کو دنیا میں نمایاں ترین مقام پر پہنچانے کیلئے پرعزم ہیں تو 23 مارچ پر صرف پریڈ و روایتی خطاب سے کام چلانے کے بجائے اس سال 23 مارچ کو ملک و قوم کی خاطر سچے دل سے سوچ کر کام کرنے کا سوچیں ۔۔ قائداعظم و علامہ اقبال کے تصورات و نظریات کےمطابق ہی پاکستان کو چلانے کیلئے پالیسیاں تشکیل دیکر خالص اسلامی فلاحی ریاست کی جانب تیز تر پیشرفت میں ہی ہماری اصل ترقی کا راز ہے اور ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ زمینی خداﺅں کو خوش کرنے کے بجائے اﷲ کی رضامندی و ملک کی ترقی کےلئے ہی فیصلے کرکے ان پر سختی سے عملدرآمد کرائیں گے ۔

پچھلے چند ماہ میں کچھ دوست احباب کی وجہ سے مجھے بھی تلخ تجربات کا سامنا ہوا ۔۔ بات تو خیر پرسنل ہے مگر اب یہ پرسنل نہیں رہی کیونکہ ہزاروں پاکستانی نوجوان اس مسئلے کا شکار ہیں ۔۔ اور بے روزگار پھر رہے ہیں شاید میری بات کچھ لوگوں کو گراں گزرے مگر معذرت کے ساتھ مجھے بولنا اور لکھنا پڑھ رہا ہے ۔ کہ روزگار کے سلسلے کئی سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں بھرتیوں کا ڈھونگ تو رچایا جاتا ہے مگر پھر بھی نوجوان نسل بے روزگار پھر رہی ہے ۔۔ حال ہی میں چند اداروں نے روزگار کے مواقعہ کا اشہتار دیا مختلف اخباروں میں اور چار یا پانچ سو بینک کی فیس رکھی ۔۔ خیر دوست یاروں نے اشتہار دیکھا اور اللہ کا نام لے کے فارم فل کرکے بینک فیس جمع کرواکر دیے ہوئے پتہ پر ارسال کر پھر اللہ اللہ کرتے ٹیسٹ کی ڈیٹ آئی ۔۔ جناب دوست یار گئے اور دیکھا کہ تین سو سیٹس کے لیے پورے پاکستان سے کوئی پچاس لاکھ کے قریب درخواست فارم متعلقہ اداروں کو موصول ہوئے پچاس لاکھ تھوڑی تعداد نہیں ہے جن میں سے انھوں نے مختلف اداروں نے بیس ہزار بندوں ٹیسٹ کے لیے مختلف اپنے اپنے متعلقہ مقامات پر بلا کر ٹیسٹ لیا ۔۔ پھر جس جس کی ٹیسٹ لینے والے اداروں میں سفارش یا جگاڑ(بہت سے دوسرے طریقے) لگا وہ پاس ہو گئے باقی پورے نمبر حاصل کرنے والے بھی فیل ہوگئے پھر ان پاس ہونے والوں کو مزید ٹیسٹوں کے لیے بلایا اور ان میں سے بھی کچھ جن کے پاس سفارش نہیں تھی فیل کر دیا ۔۔ پھر جی ہوا یوں کہ بات آپہنچی متعقلہ اداروں کی جنھوں نے رکھنا تھا یا بھرتی کرنا تھا وہاں بھی سفارش چلی اور بھرپور چلی ۔۔ جس میں سے تین سو بندہ انھوں نے رکھا جس کے پاس پیسہ اور سفارش دونوں تھے اور ہر مقام یا سرحد کو کسی نا کسی جگاڑ سے عبور کرتے آئے ۔۔ اور انکی قابلیت ماشاءاللہ بہت ہی زیادہ تھی کیونکہ انھوں نے امتحان میں نوٹ لکھنے سے نہیں نوٹ لگانے سے کام لیا تھا ۔۔ کاش وہ ادارے تھوڑا خیال کرتے اور کم از کم قابل ذہین اور تعلیم یافتہ لوگوں کو اگر آگے آنے دیتے تو ان اداروں کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کا بھی فائدہ ہوجاتا ۔ ایک زمانہ تھا جب “چلو چلو دبئی چلو!” کے نعرے نے بڑی مقبولیت پائی۔ جسے دیکھو بقچہ اٹھائے، ملک خداداد سے نالاں، قسمت سنوارنے، زندگی بنانے دبئی، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کا رخ کرتا تھا۔
وقت کا پہیہ گھوما ،زمانے نے کروٹ لی، انسانی تخیل کی پرواز نے لمبی اڑان بھری اور پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ، عرفِ عام میں ‘ولایت’ کا رخ کرنے لگی۔ ہجرت شوق نہیں مجبوری بن گئی ہے۔ گو دیس کے مقابلے میں پردیس میں زندگی خار زار ہے، نہ نوکریاں آسانیاں سے ملتی ہیں، نہ گھر پر نوکر چاکر کا سکھ نصیب ہوتا ہے، کیسے کیسے وہاں جا کر ایسے ویسے بن جاتے ہیں ۔ حکومت پاکستان کے جنوری 2016 میں کیے گئے حالیہ سروے کے مطابق، قریباً 7.8 ملین پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں جو کہ ملک کی آبادی کا اوسطاً 4 فیصد بنتا ہے۔ ان بیرون ملک پاکستانیوں میں سے ایک بڑی تعداد مشرق وسطیٰ میں رہائش پذیر ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سال 1971 سے 2015 کے درمیان تقریباً 80 لاکھ پاکستانیوں نے قریباً پچاس کے قریب ممالک میں رخت سفرباندھا جن میں سرِفہرست سعودی عرب، متحدہ عرب عمارات، بحرین، کویت، عمان، قطر، برطانیہ، امریکا اور کینیڈا ہیں ، کیا وجہ ہے پاکستانی کیوں اپنے ملک سے دور پردیس جارہے ہیں ؟ وجہ یہی ہے کہ روزگار کے لیے کیونکہ یہاں تو روزگار وہ ہی حاصل کرسکتا ہو جس کو نوٹ لگانا آتے ہوں ۔۔ خیر دو سونمبر میں سے ایک سو تین والا فیل اور انہتر نمبر والا پاس ہو جس ملک میں اس کو سدھرنے کی ضرورت ہے ۔۔ یہ میں نے اپنی بات کو مختصر کردیا ۔۔ کیونکہ میں کسی کو جگانے کے لیے بلکل بھی نہیں لکھتا اور نہ ہی کسی کو جگا کر ڈسڑب کرنا یا خود ہونا بھی نہیں چاہتا ۔۔ میرے لکھنا صرف میرے جاگتے رہنے کا ثبوت ہے ۔۔

آئیے اس اہم دن پر ہم یہ عہد کریں کہ ہر شخص انفرادی حیثیت میں ملک کی ترقی و خوشحالی کےلئے پیشرفت کرےگا اور ماضی کی غلطیوں کا کسی صورت اعادہ نہیں کیا جائےگا ۔۔ اقوام عالم کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو ان میں کچھ ایسے مہینے ہوتے ہیں جو شاہراہ تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 23مارچ کا دن ہر سال اہل پاکستان کو اس جذبے کی یاد دلاتا ہے جو قیام پاکستان کا باعث بنا۔ آئیے ہم عہد کریں کہ مملکت خدا داد پاکستان کی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کی خاطر اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں۔

10258509_228304910852591_2156040684830169339_n.jpg

بد قسمی سے ہم نے جب سے تبدیلی اور انقلاب کے لفظوں کو سیاسی نعروں سے مشروط کیا ہے ان لفظوں کے وسیع معنی منجمد ہو نے لگے ہیں۔ مارچ کا آخری عشرہ شروع ہو نے والا ہے جس کے ساتھ ہی وطنِ عزیز میں 23 مارچ کی تقاریب کی تیاریاں زور و شور سے شروع ہو جائیں گی۔ بچپن کی یادوں سے ذہن پہ نقش فوجی پریڈ سے لے کر یادگار تقاریب ،مکالموں اور مباحث کے عارضی سلسلوں کا انعقاد نہایت شان و شوکت سے کیا جائے گا۔ قرار دادِ پاکستان کے لباس میں ملبوس قرار دادِ لاہورکی بحث ایک بار پھر بہت سے سوالوں کو ذہن میں الجھتا چھوڑ کر تاریخ کے دھندلکوں میں لوٹ جائے گی اور ہم اپنی منزل کی طرف ایسے ہی رواں ہو جائیں گے ۔۔ ہمارے قومی پرچم کا تقاضا ہے کہ سرسوں کے سبز لہلہاتے کھیت میں کپاس کے سفید پھولوں سے امن کا اعلان کیا جائے ۔۔

میں کافی دیر سے سوچ رہا تھا کہ تئیس مارچ کے حوالے سے کچھ تحریر کروں لیکن دماغ تھا کہ چل نہیں رہا تھا کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا لکھوں ۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ تاریخ اور آج کے حالات اور مستقبل کے بارے میں ہی لکھوں تو اچھا ہے کہ پڑھنے والوں کو ایک پاس کارڈ پر تین طرح کا فن دیکھاؤں خیر چلو جوں توں کچھ نہ کچھ لکھ ہی ڈالا ہے امید ہے آپ اپنے رسپانس دینے کی کوششیں شاید اس بار کر ہی لیں ورنہ میری ہمت کہاں کہ آپ کی خاموشی کو للکار سکوں ۔۔

خیر میں ذکر کررہا تھا کہ جنوبی ايشياء کے شمال مغرب وسطی ایشیا اور مغربی ایشیا کے لئے دفاعی طور پر اہم حصے میں واقع ایک خود مختار اسلامی ملک ہے۔ 20 کروڑ کی آبادی کے ساتھ یہ دنیا کا چھٹا بڑی آبادی والا ملک ہے۔ 796095 مربع کلومیٹر (307,374 مربع میل) کے ساتھ یہ دنیا کا چھتیسواں بڑے رقبے والا ملک ہے۔ اس کے جنوب میں 1046 کلومیٹر (650 میل) کی ساحلی پٹی ہے جو بحیرہ عرب سے ملتی ہے۔پاکستان کے مشرق ميں بھارت، شمال مشرق ميں چین اور مغرب ميں افغانستان اور ايران واقع ہيں۔ پاکستان کو شمال میں ایک تنگ واخان راہداری تاجکستان سے جدا کرتی ہے جبکہ اس ملک کی سمندری سرحدی حدود عمان کے سمندری حدود سے بھی ملتی ہیں ، اتنا اہم اور دفاعی اہمیت کا حامل اور تجارتی اور قدرتی وسائل سے مالا مال اللہ پاک کی نعمت کی قدر ہمیں کرنی چاہیے ۔۔ ۔ اب اس کی حفاظت ہمیں ہی کرنی ہے ۔۔ جنرل راحیل شریف نے ضرب عضب اور دیگر آپریشنز کے ذریعے پاکستان کے دشمنوں کے ارادوں کو خاک میں ملایا اب سپاہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب کی نگرانی میں آپریشن ردالفساد شروع کیا گیا ہے کہ ملک میں جو فسادی اور دہشت گرد و انکے سہولت کار بیٹھے ہیں انھیں ختم کیا جائے ۔۔ اور پوری قوم انکے ساتھ ہے قوم روز روز دہشت گردی کے واقعات سے تنگ آ گئی ہے اور قوم چاہتی ہے کہ آپریشن کے ذریعے ملک سے دہشت گردوں کا چن چن کر صفایا کردیا جائے ۔۔ 23 مارچ کو محض چھٹی منانا کافی نہیں. ہمیں 23 مارچ 1940 کی قرارداد کی بصیرت کو دوبارہ سے اجاگر کرنا ہے ۔ پاک فوج کا ساتھ دینا ہے اور آپریشن ردالفساد اور مردم شماری میں ہرطرح کی مدد اور معلومات فراہم کرنی ہے تاکہ ملک کو پرامن بنایا جاسکتے اور سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبے بھی تب ہی فائدہ مند ہیں جب ملکی حالات پرامن ہوں ۔۔ ہر شخص ردالفساد کا سپاہی ہے اپنے ملک کے پاکستان بنانے والوں کی محنت اور قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دینا ہم سب نے مل کر اس ملک کو بچانا ہے کیونکہ کہ یہ ہم سب کا پاکستان ہے ۔۔ ب بھی وقت ہے کہ ہم اپنی سیاسی مصلحتوں اور آپس کی ریشہ دوانیوں کو بھلا کر پھر سے متحد ہو جائیں، پاکستان کے اغراض و مقاصد کی تکمیل اور قائد اعظم اور دیگر قومی رہنمائوں کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہمیں پھر سے ایک قوم بننا ہوگا، دو قومی نظریہ جو موجودہ حالات میں دم توڑتا دکھائی دے رہا ہے اسے بچانا ہوگا۔

دنیا کو دکھانا ہوگا کہ ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر پاکستان کے قیام کے خواب کو پورا کیا تھا، ہم وہی قوم ہیں جس نے اپنے قائد کی رہنمائی میں دو قومی نظریے کو سچ ثابت کرکے دکھایا تھا ۔ قائداعظم محمد علی جناح نے 23مارچ 1940ء کے اجتماع سے جو خطاب کیا اس کے دو مرکزی نکتے تھے۔ ایک یہ کہ دو قومی نظریہ ہندوستان کی سب سے بڑی حقیقت ہے اور مسلمان ہر اعتبار سے جداگانہ تشخیص کے حامل ہیں۔ ان کی تقریر کا دوسرا نکتہ یہ تھا کہ اب پاکستان کی صورت میںایک واضح نصب العین مسلمانوں کے سامنے آگیا ہے، چنانچہ انہیں چاہیے کہ وہ متحد ہوکر اس نصب العین کو حقیقت بنانے کے لیے جدوجہد کریں۔ انہوں نے اس سلسلے میں جو زبان اور لب و لہجہ استعمال کیا وہ کوئی عالم دین ہی اختیار کرسکتا تھا ۔ انہوں نے کہا:
’’اسلام کے خادم بن کر آگے بڑھو اور اقتصادی‘ معاشرتی ‘ تعلیمی اور سیاسی اعتبار سے مسلمانوں کی تنظیم کرو۔ مجھے یقین ہے کہ تم وہ طاقت بنو گے جسے ہر شخص تسلیم کرے گا۔‘‘
یعنی دنیا کو دیکھانے کا وقت آگیا ہے کہ پاکستان ایک پر امن اور ترقی پسند ملک ہے کیونکہ یہ ہم سب کا پاکستان ہے ۔ ہم نے ہی اسے مل کرسنوارنا ہے اور اپنے مسائل مل کر حل کرنے ہیں ۔۔ افواج پاکستان کا ساتھ دیتے ہوئے اس 23مارچ جو ملک سے دشمن عناصر اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے کوشش کرنی ہے اور افواج کے ساتھ بھرپور تعاؤن کرتے ہوئے انکا حوصلہ بڑھاتے ہوئے آپریشن درالفساد میں انکا ساتھ دینا ہے اور اپنے وطن کو محفوظ ومستحکم بنانا ہے ۔۔

17342902_503720550016532_874077073768676444_n.jpg

This slideshow requires JavaScript.

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on March 19, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: