آے پی ایس سکول حملہ اور نیشنل ایکشن پلان

15542058_338091309917274_6452643736841994065_n

16 دسمبر کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کے نتیجے میں 130 سے زائد بچے شہید ہوئے تھے دو سال کا عرصہ گزر گیا ۔۔ مگر حالات ہیں کہ ویسے کہ ویسے ہی ہیں ۔۔ 141 افراد کو اس واقع میں شہید ہوئے پورے دوسال بیت گئے ۔۔ اس ہولناک حملے کے بعد ہماری مسلح افواج کی طرف سے شروع کیا گیا آپریشن کامیاب ثابت ہوا ہے۔ پاک فوج نے آپریشنز کر کے دہشت گردی میں کافی حد تک کمی لے آئی ہے ۔۔ 16 دسمبر 2014 کا المیہ ہمارے دلوں کو چھلنی کر گیا لیکن ہمیں ایک کر گیا ۔۔ پوری قوم دہشت گردی کے ناسور سے نپٹنے کے لیے ایک ہوگئی ہے ۔۔ اس سانحے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا اور سب کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کیا کہ کیا انسانیت سے عاری ایسے درندے کسی نرمی کے مستحق ہیں ۔ ہرگز نہیں دہشت گری کا صفایا کرکے ہی ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوگی اور تب سے قوم دہشت گردی کے خلاف لڑ رہی ہے اور کامیابیاں حاصل کر رہی ہے ۔۔ پوری قوت کے ساتھ دہشت گردی پر ضرب لگانے کے لیے ضرب عضب ، فاٹا آپریشن ، سوات آپریشن ، کراچی آپریشن ، کومبنگ آپریشن ، اور متعدد انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کئے گئے ۔۔ اور انکے نتائج بھی کافی حد تک مثبت رہے اور دہشت گردی میں کمی آئی ہے ۔۔ فوج نے فوجی عدالتیں اورحکومت نے نیشنل ایکشن پلان بنایا ۔۔ فوجی عدالتیں اپنا کام پوری ایمانداری کے ساتھ خالص ملک و قوم کی خاطر کر رہی ہیں ۔۔ مگر نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ابھی تک صیحح طریقہ سے ممکن نہیں ہوسکا ۔۔ ہاں یہ ضرور ابھی کہا جاسکتا ہے کہ شاید کوئی آنے والی حکومت نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی کچھ کوشش کرے تو پھر موجودہ حکومت اپنا کریڈٹ یا حصہ لینے ضرور آجائے گئی کہ آخر بنایا تو ہم نے تھا نا ۔۔ نیشنل ایکشن پلان پر ابھی تک دوسال گذرنے کے بعد بھی یہ حکومت عملدرآمد نہیں کرواسکی تو اور کیا کرے گی ۔۔ نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح سے عملدرآمد نہ ہونا حکومت کی نااہلی کی ایک مثال ہے ۔۔ نیشنل ایکشن پلان کا مرکزی نکتہ دہشت گردوں کو مارنا ہے لیکن اس کے 20 نکاتی ایجنڈے میں ’صبر، تحمل اور امن کا پیغام دینے والی تعلیم کا سب سے اہم پہلو شامل نہیں کیا گیا ۔۔ نیشنل ایکشن پلان میں ایک تعلیمی حوالے سے بھی نکتہ یا پوائنٹ شامل ہونا چاہیے ۔۔ اکستان میں’ضرب عضب‘ کے ساتھ ساتھ ’ضرب قلم‘ کی بھی بہت ضرورت ہے کیونکہ اس کے بغیر ’ہم دہشت گردوں کو مار تو سکتے ہیں لیکن ان کی سوچ نہیں بدل سکتے۔

ان دوسال آرمی پبلک سکول پشاور میں ریکارڈ داخلے ہوئے ہیں جو اس سے پہلے سکول کے تاریخ میں دیکھنے میں نہیں آئے۔ یہ خوش آئن بات ہے کہ لوگوں اور بچوں نے تعلیم کو ہی اپنا ہتھیار بنالیا ہے مگر حکومت اس میں مدد کرے اور ملکی سطح پر تعلیم و تربیت کی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کرے ۔۔ مدارس اور سکولوں پر نظر رکھے اور ان کے مسئلے مسائل حل کرے ۔۔ اور بچوں کو تعلیم کے میدان میں آگئے آنے کے مواقع فراہم کرے ۔۔

دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر عمل کی غرض سے کئی افراد گرفتار کئے گئے مگر پھر حکومت نے انھیں چھوڑ دیا ۔۔ اگر وہ بے گناہ تھے تو گرفتار کیوں کیا اور اگر مجرم تھے تو چھوڑ کیوں دیا ۔۔ یہ سوال حکومت سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہے اس لے انکا جو دل کرتا ہے کرتے ہیں ۔

CVy1EI6WUAE_MGN۔

نیشنل ایکشن پلان میں نفرت انگیز مواد کی نشر و اشاعت کے خلاف کریک ڈاؤن، دہشت گردی میں ملوث افراد اور تنظیموں کو ملنے والی مالی امداد منقطع کرنے، مدرسوں میں اصلاحات، دہشت گردوں کے مواصلاتی نظام کا خاتمہ، دہشت گردی کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیتوں کو بڑھانے، پنجاب سے شدت پسندی کے خاتمے، سوشل میڈیا پر شدت پسند تنظیموں کے پراپیگنڈے کو روکنے، فرقہ واریت میں ملوث عناصر کا قلع قمع، اقلیتوں کے تحفظ اور فرقہ وارانہ نفرت کا خاتمہ جیسے اقدامات شامل تھے۔

پنجاب میں ان نکات پر عمل درآمد کے لیے کرایہ داری ایکٹ، وال چاکنگ ایکٹ، اسلحہ ایکٹ، پنجاب ساؤنڈ سسٹم ایکٹ اور پبلک آرڈر ایکٹ میں ترمیمیں بھی کیں مگر کوئی فائدہ نہیں سفارش جو آجاتی ہے بڑے صاحب کی ۔۔ یہ بڑے صاحب ہر ادارے ہر جگہ ہر کسی کی زندگی میں ہوتے ہیں جنکا فون آتے ہی انکا کام ہوجاتا ہے ۔۔ نیشنل ایکشن پلان سے کرپٹ مافیہ اور جرائم پیشہ افراد کا بھی خاتمہ کرنا تھا مگر بڑے صاحب نے پاکستان کو آگے بڑھنے سے روک رکھا ہے اور یہ بڑے صاحب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ بڑے صاحب ہمیشہ سرکاری ہی ہوتے ہیں ۔۔

سرکاری بیان بھی بہت آتے رہتے ہیں اب دیکھتے ہیں نیشنل ایکشن پلان پر اس دفعہ نواز سرکار کیا کہتے ہیں امید ہے چھاچھ میں کوئی کمی نہیں آئے گی ۔۔ دہشت گردی کا بھوت کب جان چھوڑے گا پاکستانی عوام کی ۔ یہ حکمرانوں سے پوچھنے کی ضرورت ہے کیونکہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرکے ہی دہشت گردی کے بھوت کو بھگایا جاسکتا ہے ۔ ملا فضل اللہ سانحہ اے پی ایس سکول کا ذمہ دار افغانستان میں ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ افغانستان سے اس مجرم کو مانگے اور اسے سرعام پھانسی لگا دی جائے اس نے بہت سے سانحہ پشاور والے واقعات کروائے ہیں ۔۔ اشرف غنی کو چاہیے کہ وہ پاکستان پر الزامات لگانے چھوڑ کر اپنی پناہ میں پلنے والے پاکستان کے مجرموں کو پاکستان کے حوالے کرے اور ہمارے حکمران بھی ملا فضل اللہ کا مطالبہ کریں تب ہی حالات کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے جب ایسے ماسٹر مائنڈ دہشت گردوں کے سربراہ کا قعلہ قمعہ کیا جائے ۔ جمہوریت کے ٹھیکدار میڈیا پر ایک دوسرے کو زیرو کرنے کے لیے ہنگامہ آرائی میں مصروف رہتے ہیں کام پر توجہ کم ہی دیتے ہیں ۔۔ کیا پاکستان کے علاوہ بھی دنیا کا کوئی ایسا ملک ہے جس میں مسلسل تواتر سے اتنے بڑے بڑے سانحات روہنما ہوتے ہیں ؟

ہر سانحے کے بعد یہی سننے کو ملتا ہے کہ دہشت گردی کا ناسور ہمیشہ کیلئے ختم کر دینگے۔ پھر سانحے کے نوٹس کی خبریں سننے کو ملتی ہیں مگر کوئی فائدہ نہیں ہوتا کچھ عرصہ بعد پھر نئے سے سب ہو جاتا ہے نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے کہیں نظر نہیں آتا اس پر عملدرآمد ہورہا ہو ۔۔ جبکہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فوج کا کردار روز روشن کی طرح عیاں ہے مگر منتخب حکومت اس جنگ میں اجلاسوں اور بیان بازیوں کے علاوہ کیا کردار ادا کر رہی ہے ۔۔ دسمبرپاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا المناک دن جس نے ہر پاکستانی کو خون کے آنسو رلادیا سوائے حکمرانوں کے ۔۔ حکمرانوں مگر مچھ کے آنسو بہا کرغائب ہوگئے ۔۔ اصل میں دہشت گردی کے خلاف افواج اور قوم مل کر لڑھ رہی ہے حکمران تو برائے نام ہی مجبور ہوکر کبھی کبھار نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کا راگ آلپ دیتے ہیں تاکہ عوام کو بیوقوف بناکر مزید دھن دولت کماسکیں ۔۔

دہشت گردی کے خلاف ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو آواز بلند کرنی ہو گی اور حکمرانوں کو دہشت گردی کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرنے ہوں گے ۔۔ کیوں کہ دہشت گردی کے خلاف خاموشی بذاتِ خود ایک دہشت گردی ہے ۔۔ جیسا ظلم ، ناانصافیت ، لاقانونیت کے خلاف خاموش رہنا ایک جرم ہے ۔۔آج دنیا کا گلوبل ویلج سے گلوبل سٹی کا سفر قلم کے زور پر ہورہاہے۔ دنیا کے عظیم ترین معائدے ہتھیار سے نہیں تحریر کیے گئے بلکہ قلم کی سیاہی سے۔ ہمیں بھی قلم کی طاقت سے اس دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا ۔۔

ابھی دو دن قبل ہی سانحہ آرمی پبلک اسکول میں زخمی ہونیوالا طالب علم 2 سال بعد چل بسا ہے ۔۔ اے پی ایس کے طالب علم ارشاد حسین کو گردن اور کمر میں گولیاں لگی تھیں، وہ شدید ذہنی دبا وکا شکار تھا، وہ دو سال سے راولپنڈی کے اسپتال میں زیر علاج تھا ۔۔ مگر دو دن قبل ہی شہادت کے مقام پر فائز ہوگیا وہ چترال کا رہائشی ارشاد حسین ۔۔ دو سال تک درد اور ذہنی دباؤ کیسے برداشت کی ہوگئی اس معصوم طالب علم نے ؟ اگر حکمران سمجھ سکیں تو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی کوشش کریں تاکہ دوبارہ کوئی ایسا واقع رونما نہ ہو ۔۔ کوئی ارشاد حسین دو سال تک موت سے نا لڑے ۔۔ کوئی معصوم شہید نہ ہو ۔۔ پاکستان پرامن ہوجائے ۔۔

15541504_1750632538594233_5126545629113476008_n.jpg

12366426_948936591858952_3937958488685047827_n.jpg

Advertisements

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on December 14, 2016, in Uncategorized. Bookmark the permalink. Leave a comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: