تو پھر سنو قصہ سنہ 65 کی ہار اور جیت کا ۔۔

محترم قارئین ! میں کوشش کرتا ہوں کہ میں کسی کی دل آزاری نہ کروں ۔ ۔۔ امید ہے یہ آرٹیکل بھی آپ صرف اصلاحی نقطہ نظر سے لیں گے ۔۔ آجکل کافی صاحب علم شاید لاعلمی کا شکار ہیں ۔۔ جو کہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ستمبر کی جنگ کوئی نہیں جیتا ۔ یا پاکستان نہیں جیتا ۔ یہ پڑھ کر ایک غیرت مند مگر عام شہری سٹوڈنٹ یا علم کے متلاشی سے رہا نہیں گیا اور میں ان لوگوں کو حقیقت سے آشکار کروانے کی کوشش کر رہا ہوں امید ہے میرا آرٹیکل ان کے لیے ہدایت کی ایک کرن ثابت ہو گا ۔۔
۔

کوئی بھی قوم اپنے دفاع سے غافل نہیں رہ سکتی۔ دفاع جتنا مضبوط ہو قوم بھی اتنی ہی شاندار اور مضبوط ہوتی ہے۔ 6ستمبر 1965 کی جنگ پاکستانی قوم کیلئے ایک وقار اور لازوال استقلال کا استعارہ ہے

۔

Rare-Newspapers-about-Pakistan-September-1965-Daily-Jang-Karachi.-Three-more-Indian-fighter-aircraft-shot-down-Old-Newspapers (1)
۔

1965 ء کی جنگ میں پاک فوج نے ملک کی سرحدوں کا دفاع باوقار انداز میں موثر بناتے ہوئے دنیا کو یہ باور کرا دیا کہ ہم ایک زندہ قوم ہیں۔ جنگ ستمبر میں بھی قوم کے بہادر سپوتوں نے جان کے نذرانے پیش کئے اور آج جب قوم کو دہشت گردوں کے خلاف جنگ کا سامنا ہے تو بھی افواج پاکستان کے جانباز جان کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔ 6 ستمبر کا دن وطن عزیز کے دفاع کیلئے عظیم قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔ قوموں کی زندگی میں کچھ دن انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جن کے باعث ان کا تشخص ایک غیور اور جرات مند قوم کا ہوتا ہے۔
۔

11947605_1492803164373263_4910486327483680349_n۔

ہر قوم کا ایک 6 ستمبر ہوتا ہے، جو اسے یاد کراتا ہے کہ اپنی تلواریں دیکھو! انہیں زنگ تو نہیں لگا۔۔۔ اپنے گھوڑے دیکھو! انہیں تھکن کی جونک تو نہیں لگی۔ ہمیں یہ دن 6 ستمبر 1965 کو پچاس سال پہلےدیا گیا تھا اور ہم نے اپنی تلواروں کی آب اور گھوڑوں کی تاب ثابت کر دی تھی۔

۔

اُس 6 ستمبر اور اِس 6 ستمبر میں ایک بڑی مماثلت ہے، وہ یہ کہ حقائق بھی وہی ہیں اور دشمن بھی وہی۔ فرق ہے تو اتنا کہ تب دشمن کا ایجنٹ دشمن ہی قرار پاتا تھا اور آج یوں ہے کہ ہم انہیں پہچان کر بھی چشم پوشی کرتے ہیں۔ کچھ میڈیا میں جھوٹ افوائیں پھیلا کر اور کچھ اپنے آپ کو مذہب کا ٹھیکےدار بتا کر منافقنا طور پر سادہ عوام کا سہارا لے کر ملکی امن و سکون اورافواج ِ پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں ۔۔ انھیں چاہیے کہ وہ کسی دوسری قوت کا آلہ کار بننے کے بجائے اپنے ملک اور قوم کی خاطر سچے دل اور محبت کے جذبے سے غیرت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک دشمن عناصر کی سازشوں کو ناکام بنائیں ۔۔

11990444_481061888736909_8373701393382272093_n۔

پاکستان کی بھارت سے تما م جنگیں، سوائے رن آف کچھ کے، کشمیر کے تناظر میں ہوئیں۔ 1965میں بھارتی قابض افواج کے استبداد سے تنگ آکر کشمیریوں نے ہتھیار اُٹھالیے اورپاکستانی قوم نے ان کا ساتھ دیا۔ بھارتی سیاسی قیادت نے کشمیر ہاتھ سے جاتا دیکھا تو اپنی فوج پر سے دباؤ ختم کرنے کے لیے بغیر اعلان جنگ کے کشمیر کے جنوبی محاذ پر پاکستانی بین الاقوامی سرحد کو عبور کرتے ہوئے لاہور پر پوری قوت سے حملہ کردیا۔

۔

بھارتی منصوبے کے تحت شام کو لاہور کے جم خانہ کلب میں شراب پینا شامل تھا۔ اس کے جرنیلوں کو خود پر بہت بھروسہ تھا لیکن پاکستانی فوج نے انہیں بی آر بی نہر ہی پار نہ کرنے دی اور ان کے لیے وہاں ہی شمشان گھاٹ بنادیا گیا۔

1611017_1491821864471393_1109021377079031552_n

https://en.wikipedia.org/wiki/Indo-Pakistani_War_of_1965 ۔

’پاکستان ایئر فورس نے دشمن کی توقع کے بالکل برعکس فوری ایکشن کرتے ہوئے، دشمن کی گاڑیوں اور سپاہ پر حملہ کیا، تو وہ جی ٹی روڈپر اپنی لاشیں اور سٹارٹ گاڑیا ں چھوڑ کا بھاگ گئے۔ ہرطرف تباہ شدہ گاڑیوں کا سکریپ یا سٹارٹ گاڑیا ں نظر آرہی تھیں‘‘۔

۔۔

یہ الفاظ کسی پاکستانی مصنف یا فوجی کے نہیں، ہندوستانی وزارت دفاع کے ایک افسر آر ڈی پردھان کی کتاب ”1965 War The inside story” کے ہیں۔ اس کتاب میں وہ GOC, 15 Div میجر جرنل نرنجن پرشاد کی یہ حالت دکھائی گئی ہے کہ جب انڈین کورکمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہربخش سنگھ لاہو ر فتح ہونے کی خبروں پر اپنی کور کے 15 ڈویژن، جسے جی ٹی روڈ پر ایڈوانس کر کے لاہور شہر لینا تھا، کے محور پر اپنی جیپ میں اگلے مورچوں پر پہنچا، تو گاڑیوں کی تباہی، فوج کی ابتری، یہاں تک کہ سٹارٹ گاڑیاں چھوڑ کر ڈرائیور بھاگ چکے تھے

3

اس نے اپنے جی او سی میجر جنرل پرشاد کو گنے کے کھیت چھپا پایا، اس حال میں کہ جنرل صاحب کے رینک اترے ہوئے تھے، سر پر کیپ نہیں تھی، شیو بڑھی ہوئی تھی۔ کور کمانڈر نے پوچھا کہ رینک اور ٹوپی کہاں ہے؟ تو اس کے پاس سوائے شرمندگی کے کوئی جواب نہیں تھا۔

۔۔

بھارتی فوج کا یہ حال پاکستانی فضائی فوج نے کیا تھا۔ پاک فضائیہ نے اتنا شدید حملہ کیا تھا کہ اُن کو سٹر ک چھوڑ کر کسی پناہ گاہ تک پہنچنے کا راستہ نہیں مل رہا تھا۔ اسی دوران میں پاکستانی فوج نے خود کو سنبھال کر اتنی برق رفتاری سے جوابی حملہ کیاکہ بھارتی فوج کے اوسان خطا ہو گئے۔

مہاراج ایہہ کھیڈ تلوار دی اے

جنگ کھیڈ نہی ہُندی زنانیاں دی

11040960_481494175360347_2879105818432863258_n۔

بھارتی 11 کو ر کا منصوبہ یہ تھا کہ 15ڈویژن، امرتسر ،واہگہ، لاہور محور پر براستہ جی ٹی روڈ حملہ کرکے شام تک لاہور پر قبضہ مکمل کرلے گا، 07 ڈویژن کھورالہ برکی روڈ پر چلتے ہوئے لاہور پہنچے گا، اسی طرح 04 ماؤنٹین ڈویژن بھی، کھیم کرن ،قصور روڈ پر ایڈوانس کرتے ہوئے لاہور پہنچے گا۔ بھارتی فوج نے 06 ستمبر کی آدھی رات کے بعد چار بجے حملے کے لیے ایڈوانس شروع کردیا۔

لیکن انکو رینجرز نے ہی راستے میں روک دیا جب تک دوسری فوج آئی اس وقت تک بہت سے رینجرز کے اہلکار شہید ہوچکے تھے ۔۔ پھر کبھی موقعہ ملا تو ذکر کروں گا کہ زینجرز نے کیسے اپنا کردار ادا کیا ۔۔ روایتی بزدل اورمکار بھارتی فوج کے لیے تو ہماری رینجرز ہی کافی تھی ۔۔ اس وقت رینجرز نے ملک و قوم کی خاطر لہو گرما دینے والے واقعے سرانجام دیے ۔۔۔

لاہور ، قصور کو محفوظ رکھنے کے علاوہ انڈین فوج کو پاکستان نے نہ صر ف روک دیا بلکہ جوابی حملہ کرتے ہوئے بے جگری سے لڑ کر کھیم کرن کا شہر بھی فتح کرلیا اور کھیم کرن ریلوے اسٹیشن پر قبضہ کرلیا، جہاں سے بھارتی فوج کو کمک مل رہی تھی۔ اُدھر بھارتی فوج نے اپنی دریائے بیا س کی اہم ترین نہر کو کاٹ کرعلاقے کو دلدل بنا دیا، جس سے پاکستانی ٹینکوں کا ایڈوانس رک گیا۔ اگر نہر نہ توڑی جاتی تو پاکستانی ٹینک شاید ایک نئی تاریخ رقم کرتے کیوںکہ تمام ماہرین کے مطابق دہلی کا راستہ صاف ہوگیا تھا، پاکستانی فوج جی ٹی روڈ پر پہنچ چکی تھی۔

COMZGgAUcAABmqM۔

اس کے بارے میں اندین مصنف آر ڈی پردھان، جو کہ بھارتی دفاع کا حصہ تھے، لکھتے ہیں کہ انڈین آرمی چیف جنرل چوہدری نہایت پریشان تھا کہ ’’ اگر لڑائی سخت ہوئی تو ہندوستانی فوج کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا اور دریائے بیاس کے مغرب میں لڑائی کی شدت اور پاکستانی ایڈوانس سے جی ٹی روڈ پر قبضہ سے پاکستان کے لیے دہلی کے راستہ کھل جائے گا اور اسے کوئی بھی نہ روک سکے گا۔‘‘ ہندوستانی وزیر دفاع وائی بی چوان اس قدر خوف زدہ تھا کہ اس لڑائی میں مزید شدت آئی تو ممکن ہے کہ ہمیں کھیم کرن کی طرح بیاس سیکٹر سے بھی پسپائی اختیا ر کرنا پڑے۔ اس نے یہ الفاظ اپنے آرمی چیف جنرل چوہدری سے ملنے کے بعد کہے‘‘ پھر انہوں نے اپنی نہر اچھا گل کو توڑ کر علاقے کو دلدل بنادیا تاکہ ٹینکوںکے ایڈوانس کو روکا جاسکے اور لاہور سے بھی زیادہ طاقت یہاں تعینات کردی۔ اس کے بعد بھارتی فوج لگاتار حملے کرتی رہی لیکن وہ علاقہ معاہدۂ تاشقند تک پاکستان کے قبضہ میں رہا۔

11822563_1493439257642987_7956206794450123761_n (1)

بھارت، اکھنور سے چھمب ،گجرات ،فیروز پور گنڈاسنگھ ،لاہور ، امرتسر ،باٹاپور لاہور ، امرتسر ،کھر لا، برکی اورلاہور کے راستوںسے حملہ اور لاہور پر قبضہ کرنے کا خواب ڈراؤنے خواب میں تبدیل کرواکے پسپاہوا۔

اسی دوران سیالکوٹ سیکٹرمیں بھارت نے دوسری عالم گیر جنگ کے بعد ٹینکوں کا سب سے بڑا حملہ کیا۔ اس نے وزیر آباد اور گوجرانوالہ پر قبضہ کرنے کا خواب دیکھا تھا لیکن چونڈہ میں پاکستانی جوانوں نے ایک (نامکمل ) آرمڈ بریگیڈ کے ساتھ سینکڑوں ٹینکوںکے حملے کو ناکام بنا دیا ۔ درجنوں ٹینک لڑائی کے پہلے ہی دن بہترین حالت میں پاکستان کے ہاتھ لگے۔ اس علاقے میں انڈیا پہلے دن کے علاوہ جنگ کے آخر تک حملے کرتارہا لیکن ناکام رہا۔

۔
11988423_947145055357415_5780861147735793566_n

جہاں تک پاکستان نیوی کا تعلق ہے تو اس نے پہلے ہی دن اپنی جنگ جیت لی تھی۔ پاکستا ن نیوی اور ایئر فورس کے جہازوں کی مدد سے نیول فلِیٹ نے پہلے ہی دن ان کے سب سے بڑے نیول جنگی اڈے اور راڈار اسٹیشن دوارکا پر حملہ کیا اور مکمل طور تہس نہس کر کے رکھ دیا۔

نہ صرف یہ بلکہ پاکستان کی اکلوتی آبدوز، غازی نے بمبئی کی بندرگاہ کے پانیوں میں ایسا خوف پیداکردیا کہ بھارتی بحریہ آبدوز کے خوف سے پورے جنگی عرصے میں اپنی پناہ گاہ سے باہر نہ نکلی کیوںکہ پہلے حملے نے ہی اس کی مواصلاتی اور آپریشنل صلاحیت ختم کردی تھی۔

اس جنگ پر سب سے مختصر اور جامعہ تبصرہ جنگی امور کے ماہر ٹائم کے رپورٹر لوئس کرار (Louis Karrar) نے لکھا ہے ” Who can defeat a nation which knows how to play hide and seek with death” پاکستانی قوم نے اپنا حق ادا کردیا لیکن قیادت اس فتح کو نہ سنبھال سکی اور میدان جنگ میں جیتی جنگ تاشقند کی مذاکراتی میز پر ہار آئی۔

۔

11988632_131607853853781_6494125084005377683_n۔

آج ہمارا دشمن پہلے سے زیادہ تیاری کے ساتھ ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہاہے۔ اس کے بعض ایجنٹ اسے پکار رہے ہیں۔ دشمن پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے۔ وہ ہمارے درمیان صاحباںِ علم کی لاعلمی اورتاریخ دانوں کی تاریک دانی سے فائدہ اٹھا کر مختلف ذرائع استعمال کر کے ہمارا اضلی دشمن بھارت ہمارے درمیان لسانی، علاقائی، سیاسی ، صوبائی اور مذہبی تعصب پھیلا کر افراتفری، بد امنی اور دہشت گردی کو ہوا دینا چاہتا ہے۔

11947638_497862933722013_112712124871333650_n۔

بھارت کو نہ کامیابی 1965 میں نصیب ہوئی اور نہ ہی 1971 کو پاکستان کو شکست دے سکا، ہمارا بازو ہم سے کاٹ دیا گیا، افسوس صد افسوس۔۔اس میں بھارت کی پوری مداخلت تھی،لیکن ہمارے سیاستدان اور حکمران ڈگمگا گئے تھے اور اس کافائدہ انڈیا نے اُٹھایا پہلے بھی عرض کرچکا ہوں ، انڈیا طاقت کے بل بوتے پر نہ کل ہم سے مقابلہ کر سکتا تھا اور نہ آئندہ کبھی مقابلے کا سامنانہ کر سکے گاکیونکہ انڈیا کافر ہے اور پاکستان مسلمان بقول ڈاکٹر علامہ محمد اقبال

کافر ہے تو شمشیر پر کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیخ بھی لڑتا ہے سپائی

11938086_10206368218998063_8978952414368291321_n۔

تاریخ انسانی نے ستمبر 1965 کو دیکھا کہ پاکستان اللہ کے فضل و کرم سے ایسے ریکارڈ بنائے۔جو نہ اس سے پہلے دنیا نے ایسے ریکارڈ دیکھے اور نہ قیامت تک دیکھے گئی انشااللہ ۔ 1965 کی جنگ میں جب دشمن کے فضائیہ پائلٹ نے ساری گولیاں فائر کردی مگر پاکستان کو ایک بھی نہ لگی، اس موقع پر ایک غازی ایم ایم عالم صاحب کا ایک واقعہ ایم ایم عالم نے 15 سیکنڈ کے پاور فائر تھا، ہمارے پاس F-86 saber ائیر کرافٹ تھا اور اس میں سے جب فائر کیا جاتا ہے تو 15 سیکنڈ کی گولیاں ہوتیں ہیں ، 15 سیکنڈ کی گولیوں سے بھارت دشمن کے 5 طیارے مار گرائے۔اور یہ ورلڈ ریکارڈ ہے، جس کو کوئی بھی توڑ نہیں سکا، اور نہ توڑ سکے گا ۔

ایم ایم عالم اور اک منٹ
“اک منٹ ٹھر جا”
تمھارے لئےمحاورہ جبکہ
ایم ایم عالم کے لئےاک حقیقت

480359-muhammadmahmoodalamfile-1355637273-220-640x480۔

جب لاہو ر پر بم گرانے انڈیا کے طیارے آتے تو ملت اسلامیہ پاکستان کے شاہین ان کا پیچھا کرتے تھے اور لاہور کے رہائشی لوگ اپنے چھتوں پر چڑھ جاتے اور دشمن کے طیاروں پر جو ہاتھ میں آتا پھینکتے تھے اور پورا شہر نعرہ تکبیر سے گونجنے لگ جاتا ۔۔ گویا میلے جیسا سماں تھا،جب ہمارے شاہین دشمن کے طیاروں کو مار گراتے تو لوگوں کا جوش و خروش کو سمجھنے کے لئے انڈیا اور پاکستان کے میچوں سے لگایا جا سکتا ہے حالانکہ میچ کھیل ہوتا ہے اور جنگ جنگ ہوتی ہے،

جب فوج اور عوام ایک ہوجاتے ہیں تو ایک ایم ایم عالم 30 سیکنڈ میں دشمن کے 5 جہاز گرا دیتا ہے اور ایک عزیز بھٹی اپنے سے 3 گنا بڑی دشمن فوج کو پیچھے دھکیل دیتا ہے۔

1965-Indo-Pak-War-Mementos-and-Photos-Munabao-Railway-Station-in-Rajhistan-captured-by-Pakistan۔

سنا ہے ہندوستان نے اس بار 65 کی جنگ کو پاکستان کی طرح ’’یوم فتح‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ہے۔ یہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے بلکہ ہمارے ہاں بھی دھنسی ہوئی آنکھوں اور ابھری ہوئی رگوں والے نام نہاد دانشوروں کا ایسا ٹولہ پایا جاتا ہے، جن کے سامنے محمد بن قاسم کے سندھ پر حملے کا ذکر کریں تو چہرے کے تاثرات بگڑ جاتے ہیں تو جناب ان جیسے

دانشوروں کا کہنا ہے کہ،

’’جناب ہمیں تو تاریخ غلط پڑھائی جاتی ہے دیکھیں ہم تو 65 کی جنگ بھی ہار گئے تھے‘‘ ۔

 

مجھ ناچیز سے طالب علم کے چند سوالات ہیں ۔۔

 

https://en.wikipedia.org/wiki/Tashkent_Declaration

https://en.wikipedia.org/wiki/Lal_Bahadur_Shastri

بھارتی پرائمنسٹر لال بہادر ساشتری کو جنگ کے بعد دل کا دورہ کیوں ہوا اگر وہ جنگ جیت گئے تھے تو ؟ اور اگر جیت ہی گئے تھے تو
معاہدہ کیوں کیا حکمرانی کیوں نہیں ؟
دل کے دورے اور انکے ہار تسلیم کرنے کا ثبوت ویکیپڈیا کے ان درجہ ذیل لنکس میں ہے ۔

١) دل کا دورہ کیوں پڑا اپنے ملک کی تباہیوں کا جائزہ لیتے ہوئے ؟
٢) معاہدہ کیوں کیا ؟
٣ ) امریکہ سے مدد کس نے مانگی تھی ؟
٤) جنگ بندی کے لیے یو این کے پاس کون گیا اور کیوں ؟
٥ ) اگر جیتے تھے تو پچاس سال ہار کا غم مناتے رہے اور اب کس منہ سے جیت کا کہ رہے ہیں ؟
٦) چلو ان کو تو چھوڑو وہ تو ہیں ہی ناپاک بھارتی ازل سے پاکستان اور اس کی عوام کے خوشیوں کے دشمن مگر یہ جو اپنے ملک کے اندر سے شازشیں کر رہے ہیں یہ کب غیرملکی دشمن عناصر کی چالوں کو سمجھ کر ملک دشمن عناصر کے خلاف پوری قوم اور ہماری غیور افواج ِ پاکستان کا ساتھ دیں گے ؟

جنگِ ستمبر کے حوالے سے پاکستان کی فتح کے ٹھوس ثبوت آپ کے سامنے رکھے گئے ہیں وہ انگریزی اور اردو دونوں میں دیکھانا مجبوری ہے کہ شواہد کو اصل حالت میں ہی پیش کرنا چاہیے ۔۔

11988468_481494212027010_4492411371125273311_n۔

تو قارئین یہ تھے اُس وقت کے عالمی میڈیا میں شائع ہونے والی چند خبروں کا تحقیقی مطالعہ، انشاءاللہ اس سلسلے میں مزید تحقیق سامنے لے کر آؤں گا تاکہ کوئی دھنسی ہوئی آنکھوں اور ابھری ہوئی رگوں والا نام نہاد دانشور آنے والی نسلوں کو سفید جھوٹ بول کر گمراہ نہ کرسکے۔ جنگِ ستمبر کی فتح پوری پاکستانی قوم اور عالم اسلام کی فتح تھی۔ یہ جنگ صرف فوج نے نہیں لڑی بلکہ پوری قوم نے لڑی اور یاد رکھیئے جنگ کبھی فوج نہیں جیتا کرتی بلکہ جنگ تو ہمیشہ قوم جیتا کرتی ہے۔

1965-India-Pakistan-War-Memorabilia-People-gathered-at-Lahore-in-1965-to-see-a-captured-Indian-tank-Photos-and-Mementos-of-1965-Indo-Pak-War۔

آج کے مشکل ترین حالات میں بھی پوری قوم کو اُسی ہمت و جذبے کی ضرورت ہے کیونکہ دشمن شکست فاش کے بعد بھی سبق نہیں سیکھا لیکن اگر اِس بار اُس نے کوئی غلطی سے بھی غلط کوشش کی تو پھر لازمی طور پر اُس کو اُس کی حیثیت بتادی جائے گی۔

میری حکومت اور افواج ِ پاکستان سے درخواست ہے کہ ایک ضرب عضب جعلی دانشوران کے خلاف بھی لانچ کیاجاے جو ہماری تاریخ کے ہیروز اور ان سے جڑے واقعات کو متنازعہ بنا تے رہتے ہیں

۔

وطنِ عزیز پاکستان کی افواج اور شُہدا کو سلام ۔

 

.

https://dailymotion.com/video/x16xhd3

 

https://dailymotion.com/video/x35mk1a

 

 

۔

About Raja Muneeb

Raja Muneeb ur Rehman Qamar ( Raja Muneeb - راجہ منیب ) born in Rawalpindi ( Punjab - Pakistan ). Born 7 March 1991 (1991-03-07) Rawalpindi, Punjab, Pakistan . Blogger , writer , Columnist and Media Activist & Analyst . https://www.facebook.com/iamRajaMuneeb RajaMuneebBlogger.wordpress.com , Twitter : https://twitter.com/iamRajaMuneeb http://about.me/rajamuneeb dailymotion : http://www.dailymotion.com/rajamuneeb myspace : https://myspace.com/1rajamuneeb google plus : https://plus.google.com/113474032656188645427/posts gulzar tv : http://www.gulzar.tv/about-us.php

Posted on September 9, 2015, in 1965, bbc urdu, dehli, india, lahore, Pak Army, pakistan, war and tagged , , , , , , , , , . Bookmark the permalink. 1 Comment.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: