Monthly Archives: June 2017

نواز شریف جے آئی ٹی

19106047_473059423041097_6599997156531631278_n.jpg

 

میں اخبارات اور تجزیات کا مطالعہ انٹرنیٹ پر اور بستر پر لیٹے لیٹے کرتا ہوں، پھر ٹویٹر ، فیس بک یعنی سوشل میڈیا پر تھوڑی مٹر گشت کرتا ہوں تاکہ دماغ کی بتی جلتی رہے ۔ ہر طرح کے حالات سے باخبر رہوں کہ آخر چل کیا رہا ہے ؟ ذہنِ انسانی بھی عجب گورکھ دھندا ہے۔ پھر سوشل میڈیا اور اخبارات کے بھرامن یا یاترہ سے فارغ ہونے سے قبل کوئی نہ کوئی لکھنے کو موضوع مل ہی جاتا ہے ۔۔ کیوں کہ میں کسی کے لیے یا کسی کو جگانے کے لیے تو لکھتا نہیں ہوں اور نا ہی میں کوئی اقبال کا شاعین ہوں جو لوگوں کو بیدار کرواتا پھروں بس یہ تو میں اس لیے لکھتا ہو کہ یہ میرے جاگنے کا ثبوت ہے کہ بھائی تم جاگو یا نہ جاگو لیکن میں جاگ رہا ہوں ۔۔ اور زندہ ہوں خیر زندگی انصاف اور اخلاص سے آگے بڑھتی ہے۔ زندگی کی ترتیب و تہذیب کے لئے ریاست کا قیام زیادہ پرانی بات نہیں۔ ہر ریاست کا بنیادی وظیفہ شہریوں کو ایک دوسرے سے محفوظ رکھنا ہے۔ شہریوں میں چونکہ بدقسمتی سے حکمران بھی شامل ہوتے ہیں۔ لہٰذا حکمرانوں کی زیادتیوں سے شہریوں کو محفوظ رکھنا بھی عدالت کا فرض ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں قانون کے بجائے افراد کی حکومت ہے۔ حکمران اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ مصلحت اور ضرورت کو قانون کا نام دیا جاتا ہے اور نظریہ ضرورت کے لئے لوگ دور کی کوڑی لاتے ہیں۔ ہجر کی بستیوں میں ہر فیصلہ کیدو کے حق میں جاتا ہے۔ پانامہ کیس کا فیصلہ مخلوط نعمت ہے۔ ادھوری دلبری ہے۔ فیصلے کے مضمرات‘ جے آئی ٹی‘ حسین نواز کی پیشی اور نہال ہاشمی کی لغویات کی طلسم ِہوش رُبا جاری ہے اور عالمی تنہائی کا شکار قوم میڑو پل پہ کھڑی درد کی گہرائی کو ناپتی ہے۔

پاکستانی قوم کا بچہ بچہ‘ پانامہ کیس کے ظاہر ہونے سے بہت پہلے سے یہ جانتا ہے کہ دودھ میں پانی‘ مرچوں میں برادہ‘ چائے کی پتی میں کیکر کی چھال‘ حلال گوشت میں گدھا اور سیاست میں شریفوں اور زرداریوں کی ملاوٹ سے ہم بد عنوانی میں عالمی شہرت حاصل کرچکے ہیں۔ پانامہ کیس بیماری کی بس ایک علامت ہے۔ بیماری جو صدیوں پرانی ہے۔ صدیوں کی بدعنوانی نے مالی اور اخلاقی طور پر پوری قوم کو کھوکھلا کردیا ہے۔ پانامہ کیس کا ادھورا فیصلہ سنجیدہ‘ ادبی اور متوازن ہے۔ اس سے جڑے چند سوالوں پر ذرا غور کرتے ہیں‘ پہلا سوال یہ ہے کہ محترمہ مریم نواز کے بارے میں فیصلہ خاموش کیوں ہے؟ جواب یہ ہے جو تین کیسز زیرسماعت تھے ان میں محترمہ کے خلاف کوئی بھی استدعا نہیں کی گئی تھی۔ ایک ہی طرح کے شواہد کی موجودگی میں فیصلہ 3/2 کیسے ہوا۔ پانامہ کیس کا حتمی فیصلہ آنے تک ہماری بدقسمت قوم انتظار کی سولی پر ہے اور ستر سال سے کئی نازک موڑ عبور کرتی قوم ایک بار پھر اک اور نازک موڑ پر ہے۔اک اور امتحان درپیش ہے۔

جے آئی ٹی کی تحقیقات مکمل ہونے تک وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے ۔ بلاآخر نواز شریف صاحب صدر ن لیگ اور وزیر اعظم پاکستان سپریم کورٹ کی قائم کردہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ۔ پیشی میں جے آئی ٹی کے تیار کردہ منی ٹریل کے سوالات کا جواب دیں گے کہ لندن جائیداد خریدنے کے لیے پیسے کیسے لندن پہنچے۔ اس سے قبل وزیر اعظم ہاؤس میں وکلا، نواز فیملی اور وفاقی وزیروں کے ساتھ دو دن میٹنگ کی گئی۔ اس میں ممکنہ سوالات کے جوابات دینے کے لیے تیاری کی گئی۔ نواز شریف کے ساتھ پرویز رشید جو قومی راز فاش کرنے کے مجرم بھی ہیں ان کے ساتھ موجود تھے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار، مریم نواز، حمزہ شہباز، خواجہ آصف، اسحاق ڈار، عرفان صدیقی،شہباز شریف، کیپٹن صفدر،حسین نواز کے ساتھ وزیر اعظم ہاؤس سے روانہ ہوئے۔ لاہور سے وکلا کی ٹیم بھی جوڈیشنل اکیڈمی کے سامنے موجود ہیں۔ ن لیگ کے کثیر تعداد میں کارکن بھی موجود ہیں ۔ صاحبو! یہ عجیب منطق ہے کہ آپ پر کرپشن کا الزام ہوں آپ اقتدار میں بیٹھ کر عوام کا پیسہ لوٹ لیں اور اس پر قانون آپ کو استثنیٰ دے۔پاکستان سے لوٹے ہوئے تین سو پچھتر ارب ڈالر باہر ملکوں میں پڑے ہیں۔ قرضوں کی وجہ سے ملک کے ہر شہری ایک لاکھ بیس ہزار کا مقروض ہے۔مریم نواز کے اس ٹیویٹ کہ وزیر اعظم جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر تاریخ مرتب کر رہیں۔ا یسی مثال قائم کی جا رہی ہے جس کی ضرورت تھی۔ جناب! یہ کوئی سیاسی مقدمہ نہیں کہ تاریخ مرتب ہو رہی ہے۔ یہ عوام کے امین کے ہاتھوں عوام کے لوٹے ہوئے پیسے کی کرپشن کا مقدمہ ہے۔ اس میں سب کو سنجیدہ ہونا چا ہیے۔ وزیر اعظم پاکستان سپریم کورٹ کی بنائی ہوئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو رہے ہیں ۔اس سے قبل پیپلزپارٹی کے دووزیر اعظم، یوسف رضا گیلانی اور راجہ اشرف سپریم کورٹ میں پیش ہو کر پہلے ہی سے تاریخ مرتب کر چکے ہیں۔ مرتضیٰ بھٹو قتل کیس میں بے نظیر بھٹو بھی عدالت میں پیش ہوئی تھی۔ بظاہر تو یہ تاثر دیا گیا کہ وزیر اعظم بغیر پروٹکول اور پاکستان کے جھنڈا لگے بغیر گاڑی کے جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے لیے گئے۔ بلکہ پورا علاقہ سیکورٹی اداروں کی گرفت میں ہے ۔ سیکورٹی کے تین حصار قائم کیے گئے ہیں۔ادھر برطانوی خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ نواز شریف کی نااہلی کی صورت میں ملک میں افراتفری کا خدشہ ہے۔یہ مغرب کا وطیرہ ہے کہ ایسے باتیں پھیلائی جائیں۔ کیاان کے ملک میں بڑے بڑے واقعات نہیں ہوتے ۔کرپشن کے الزامات لگتے ہیں مقتدر لوگ مستعفی ہو جاتے ہیں ان کی جگہ دوسرے لوگ آ جاتے ہیں کہیں بھی افراتفری نہیں ہوتی۔ ہمارے ملک میں ایسا ہونے سے ایسی ڈسانفارمیشن کی خبریں پھیلا کر برطانوی خبر رساں ایجنسی کس کے ہاتھ مضبوط کرتی نظر آتی ہے؟۔ ٹی وی پر تبصر ے میں کہا گیا کہ اے کاش کہ اس پیشی کی لائف کوریج ہوتی جیسے جمہوری ملکوں میں ہوتا ہے اس سے پوری قوم دیکھتی کہ وزیر اعظم نے ممکنہ کرپشن اورمنی ٹریل کے سوالات کے کیاجوابات دیے۔لگتا ہے کہ پاناما کیس میں نواز شریف فیملی کے پاس قطری خط کے علاوہ منی ٹریل کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ اسی لیے سپریم کورٹ کے دو ججوں نے نوازز شریف کو نا اہل قرار دینے کا فیصلہ لکھا تھا۔ تین ججوں نے مزید تحقیقات کیلئے ساٹھ دن کی مہولت اور ایک جے آئی ٹی بنا کر حتمی فیصلہ کرنے کے لیا ثبوت فراہم کرنے کی نواز شریف ایک اور موقع فراہم کیا تھا۔ قطری خط بھی محمل سا خط ہے جس میں شہزادہ لکھتاہے کہ جیسے مجھے یاد ہے میرے والد کے ساتھ نواز شریف کے والد نے کاروبار کے لیے پیسے لگائے تھے جس میں منافع ہوا اور اب ایک عرصہ کے بعد اس کی ایڈجسمنٹ کے لیے میں نے لندن کے فلیٹ نواز فیملی کے نام کئے۔ حسین نواز ٹی وی پروگرام میں میں مان چکا ہے کہ جدہ کی اسٹیل مل میں ہماری فیملی کو بہت منافع ہوا جس پر ہم نے لندن والے فلیٹ خریدے۔ قطری اور حسین نواز کے بیانات میں تضاد ہے۔ جے آئی ٹی تو سیدھا سادھا سا سوال کر رہی ہے کہ پیسہ لندن کیسے منتقل ہوا اس کے کاغذات پیش کیے جائیں جوابھی تک نواز فیملی پیش نہیں کر سکی۔

مسلم لیگ نواز کے لیڈروں کی بیان بازیوں سے صاف ظاہر ہے کہ وہ عدلیہ جس میں جے آئی ٹی بھی شامل ہے اس کو متنازع بنا دینا چاہتے ہیں،تاکہ اگرفیصلہ شریف فیملی کےخلاف آتاہے تو یہ لوگ اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ سکیں۔ ماضی میں عام طور پر فیصلے نواز لیگ کے حق میں ہی آتے رہے ہیں، لیکن اب جب کہ معاملات ان کےلئے بگڑ رہے ہیں تو یہ چاہتے ہیں کہ اس بار بھی ان کی کرپشن کا بھانڈا نہ پھوٹے بلکہ وہ میڈیا کے ذریعے اپنے خلاف سازش اور مخالفت کی بات کرکے خود کو اپنے خلاف فیصلہ آنے کے بعد سیاسی شہید ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔مسلم لیگ ن کے موجودہ خراب دن ان کی اپنی ہی غلط پالیسیوں اور تکبر کی وجہ سے ہیں بادشاہانہ انداز میں جمہوری ادارے چلا کر اور ہر مخالف عنصر کو ایک طرف دھکیل کر باربار کامیابیاں حاصل کرنے سے غالباً انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ اس ملک میں جو کچھ بھی کرنا چاہیں کرسکتے ہیں ۔ نظام کو کمزور کرکے خود کو مظبوط بنانے کا فارمولہ یہ لوگ گزشتہ تین دہائیوں سے چلارہے ہیں،مگر اب ایسا لگتا ہے کہ یہ خود ہی اپنی پالیسیوںکا شکار ہوچکے ہیں اور خود کو بچانے کےلئے مزیدغلطیوں پر غلطیاں کئے جارہے ہیں جس میں ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا چلا جارہاہے ۔ نہال ہاشمی کی جانب سے عدلیہ پر لفظی حملے کو عوام کی ایک بڑی اکثریت کا ماننا ہے کہ نہال ہاشمی سے بیان دلوایا گیاہے،اسی انداز میں حکومت تسلسل سے سپریم کورٹ کی تضحیک کرنے میں مگن ہے

غرض کہ اس بار حکومت اپنی بیان بازیوں کے ذریعے عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہے۔اس ملک کے حکمران مکمل طور پر آپے سے باہر دکھائی دیتے ہیںان لوگوں نے اس وقت حالیہ دنوں میں جے آئی ٹی کے احتساب کو متنازع بنانے کےلئے حسین نواز کی ایک تصویرکو جوازبنارکھا ہے جس میں دعویٰ کیا ہواہے کہ یہ تصویرپی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے جاری کی ہے یا پھر خود جے آئی ٹی کی جانب سے ایسا کیا گیاہے مگر سوال یہ اٹھتا ہے کہ پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا اس قدر مظبوط کیسے ہوا کہ یہ تصویر ان کے پاس آئی! اور جے آئی ٹی کے ارکان کو کیا پڑی ہے کہ وہ اس قسم کی حرکتیں کریں؟حالانکہ جس حسین نواز کی یہ تصویر ہے بظاہر اس کے پاس کوئی سیاسی عہدہ نہیں ہے مگر اس کے باوجود اپنے آپ میں وہ ایک حکومت ہے ایک وزیراعظم کا بیٹاہے جس کی انکوائری کے موقع پر جوڈیشل اکیڈمی کے باہرحکومت کے وزراءکی پوری فوج کھڑی ہوتی ہے۔ ہوسکتاہے یہ تصویرحکومت نے جے آئی ٹی کو متنازع بنانے کےلئے خود ہی لیک کی ہو ؟ہم نے دیکھا کہ نیوز لیک،سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں حکومت نے کیا کیا چالاکیاں کھیلیں اور ان کے وزیروں نے متعدد بار فوج کےخلا ف ہرزہ سرائی کی،حکومت نے ان لوگوں کو وقتی کارروائیاں کرتے ہوئے ان کے عہدوں اور وزارتوں سے الگ کردیا مگر بعدمیں اس سے بھی زیادہ شان وشوکت کے ساتھ ان وزیروں کو نواز دیا گیا حکومت نے بہت سی ایسی چالیں چلی ہیں کہ جس سے وہ کسی حد تک بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
میں سمجھتا ہو کہ تصویر لیک کا معاملہ بھی حکومت ہی کی کوئی چال ہے۔ وزراءہر روزٹاک شو میں عدلیہ اور جے آئی ٹی کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہوتے ہیں ساتھ میں یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ ہم اداروں کی عزت کرنے والے لوگ ہیں۔ حکومت کا آخری حربہ قطری شہزادہ بھی قطری خط کی طرح ریت کی دیوار ثابت ہوا ہے کیونکہ قطرکے شہزادے نے وزیراعظم کے دفاع کےلئے پاکستان آنے سے معذرت کرلی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم خود ہی استعفیٰ دیتے ہیں ہیں یاپھر ان سے لینا پڑے گا۔

وزیراعظم کی آمد پروٹوکول کے بغیر ہونے میں کوئی حکمت تو تھی مگر یہ حقیقت ہے کہ سیکورٹی اس قدر تھی کہ گلیاں سنسنان تھیں اور ہائی وے پر بے تحاشا ٹریفک میں عوام شدید مشکلات کا شکار تھے۔ پروٹوکول نہ ہونے کی بات کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ دو ہزار چھ سو اڑسٹھ سے زائد سیکورٹی اہلکار ڈیوٹی پر تھے۔ کچھ لوگ حسرت و یاس کے عالم میں بعض جملے ایسے کہہ رہے تھے جو زیادہ قابل تحسین نہیں تھے۔ پھر وزیراعظم کی آمد پر خاندان کا اکٹھ بھی دکھائی دیا اور یہ اس خاندان کے سیاسی مستقبل کے لئے ضروری تھا کیونکہ شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شریف اور وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز آنے والے دنوں کے لئے تیاری کر رہے ہیں۔ لیکن اس ملک میں اب نسل در نسل سیاست اور حکمرانی کتنا عرصہ اور چلے گی یہ بات ابھی فیصلہ کن طور پر نہیں کی جا سکتی۔ وزیراعظم کی واپسی کے لئے بھی گھڑیاں گنی جا رہی تھیں کہ وہ جوڈیشل اکیڈمی سے کب نکلیں اور میڈیا سے گفتگو کریں اور وزیراعظم کی سواری نکلنے تک آصف کرمانی نے میڈیا کو مصروف رکھا اور بہت اچھا کیا کہ اس بات کی تردید بھی کر دی کہ وزیراعظم کے بیٹے پاکستانی شہری نہیں اور جواب نہ دیتے تو کیا بگاڑ لیتے ؟ لیکن جب کوئی خاندان عوام پر مزید حکمرانی کا خواب دیکھ رہا ہو تو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں۔ وزیراعظم تقریباً تین گھنٹے بعد جوڈیشل اکیڈمی سے باہرنکلے تو میڈیا اور قوم کے سامنے ڈارمہ کیا ۔ اپنی رام لیلا سنائی اور غائب ۔۔

عدالت کا احترام سر آنکھوں پرلیکن وزیر اعظم ہاﺅس سے پیغام آچکا ہے کہ وزیر اعظم پاناما کیس سے سر خرو ہو کر نکلیں گے…. تو پھر عدالت کا منہ دیکھنے کی ضرورت کیا ہے سرکار کو سر خرو ہی سمجھو۔ ہو جائے مٹھائی کا جشن ایک بار پھر….؟ حساب و انصاف سے عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ جیسے عادل بھی کپکپا رہے ہیں اور زندگی میں خود کو کبھی سر خرو نہ سمجھا بلکہ اہل خانہ کے حوالہ سے باز پرس سے بھی خوفزدہ رہے۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کچھ اونٹ خریدے اور سرکاری چراگاہ میں چرنے کے لئے بھیج دیئے، فربہ ہو گئے تو فروخت کرنے کے لئے بازار لے گئے۔ سیدنافاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے بازار میں دیکھا تو دریافت کیا یہ فربہ اونٹ کس کے ہیں؟ بتایا گیا عبداللہ بن عمر کے ہیں۔ امیر المومنین نے انہیں طلب کیا اور کیفیت معلوم کی۔ انہوں نے عرض کیا میں نے انہیں خریدا اور چراگاہ میں بھیج دیا، اس سے جس طرح دیگر مسلمانوں کو فائدہ اٹھانے کا حق ہے میں نے بھی وہی فائدہ اٹھانا چاہا۔ فرمایا: امیر المومنین کا بیٹا ہونے کی وجہ سے سرکاری ملازموں نے تمہارے اونٹوں کی نگہداشت کی خود تم نے اس پر ملازم نہ رکھا اس لئے انصاف یہ ہے کہ اونٹ بیچ کر اپنا راس المال لے لو اور باقی رقم سرکاری خزانہ میں داخل کرو…. حاکم وقت امیر المومنین اور خلیفہ وقت کے بیٹے کے ساتھ یہ سلوک ؟ اورکہاں پاکستان کے حکمران اور ان کے خاندان؟ پاکستان میں فوجی آمروں کو اعزاز کے ساتھ سر خرو کیا جاتا ہے اور جمہوری آمروں کو ذلت کے ساتھ سر خرو کیاجاتا ہے…. لیکن سیاسی لغت میں کہلاتے سب سر خرو ہیں۔ اللہ کی عدالت میں بیس کروڑ عوام میں ایک بڑھیا بھی شکایت لے کر پہنچ گئی تو لگ پتہ جائے گا ان سب سرخرو حاکموں کو۔ تقاریر میں مثالیں عمر فاروق کی دیتے ہیں اور عمل ان کے جوتے کی نوک کے برابر بھی نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ ایک مرتبہ اپنے عوام کے حالات کا مشاہدہ فرمانے کے لئے گشت کر رہے تھے کہ ایک بڑھیا عورت کو اپنے خیمہ میں بیٹھے دیکھا آپ اس کے پاس پہنچے اور اس سے پوچھا اے ضعیفہ! عمر کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے؟ وہ بولی خدا عمر کا بھلا نہ کرے۔ حضرت عمر بولے یہ تم نے بددعا کیوں کی؟ عمر سے کیا قصور سرزد ہوا ہے؟ وہ بولی، عمر نے آج تک مجھ غریب بڑھیا کی خبر نہیں لی اور مجھے کچھ نہیں دیا۔ حضرت عمر بولے مگر عمر کو کیا خبر کہ اس خیمہ میں امداد کی مستحق ایک ضعیفہ رہتی ہے وہ بولی سبحان اللہ، ایک شخص لوگوں پر امیر مقرر ہو اور پھر وہ اپنی مملکت کے مشرق و مغرب سے ناواقف ہو؟ تعجب کی بات ہے۔ یہ بات سن کر حضرت عمر رو پڑے اور اپنے کو مخاطب فرما کر بولے، اے عمر! تجھ سے تو یہ بڑھیا ہی دانا نکلی۔ پھر آپ نے اس بڑھیا سے فرمایا اے اللہ کی بندی! یہ تکلیف جو تمہیں عمر سے پہنچی ہے تم میرے ہاتھوں کتنے داموں میں بیچوگی، میں چاہتا ہوں کہ عمر کی یہ لغزش تم سے قیمتاً خرید لوں اور عمر کو بچا لوں۔ بڑھیا بولی بھئی مجھ سے مذاق کیوں کرتے ہو۔ فرمایا، نہیں میں مذاق ہرگز نہیں کرتا ہوں سچ کہہ رہا ہوں کہ تم یہ عمر سے پہنچی ہوئی اپنی تکلیف بیچ دو، میں تم کو جو مانگوگی اس کی قیمت دے دوں گا۔ بڑھیا بولی تو پچیس دینار دے دو، یہ باتیں ہورہی تھیں کہ اتنے میں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور آکر کہا، السلام علیک یا امیر المومنین! بڑھیا نے جب امیر المومنین کا لفظ سنا تو بڑی پریشان ہوئی اور اپنا ہاتھ پیشانی پر رکھ کر بولی، غضب ہوگیا یہ تو خود ہی امیر المومنین عمر ہے اور میں نے انہیں منہ پر ہی کیا کچھ کہہ دیا۔ حضرت عمر نے بڑھیا کی یہ پریشانی دیکھی تو فرمایا ضعیفہ گھبراو¿ مت، خدا تم پر رحم فرمائے تم بالکل سچی ہو، پھر آپ نے ایک تحریر لکھی جس کی عبارت بسم اللہ کے بعد یہ تھی کہ ”یہ تحریر اس امر کے متعلق ہے کہ عمر بن خطاب نے اس ضعیفہ سے اپنی لغزش اور اس ضعیفہ کی پریشانی جو عمر کے عہد خلافت سے لے کر آج تک واقع ہوئی ہے پچیس دینار پر خرید لی، اب یہ بڑھیا قیامت کے دن اللہ کے سامنے عمر کی کوئی شکایت نہ کرے گی اب عمر اس لغزش سے بری ہے اس بیع پر ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما گواہ ہیں۔“ یہ تحریر لکھ کر بڑھیا کو پچیس دینار دے دئیے اور اس قطع تحریر کو حضرت عمر نے اپنے صاحبزادے کو دے دیا اور فرمایا جب میں مروں تو میرے کفن میں اس تحریر کو رکھ دینا۔“…. عمر جیسی عظیم عالی شان ہستی کو بھی اپنے سر خرو ہونے پر شبہ تھا….؟

جے آئی ٹی نے نواز شریف کوطلب کیا ہے مگر مروڑکچھ صحافیوں کے مخصوص ٹولے کے پیٹ میں اٹھتا ہے ۔یہ نواز شریف کو طلب کرنا سو فی صد ٹھیک ہے مروڑ میرے پیٹ میں بھی اٹھتا ہے، فرق یہ ہے کہ میں کسی مخصوص ٹولے میں شامل نہیں،۔ میری آزادانہ رائے ہے اور مجھے آزادی اظہار کا حق حاصل ہے جسے میں استعمال کرتا رہوں گا، لوگوں کی زبان دراز ی جتنی مرضی بڑھتی جائے، مجھے اس کی چنداں پروا نہیں۔ایک اصولی بات پر قوم کا اتفاق ہے کہ اس ملک میں احتساب ہونا چاہئے، سب کاہونا چاہئے اور بلا امتیاز ہونا چاہئے۔لگاتار ہونا چاہئے۔بے حساب ہونا چایئے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر سپریم کورٹ نے فیصلہ نواز لیگ کے خلاف دے دیا تو اگلے انتخابات میں نواز لیگ کے شریف خاندان سے تعلق رکھنے والے رہنما نااہل ہوچکے ہونگے یاپھر پہلے کی طرح سعودی عرب یا کسی اور ملک ہجرت کرچکے ہونگے۔ اور اگر فیصلہ وزیراعظم کے حق میں آتا ہے یا حتٰی کہ فیصلہ وزیراعظم کے خلاف بھی نہیں آتا۔ تو اس کا اثر یقینی طور پر اگلے انتخابات پر بھی ہوگا ۔ موجودہ سارے حالات و واقعات کے پیش نظر اس وقت جو سیاسی منظر نامہ بن رہا ہے اس میں سارا کا سارا فوکس ایک بار پھر حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) پر شفٹ ہوتا نظر آرہا ہے اور مستقبل میں اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ حکمران جماعت کیخلاف آنے کے باوجود بھی سیاسی منظر نامے پر حکمران جماعت ہی نظر آرہی ہے کیونکہ وزیراعظم بھاگنے کی بجائے یہ کہتا ہوا پھر سامنے آگیا کہ لو میں حاضر ہوگیا۔

سال1947 سے لیکر 2017 تک ، گزشتہ ستر برس کی سیاسی تاریخ کھنگالیں، صاف پتہ چل جاتا ہے کہ ’’جمہوریت جمہور کیلئے‘‘کےنعرےلگانےوالوں کا ذاتی کردار کسی بھی آمر سے کم نہیں۔ جمہوریت کے گن گانے والے تو اب گلی گلی اور ہرنکڑ پرمل جاتے ہیں مگر ذرا اپنی اشرافیہ پرنظر ڈالیں اورفیصلہ کیجئے کیا یہی لیڈران واقعی جمہوریت پسند ہیں؟ ذرا ماضی میں جھانکیں اور کھوج لگائیں کہ کیا یہی نام نہاد سیاسی رہنما واقعی گراس روٹ لیول سے نکلے ہیں؟

آج کل جیت کے دعویدار، ہار کے ذمہ دار بھی بن سکتے ہیں۔ لیکن کیا کیجئے کہ سیاست صرف سیاست نہیں رہی،دھندا بن چکی ہےاور دھندا دھندا ہوتا ہے چاہے صاف ہو یا گندا ۔ جن معاشروں میں کرپشن ایک ناسور بن چکی ہوتی ہے وہاں حال پاکستان جیسا ہوتا ہے کہ ایک تصویر کو لے کر جمہوریت کا وجود خطرے میں ظاہر کیا جاتا ہے۔ اور یقیناًتصویر سامنے لانے کے لیے بھی بہت پاپڑ بیلے گئے ہوں گے کہ اور کچھ حاصل ہو نہیں رہا تھا ۔ شدید گرمی میں ٹھنڈے کمرے کی اس تصویر کو ہیرو بننے کے لیے بھی استعمال کیاجا سکتا تھا مگر ہمارے راہنما ہمیشہ مختصر المدتی ذہنیت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ لہذا فوری فائدہ سوچا گیا اور مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کے خلاف ایک محاذ قائم کر لیا گیا۔ مجھے حیرانگی ہوتی ہے کہ اگر مسئلہ صرف تصویر ہوتی تو ذوالفقار علی بھٹو کی تو جیل میں ننگے پیر تصاویر آج بھی موجود ہیں مگر کسی نے ان تصاویر کو اپنے مفاد کے لیے کیوں استعمال نہیں کیا ۔ آخرایسی کیا انہونی ہو گئی کہ اشرافیہ کی اولادیں ٹھنڈے کمرے میں باعزت بیٹھنے کو بھی اپنی ہتک سمجھ رہی ہیں۔ آخر کیوں عوام کو رعایا اور خود کو بادشاہ سمجھنا ہمارے حکمرانوں کے مزاج کا حصہ بنتا جارہا ہے۔
نون لیگی سرکار نے گزشتہ انتخابی منشور میں عوام کوجو سہانے خواب دکھائے تھے ان میں ایک توانائی بحران پرجلدازجلدقابوپانےکابھی تھا۔ چھوٹے میاں صاحب نے تو لوڈشیڈنگ ختم نہ کرانے کی صورت میں نام تک بدل دینے کی پیشکش کردی۔ کچھ ڈیم بننے والے تھے ۔ کچھ بن رہے تھے۔ ہزاروں میگاواٹ بجلی قومی گرڈ اسٹیشن میں شامل ہونی تھی۔ اس کاکیا بنا؟ ۔ دنیا چاند پرکامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد مریخ پرزندگی کے آثار ڈھونڈ رہی ہے لیکن ہم کوئلے سے بجلی بنانے کا فن ابھی سیکھنا تو دورکی بات مقامی لوگوں کو بھوک اور پیاس کے قاتل ہاتھوں سے نہیں بچا پارہے۔لیکن ہم ایسا کیوں نہیں کرپارہے؟کیا بتاؤں کہ میں پھربھول گیا اور شاید مجھے کچھ یاد نہیں رہتا ۔۔

اگر آپ غلطی سے مسلم لیگ ن پر تنقید کردیں تو فوری طور پر آپ کو جمہوریت دشمن قرار دے دیا جائے، آپ پر الزام عائد کردیا جائے گا آپ کچھ خفیہ ہاتھوں اور اپوزیشن کے ایماء پر ایسا کررہے ہیں، آپ نہیں چاہتے کہ حکومت چلے اور آپ بغض شریف خاندان میں مبتلا ہیں۔ اس وقت انسان سوچ میں پڑ جاتا ہے تنقید تو میں نے مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ، کم طبی سہولیات اور کرپشن پر کی تھی یہ اس سے جمہوریت خطرے میں کیسے پڑ گئی، ملک میں عوام بلبلاتے رہیں لیکن حکومت صرف اس وقت خطرے میں آتی ہے جب آپ حکمرانوں یا ان کے امیر کبیر بچوں پر تنقید کردیں، بات پھر وہی جمہوریت خطرے میں ہے ۔ لہذا پھر سے جمہوریت کو میرے بلاگ یا کالم سے مسئلہ ہو اس لیے میں اپنی بات کو سمیٹتا ہوں اور آخر میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میاں جی کیس عدالت میں ہے، وکیلوں کو مقدمہ لڑنے دیں، عدالت اور جے آئی ٹی کے باہر عدالت نہ لگائی جائے ۔ میڈیا کے سامنے رونا دھونا کر کے عوام کی ہمدردی سمیٹنے کے بجائے جے آئی ٹی کے سوالات کے جوابات دیں ۔ جو وہ عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے پوچھ رہے ہیں انھیں بتائیں تاکہ وہ عوام کو بتائیں ۔ کہ اصل کہانی کیا ہے جب کیس جے آئی ٹی کے پاس سے تو وہاں باتیں کریں میڈیا پر اپنا اور ہمارا وقت ضائع نہ کریں ۔ شاید آپ کو معلوم ہوگا کہ کم علمی میں زیادہ بولنے سے معاملات مزید بگڑ جاتے ہیں ۔ رہی بات چائے والے کی تو جناب آپ اپنےملک کو سمبھالیں پاکستان کے بارے میں یا اپنے دوست کی خاطر پاکستانیوں سے پنگاہ مت لیں ۔۔ زیادہ مسئلہ ہے تو کچھ ثبوت لے کر اپنے دوست کے حق میں جے آئی ٹی کے سامنے آپ بھی پاکستان کر آکر پیش ہوجائیں ورنہ اپنے ملک میں چائے بیچیں باڈر کے حالات خراب کرنے کا مت سوچیں اس سے جے آئی ٹی کی تحقیقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور ہماری بہادر افواج سے منہ کی کھا بیٹھیں گے ۔۔ کیونکہ ایہے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے ۔۔

18951464_480473668967196_8222577601257944460_n19029191_479948835686346_2361172512284819778_n19029712_480451312302765_4007136709717558778_n19030606_479948832353013_8903713488705837031_n19059940_480457292302167_1299501822565340076_n19060038_1855527244767518_4197744582253790038_n19060195_121141621806336_3955170199017821111_n19105524_1122762361200694_6993810569876919333_n19105528_1854972094823033_8717056884747979265_n19105751_10208847258553938_576095355400463720_n19105779_458526924497054_4876291278248682129_n19105926_1854972104823032_6696506639178256529_n19113688_481939818820581_4647854699320418536_n19113729_235713816925462_8433865335689465314_n19113794_1857625387891037_6172991871575507724_n19113960_10208847197672416_6901350629035874576_n19114059_480465118968051_2926266519785874342_n19145878_1122762677867329_6679174493885036940_n19146118_554565514933165_1839770090569343174_n19146167_1856907851296124_6460690761550763561_n19146178_1869925143257800_644509752908450384_n19146211_554559134933803_5448503409745177860_n19146293_481944458820117_5582508809449918047_n19148982_458002594549487_1199749161217840293_n19149144_10211505067576067_6343492812893060014_n19224813_1857625397891036_8313160335065418325_n19224815_481941305487099_8592124220296736293_n19224820_473534116326961_5215337488101956693_n19225000_473545812992458_3328023175658566753_n19225028_447654558960948_4935648281308745344_n19225443_481989062148990_9072356720218367673_n19225976_481939862153910_2920918451426382047_n19248077_231934740645991_7754171112765861180_n19274976_230027334179302_4115629186663306003_n