سرل المیڈا (Cyril Almeida)

14570274_1808903636019739_1963850613008829714_n

انگریزی اخبار کے صحافی سرل المیڈا کے کالم یا خبر کی بات نہیں ہے بلکہ بات یہ ہے کہ خبر کا سورس کیا ہے ؟ اور خبر کہاں سے اور کس سے بریک ہوئی وہ بھی ایک ایسی جگہ یعنی وزیراعظم ہاوس سے جہاں ہر طرح کے مسائل پر بات ہوتی ہے ، سیکیورٹی صورتحال ، ملکی دفاع ، نیوکلیئر اور بہت سے اہم ملکی و غیر ملکی امور پر بات ہوتی ہے ۔۔ اور وہاں سے بات لیک ہونا ناقابلِ برداشت بات ہے ۔۔ عوام کیسے یقین کر لے کے ملکی دفاعی امور برپور رازداری سے ملکی مفاد میں طے ہوتے ہونگے ۔؟۔

14572841_1756735864576729_3423457786889422830_n.jpg۔

یہ سرل المیڈا والا واقع دراصل صحافتی سطح پر ایک جنگ چیڑنے کی کوشش کی گئی ہے ۔۔ جسکا بھرپور فائدہ دشمنوں نے اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔۔ بھارتی ڈی جی ایم او کی باتیں لیک ہونے پر جیسے پاکستانی میڈیا نے بھارتی سیکیورٹی پر سوالات اٹھائے یہ واقع بھی ویسا ہی بنانے کی کوشش کی گئی ہے اس پر بھارتی میڈیا ہماری قومی سلامتی کے خفیہ احکامات اور بیانات کا مذاق اڑرہا ہے اور اس میں سر سر وزیر اعظم ہاوس کی سیکیورٹی کمپروماز ہوئی ہے یا پھر وزیراعظم ہاؤس سے خود کسی حکومتی اعلیٰ حکام نے پاکستان دشمنی میں دنیا کے سامنے پاکستان کا مذاق اڑانے کے لیے لیک کی ہے ۔۔ سرل المیڈا کا اس میں کوئی قصور نہیں جیسا انکی سرپرستی کرنے والے ہڈی ڈالنے والے حکام اور اس اخبار جس میں شائع ہوئی یہ باتیں انکے جائز ناجائز امور کی سرپرستی کرنے والوں کا قصور ہے کہ وہ ان آلہ کاروں کے ذریعے کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں ملک دشمن عناصر کو ماحول بنا کر دے رہے ہیں ۔۔ وہ بھی عین جنگ کے موقع پر ملک کے دفاعی اداروں کی حوصلہ آفزائی کرنے کے بجائے انکے خلاف پروپیگینڈوں میں مصروف ہیں ۔۔ انھیں کمزور کرنے کی سازشیں کر رہے ہیں ۔

14591741_314769295561495_667106764393388337_n۔

اس واقع کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل میں ایک رکاوٹ کھڑی کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے اور ساتھ ساتھ پانامہ کا ہنگامہ کو بھی دبانے کی کوشش کی گئی ہیں ۔۔ بلوچستان میں بھی سیکیورٹی کی صورتحال کو بھی دنیا کے سامنے بگاڑنے کی کوشش کی گئی ہے اور بلوچستان میں پرامن حالات کو خراب دیکھا کر باغی برامداغ بگٹی وغیرہ جو بھارتی ایجینٹ ہیں انکی مدد کی کوشش کی گئی ہے جب کہ بلوچستان میں حالات پرامن ہیں ، اور مسئلہ کشمیر انشاءاللہ جلد حل ہوگا ایسی سازشوں سے دشمنوں کو کچھ حاصل نہیں ہوگا سوائے رسوائی کے ۔

14670779_1709327792724708_4710156969779782490_n.jpg۔
اس واقع کو مریم نواز کا سوشل میڈیا بہت سپورٹ کر رہا تھا اور اسکی حمایت کر رہا تھا کھل کر گیت گا رہا تھا یعنی کہ فائدہ کس کو ہے یا ہوا ہے ؟ ظاہر سی بات ہے نواز شریف اور اسکے خاندان کو فائدہ ہوا ہے تب ہی انکا سوشل میڈٰیا سیل بہت اچھل کود کر رہا ہے ۔۔

کچھ عرصہ تک سرل المیڈا جس کو مہرہ بنا کر ڈرامہ رچایا ہے حکومت اسکو اور ڈرامہ میں شامل تمام کرداروں سے کچھ اعلیٰ مراعات عطا کی جائیں گی ۔۔ ایک اور بات میری سمجھ میں نہیں آ رہی شاید آپ کو سمجھ آ جائے کہ سرل المیڈا نے کالم یا آرٹیکل لکھنے کے دبی جانے کی کوشش کی جاتی ہے وہ بھی حکومتی خرچہ پر ؟ آخر کیوں ؟ پھر دبی نہیں جاسکے تو موصوف پردہ سکرین سے غائب ہوگئے ۔۔ پھر کچھ دن بعد واپس آتے ہیں ایسے جیسے کچھ انہیں پتا ہی نا ہو یا کچھ ہوا ہی نہ ۔

14666178_187458125030160_1924279043701054012_n.jpg۔

آخر یہ خبر شائع کر کہ دنیا کو ثابت کیا کرنا چاہ رہے ہیں کہ ہماری فوج کیسی ہے ؟ افواج کے خلاف جھوٹی خبر بنائی گئی یا اور بات یہ نہیں کہ خبر کس نے چھاپی بات یہ ہے کہ خبر لیک کس نے دی یا خبر کس نے لگانے کا کہا ؟

حکومت کے باقی ساتھی بھی افواج کے خلاف کھل کر جھوٹے پراپیگینڈے کر رہے ہیں مولانا فضل الرحمان ہو یا محمود اچک زائی ان سب کے بیانات ملک و قوم کے سامنے ہیں ۔۔ مگر اس واقع سے حکومت بظاہر انکار کر رہی ہے مگر اس واقع میں بھی کچھ نا کچھ ضرور حکومتی اعلیٰ حکام ضرور شامل ہیں ۔۔

اس اخبار اور کالم نگار کے نواز گروپ اور حکومتی اعلیٰ حکام سے بہت گہرے ذاتی تعلقات اور رشتہ داریاں بھی ہیں ۔۔ سب کے علم میں ہیں ۔۔ پیمراہ کا ہیڈ ، مشیر اطلاعات و معاونِ خاص وغیرہ بھی اپنے ہیں ۔
جس نے بھی خبر لگوائی اسنے بہت سوچ سمجھ کر اس کھیل کر مہرے چنے یعنیٰ نامور اخبار اور اسکا مشہور اور سینئر کالم نگار کو چننا ۔۔ تاکہ اس واقعہ سے بھرپور دشمن عناصر فائدہ اٹھا سکیں ۔

14702284_1161956010557008_397512211002093546_n.jpg۔

صحافی ہونے سے زیادہ پہلے پاکستانی ہونے کا حق ادا کرنا چاہیے اور اخبار وغیرہ کو کچھ بھی شائع کرنے سے پہلے غیرت کی گولی کھا کر ملکی مفادات کومدنظر رکھتے ہوئے ایک دفعہ سوچ اور دیکھ لیں کہ کیا خبر ملکی مفادات میں شامل ہےیا نہیں ۔۔ نیشنل سیکیورٹی کو مدنظر رکھنا چاہیے ۔۔ یہ واقع سراسر نیشنل سیکیورٹی ایشو ہے ۔۔ سب خبر کا سورس جاننا چاہتے ہیں کہ یہ اتنی حساس بات لیک کس نے کی ؟ ویسے تو یہ جھوٹی ہے اگر صیحح بھی ہے تو یہ خبر وزیراعظم ہاؤس سے باہر کس نے نکالی اور کیوں ؟

14732320_1848563372042129_4997570312479504649_n.jpg

14731264_702489356572851_2526963424141369569_n.jpg14720347_347836345563406_38126863641320689_n.jpg14716141_1254707537934497_2174227159903473518_n.jpg14717237_1254707534601164_6220476176341874895_n.jpg14568240_347908935556147_8055863436763148470_n.jpg

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on October 14, 2016, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: