کشمیر کی آزادی – بھارتی ظلم و ستم کی داستان

13619862_1721755758074740_3579421713321050764_n.jpg

 

27 اکتوبر مقبوضہ کشمیر ، آزاد کشمیر ، پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیری یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں کیونکہ یہ وہ سیاہ دن ہے جب 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی فوج نے سرینگر پر اترتے ہی کشمیریوں پر مظالم ، قتل عام اور جبری قبضے کا آغاز کیا تھا۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ ویسے تو کشمیر میں راتوں کی تاریکی اور ظلمتوں کے اندھیرے دن کے اجالوں میں بھی جاری و ساری ہیں۔ کشمیر پر بھارتی فوج کے جبری قبضے کو کشمیریوں نے نہ کبھی تسلیم کیا ہے اور نہ کرینگے۔

14 اگست1947ء کو پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد کشمیری یہی سمجھتے رہے کہ وہ پاکستان کا حصہ ہیں۔ کیونکہ کشمیر میں 90 فیصد مسلمان ہیں کیا ہوا اگر ان کا راجہ ہندو ہے لیکن عوام تو مسلمان ہے مگر جب 27 اکتوبر کو ماؤنٹ بیٹن نے بھارتی فوج کو کشمیر میں داخل ہونے کا حکم دیا تو کشمیری مسلمانوں کا صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ بھارت کو تقسیم ہوئے دو ماہ ہو چکے تھے مگر مہا راجہ نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہ کیا تھا۔ جغرافیائی، مذہبی، تہذیبی، قومی اور اصولی طور پرکشمیر کو پاکستان کا حصہ بننا تھا اور یہ ضابطہ آزادی تاج برطانیہ نے برصغیر سے رخصتی کے وقت خود طے کیا تھا۔

بھارتی حکمران یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کشمیر بھارت کے گلے کی ہڈی بن چکا ہے وہ چاہے مقبوضہ کشمیر میں جتنا پیسہ خرچ کرے وہ کسی طرح کشمیریوں کے دل جیت نہیں سکتا کیونکہ وہ بھارت کی غلامی سے ہر صورت نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور انہیں کوئی بھی لالچ آزادی کی جدوجہد سے باز نہیں رکھ سکتا۔بھارت نے اقوام متحدہ کے فیصلے کو پس پشت ڈال کر ہٹ دھرمی کا راستہ اختیار کر رکھا ہے اور کشمیر کے اس بڑے حصے پر قابض ہے۔ جسے دنیا مقبوضہ کشمیر کے نام سے جانتی ہے۔ بھارت اب اس مسئلہ میں اتنا الجھ چکا ہے کہ ہر قسم کے ہتھکنڈوں کے باوجود اسے کوئی رستہ نہیں مل رہا۔ یہاں تک کہ اب ریاستی دہشت گردی بھی حالات کو قابو میں نہیں لا سکتی۔ کشمیری بے چارے 60-70 سال کے انتظار کے بعد مایوس ہو کر ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ جس پر بھارت مزید سیخ پا ہے۔ بھارتی حکومت کی پوری کوشش ہے کہ وہ اس تحریک آزادی کو دہشت گردی کے زمرے میں لا کر عالمی سطح پر بد نام کر سکے۔ اس سلسلے میں وہ اسے سرحد پار دہشت گردی کا نام بھی دیتا ہے۔ حالانکہ بھارت خود اپنی پوری ریاستی طاقت کے ساتھ، نہتے کمشیریوں کے ساتھ دہشت گردی میں ملوث ہے ۔

13707697_1658553811131530_7501117867413736427_n.jpg

بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے قیام پاکستان سے کچھ ہی عرصہ پہلے 1946ء میں ایک برطانوی ڈپلومیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے یہ صاف طور پر کہہ دیا تھا کہ ہم اس وقت تو مسٹر جناح کا مطالبہ پاکستان تسلیم کرلیں گے لیکن پھر بتدریج ان کیلئے ایسے ’’حالات‘‘ پیدا کردینگے کہ وہ خود ہم سے یہ درخواست کریں کہ پاکستان کو دوبارہ بھارت میں شامل کردیا جائے اور واقعہ یہ ہے کہ کشمیر پر بھارت غاصبانہ تسلط کا مقصد پاکستان کیلئے یہی مخصوص حالات پیدا کرنا ہیں اس لئے کہ پاکستان کی زرعی اور اقتصادی معیشت کا تمام سر دارومدار کشمیر سے نکلنے والے دریائوں کے پانی پر ہے اور اپنے جغرافیائی محل و قوع کے اعتبار سے کشمیر دفاعی لحاظ سے بھی پاکستان کیلئے رگ جان کی حیثیت رکھتا ہے یوں کشمیر پر قبضے کی سازش دراصل پاکستان کے وجود اور سالمیت کیخلاف بھارت کے جارحانہ سامراجی عزائم کی علامت بھی ہے اور نقطہ آغاز بھی، کشمیر کی جغرافیائی پوزیشن اور محل و قوع کے بارے میں معمولی معلومات رکھنے والا انسان اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ کشمیر پاکستان کا لازمی جزو ہے۔

آج مقبوضہ کشمیر میں اسلام اور آزادی کی علمبردار قوتیں اپنی آزادی اور حق خودار ادیت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بقاء و سالمیت اور تکمیل پاکستان کی جنگ بھی لڑ رہی ہیں۔ جب سے نریندر مودی نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد بھارت کی بالادستی کیلئے زبردست بھاگ دوڑ شروع کی ہے، ساتھ ساتھ بھارت میں مسلمانوں کو سخت اذیت میں مبتلا کر رکھا ہے اور ان کے خلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے، جدوجہد آزادی کشمیر بھی سخت دباؤ کا شکار ہوگئی ہے۔ حالیہ بیداری کی لہر میں تادم تحریر کوئی چالیس کے لگ بھگ نہتے کشمیری شہید اور 300 کے قریب زخمی ہوگئے ، جس پر پاکستان کے وزیراعظم اور چیف آف دی آرمی اسٹاف اور دیگر لیڈروں نے سخت تشویش کا اظہار اور مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے کشمیریوں کی آزادی کے حق کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ حکومت پاکستان نے یورپی یونین، اسلامی کانفرنس اور پانچ ایٹمی ممالک سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلے میں مداخلت کرے اور بھارتی فورسز کو روکا جائے کہ وہ نہتے کشمیریوں کو مارنے سے باز آئے۔ اِس مطالبے کے بعد امریکہ بولا تو سہی مگر اس نے کشمیر کا پُرامن حل تلاش کرنے کی حد تک اپنے بیان کو محدود رکھا ۔

13606467_1716033321980317_5665791244886950769_n.jpg

نریندر مودی کے حکومت میں آنے کے بعد سے یہ کوشش کی گئی کہ مقبوضہ کشمیر میں اُن کی اکثریت آجائے کہ وہ بھارتی دستور کی شق نمبر 73 جو مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتی ہے ختم کرا دیا جائے، اس میں ناکامی کے بعد مودی اور بھارتی فورسز نے اسرائیلی طریقہ استعمال کرنا شروع کردیا کہ کشمیریوں کو بے دریغ قتل کرتے جائو اور کشمیریوں کو حقوق نہ دو۔ مگر پاکستان نے اسپر سخت موقف اختیار کیا اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔ جسکی وجہ سے کم از کم بھارتیوں کے ظلم و ستم کی روداد ساری دُنیا کے اخبارات میں آنے لگی، حالانکہ مودی سرکار کسی بھی میڈیا کے نمائندے کو کشمیر میں جانے نہیں دے رہی ۔ پاکستان کے آرمی چیف نے 13 جولائی 2016ء کو کورکمانڈر کانفرنس کے بعد کشمیریوں پر ظلم و ستم کو زوروشور سے اٹھایا کہ عالمی برادری بھارت کے ہاتھوں کشمیری نوجوانوں کے وحشیانہ قتل کی مذمت کرے اور مسئلہ کشمیر کے حل کرانے میں مدد دے۔ امریکہ پہلے کہہ رہا تھا کہ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے، بعد میں تشویش کا اظہار کیا۔ دوسری طرف پاکستان افغانستان سرحد پر آنے اور جانے والوں کو چیک کرنے کے لیے باڈر پر چیک کا مناسب بندوبست کر رہا تھا ۔ اس پر بھی افغانستان کو اعتراض ہے جبکہ امریکہ اُسکو ہوا دے رہا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ 1947ء سے بھارت اور پاکستان کے درمیان وجہ تنازع رہا ہے، پاکستان کے قبائلیوں نے آزاد کشمیر آزاد کرا لیا اور وہ پورا کشمیر آزاد کرا لیتے اگر اقوام متحدہ مداخلت نہ کرتی پھر بھارت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نےوہاں استصواب رائے کا مطالبہ مان لیا تھا۔ استصواب رائے کا مطالبہ مان کر جنگ رکوائی اور پھر اس سے مکر گئے، اسپر اقوام متحدہ کی کئی قراردادیں ہیں جن میں 21 اپریل 1948ء، 13 اگست 1948ء، 5 جنوری 1949ء، 14 مارچ 1950ء، 30 مارچ 1951ء، 24 جنوری 1957ء، 20 ستمبر 1965ء، پھر شملہ معاہدہ 2 جولائی 1972ء، اعلامیہ لاہور 21 فروری 1999ء، پاک بھارت مشترکہ پریس کانفرنس 6 جولائی 2004ء میں کشمیر کو متنازعہ اور حل طلب مسئلہ قرار دیا گیا ہے۔ پاکستان کیلئے یہ تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے ۔۔

مولانا فضل الرحمان کو کشمیر کمیٹی کا سربراہ بنایا ہوا ہے، انہوں نے تادم تحریر آزادی کشمیر کے حق میں بیان نہیں دیا بلکہ پاناما لیکس پر وزیراعظم محمد نواز شریف کی حمایت کررہے ہیں، حمایت کریں یا مخالفت انکا حق ہے مگر کشمیریوں کی تحریک آزادی کی حمایت نہ کرنا اپنے فرائض سے کوتاہی کے مترادف ہے، اس لئے اُنکو اس عہدے سے الگ کردینا چاہئے۔ کشمیریوں کا خون بہہ رہا ہے اور یہ حضرت اپنے مفادات کو پیش نظر رکھ کر کام کررہے ہیں۔ تاہم بھارت اسرائیل کے بتائے ہوئے فارمولے پر چل رہا ہے کہ کشمیریوں کو یکسر بے بس کردیا جائے، انکے خلاف انتہائی ریاستی طاقت استعمال کی جائے کہ وہ بالکل مجبور ہوجائیں ۔۔

آج مقبوضہ کشمیر میں کوئی گھر ایسا نہیں ہے جس کا کوئی نہ کوئی فرد شہید یا زخمی نہ ہوا ہو۔ آج مقبوضہ کشمیر میں بستیوں کی بستیاں ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کا کوئی شہر یا گاؤں ایسا نہیں ہو گا جہاں شہدا کے مزار نہ ہوں یوں وہ کشمیر جو جنت ارضی کہلاتا تھا، بھارت کی سرکاری دہشت گردی کی وجہ سے موت کی ’’وادی‘‘ میں تبدیل ہو چکا ہے۔

کشمیری اپنی آزادی کو ششوں کو تیز سے تیز کر رہے ہیں اور ان کوششوں میں برحان وانی کی شہادت کے بعد تیزی آئی ہے اور کشمیر کی قوم برحان وانی اپنا رہنما سمجھتی ہے ۔۔ اور امریکی بھی اندرون خانہ کوشش کر رہا ہے کہ وہ بھارت کا ساتھ دے ۔۔ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے کشمیر کے کے حق میں اٹھنے والی آواز کو خاموش کرد یا جاتا ہے پوسٹس فیس بک اور دیگر تصوروں وغیرہ کو ڈلیٹ کر رہا ہے ۔۔

تمام تر بھارتی مظالم کے باوجود حریت پسند کشمیریوں نے ہندو سامراج سے آزادی حاصل کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔ بھارتی حکومت لاکھ کشمیر کے اٹوٹ انگ ہونے کا راگ الاپتی رہے ۔ کشمیریوں نے اپنے خون سے ثابت کردیا ہے کہ کشمیر 1947 کی تقسیم برصغیر کا نا مکمل ایجنڈا ہے بھارت وادی کشمیر پر اپناناجائز قبضہ مزید بر قرار نہیں رکھ سکتا اور جلد اسے رسوا ہو کر اس وادی جنت نظیر سے نکلنے کی کڑوی گولی نگلنی پڑے گی۔

امریکہ ، برطانیہ اور دیگر عالمی طاقتوں کی منافقت دیکھئے کہ وہ اپنے عالمی سامراجی مقاصد کے تحت دوسرے ملکوں میں فوجی یا سیاسی مداخلت کرتے وقت تمام عالمی ضابطے بالائے طاق رکھ دیتے ہیں اور اس کے لیے جھوٹے عذر بھی گھڑ لیتے ہیں لیکن جہاں مسئلہ کشمیر کی بات ہو کمال عیاری سے کہہ دیتے ہیں کہ اسے پاکستان اور بھارت دو طرفہ مذاکرات سے حل کریں۔

برہان مظفر وانی کی ہلاکت نے کشمیر کی آزادی کی تحریک کو نئی طاقت بخشی ہے اور ہر ضلع میں نہتے عوام قابض ہندوستانی فوج کے خلاف صف آرا ہیں۔ ہندوستانی فوج کی جانب سے گولیوں کے ساتھ چھروں کا استعمال کشمیریوں کو ناکارہ کرنے کی سازش ہے، لیکن اس کے باوجود کشمیر کی تحریک میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور عالمی قوتوں کو چاہیے کہ وہ کشمیر میں آزادانہ انتخابات کروائیں اور کشمیریوں کو انکا حق دیں اور جس کے ساتھ چاہیں وہ شامل ہو جائیں ۔۔ بھارت میں اگر اتنی ہمت ہے تو آزادانہ انتخابات سے کیوں ڈرتا ہے ؟؟

بھارتی اداکار اپنے آپ کو انسانیت کا ٹھیکدار کہنے والے کہاں ہیں انھیں کشمیر میں انسانیت پر ہوتا ظلم و ستم نظر نہیں آ رہا یا اس لیے خاموش ہیں کہ وہ انکے اپنے بھارتی فوجی کر رہے ہیں ؟؟

کشمیری عوام کو کشمیر کا خود فیصلہ کرنے کا حق دینا چاہیے ۔۔ وہ جس کے ساتھ چاہیں انکے ساتھ رہیں مگر آزادی سے انکو انتخاب کی اجازت ہو اور پھر وہ آزادی سے رہیں ۔۔

13466547_1709743012609348_2538007096521221230_n.jpg

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on July 27, 2016, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: