ملک دشمن عناصر کی ایک اور سازش

13096351_1616865741967004_908810589672026942_n

پاکستان آرمی کا سب سے بڑا مقصد مُلک کی ارضی سرحدات کا دِفاع کرنا ہے. پاک فوج بشمولِ پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے دُنیا کی ساتویں بڑی فوج ہے. 1947ء میں آزادی کے بعد سے پاک فوج بھارت سے 4 جنگوں اورمتعدد سرحدی جھڑپوں میں دفاع وطن کا فریضہ انجام دے چکی ہے۔ عرب اسرائیل جنگ ، عراق کویت جنگ اور خلیج کی جنگ میں حلیف عرب ممالک کی فوجی امداد کے لئے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔
حالیہ بڑی کاروائیوں میں آپریشن بلیک تھنڈر سٹارم، آپریشن راہ راست اور آپریشن راہ نجات ، آپریشن ضرب عضب ، کراچی آپریشن ، بلوچستان میں ایف سی بلوچستان کے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن شامل ہیں۔ لڑائیوں کے علاوہ پاک فوج، اقوامِ متحدہ کی امن کوششوں میں بھی حصّہ لیتی رہی ہے. افریقی، جنوبی ایشیائی اور عرب ممالک کی افواج میں ا فواج پاکستان کا عملہ بطورِ مشیر شامل ہوتا ہے. پاکستانی افواج کے ایک دستے نے اقوام متحدہ امن مشن کا حصہ ہوتے ہوئے 1993ء میں موغادیشو، صومالیہ میں آپریشن گوتھک سرپنٹ کےدوران پھنسے ہوئے امریکی فوجیوں کی جانیں بچانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ۔۔

پاکستان آرمی کی تاریخ بہت وسیع اور شاندار ہے ۔۔ آئین پاکستان کا حصہ بارہ، باب دوم افواج پاکستان کامقصدیوں بیان کرتا ہے کہ مسلح افواج، وفاقی حکومت کی ہدایات کے تحت، بیرونی جارحیت یا جنگ کے خطرےکے خلاف پاکستان کا دفاع کریں گی، اور قانون کےدائرے میں رہتے ہوئے، سول پاور کی امدادکریں گی، جب ایسا کرنے کے لئے کہا جائے۔ یعنی حکومت کے کہنے پر ہی سب کچھ کرتی ہے ۔۔ پاکستانی معاشرے میں پاک افواج کو بے پناہ عزت حاصل ہے عوام اس ادارے کو اپنی حفاظت کا ذمہ دار اور اپنی قربانیوں کا امین تصور کرتی ہے۔ پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہاں دفاعی قوت کی زبردست دوڑ ہے ۔ پاکستان رینجرز ایک نیم فوجی ادارہ ہے، جس کا کام سرحدوں کی حفاظت اور جنگ و شورش زدہ علاقوں میں عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے ۔ اور ایف سی پاکستان میں قانون نافذ کرنے والے ادارہ ہےاس کو نیم فوجی دستےبھی کہا جاتا ہے یہ فورس پاکستان کے مغربی سرحد کی حفاظت کیلئے بناتھا۔اس کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ میں ہے۔اس کا سربراہ انسپکٹر جنرل فرنٹیر کور ہوتا ہے ۔ ایف سی بلوچستان اپنی بنیادی ذمداریو ں یعنی افغانستان/ ایران کے ساتھ پاکستانی سرحد کی نگرانی کے علاوہ اسلحہ منشیات اور انسانوں کی غیر قانونی نقل و حمل کو روکنے اور امن و امان کے قیام میں صوبائی حکومت کی مدد اور قومی اثاثو ں ترقیاتی منصوبوں اور اہم تنصیبات کی حفاظت کو احسن طریقے سے سر انجام دے رہی ہے مزید جذبہ غیر سگالی کے جذبے کے تحت تعلیم صحت اور عوام کی فلاح و بہبود کے سلسلے میں بھی ایف سی بلوچستان قابل قدر خدمات سر انجام دے رہی ہے زلزلہ سیلاب جیسی قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی بحالی میں بھی ایف سی ہمیشہ پیش پیش ہے ایف سی بلوچستان پاکستان کی سب سے بڑی سول ارمڈ فورس ہے جسے زمانہ جنگ اور امن میں امتیازی مقام حاصل ہے ۔ چستان کے دو ہمسایہ ملک افغانستان اور ایران کی طویل بارڈر پر نگرانی کے علاوہ دھشتگردی کی روک تھام میں نہایت مؤثر طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہے بلوچستان سنگلا خ پہاڑوں اور ریگستان پر مشتمل 2100 کلومیٹر طویل سرحدوں کی نگرانی کسی بھی لحاظ سے آسان نہیں تاہم یہ ذمداری ایف سی بلوچستان ہر دم پر دم جوان نہایت خوش اسلو بی جوان مردی سے سر انجام دے رہی ہے ایف سی بلوچستان نے سال 2012 /2013/ 2014 میں کاروائیوں کے دوران اربوں روپے مالیت کا اسلحہ گولہ بارود اور منشیات پکڑا علاوہ ازیں انسانوں کی غیر قانونی نقل و حمل روکنے میں ایف سی نے آہم کردارادا کیا ہے اور دس ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کر کے پولیس اور لیویز کے حوالے کیا ہے ایف سی نے صوبے میں امن و امان کے لیے جو کردار کیا وہ قابل ستائش ہے پچلھے 3 سالوں کے دوران 4 سو سے زائد دہشتگردی کے واقعات ہوئے جس میں سینکڑوں معصوم شہری جانبحق اور زخمی ہوئے اس کے بعد امن و امن کے قیام کے لئے صوبائی حکومت کی خواہش پر ایف سی کو تعینات کیا گیا جس نے اپنے فرائض کو ذمداری کے ساتھ ادا کیا ایف سی کی تعیناتی کے بعد تقریباً 60 فیصد تک کمی واقع ہوئی جسے نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ عوام کا ایف سی پر اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ایف سی نے حال ہی میں کوئیٹه شہر کے وسطی علاقہ میں سمگلی روڈ پر غازه بند سکاؤ ٹس کے زیرنگرانی ایف سی مدد گار سنٹر قائم کیا گیا جس کا ٹول فری نمبر 1101 ہے اس نمبر کے ذریعے عوام کو مدد فراہم کی گئی جس کی وجہ سے عوام نے اس کے قیام اور کارکردگی کو سراہا ہے ایف سی صوبے میں اہم قومی اثاثوں کی حفاظت کے فرائض سر انجام دے رہی ہے جس میں ڈیرہ بگٹی۔ سوئی۔پیرکوه۔لوٹی۔ٹوبہ نوحکانی میں قدرتی گیس کنوؤں اور پلاٹ کی حفاظت ضلع چاغی میں سیندک کے مقام پر سونے اور تانبے کے منصوبے کے علاوہ صوبے میں متعدد اضلاع میں اہم اثاثوں کی حفاظت کے فرائض شامل ہیںایف سی کے زیر اہتمام بلوچستان بھر میں 6 کالج 7 ہائی اسکول8 مڈل اور 16 پرائمری سکول کام کر رہے ہے جس میں 13 ہزار سے زائد طلباءجدید تعلیم حاصل کر رہے ہیں ایف سے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے ہزار سے زائد طلباء کو مفت تعلیم دے رہی ہے ایف سی بلوچستان نے بلوچستان کے عوام کے لئے ایف سی ہسپتال قائم کیا یہ ہسپتال 200 بیڈ پر مشتمل ہے جس میں جدید سہولیات سے آراستہ اپریشن ٹھیٹر اکسیجن سسٹم جدید ایمبولینس سسٹم متعلقہ شعبہ کے ماہر ڈاکٹر 24 گھنٹہ اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں اپنے قیام سے لے کر اب تک ایف سی کے سینکڑوں جوان اپنے دفاع کرتے ہوئے اپنی جانیں قربان کر کے جذبہ حب الوطنی اور فرض شناسی کی اعلی دستانیں رقم کر چکے ہیں ۔۔ اسی طرح کراچی میں رینجرز بھی اپنے فرائض انجام دے رہی ہے ۔۔ پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر اور اقتصادی حب کا چہرہ نکھارنے کا کام کراچی میں رینجرز کو دیا گیا ہے کیونکہ وہاں حالات کافی خراب ہوچکے تھے امن و امان کی صورتحال کی دھجیاں اڑ چکی تھیں ۔۔

کراچی کئی عشروں سے انتہا پسندی ، لسانیت ، فرقہ واریت اور صوبائیت کے عفریت میں جکڑا ہوا ہے ۔ سندھ رینجرز کو کراچی میں امن کے قیام کے نفاذ کیلئے تعینات کیا گیا تھا، لیکن ان سے قیام امن کا کام لینے کے بجائے وی آئی پیز کی سیکورٹی اور دیگرا کام زیادہ لیا جاتا تھا ۔ نیشنل ایکشن پلان میں جب یہ فیصلہ ہوا کہ اب کراچی میں کئی عشروں سے اس خوں ریزی کا خاتمہ ہوجانا چاہیے تو یہ بھی فیصلہ ہوا کہ رینجرز کو ان کے اصل کام ، یعنی قیام امن کیلئے استعمال کرتے وقت سیاسی اثر رسوخ کا استعمال نہیں کیا جائے گا۔ کور کمانڈر کراچی نے سندھ رینجرز کے مکمل ساتھ دیا اور ڈی جی رضوان اختر نے کراچی میں حکمت عملیکے تحت رینجرز کو متحرک کرکے کراچی سے انتہا پسندوں اور لسانی تنظیموں کے عسکری ونگز کا خاتمے کا آغاز شروع کردیا ۔۔

کراچی کے امن دشمن عناصر کا خیال تھا کہ شائد رینجرز بھی پولیس کی طرح ہی کام کرے گی مگر رینجرز نے ملک دشمن عناصر کے خواب چکنا شور کر دیئے ۔۔ کراچی کے امن کیلئے ڈی جی ینجرز بلال اکبراور کور کمانڈر کراچی نوید مختیارنے کراچی کو تین عشروں سے یرغمال بنانے والے اور عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنے والوں کے خلاف بے رحمانہ آپریشن کا آغاز کیا تو کراچی کی سیاسی جماعتوں میں ہل چل مچ گئی ،ایم کیو ایم ، پاکستان پیپلز پارٹی ، عوامی نیشنل پارٹی، لیاری گینگ وار ، سنی تحریک، مذہبی فرقہ وارانہ تنظیمیں،کالعدم جماعت طالبان وغیرہ کی رینجرز کے بلا تفریق ملک و کراچی دشمن عناصر کے خلاف آپریشن سے دہشت گردوں کی چیخیں نکل گئیں ۔

1۔

آپریشن شروع کرنے سے پہلے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد لیا گیا تھا کہ ان کی سیاسی چھتری میں جو جو جرائم پیشہ ہیں انھیں معاف نہیں کیا جائے گا ، اور قانون کے دائرے میں لایا جائے گا ۔ رینجرز نے سیاسی جماعتوں کو ان کی جماعت میں شامل جرائم پیشہ عناصر کی فہرست بھی دی کہ ان کی گرفتاری کیلئے ان کے ساتھ تعاون کیا جائے ، لیکن ہر سیاسی جماعت نے خود دودھ سے دھوئی جماعت قرار دیا اور کہا کہ جرائم پیشہ عناصر کا ہماری جماعت سے کوئی واسطہ نہیں ۔ رینجرز نے اپنی اخلاقی ذمے داری پوری کی ، اور پھر کراچی آپریشن کو مختلف مرحلوں میں تقسیم کردیا گیا۔

مذہبی منافرت والے گروہ سے تعلق رکھنے والوں پر جب رینجرز کا آپریشن ہوا ، تو آپریشن کے کپتان وزیر اعلی سندھ بڑے خوش تھے ، اس کے بعد جب اے این پی کی باری آئی توبھی کپتان بڑے خوش تھے ، ایم کیو ایم بھی بغلیں بجا رہی تھیں۔اب باری تھی تو ایم کیو ایم کی ، جب ان کے کارکنان کو گرفتار کئے جانے لگا تو ان کیلئے یہ کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔ لیکن جب ان کے سرپرستوں پر ہاتھ ڈالا گیا تو ایم کیو ایم نے سٹپٹا گئی اور یہ پروپیگنڈا کرنا شروع کردیاکہ یہ یکطرفہ آپریشن ہو رہا ہے ،لیکن جب نائن زیرو پر رینجرز نے کاری ضرب لگائی تو کراچی میں ایم کیو ایم کی دہشت گردی کے تابوت میں کیل ٹھونک دی گئی ، نائن زیرو سے اسلحہ اور ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری کے بعد ایم کیو ایم کی دوسرے درجے کی قیادت فوراََ ملک سے فرار ہوگئی ، رہی سہی کسر’ را ‘کے ایجنٹ الطاف نے پوری کردی ، رینجرز اور فوج کے خلاف تو ان کی ان گنت تقاریر ہیں ان سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کیونکہ اور کس کی دوستی میں یہ بیان دے رہے تھے ۔۔

پاکستان پیپلز پارٹی جو بے انتہا خوش تھی ، لیکن جب رینجرز نے گینگ وار پر ہاتھ ڈالا اور ان کا لاڈلا عزیر بلوچ ،نثار مورائی ،ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا گیا تو اس کے بعد کرپشن کے بڑے بڑے مگر مچھوں پر پر رینجرز نے ایسا وار کیا کہ پی پی پی کی بھی چیخیں نکلنا شروع ہوگئیں اور وزرا بیرون ملک فرار ہوگئے۔ مینڈیٹ اور اختیارات کے نام پر وفاق سے محاذ آرائی شروع ہوگئی
عناصر سے بچنا ہوگا ۔۔
رینجرز نے پی پی پی کے بڑے بڑے ناموں کے گرد ایسا گھیرا تنگ کیا ، کہ ان کی کمر کے نازک جوڑ ابھی تک ٹھکانے نہیں آسکے ۔ اس دوران پاک سر زمین پارٹی نے انٹری دے ماری ، ڈرائی کلین مشین بن کر الطاف کے خلاف کھل کر بولی ، لیکن مطالبہ یہ کیا کہ بے گناہ ہزاروں انسانوں کی جان لینے والوں کو معاف کردیا جائے ، یہ معصوم تھے ، بلدیہ فیکٹری میں جلائے جانے والے سینکڑوں معصوم بے گناہ کے قاتل معصوم ہیں ، کچرا چننے اور مونگ پھلی بیچنے والے محنت کشوں کے قاتل معصوم ہیں ، موچی ، روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے پختون ، رکشہ ، ٹیکسی ، مزدا ڈرائیور ، وکیلوں کو زندہ جلانے والے معصوم ہیں انھیں معاف کردیا جائے ، انھوں نے یہ تاثر قائم کیا کہ جو اِن کے پاس آجائے گا ، اسے قانون نافذ کرنے والے ادارے کچھ نہیں کہیں گے ، ایم کیو ایم کی بزدل لیڈر شپ جنھیں مصطفی کمال نے اپنے دور میں ٹھیکے دے کر خوب نوازا تھا ، مثلاََ ایک نائی کو صوبائی اسمبلی کا ممبر بنایا ، اس کو سپر ہائی وے کے آکٹرائے کا ٹھیکہ دیا ، اس جیسے لوگ پاک سر زمین پارٹی میں شامل ہوکر خود کو قانون کی گرفت سے بچانے لگے ، ہر رابطہ کمیٹی کے رکن کے اپنی ٹیم ہوتی ہے جو اس کے لئے ٹارگٹ کلنگ اور بھتے وصولی سے لیکر ہر ناجائز کام کرتی ہے ، ان کی سرپرستی گورنر ہائوس سے کی جاتی رہی ، لیکن 22اگست کی الطاف کی تقریر نے خود ایم کیو ایم کیلئے اپنی بقا کا مسئلہ پیدا کردیا ۔

اسلئے اس میں شامل جرائم پیشہ عناصر کے خلاف رینجرز بھروپور کاروائی کرتی رہی اور جب نائن زیرو کے پڑوس سے کراچی کی سب سے بڑی اسلحہ کھیپ برآمد ہوئی تو ایم کیو ایم کے اوسان خطا ہوچکے تھے ، لیکن پولیس کی ناقص تفتیش یا کسی چمک نے اس کھیپ کے ذمے داروں کی گردن نہیں ناپی۔رینجرز نے پولیس کو شاباشی دی ، لیکن سب جانتے تھے کہ پولیس نے یہ کارنامہ تو سر انجام دے دیا لیکن کیس Aکلاس میں چلا جائے گا ْ۔اب تک رینجرز کراچی سے اسلحے کی سات سے زیادہ بڑی کھیپ زمین میں دفن ، باہر نکال چکی ہے ، ایم کیو ایم پاکستان میں شامل ، لندن گروپ کے پوشیدہ گروپ ، یونٹس اور ٹارگٹ کلرز کی فہرست مرتب کرچکی ہے اور ان پر ہاتھ ڈالا جارہا ہے ، ایم کیو ایم پاکستان کتنا تعاون کررہی ہے کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے ۔۔

رینجرز نے پاک سر زمین پارٹی کے ڈرائی کلین ڈرامے کو بھی فاش کردیا کہ قانون نافذ کرنے والے کسی جرائم پیشہ عناصر کو سپورٹ نہیں کریں ،انیس قائم خانی کی گرفتاری ، سب کے لئے سرپرائز تھا ۔اس کے بعد پاک سر زمین پارٹی میں شامل کئی دہشت گردوں کو پکڑا گیا ، یہاں تک کہ حماد صدیقی کے لئے راہ ہموار نہ کرنے پر گورنر سندھ کا راز مصطفی کمال نے فاش کردیا ۔گورنر تو چلے گئے لیکن پاک سر زمین پارٹی مکمل یتیم ہوگئی۔ پی ایس پی عملی طور پر غیر فعال ہوچکی ہے

حماد صدیقی کو راستہ نہیں مل سکا ، اور بلدیہ ٹائون فیکٹری کے مرکزی کردار ، رحمان بھولا ، جو کہ پاک سرز مین پارٹی کو جوائن کرچکا تھا۔تھائی لینڈ میں پکڑا گیا ۔پاکستان آنے کے بعد اس کے انکشافات پاک سرزمین پارٹی کے لئے مزید پریشانیوں کا باعث بنے گے۔ قصہ مختصر ، بے گناہوں کے خون سے لبریز جرائم پیشہ افراد کو جنھوں نے سیاسی جماعتوں کی پناہ لی ہوئی تھی ، اور سیاسی جماعتیں ان سے اپنی مرضی کا کام لیتی تھیں ، رینجرز نے انھیں لگا م دے تو دی

مگر پھر رینجرز کی مدت ختم ہونے کو ہے اور ادھر پھر سے زرداری اور ایم کیو ایم دوبارہ ایکٹیو ہونے کی تیاریاں کر رے ہیں ادھر رانا ثناء اللہ بھی زرداری لیگ اور نواز لیگ کو ملانے کے چکر میں ہیں اس کی خاطر راہیں ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔۔ جبکہ کراچی میں کچھ سوشل کارکن ، یا بلاگ کہلوانے والے لوگوں کا ڈرامہ بھی بے نقاب ہوتا ہے جس سے بھارت اور اس کے ایجنٹوں کو پھر آگ لگی ہوئی ہے ۔۔ مگر کراچی آپریشن کے بعد کراچی میں حالات پرامن ہیں اور لوگ آزادی سے اپنے کاروبارے زندگی پر سکون فضاء میں چلا رہے ہیں اور پُرامید نظر آتے ہیں کہ رینجرز کے آپریشن سے کافی حد خوف و حراس کراچی کی عوام سے دور ہوا ہے اور ملک دشمن عناصروں کو گرفت میں لیا گیا ہے ۔۔ تا کہ روشنیوں کے شہر کراچی میں دوبارہ روشنیاں بحال ہو سکیں جو کہ کافی حد تک بحال ہوچکی ہیں ۔۔ کراچی آپریشنز سے زیادہ تکلیف اور نقصان کس کس کو ہوا ہے وہ اب کچھ نہ کچھ رینجرز اور آپریشن کے بارے میں بیان بازیاں کرنے کی کوشش کریں گے مگر انشاءاللہ رینجرز کراچی میں امن قائم کرنے میں کامیاب ضرور ہوں گے کیونکہ ہم عام عوام انکے ساتھ ہیں ۔۔ سب یہ بات جانتے ہیں کہ کراچی کے امن میں رینجرز کا کردار کلیدی رہا ہے ۔۔ سندھ رینجرز کی محنت اور قربانیاں کراچی کے امن آپریشن کی تاریخ کا حصہ ہیں –

اب ذرا ذکر کرتا چلوں ایف سی بلوچستان کا کیونکہ انھوں نے بھی بلوچستان میں امن کی خاطر بہت قربانیاں دی ہیں ۔۔ بلوچستان میں ایف سی کو 1970ء کی دہائی میں حکومت پاکستان نے بلوچستان میں فسادات روکنے کے لیے تعنات کیا ۔۔ بلوچستان میں امن وامان کے قیام اور پاکستان کے دفاع کے لئے ان دوتین سالوں میں کم سے کم 650 ایف سی اہلکاروں اور 3500 شہریوں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ ان ناقابل فراموش قربانیوں کی وجہ سے ہی صوبے میں امن لوٹ رہا ہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جو پہاڑوں کی جانب چلے گئے تھے وہ بھی امن کے قیام کی باتیں کررہے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ مل کر اب ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں ۔۔ نئی نسل کو ہر حالت میں امن مہیا کی ایف سی بلوچستان کو سلام پیش کرتا ہوں ۔

بلوچستان میں منقد ایک تقریب کا ایک جملہ آپ کے ذوق کی نظر کرتا ہوں کہ جنرل ناصر خان نے کافی سالوں سے تقریبات میں کوئی بھی تقریر لکھی ہوئی نہیں کی تھی فی البدیہہ تقریر میں مزاح بھی ہوتا ہے، سنجیدگی بھی اور سبق بھی۔ تقریب میں انہوں نے کہا کہ ’’ بچو تم پاکستان اور بلوچستان کا مستقبل ہو۔ وہ بھی ہمارے بچے ہیں جو گمراہ ہو کر پہاڑوں پر چلے گئے ہیں۔ ان کو بھی کہو وہ واپس آجائیں۔ اس پُر امن معاشرے کا حصہ بنیں ۔اس ملک کو سنواریں‘‘ ۔ تو اس وقت بلوچستان یونیورسٹی کے ایک ہزار طلباء و طالبات نے ایک ساتھ بلند آواز میں کہا۔’’ہم انہیں کھینچ کر نیچے لائیں گے‘‘

اس بات سے آپ بلوچستان کی عوام کے اندر آنے والی تبدیلی کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔۔ بلوچستان میں بہت بڑی تبدیلی آچکی ہے۔نوجوان نسل بہت حد تک پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کے عزائم سے آگاہ ہو چکی ہے اور اسی نوجوان نسل کی طرف سے پور ے بلوچستان میں انتہائی مثبت پیغام جارہا ہے۔ نوجوانوں کے دلوں میں پاکستان اور پاک فوج کی محبت کا راستہ تلاش کرنے میں پاک فوج کی جنوبی کمانڈ اور ایف سی نے اہم کردار ادا کیا۔ لیکن اس کے باوجود بلوچستان کے کچھ اضلاع ایسے ہیں جہاں دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن کی مزید ضرورت ہے اور ان علاقوں کے تعلیمی اداروں تک بھی پاکستان اور پاک فوج کی محبت پہنچانے ی ضرورت ہے۔ ان غریب لوگوں کے دلوں سے بھی دشمن کے ذریعے پھیلایا ہوا پاک فوج کا ان دیکھا خوف نکالنے کی ضرورت ہے ۔۔ ایسا ہرگز نہیں کہ پاک فوج کراچی ہو یا بلوچستان سب جگہ کو انھوں نے نو گو ایریا بنایا ہو ۔۔ صرف وہ جگہ جہاں دہشت گرد ہوں یا آپریشن چل رہا ہو بس وہاں چیک اینگ ہوتی ہے ۔۔

ایف سی کا ہر فرد بلوچستان میں امن کے قیام کو اپنی اولین ترجیح سمجھتا ہے۔پورے صوبے میں دن رات گشت، خاص کر ریلوے کی طویل ترین لائین کے ساتھ بھی بلوچستان کے لوگوں کی حفاظت کے لئے کندھوں پر بارود اور اسلحہ اٹھائے ایف سی کے جوان پہرہ دے رہے ہیں۔کوئٹہ شہر کے اندر بھی تھوڑے تھوڑے فاصلے پر چوکیاں لگائے جان ہتھیلی پر رکھ کر بلوچستان کے پر امن شہریوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔

پاک فوج اور ایف سی نے مل کر بلوچستان کے عوام کے دلوں میں محبت کے پودے اُگا دئیے ہیں۔بلوچستان کے عوام سمجھ چکے ہیں کہ ہمارے اندر دشمن ملک کی سازشیں دم توڑ چکی ہیں،اب ہم نے ترقی کرنی ہے ۔ محمد تقی کی یہ باتیں بے بنیاد اور جھوٹ ہیں کہ پاک فوج نے تمام شہروں پر قبضہ کیا ہوا ہے وہاں کسی کو جانے آنے کی اجازت نہیں ایسا کچھ نہیں حکومت ہی افواج کو تعنات کرتی ہے رینجرزکو کراچی میں اور ایف سی کو بلوچستان میں حکومت نے ہی لگایا ہے ۔۔ بی ایل اے ، بی ایس او ، وغیرہ تنظیموں کا خاتمہ کرنا یا انھیں راہ راست پر لانا ہوگا ۔۔ بھارت بہت سے عرصے سے پاکستان کو توڑنے اور ناکام کوششیں کر رہا ہے کل بوشن یادوں بھی گرفتار ہوا ہے اور اس نے اقرار کیا کہ بھارت کیسے اپنے عزام انجام دینے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔

ایف سی بلوچستان نے صوبے میں قیام امن کے لیے بھرپور اقدام کیئے ہیں ۔۔ دشمن سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کی کوششیں کر رہا ہے ۔۔ لیکن پاکستانی قوم نے اور ایف سی کی کوششوں سے دشمن عناصر کو ہمیشہ ناکام کیا اور اس کے منصوبے خاک میں ملا دیے ۔ دشمن بلوچستان میں بد امنی پھیلا کر یہ ثابت کرنا چاہتا ہے ۔ کہ وہ پاکستان او ر سی پیک کو نقصان پہنچا سکتا ہے ۔ لیکن یہ اس کی بھول ہے کہ وہ کسی بھی طرح اس منصوبے کو ناکام بنائیگا، سی پیک منصوبہ پاکستان اور بلوچستان کی ترقی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس سے بلوچستان میں ترقی اور روشنی کے نئے باب کا آغاز ہوگا ۔ اور وہ وقت دور نہیںجب بلوچستان بھی ترقی کریگا، کوہلو اور کاہان سمیت بلوچستان بھر میں چند فراری باقی رہ گئے ہیں جن کا جلد ازجلد خاتمہ کرنا لازمی ہے ۔۔ باقی رہی باہر دوسرے ممالک میں بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سازشیں کرنے والے برامداغ بگٹی ، طارق فتح ، اور دیگر بی ایل اے اور بی ایس او ، وغیرہ کے سربراہوں کا سب کو پتا ہے کہ وہ کہاں سے فنڈنگ لیتے ہیں ۔۔ اور کس کے لیے کام کرتے ہیں ۔۔ وہ سرعام بھارت سے مدد ، فنڈز ، اسلحہ ، ٹرینگ وغیرہ کہاں سے لیتے ہیں اور پھر ٹرینگ کے لیئے لوگوں کو بھیج کر پیچھے سے ان کو لاپتہ افراد کہہ کر سیکیورٹی اداروں پر الزامات لگاتے ہیں ۔۔ مگر اب عوام جان چکے ہیں اور اب عوام سیکیورٹی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انکو بیرون ِ ملک سے لایا جائے انٹرپول وغیرہ سے اور انکے خلاف کاروائیاں کی جائیں ۔۔ ایف سی بلوچستان نے صوبے میں قیام امن کیلئے بھر پور اقدامات او رقربانیاں دی ہے یہ ایف سی کے شہداء کی قربانی کا نتیجہ ہے کہ آج بلوچستان کی سرحدیں محفوظ اور دہشتگردی سے پاک ہیں ۔ بھارت بلوچستان میں دہشتگردوں کو سپانسر کررہا ہے اس سلسلے میں افغانستان میں قائم بھارتی قونصل خانوں کا استعمال کیا جارہا ہے ۔

1929824_238166023199813_1188244011186645720_n۔
را ایجنٹ کی گرفتاری سے پاکستان میں انڈیا کی مداخلت کے حوالے سے پاکستان کا دعویٰ درست ثابت ہوا۔ افغانستان میں بھارتی قونصل خانوں کا فوکس بلوچستان ہے جن پر فورسز کی نظر ہے، بلوچستان میں شرپسندوں کو بھارت سپانسر کر رہا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں ۔ بھارت کو گوادر بندرگاہ کی فعالیت پسند نہیں اس لئے مشکلات پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ ایف سی بلوچستان میں قیام امن کیلئے اہم کردار ادا کررہی ہے۔ صوبے میں دہشت گردوں کے بڑے بڑے کمانڈروں کو مار دیا گیا بچے کچھے دہشت گرد جان بچانے کیلئے محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں ۔ آواران کی ہر تحصیل میں پاکستان ، بلوچستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں ۔ یف سی بلوچستان میں قیام امن کے ساتھ ساتھ ، تعلیم صحت ، سماجی سرگرمیوں کیلئے بھی خدمات انجام دے رہی ہے ۔ ایف سی بلوچستان نے قومی شاہراہوں کو محفوظ بنایا ہے ۔۔ صوبے کا کوئی بھی علاقہ نو گو ایریا نہیں ۔۔ 23مارچ والے دن بھی بلوچستان کے کئی علاقوں میں پاکستان کا جھنڈا نہیں لہرایا جاتا تھا اب صورتحال تبدل ہوگئی ہے بلوچستان کے لوگ محبِ وطن ہیں صرف چند لوگ گمرا ہ ہوئے ہیں ۔۔

بلوچستان سے مایوسی ختم ہوگئی ہے اور لوگ خوشحال زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ اب ان کو یقین ہوگیا ہے کہ بلوچستان ہمارا ہے اور ہم نے ہی بلوچستان کو ترقی دینی ہے ۔ کوئلہ سے مالا مال علاقوں میں ہم نے بھتہ خوری ختم کردی ہے ۔ مار واڑ میں کالعدم بی ایل اے کوئلہ کان مالکان سمیت 22کروڑ روپے بھتہ وصول کرتی تھی ۔ایف سی کی کوششوں سے اب یہ بھتہ خوری بند ہوگئی ہے ۔ حکومت کو بلوچستان میں اب اپنے سیاسی عوامی نمائندگان کو منتخب کرنا ہوگا کیونکہ کافی حد تک ایف سی بلوچستان نے علاقوں کو پرامن اور دہشت گردی سے پاک کر دیا ہے ۔۔ اب وہاں حکومت عوام کے نمائندوں کو منتخب کرے الیکشن کروانے کے بعد وہاں کے لوگوں کی مزید مدد و راہنمائی کرے ویسے ایف سی بلوچستان نے علاقے کو محبت و امن کا گہوارہ بنا دیا ہے ۔ ۔ ہمیں معاشی ترقی اور خوشحالی کیلئے پورے خطے کو اور اس سے آگے کے علاقوں کوباہم منسلک کرنے پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے ۔۔

آج کا بلوچستان زیادہ مضبوط ، مربوط اور بحالی کے راستے پر گامزن ہے،گوادر پورٹ کی ترقی 870 کلو میٹر روڈ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سی پیک کو عملی شکل دینا فوج کا ملک و قوم کی خدمت کا بہترین ثبوت ہیں ۔۔۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اور پاک فوج صوبے میں امن اور استحکام یقینی بنانے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے لیکن ابھی آدھا کام ہوا ہے ۔ ہمیں معاشی ترقی اور خوشحالی کیلئے پورے خطے کو اور اس سے آگے کے علاقوں کوباہم منسلک کرنے پر توجہ مرکوز رکھنے کی ضرورت ہے ۔ کیونکہ جیسے جیسے سی پیک منصوبہ تکمیل کے قریب ہوتا جا رہا ہے دشمن عناصر کی سازشیں بڑھتی جا رہی ہیں ۔۔ روزانہ کی بنیاد پر بہت سے فراری پاکستان اور بلوچستان کو تسلیم کر کے امن کی راہ قبول کر رہے ہیں ۔۔

ملک دشمن عناصر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں ہمیں ملک کر انھیں ناکام بنانا ہے اور سیکیورٹی اداروں کو صرف ہمارا بھروسہ اور ساتھ چاہیے اپنی صفوں میں موجود دشمنوں کو ہمیں خود کیفرکردار تک پہنچانے کی کوشش کرنی ہے ان کے عزائم سے سیکیورٹی اداروں کو آگاہ کرنا ہے اور خود بھی دشمن عناصر کی سازشوں سے بچنا ہے ۔۔ دشمن عناصر ہر طرح سے ہر ہتھیار سے عوام اور اسکی سوچ کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے تھے مگر اب ہمیں مل کر ناکام بنانا ہے انھیں چاہیے وہ میڈیا کے ذریعے ہو یا اسلحہ کے ذریعہ ۔ انشاءاللہ پاکستانی قوم ملک کی خاطر متحد ہے اور امن کی خاطر کوششیں جاری رکھیں گے ۔۔

13427789_1637782969879191_1624680264129633218_n10268656_1009768625775748_9123934280867365969_n12321509_1005887259492383_7544487625845929166_nCet_plDWwAAMMt21112278805_929824350432008_7032552825868386242_n11168120_399426843592008_7400229168860603980_n11831769_414014502133242_5688067630265854080_n12004141_1496102507376662_493514109516981359_n12002114_933957649983831_3789745567164319155_n

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on January 18, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: