سی پیک منصوبہ کی حقیقت

14980822_10154775256598184_3419582432344672629_n.jpg

سی پیک منصوبے سے پورے ملک میں خوشحالی آئے گی کیونکہ یہ ملک کے مختلف حصوں سے ہو کر تجارتی سامان گوادر سے چائنہ جائے گا اور چائنہ سے گوادر آئے گا۔۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے سے پورے ملک ناصرف معاشی ترقی ہوگی، بلکہ یہ منصوبہ یہاں مختلف کاروباری شعبوں کو وسعت دینے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ جب یہاں کی مقامی پیداوار عالمی مارکیٹ میں جائے گی تو اس سے لوگوں کو کافی حد تک فائدہ ہوگا۔ یہ منصوبہ یہاں کی نوجوان نسل کے لیے ایک ‘دروازہ’ ہے جس سے لوگوں کو ملازمت کے مواقع میسر آئیں گے اور جب چین کے تعاون سے یہاں پر یونیورسٹیز اور اسکول بنیں گے تو تعلیمی شعبے میں کافی حد تک بہتری آئے گی اور نوجوانوں کو چین میں جاکر کر تعلیم حاصل کرنے کا بھی موقع مل سکے گا۔ اسی طرح دوسرے پارٹنر ممالک میں بھی تعلیم اور دیگر تجارتی اور مقاصد کے لیے آنا جانا بھی آسان ہوگا ۔۔ گلگت بلتستان کو ایک بہترین سیاحتی مقام ہے بس تھوڑا بہتر بناکر ضروری چھوٹے موٹے کام کروا کر دنیا کے لیے ایک بہترین سیاحتی مقام بنا سکتے ہیں اسی طرح گوادر اور بلوچستان وغیرہ دبئی سے بڑے صحرا ہمارے پاس ہیں ، دبئی سے گہرے اور بڑا سمندر اور بیچ ہمارے پاس ہیں ۔۔
یہاں برف باری اور ہرطرح کے موسم یہاں ہیں ۔۔

پہلے کوئی بھی سیاح یہاں پر نہیں آتا تھا اور آج سی پیک کی وجہ سے 10 لاکھ کے قریب سیاح پاکستان آئے ہیں کیونکہ یہاں سیکیورٹی ایک بڑا مسئلہ رہا ہے جس میں پاکستان کو بہت کامیابی ملی ہے اب حالات پرامن ہیں ۔۔ سی پیک کے تحت اقتصادی زون میں پہلا زون گوادر میں بن چکا ہے اور دوسرا زون گلگت بلتستان میں بنارہا ہے ۔۔ یہ کام اتنا آسان نہیں ہے، کیونکہ یہاں پر اس کے لیے پہلے تو سڑک کا ہونا ضروری ہے اور دوسرا توانائی جیسے مسئلے کو بھی حل کرنا پڑے گا جو کہ امید ہے جلد ہی حل ہوجائیں گے یہ مسائل کیونکہ حکومت یہاں پاور پلانٹ لگا رہی ہےاور اسکے علاوہ چائنہ بھی پاکستانی کی اس مسئلے میں مدد کرے گا ۔۔

سی پیک کے اس منصوبے سے پاکستان کو نہ صرف دنیا میں اعلیٰ مقام ملے گا بلکہ ٹیکس کی مد میں ہونے والی آمدن پاکستان کی معیشت پر شاندار اثرات بھی ڈالے گی ۔ پاکستان میں معاشی انقلاب برپا کرنے والا یہ منصوبہ جہاں ایک شاہراہ ریشم کو جنم دے رہا ہے جو تجارت کو محفوظ، آسان اور مختصر بنائے گی، وہیں اس کے ساتھ ہی گوادر کو ایک انتہائی اہم مقام میں تبدیل کررہا ہے جس کی جستجو ترقی یافتہ ممالک کرتے ہیں۔ سی پیک کے تحت گوادر میں ہی ایکسپریس وے کی تعمیر سمیت بلوچستان میں توانائی کا بھی ایک بڑا منصوبہ شامل ہے ۔۔

پاکستان کی تاریخ میں غم کے ساتھ اور بھی بے شمار دکھ اور ناکامیاں شامل ہیں، دہشتگردی اندرونی سے بیرونی مداخلت اور سازشیں، پاکستان کی جڑوں کو کمزور کرنے کی سازش، ہندوستان کی جانب سے سرحدوں پر بلااشتعال فائرنگ، اداروں کی فروخت اور اربوں روپے کا قرض، پاکستانی عوام کے حقوق کی پامالی، معصوم بچوں کا اغوا، دیہاتوں کی حالت زار اور سرکاری اسکولوں کا اصطبل میں بدل جانا، نیشنل ایکشن پلان ،ویکی لیکس ، پانامہ لیکس ، ڈان لیکس ، سیاسی تنظیموں کی مفاد پرستی اور وطن سے غداری، اس شکست و ریخت کی کہانی میں حکمرانوں کا بنیادی کردار رہا ہے، ہر دور حکومت میں صاحب اقتدار نے اپنی ذمے داریوں سے چشم پوشی کی اور پاکستانیوں کو بے شمار مسائل کا شکار کر دیا ہے ۔ ایسے میں سی پیک منصوبہ پاکستان میں خوشحالی و ترقی کا باعث بنے گا، انشا اﷲ!

گوادر کی کہانی بھی سچی اور سحر انگیز ہے۔ اس کی تاریخ کچھ اس طرح ہے کہ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور حکومت میں 1960 میں مسقط کے بادشاہ سلطان قابوس نے گوادر، پاکستان کو تحفہ پیش کیا تھا، ساحل سمندر ہونے کی وجہ سے یہاں مچھیروں کی بستی آباد تھی اور گوادر بلوچستان کا حصہ ہے۔

پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب میں اور دنیا کے سب سے بڑے بحری تجارتی راستے پر واقع صوبہ بلوچستان کا شہر جو اپنے شاندار محل وقوع اور زیر تعمیر جدید ترین بندرگاہ کے باعث عالمی سطح پر معروف ہے۔(نام گوادر اصل بلوچی زبان کے دو الفاظ سے بنا ہے گوات یعنی “کھلی ھوا ” اور در کا مطلب” دروازہ” ہے۔ یعنی (ھوا کا دروازہ) گواتدر سے بگڑ کر گوادر بن گیا ہے) 60 کلو میٹر طویل ساحلی پٹی والے شہر گوادر میں اکیسویں صدی کی ضروتوں سے آراستہ جدید بندرگاہ کی تکمیل کا وقت جوں جوں قریب آرہا ہے اس کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ آنے والے وقت میں نہ صرف پاکستان بلکہ چین، افغانستان اور وسط ایشیاء کے ممالک کی بحری تجارت کا زیادہ تر دارومدار اسی بندر گاہ پر ہوگا۔

گوادر اور اس کے گرد و نواح کی تاریخ بہت پرانی ہے۔یہ علاقہ وادی کلانچ اور وادی دشت بھی کہلاتا تھا ۔ ویکیپیڈیا پر آپ گوادر لکھ کر اس کی تاریخ پڑھ سکتے ہیں تھوڑی بہت میں بھی پہلے ذکر کر چکا ہوں ۔۔
یہ علاقہ ہزاروں سال سے آباد ہے معلوم تاریخ کے مطابق حضرت داود علیہ السلام کے دور میں یہ پہلی دفعہ آباد ہوا تھا ۔۔ جب قحط پڑا تو وادی سینا سے بہت سے افراد کوچ کر کے یہاں اور اسکے گردونواح میں آ کر بس گئے ۔۔ یہ علاقہ متعدد مقامی حکمرانوں کے درمیان بھی تختہ مشق بنا رہا ۔ پھر عمان کو تحفے میں دے دی گئی بعد میں وہاں کے بادشاہ حکومت نے اسے پاکستان کو فروخت کر دیا یعنی تحفے میں دی ہوئی چیز کی قدر و قیمت عمان کے بادشاہ نہیں سمجھ سکے اس لیے انکی عمان سے خرید لی پاکستان سے واپس ۔۔

مسقط کے بادشاہ کی اپنے بھائی سعد سلطان سے جھگڑا ہو گیاجس پر سعد سلطان نے خان آف قلات میر نصیر خان کو خط لکھا جس میں اس نے یہاں آنے کی خواہش ظاہر کی چنانچہ خان نے نہ صرف سلطان کو فوری طور پر آ جانے کو کہا بلکہ گوادر کا علاقہ اور وہاں کی آمدن بھی لا محدود وقت کے لیے سلطان کے نام کر دیا ۔جس کے بعد سلطان نے گوادر میں آ کر رہائش اختیار کر لی۔1797میں سلطان واپس مسقط چلا گیا اور وہاں اپنی کھوئی ہوئی حکومت حاصل کر لی۔1804میں سلطان کی وفات کے بعد اس کے بیٹے حکمران بن گئے ۔ 1958ء میں مسقط نے 10 ملین ڈالرز کے عوض گوادر اور اس کے گرد ونواح کا علاقہ واپس پاکستان کو دے دیا جس پر پاکستان کی حکومت نے گوادر کو تحصیل کو درجہ دے کر اسے ضلع مکران میں شامل کر دیا ۔ یکم جولائی1977کو تربت، پنجگور اور گوادر تین ضلعے بنا دیے۔

گوادر کا موجودہ شہر ایک چھوٹا سا شہر ہے جس کی آبادی دو لاکھ کے قریب ہے ۔۔ اس شہر کو سمندر نے تین طرف سے اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہے اور ہر وقت سمندری ہوائیں چلتی رہتی ہیں جس کی وجہ سے یہ ایک خوبصورت اوردلفریب منظر پیش کرتا ہے ویسے بھی گوادرکے معنی “ہوا کا دروازہ” ہے ۔گوا کے معنی ہوا اور در کا مطلب دروازہ ہے۔ گہرے سمندر کے علاوہ شہر کے ارد گرد مٹی کی بلند بالا چٹانیں موجود ہیں ۔۔ گوادر شہر مستقبل میں ایک بین الاقوامی شہر کی حیثیت اختیار کر جائے گااور نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کا اقتصادی لحاظ سے ایک اہم شہر بن جائے گا ۔ یہاں کی بندرگاہ دنیا بھر سے تجارت کے لیے استعمال ہوگی ۔۔

گوادر کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی وجہ سے اب لوگوں کی توجہ اس طرف ہو چکی ہے ساتھ ساتھ دشمن سی پیک منصوبے کو ناکامیاب کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں جس کے بعد وہ پاکستان میں بدامنی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔ اور سی پیک منصوبے اور اس سے متعلقہ منصوبوں کے بارے میں فضول شکوک و شہبات لوگوں کے ذہنوں میں پیدا کرنے کی کوشش کر رہیں ہیں کہ پختونخواہ کو یا سندھ کو یا دیگر صوبوں اور علاقوں کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا وغیرہ وغیرہ تو میری ان سے گزارش ہے کہ سی پیک منصوبے سے پورے ملک کو فائدہ ہوگا ۔۔ تنقید کرنے ٹانگیں جکڑنے کے بجائے ساتھ دیں جو کام کر رہے ہیں ۔۔
سی پیک منصوبے سے پورے ملک کو فائدہ ہوگا ۔۔

پاکستان کے ہرصوبہ ہر علاقہ اہمیت کا ھامل ہے ۔۔ اپنے اپنے صوبے اپنے اپنے علاقے میں کام کریں محنت کریں ، سی پیک گلگت بلتستان سے ہوتا ہوا گوادر تک جائے گا ۔۔ کشمیر ، سندھ ، پختونخواہ ، پنجاب تمام علاقوں صوبوں کو بہت فائدہ ہوگا ۔۔ پورا ملک ترقی کرے گا جس جو علاقہ سیاحت میں مشہور ہے وہ دنیا بھر کے لوگوں کے لیے سیاحتی مقام بنے گا ، جو کاروبار ، صنعت و تجارت کے لیے مشہور ہے وہ عالمی سطح پر تجارتی مرکز بنے گا ۔۔ یہاں پاکستان میں ہر طرح کے موسم اور علاقے ہیں ۔۔ جیسے دوبی میں صرف سمندر اور صحرا ہے مگر پاکستان کے پانچ بڑے صحرا ہیں۔ صحرائے چولستان صحرائے وادی سندھ صحرائے خاران صحرائے تھل صحرائے تھر ہیں ۔۔ پاکستان میں قدرتی سرسبز و شاداب وادیاں ہیں ، پاکستان میں قدرتی آبشاریں ہیں ۔۔ پاکستان کے کچھ پہاڑی درے بھی ہیں ۔۔ پاکستان کے پاس دنیا کے بڑے پہاڑ بھی ہیں ۔۔ پاکستان میں 7000 میٹر سے بلند 108 چوٹیاں موجود ہیں۔ جن میں سے پانچ تو عالمی درجہ کی ہیں ۔۔ یہاں پہاڑ کے مختلف سلسلے ہیں ۔۔ پاکستان میں گلشیرز کا ایک لمبا سلسلہ ہے ۔۔ پاکستان کے پاس قدرتی اور خوبصورت بہت سی جھیلیں ہیں ۔۔ نمل جھیل ۔ اور اسی طرح پاکستان کے پاس جزائر بھی موجود ہیں ۔۔ انکا خیال کرنے کی بھی ضرورت ہے جزیرہ بدو اور جزیرہ بندل جو کہ ابراہیم حیدری کے علاقہ پاس جزیرے ہیں جن کو پاکستانی حکومت نے دوبئی کو چپکے سے بیچنے کی کوشش چند سال پہلے کی تھی ۔۔ جو کہ پاکستان کا ایک اہم اور قدرتی سرمایہ ہے جس کی اہمیت کا شاید اندازہ نہیں ہے پاکستانی عوام کو ۔۔

اسی طرح ہمارے پاس دنیا کی تیری بڑی واٹر فونٹین ہے وہ بھی قدرتی ، دبئی کی طرح مصنوعی نہیں بلکہ قدرت کا انمول تحفہ ہے جسکا پانی چھ سو بیس فٹ اونچائی تک جاتا ہے ۔۔ بس اس کو تھوڑا مزید خوبصورت بنا کر رنگ بھر کر ساتھ کچھ مصنوعی مزید فونٹین بنا کر دنیا کو دیکھا سکتے ہیں ۔۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ جب دبئی کا مصنوعی فونٹین اتنا لطف دیتا ہے تو پاکستان کا قدرتی واٹر فونٹین کتنا شاندار منظر دیکھنے والوں کے لیے پیش کرے گا اگر ہم اسے دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہیں تو ۔۔ ہمیں اپنے جزیروں ، جھیلوں ، پہاڑوں ، سمندر، دریاؤں ، بیچوں ، وادیوں ، صحراؤں کو سیاحت کے لیے کھولنا ہوگا ، وہاں سیاحوں کے لیے سہولیات فراہم کرنی ہوں گی ۔۔ یہ جو لوگ گوادر بندرگاہ اور سی پیک پر اعتراض کرتے ہیں کہ اسکا انھیں کیا فائدہ وغیرہ کیا انھیں جو نعمتیں پاکستان نے نوازیں انکی انھوں نے قدر کی اپنے علاقوں اور قوم کی خدمت انھوں نے پوری ایمانداری سے کی ؟ سی پیک منصوبہ پاکستان کے لیے ایک سنہرہ موقعہ ہے جس سے پاکستانی قوم کی تقدیر بدل جائے گی ۔۔ اب یہ ہمارا مسئلہ ہے کہ ہم اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں یا اس کے بارے میں غلط فہمیاں اور بے بنیاد باتوں اور سوالوں سے اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی گمراہ اور بدگمان کرتے ہیں ۔۔ کب تک پاکستانیوں دوسروں کے محتاج بنے رہو گے کبھی دوبئی تو کبھی سعودیہ تو کبھی ملیشیاء تو کبھی امریکہ و یورپ میں نوکریاں تلاش کرتے پھرو گے ؟؟ اگر قدرت سی پیک اور گوادر جیسے سنہری موقعے دے ہی رہی ہے ۔۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے دور میں ہی گوادر میں جدید بندرگاہ بنانے کا منصوبہ بن گیا تھا مگرفنڈ کی کمی اور دیگر ملکی اور بین الااقوامی معاملات اور سیاسی مصلحتوں کی وجہ اس کی تعمیر کاکام شروع نہ ہو سکا۔ یہی وجہ ہے کہ سیاست دانوں نے کبھی پاکستان کا بھلا چاہا ہی نہیں ہے ورنہ آج ہمارے لوگ دوسرے ملکوں میں مزدوری نہیں کر رہے ہوتے بلکہ دبئی کے شیخوں کی طرح امیر ہوتے ۔۔ انکی باتوں میں آؤ گے تو پھر کئی سال پیچھے چلے جاؤ گے ۔۔ کلبھوشن یادو کا پکڑے جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی طاقتوں میں سے کچھ کو تکلیف ہے اور انکے کارندے ، نمائندے یہاں بھی ہیں جو ہمارے اندر رہ کر ہی فساد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔ جیسے فضل الرحمان ، محمود اچک زئی ، اسفندیار وغیرہ ۔۔ اب ہمیں سوچنا ہے کہ ترقی کی طرف ملک کو لے کر جانا ہے یا دوسرے یورپی ملکوں میں جا کر باتھ روم صاف کرنے ہیں ۔۔

بندر گاہ خلیج فارس، بحیرہ عرب، بحر ہند، خلیج بنگال اور اسی سمندری پٹی میں واقع تمام بندرگاہوں سے زیادہ گہری بندر گاہ ہو گی اور اس میں بڑے بڑے کارگو بحری جہاز باآسانی لنگر انداز ہو سکیں گے۔ جن میں ڈھائی لاکھ ٹن وزنی جہاز تک شامل ہیں۔ اس بندر گاہ کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ افغانستان، چین اور وسط ایشیاء کی تمام ریاستوں کی تجارت ہوگی۔ بندر گاہ کی گہرائی 14.5 میٹر ہوگی یہ ایک بڑی ،وسیع اور محفوظ بندر گاہ ہے ۔ اس کی اہمیت کے پیش نظر بہت سے ممالک کی اس پر نظریں ہیں ۔ بندرگاہ کا ایک فیز مکمل ہو چکا ہے جس میں 3 برتھ اور ایک ریمپ شامل ہے ۔ریمپ پر Ro-Ro جہاز لنگر انداز ہو سکیں گے جبکہ 5 عدد فکس کرینیں اور 2 عدد موبائل کرینیں جبکہ ایک R T G کرین آپریشنل حالت میں لگ چکی ہیں ۔ ایک برتھ کی لمبائی 600 میٹر ہے جس پر بیک وقت کئی جہاز کھڑے ہو سکیں گے جبکہ دوسرے فیز میں 10 برتھوں کی تعمیر ہو گی۔ بندر گاہ چلانے کے لیے تمام بنیادی سامان اور آلات بھی لگ چکے ہیں مگر یہاں پر کام اس لیے نہیں ہو رہا کہ دوسرے علاقوں جیسے وسط ایشیاءکے ممالک کے لیے رابطہ سڑکیں موجود نہیں ہیں اور اس مقصد کے لیے کئی بین الاقفوامی معیار کی س‍ڑکیں بنوائی جا رہی ہیں مثلاً M8 کی تعمیر پر کام شروع ہو چکا ہے جو تقریبا 892 کلو میٹر طویل موٹروے ہوگی جو گوادر کو تربت، آواران، خزدار اور رٹوڈیرو سے ملائی گی جو پھر ایم 7، ایم 6 اور انڈس ہائی وے کے ذریعے گوادر کا چین کے ساتھ زمینی راستہ قائم کرنے میں مددگار ثابط ہو گی۔ اسکے علاوہ گوادر کو ایران اور افغانستان کے ساتھ ملانے کے لیے بھی سڑکوں کا جال بچھایا جا رہا ہے۔

اگر دیکھا جائے تومختلف تہاذیب بھی ساحلی علاقے کے ساتھ ساتھ اپنا پڑاؤ ڈالتی رہیں ہیں،ساحلی یا سمندری راستے زمانہ قدیم سے تجارتی راستے کے طو ر پر استعمال کیے جا رہے اور جدید تجارت نے سمندری راستے سے تجارت کی ضرورت میں مزیداضافہ کیا ہے،ان سب میں پاکستان کی اہمیت ایک گیٹ وے یا اہم تجارتی دروازے کی سی ہے پاکستان کو بحر ہند میں اہم حرموزآبنائے اورچھپے ہوے حزانوں سے نوازگیا ہے ۔ پاکستان گوادر بندرگاہ کی وجہ سے خطے میں سب ممالک سے زیادہ اہم جیوسٹریٹجک پوزیشن کا حامل ہے ۔ ماہرین کے مطابق اگر گوادر بندرگاہ کے ذریعے دنیا کے ممالک میں تجارتی لین دین شروع ہو جائے اور مختلف ممالک اپنی اپنی سکہ رائج القت (کرنسیوں) میں لین دین (تجارت) شروع کریں گے تو پاکستان میں ڈالر کی قیمت کافی حد تک کم ہو جائیگی اور اسکے علاوہ بہت سے پاکستانیوں کو روز گار مل جائے گا ۔۔

کچھ عناصر اس بندرگاہ پر جاری کام کی مخالفت کرتے رہے ہیں ، وہ اس بندرگاہ میں تعمیرات نہیں چاہتے ، ان میں بھارت ،اسرائیل اور امریکہ اور انکے کارندے ، نمائندے ، جاسوس وغیرہ شامل ہیں جو گوادر بندرگاہ کے مخالفت میں رہے ہیں ۔۔

جب پاکستان بنا تب سے پاکستان کے دشمن سازشوں میں مصروف ہیں ۔۔ پاکستا ن کے وزیر اعظم کو پُراسرار طریقے سے قتل کر دیا گیا، آئے روز حکومتیں گرنے لگیںاور بالآخر مارشل لاء لگا دیا گیا۔پہلے ہم آدھا پاکستان گنوا بیٹھے اور پھر افغانستان کی خانہ جنگی میں اپنے ہزاروں نوجوان ہلاک کروا دیئے، بات یہیں ختم نہیں ہوئی افغانستان میں لگنے والی آگ نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور لاکھوں جانوں کا ضیاع اور کھربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہمارے حصے میں آیا ۔ ایک طرف بہت سے فوائد کے امکانات کھلے ہیں تو دوسری طرف سنگین خطرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ہمیں دشمنوں کا ڈر نہیں ہے کیونکہ پاکستان کسی کی بھی آنکھ میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکتا ہے ۔۔ مگر ہمیں آستینوں میں چھپے ساپنوں سے بچنا ہے ۔۔ اصل خطرہ ہمیں ان لوگوں سے ہے جو جھوٹی افواہیں اور باتیں پھیلا کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں ۔۔

آجکل سیاست دان نرسریوں میں پیدا ہورہے ہیں ۔۔ ابھی ماں کی گود میں ہوتے ہیں تو کہا جاتا ہے بڑا ہوکر بیٹا وزیر اعظم بننا ہے لگ جاؤ ڈور میں ۔۔ اور پھر نرسریوں میں پیدا کئے جانے والے سیاستدان واقعی حقیقت میں نا اہل ہوتے ہیں کیونکہ انکی واحد صلاحیت جوڑ توڑ اور سازشیں کرنا ہوتی ہے ۔ پھر وہ اپنی سیاست چمکانے اور ملک کو ساکھ پہنچانے سے بھی باز نہیں آتے اور کسی بھی حد تک چلے جاتے ہیں ۔ ۔

حکومت کو چاہئے کہ وہ اسٹرٹیجک پلاننگ کو کابینہ اور پارلیمانی کمیٹیوں کے کنٹرول میں لائیں، سی پیک کے حوالے سے جو شکوک و شبہات اور تحفظات عوامی سطح پر پیدا ہو رہے ہیں انکو دور کرنے کیلئے عوام کو اعتماد میں لیں ۔۔ ٹی وی چینلز میں سے کسی ایک چینل پر باقائدہ ایک روزانہ کی بنیاد پر پروگرام چلاوئیں جس میں تازہ صورتحال کے پیشِ نظر ملک کی سلامتی کے دفاع میں عوام کو تفصیلات بتائی جائیں لوگوں کے شکوک و شبہات دور کیے جائیں قوم کو غلام اور خود کو بادشاہ سمجھنے کے بجائے ایک خاندان کی طرح ایک قوم کی طرح سب کو ساتھ مل کر چلنے کی ضرورت ہے ۔۔ سب سے بڑا انقلاب یہ ہی ہے کہ انسان اپنے اندر انقلاب لے آئے اپنے ضمیر کو جگائے رکھے ۔۔ اگر ہر شخص ملک میں انقلاب لانے کی باتوں کو چھوڑ کر اپنے آپ کو ٹھیک کر لے تو اس دن ہی ملک کی تقدیر بل جائے گی ۔۔ ملک سے اندھیرے دور کر کے اُجالے لانے کیلئے سی پیک کے منصوبے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت ملک سے اندھیرے دور کرنے کی عظیم شروعات ہو چکی ہیں ۔ مافیا کی ہر سطح پر حوصلہ شکنی کی جائے ۔ نئے سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جائے ۔۔ اور فسادیوں سے بچا ئے تو ہی ہم کامیاب ہوسکتے ہیں ۔۔ اور اللہ پاک نے پاکستان کو جو نعمتیں نوازی ہیں انکی قدر کریں ۔۔

15940899_10154960476933184_662953806407558493_n

15326521_10154826979173184_1149155408438836817_n

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on May 25, 2017, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: