Panam Leaks (پانامہ لیکس کیس)

12993524_1753476341555247_5038777406076717455_n

سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس سے متعلق کیس ، وزیر اعظم کے بچوں نے اپنا وکیل تبدیل کر لیا ۔ وزیر اعظم کے بچوں کا دفاع اب اکرم شیخ کریں گے ۔ چئیرمین تحریک انصاف عمران خان نے بھی وزیر اعظم کے خاندان سے متعلق منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری سے متعلق ثبوت جمع کرا دئیے ۔ پانامہ لیکس کی قانونی جنگ میں اہم موڑ ، وزیر اعظم کے بچوں نے وکیل تبدیل کر لیا ، سلمان اسلم بٹ کی چھٹی ، سینئر قانون دان اکرم شیخ کے کندھوں پر بھروسے کا فیصلہ ، عمران خان کی جانب سے ثبوت سپریم کورٹ میں جمع ۔ وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم نواز ، حسین اور حسن نواز کی جانب سے سپریم کورٹ میں وکیل تبدیل کرنے کے حوالے سے درخواست دائر کی گئی ہے ۔ عدالت عظمیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ سلمان اسلم بٹ کی جگہ اکرم شیخ کو وکیل مقرر کرنا چاہتے ہیں ۔ دوسری جانب عمران خان کی دائر 686 صفحات پر مشتمل دستاویزات میں کہا گیا کہ 1988 سے 1991کے دوران شریف خاندان نے 14 کروڑ 50 لاکھ منی لانڈرنگ جبکہ 5 کروڑ 60 لاکھ ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیے ۔ بیرون ملک بھجوائی گئی رقم کا ٹیکس گوشواروں میں ذکر تک نہیں جبکہ اس دوران صرف 897 روپے انکم ٹیکس ادا کیا گیا ۔ وزیر اعظم کے خاندان کے ذمے 6 ارب روپے سے زائد کا بینک قرض بھی واجب الادا ہے ۔۔

ادھر دوسری جانب حامد خان نے سماعت کے بعد بد تمیزی پروکلاکا خون کھول رہاہے ، میڈیا ججز کے ریمارکس کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ جیسے کیس کافیصلہ ہی ہو گیا،عمران خان کو بتا دیا میڈیا کے محاذپرنہیں لڑ سکتا – یہ کہ کر پاناماکیس کی تحریک انصاف کی جانب سے پیروی سے معذرت کرلی ، تا ہم تحریک انصاف کی لیگل ٹیم کی سربراہی بد ستور حامد خان ہی کر ینگے ،جبکہ صرف عدالت میں پیشی کیلئے وکیل تبدیل کیا جائیگا اور عمران خان کی لندن سے واپسی پرنئے وکیل کے نام کوفا ئنل کیاجائیگا –

عدالت کہ رہی ہے کہ سپریم کورٹ تفتیشی ادارہ نہیں ہے ،ہم صرف لندن میں خریدے گئے فلیٹس پر فوکس کریں گے سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس کی سماعت ایسی کروٹ بدل رہی ہے کہ فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ن لیگ یا تحریک انصاف میں سے کون سی سیاسی جماعت اس کا ثمر حاصل کر سکے گی۔

عمران خان اور ان کی میڈیا ٹیم نے ابتداءہی سے ایسی حکمت علمی اختیار کی کہ جس سے ن لیگ کو ناکوں چنے چبوائے ،لیکن جب سے یہ کیس سپریم کورٹ میں گیا ہے اخلاقی اور قانونی اعتبار سے بظاہر ایک مضبوط کیس ہونے کے باوجود بھی تحریک انصاف نہ تو عدالت میں اور نہ ہی میڈیا کے محاذ پر اب تک ن لیگ کو پچھاڑ سکی ہے۔بادی النظر میں ہر ذی شعور کو یہ بات سمجھ آ رہی ہے کہ لندن کے فلیٹس کی خریداری میں “دال میں کچھ کالا”ضرور ہے،لیکن صد افسوس کہ ٹھوس شواہد فراہم کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے ۔

14991825_361061397581526_6352604035536655372_n.jpg۔

ہمیں یہ بات نہیں بھولنی چاہئیے کہ یہ صرف ایک قانونی جنگ نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی جنگ بھی ہے۔ اس کیس سے عمران خان اور تحریک انصاف کا سیاسی مستقبل وابستہ ہے۔اس کیس کا فیصلہ پاکستان کی سیاست پر دور رس اثرات مرتب کرے گا۔ اگر اس کا فیصلہ تحریک انصاف کے حق میں آیا تو یہ ملک میں کرپشن کے عنصر کو ختم کرنے میں بڑا معاون ثابت ہو گا۔ لیکن اگر تحریک انصاف شواہد پیش نہ کر سکی اور عدالت نے محض By the Bookجانے کی کوشش کی تو کرپشن یا White Collar Crimeکو آشکارہ کرنے کا عمل روایتی انداز میں پوشیدہ ہی رہے گا

اس کیس کو اگر صرف میرٹ کی کی بنیاد پر دیکھا جائے تو نواز شریف صاحب کو مشکل صورت حال کا سامنا ہے لیکن اگر اسے محض شواہد تک ہی محدود کر دیا جائے اور تیکنیکی بنیاد پر فیصلہ ہو تو نواز شریف صاحب کے بچنے کا امکانات نمایاں ہوں گے

اخباری تراشے اگرچہ خود شہادت نہ بھی ہوں تو تب بھی وہ ایک شہادت کی بنیاد ہوتے ہیں اور وہ شہادت میں معاونت کرتے ہیں۔ پانامہ کیس بھی تو اخباری خبر کی بنیاد پر شروع ہوا۔ امریکہ کے سابق صدر نکسن کا واٹر گیٹ سکینڈل، کلنٹن لیونسکی کیس، پاکستان میں سٹیل ملز کیس اور سندھ ہائی کورٹ بار کیس سبھی اخباری خبروں کی بنیاد پر شروع ہوئے تھے۔سپریم کورٹ کے حج صاحبان نے اپنے ریمارکس میںاخباری تراشوں کومحض الف لیلیٰ کی داستان قرار دیا

آج کے دور میں اگر اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا نہ ہوتا تو دنیا اور گلوبل ویلج کا نظریہ بھی نہ ہوتا۔آج کی خبر تاریخ کا “رف مسودہ”ہے۔ آج کی خبر کل کی تاریخ بنے گی۔ یہ کیس محض دو سیاسی جماعتوں کی جنگ نہیں بلکہ اس ملک کے طاقتور طبقے کو قانون کے تابع کرنے کی جنگ بھی ہے۔ عوام کا کام تھا مجرم کو عدالت تک لے کر جانا باقی ثبوت جمع کرنا اور سزا یا رہائی دینا عدالت کا کام ہے اور تھا ۔۔ عدالت کو چاہیے کہ وہ خود ثبوت اکٹھے کرنے اور انصاف کرنے کی کوشش کرے ۔

15078947_351772478505833_8761160093796148819_n.jpg۔

ابھی حال ہی میں ایک نیا موڑ بھی آیا ہے قطر کے شہزادے جاسم کے خط سے ۔۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ ان کے والد محترم نے قطرہ قطرہ اکٹھا کرکے دوبارہ سرمایہ بنایا تھا اور اب اوپر سے قطر والے کا خط آگیا ہے۔ ”چائے والے“ کی ابھی فلم چل رہی تھی کہ قطر والا سامنے آگیا۔ یعنی قطرہ قطرہ کرتے قطر بن گیا ۔۔

عجیب مذاق ہے کہ دبئی سٹیل مل فروخت کرکے جدہ کی مل لگائی گئی۔ اس پیسے سے قطر میں انوسٹمنٹ کی گئی‘ پھر انوسٹمنٹ اور قطری گفٹ سے لندن میں فلیٹ خریدے گئے۔ پھر یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ سٹیل مل نہیں تھی بلکہ سونے کی مل تھی۔ ابھی تو ایک روزی نامی کردار بھی سامنے آنے والا ہے۔ سیف الرحمن نے تو متحرک ہونا ہی تھا لیکن قطر میں پاکستانی سفیر مسٹر شہزاد بھی بہت متحرک ہیں ۔

نوازشریف پر پانامہ لیکس کے الزامات درست, خود کو بچانے کے لئے قطر کے شہزادے کے بیان کا سہارا لے رہے ہیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت پانامہ لیکس کیس پر شریف خاندان کی جانب سے جمع کروائے گئے قطری شہزادے کے خط نے پاناما کیس کو ڈرامائی موڑ دیدیا ہے اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے کئی مرکزی رہنماء شریف خاندان کے اس اقدام پر خاصے پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ (ن) لیگ کے کئی رہنماؤں کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے کمزور ثبوت جمع کروانے سے صورتحال پہلے ہی ہمارے حق میں جا رہی تھی تو ایسے میں قطری شہزادے کا خط سامنے لانے کی کیا ضرورت تھی؟

15073537_1867989463432853_5779599504140692389_n.jpg

شہزادے حمد جاسم بن جابر الثانی نے اپنے خط میں کہا تھا کہ ان کے والد کے مرحوم میاں محمد شریف کے ساتھ دیرینہ کاروباری مراسم تھے جو ان کے بڑے بھائی کے ذریعے چلایا جا رہا تھا۔خط میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں خاندانوں کے درمیان آج بھی ذاتی تعلقات ہیں۔ حمد جاسم نے لکھا ہے کہ ’انہیں بتایا گیا کہ 1980 میں میاں محمد شریف نے الثانی خاندان کے قطر میں جائیداد کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی۔ میری دانست کے مطابق اس وقت دبئی میں کاروبار کے فروخت سے ایک کروڑ بیس لاکھ درہم دیے۔ یہ اسی قطر کا شہزادہ ہے جہاں طالبان نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے اپنا دفتر بھی بنایا تھا مگر بوجہ وہ مذاکرات نہ ہو سکے تھے۔

کیس والا پیمانہ رکھے، قطری شہزادے کے خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، نوازشریف راہ فرار اختیار نہیں کرسکتے ،پیسے کی ترسیل کا ثبوت دینا تحریک انصاف کی نہیں شریف فیملی کی ذمہ داری ہے ، ذوالفقاربھٹو نے اپنے دور میں شریف خاندان کو ”زیرو” کردیا تھا اس کے بعد ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا؟

15032757_334886540216437_3141454336456796938_n.jpg۔

سپریم کورٹ میں پیش کئے جانے والے قطری شہزادے کے خط کی اس وقت تک کوئی اہمیت نہیں جب تک وہ عدالت میں پیش ہو کہ حلفا بیان نہیں دیتا۔قطری شہزادے کو خط پر وضاحت دینا ہوگی اور اگر شہزادے کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا تو10سوالوں پر اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں گی۔

پانامہ کیس بہت سادہ ہے اس میں اب کوئی پیچیدگی نہیں ،حکومتی ترجمانوں کے بیان سن کر ہنسی آتی ہے، پانامہ کیس کرپشن سے متعلق کیس ہے اور کرپشن کیسز کے لئے دنیا بھر میں قانون ہے ،ججز کو احساس ہونا چاہیے ۔

سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی کو نااہل کیا گیا بالکل اسی طرح کا پیمانہ عدالت کو موجودہ صورتحال میں بھی استعمال کرنا چاہیے شواہد فراہم کرنے کی ذمہ داری اب تحریک انصاف کی نہیں مسلم لیگ(ن)کی ہے کیونکہ(ن)لیگ اور شریف برادران ملکیت تسلیم کرچکے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ احتساب کیلئے تیار ہیں انہیں عدالت میں پیش ہوکر اپنی بے گناہی ثابت کرنی چاہئے۔

یہ عوام کو پاگل بنانا چھوڑیں ۔۔ کوئی مجرم خود اپنے خلاف ثبوت پیش نہیں کرتا کہ اسنے جرم کیا ہے یہ تو عدالت کا کام ہے کہ وہ ثبوت حاصل کرے ۔۔ اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے چور کی چوری عوام کے سامنے لائے اور اسے سزا دے ۔

15032337_722015347953585_3819188274021109494_n.jpg۔

حکمران باہر جا کر سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں اور اپنا سرمایہ باہر بھیجتے ہیں، عدالتوں کا عجیب مسئلہ ہے اگر عدالتوں میں ہاتھی پیش کریں کہ یہ ہاتھی ہے تو عدالت کہتی ہے کہ ہے تو یہ ہاتھی لیکن آپ ثابت کریں ۔ پانامہ لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ کیسے حکمرانوں نے اپنی اپنی قوم کی عزت لوٹی۔ جو غیرتمند قومیں تھیں وہ فوراً سڑکوں پر آئیں اور آئس لینڈ کے وزیراعظم سے لے فرانس میں ایک عام بزنس مین تک، جس نے ٹیکس چوری کی، اسے جواب دینا پڑا۔

پاکستان میں لیکن حساب الٹا ھے۔ یہاں ہماری قوم کی عزت تو لٹی لیکن یہ تسلی بخش بے غیرت بن کر بیٹھی رہی۔ کچھ لوگ نکلے بھی مگر انصاف کہاں میسر ہوسکتا ہے ۔۔ معزز جج صاحبان سے دست بستہ گزارش ھے کہ آپ سمیت اس پوری قوم کی عزت شریف فیملی لوٹ چکی ھے۔ بجائے اس کے کہ آپ عزت لوٹنے کی فلم ریوائنڈ کرکے دیکھیں اور مزے لیں، آپ وہ ایکشن کیون نہیں لیتے جو دوسری غیرتمند اقوام نے پانامہ لیکس آنے پر لیا؟

کیا ایسا تو نہیں کہ یہ پوری قوم عزت لٹوانے کی عادی ہوچکی ھے اور اب ایک طوائف کی طرح معمولی رقم پر بھی اپنے آپ کو پیسے والوں کے بستر کی زینت بنا لیتی ھے؟

قصور حامد خان کا نہیں، قصور ججوں کا ھے جو نیب اور ایف آئی اے سے ثبوت نکلوانے میں ناکام نظر آرھے ہیں۔ ویسے تو پانامہ رپورٹ بذات خود بھی ایک ثبوت ھی ھے، لیکن طوائفوں کو یہ ثبوت نظر نہیں آسکتے!!!

پانامہ کیس میں تاخیر صرف اس لیے ہو رہی ہے کہ ماحول صورتحال تبدیل ہو کچھ دن میں اور پھر عوام پانامہ کیس بھول جائے اور کیس لٹک جائے ۔۔

15095640_1867995316765601_3444633248282517360_n.jpg

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on November 21, 2016, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: