جرم ‘‘ مالک ‘‘ کا

 

13062347_1024483857632723_4995809199881243188_n

مالک 2016ء میں بننی والی ایک سیاست پر مبنی فلم ہے۔فلم میں مرکزی کردار فرحان علی آغا،ساجد حسن ، حسن نیازی، عدنان شاہ، راشد فاروقی، احتشام الدین اور عاشر عظیم نبھا رہے ہیں۔فلم 8 اپریل 2016ء کو پاکستان بھر کے سینماؤں میں ریلیز کیا گیاتھا۔اس فلم پر حکومت نے پابندی لگادی ہے۔حکومت نے پابندی کی وجہ یہ بتائی ہے کہ فلم میں صوبائی تعصب اجاگر کرنے ، عام شہریوں کے قانون ہاتھ میں لینے اور سیاستدانوں کے خلاف پروپیگنڈے کے باعث فلم پر پابندی لگائی گئی ہے۔ میں پاکستان کا عام شہری ، پاکستان کا مالک ہوں یہ جملہ حکمران سیاست دانوں سے برداشت نہ ہوسکا ۔۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم عوام انکی ذہنی غلامی سے باہر نکلیں ۔۔ کہیں سوئی ہوئی قوم بیدار نہ ہو جائے ۔۔ جمہوریت کو خطرہ فلم سے نہیں بلکہ سیاست دانوں کی کرپشن اور لوٹ مار سے ہے ۔۔

یہ فلم عاشر عظیم کی ہے فوج پر اعتراضات درست نہیں ۔۔ افواج ِ پاکستان نے اسے صرف لاجسٹک سہولیات فراہم کی ہیں جو وہ ہر پاکستانی فلم میکر کو کرتی ہیں پاکستانی فلم انڈسٹری کو بہتر بنانے کے لیے ۔۔

اگر فلم میں کوئی مسئلہ تھا تو حکومت کو فلم کی نمائش سے پہلے دیکھنا چایے تھا حیرت کی بات ہے حکومت کو بیس بائیس دن کے بعد یاد آرہا ہے ۔۔ اور مالک فلم پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں ۔۔ رائے کی آزادی کا حق سب کو ہے ۔۔ سب اپنی بات کا ظہار کرسکتے ہیں ۔۔ تو پھر حکومت نے فلم پر پابندی کیوں لگائی ؟ دوسرے تمام ممالک میں بھی فلم انڈیسٹریز فلم بناتی ہیں ۔۔ مگر ان پر تو پابندی نہیں لگائی جاتی پاکستان میں ایسا کیوںکہ یہ صرف سوئی ہوئی قوم کے جاگنے کے ڈار سے پابندی لگائی گئی ہے کہ کہیں عوام کرپٹ سیاسدانوں سے احتساب کا مطالبہ نہ کر دے ۔۔
اس فلم میں صوبائی تعصب کو ہوا دینے کی کوشش نہیں کی گئی اور نہ ہی عوام کو قانون ہاتھ میں لینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ پاکستانی عوام کو حق حاصل ہے کہ سیاستدانوں کی کرپشن کے موضوع پر بننے والی فلم کو دیکھیں۔ دنیا کی دوسری بڑی انڈسٹری بالی وڈ میں بھی ماضی میں بہت سی فلمیں سیاستدانوں کی کرپشن پر بنائی گئیں ہے جن میں چند مشہور فلمیں رنگ دے بسنتی ، راج نیتی اور واک آوٹ شامل ہیں۔
ان فلموں پر کبھی بھارتی حکومت اور سنسر بورڈ نے پابندی عائد نہیں کی لیکن پاکستان میں ہی کیوں مالک فلم کے خلاف سیاستدانوں نے آواز اُٹھائی۔
جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ کاسٹ کرنا نہیں بلکہ ہرروز اپنے حقوق ادا کرنا اور ذمہ داریاں نبھانا بھی ہے۔

13124509_226303314408094_6316924115120256372_n

ہمارے ملک کے وزیرِ اعظم صاحب ماشا ء اللہ بہت ذہین ہیں۔جب بھی اُن پر کوئی الزام لگتا ہے تو وہ ہمیشہ دو کام کرتے ہیں،ایک تواَپناخطاب ریکارڈ کروا کرنشر کروا دیتے ہیں اورایک جو ڈیشل کمیشن بنانے کا اِعلان فرما دیتے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ نہ تو پاکستان کی ’’زندہ قوم‘‘ اُن کے خلاف سڑکوں پر اِکٹھی ہوتی ہے ، نہ ’’آزادمیڈیا‘‘ کی معمولی تنقید سے اُن کے اِقتدار کو فرق پڑتا ہے ۔ صحت اور تعلیم کے وسائل سڑکوں، بسوں اور ٹرینوں پر لگا دیئے جاتے ہیں اور کسی کو اِحتساب کی جرأت بھی نہیں ہو سکتی۔دوسرے ممالک کے وزرا ء یا وزیرِ اعظم کے خلاف کرپشن کا کوئی اِلزام لگ جائے تو وہ مستعفی ہو جاتے ہیں مگر یہاں تو اصول ہی نرالے ہیں۔اوپر سے نیچے تک کرپشن ہو رہی ہے اور سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کبھی کوئی وزیراستعفیٰ بھی دے دے ۔۔ کشکول توڑنے کا دعویٰ کرنے والوں نے پہلے سے کئی گنا بڑے کشکول تھام رکھے ہیں۔کسی ایک شعبے سے تعلق رکھنے والا بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں پاکستان میں ایک مطمئن اور خوشحال زندگی گزار رہاہوں۔ہر روز نیا اِلزام لگتا ہے ، نیا سانحہ رُونما ء ہوتا ہے،نیا سکینڈل سامنے آتا ہے اور پہلے سے ڈیپریشن میں مبتلا قوم کی حالت مزید دگرگوں ہو جاتی ہے۔عوام سوچ سوچ کر بیمار ہو چکی ہے ۔۔ اب پانامہ لیکس میں کچھ حکمرانوں کے نام آگئے تو انکو کرپشن کے خلاف ایکشن لینا چاہیے تھا مگر وہ کچھ نا کچھ نیا کارنامہ سرانجام دے دیتے ہیں ۔۔ کرپشن پر بننے والی پاکستانی فلم پر ہی پابندی لگا دی ۔۔ اسی طرح کبھی کیا تو کبھی کیا ۔۔
بھارتی فلم فینٹم پر تو پابندی نہیں لگائی گئی ۔۔ جنھوں نے گھر میں گھس کر مارنے کا کہا تھا ، اسی طرح بہت سی بھارتی فلموں پر پابندی کیوں نہیں لگائی جاتی صرف پاکستانی حقیقت کی عکاسی کرنے والی کرپشن پر بننے والی فلم پر پانامہ کا ہنگامہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش فلم مالک پر پابندی لگائی ہے ۔۔ فلم مالک کو اسی لیے ٹارگٹ کیا جا رہا ہے تا کہ عوام کو بیوقوف بنایا جاسکے ۔۔

یہ فلم وطن سے لازوال محبت کی داستانوں پر مشتمل کہانیوں پرمبنی فلم ہے۔ اس کا ایک ایک سین فلم بینوں کے اذہان پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے، یہ ان لوگوں کی داستان ہے جو دنیا سے ہٹ کر ہوتے ہیں، دنیا انہیں مثالیت پسند قرار دیتی ہے،حتیٰ کہ پاگل بھی کہتی ہے۔ لیکن ارض پاک کی حفاظت کیلئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے، اس فلم میں ان لوگوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جو اس ملک میں رہتے ہوئے بھی اسی ملک کی جڑیں کاٹنے پر مصروف رہتے ہیں۔ اور ان ملک دشمنوں سے آہنی ہاتھ سے نمٹنے والے وطن کے بیٹوں کی قربانیاں بھی اس داستان کا حصہ ہیں۔

سینسر بورڈ کی طرف سے چھ اعتراضات فلم کی ریلیز کے تین ہفتے بعد سامنے لا کر پابندی لگوائی گئی ہے سوال یہ ہے کہ تین ہفتے سینسر بورڈ سو رہا تھا یا صرف یہ ایک سازش ہے ۔۔

۔ جہاں سندھ سنسر بورڈ سائیں سرکار کے حکم سے پابندیاں لگوانے کی کوششیں کر رہا ہے وہاں ہی پنجاب سنسربورڈ نے مالک فلم پر پابندی نہ لگانے کا اچھا فیصلہ کیا ہے ، اورکہا کہ اجازت پہلے دے چکے ہیں اور اب ہم اسے نہیں روک سکتے ۔ اسکے ساتھ ساتھ خیبر پختونخواہ کی حکومت نے بھی مالک فلم پر پابندی نہیں لگائی ہے ۔۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اب بھی کچھ لوگوں کو پاکستان کی فکر ہے ۔۔ وہ پاکستان سے کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔۔

13083315_1768071670091300_208143050461818378_n

13256041_511249692393177_3855853173734611818_n

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on May 28, 2016, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: